Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 22)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 22)
Junon Inteqam By Rania Mehar
“““ایک ماہ بعد۔۔۔
””اے دل ٹھہر جا
جینے کی کوئی تو وجہ ڈھونڈ لے
گھبرا نہ غم سے
اپنی خوشی کا پتہ ڈھونڈ لے
تو پیار کر، اظہار کر””
“ہے پیار ہی غم کی دوا
سن لے ذرا، سن لے ذرا
اے مرے دل
ہوں پیار تیرا “
“محسوس کر تو سینے میں تیرے اترا ہوں میں
چھو کے مجھے پہچان لے گا
لمحہ تیرا ہی گزرا ہوں میں
آنکھوں میں تیری یہ رات ہے جو
اس رات کی ہے مجھ میں صبح“
“غور کے پیچھے میں روشنی سا
تیرے لئے ہی ٹھہرا ہوں میں
ڈھونڈ لے جو کھو گیا
میں ہوں تیرا وہ راستہ
سن لے ذرا، سن لے ذرا
اے مرے دل“
“ہاتھوں میں تیرے یہ تھم سا میں
لفظوں میں اپنے بن لے مجھے
آواز کیا دوں،
میں بے صدا ہوں“
“دھڑکن میں اپنی سن لے مجھے
میں زندگی ہوں
جی لے مجھے
آنسو تیرا پی لے مجھے
میں خواب جیسا
ٹوٹا ہوں تجھ میں
بکھرا ہوں تجھ میں“
“چن لے مجھے
دیکھ لے تجھ میں ہوں میں
تو ہی میرا ہے آئنہ
سن لے ذرا، سن لے ذرا
اے مرے دل““
خ۔خان۔۔
دلاور خان پلیس کے اندر آتا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔
کیونکہ پورا پیلس اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
ر۔روحا آ گی دلاور۔۔۔
بکھری حالت بکھرے بال پرانے کپڑے پہنے شاویز خان وہی ہال کے قالین پر بیٹھا ہوا بولا تھا۔۔۔
اس ایک ماہ میں اس نے بہت کوشش کی تھی روحا سے ملنے کی لیکن روحا اسے چھوڑ کر چلی گی تھی۔۔۔
شاویز راحیل کو اپنے ٹارچر ہاوس لاتا سب سچ جان گیا تھا۔۔۔
اسی نے بتایا تھا ماہم نے مل کر یہ پلان بنایا تھا جس میں وہ دونوں شامل تھے۔۔۔
شاویز ایک بار پھر سے اپنے ایک اور گناہ کے پچھتاوے میں مبتلا ہو چکا تھا۔۔۔۔
راحیل اور ماہم کو پولیس کے حوالے کر چکا تھا۔۔
لیکن خود روحا کو ڈھونڈنے لگ گیا تھا پر نہیں ملی اسے ۔۔
وہ مسلسل اپنے ہی گھر بند رہ کر گزار لیا تھا۔۔۔۔
جب بھی کوئ اندر آتا تو جلدی سے پوچھتا روحا آی کہ نہیں ۔۔۔
ابھی بھی وہ دلاور کے پاس جاتا بکھری حالت سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
ن۔ہیں۔نہیں وہ میں کہنے آیا تھا تمہاری میٹنگ بہت ض۔۔۔
جاٶ یہاں سے جب تک روحا بے بی مجھے مل نہ جاۓ اور مجھے معاف نہ کر دے میں کیسے یہ سب کر سکتا ہو۔۔۔
تم خودی دیکھ لو اب بات ختم۔۔۔
دلاور اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتا بول رہا تھا جب شاویز واپس قالین پر بیٹھتا پاگلوں جیسا بولا تھا۔۔۔۔
خان کب تک ایسے رہو گے دنیا سے کٹ کر رہ گے ہو ہم سب کوشش کر تو رہے ہے روحا کو ڈھونڈنے کی و۔۔۔
ا۔اسے کہو بس ایک بار مجھے معاف کر دے میں پوری زندگی اس کے سامنے نہیں آو گا اسے کہو بس ایک بار دلاور۔۔۔
دلاور اس کے قریب بیٹھتا بول رہا تھا جب شاویز اس کے سینے سے لگتا بچوں کی طرح روتا بولا تھا۔۔۔
ریلکس شاویز وہ مل جاۓ گی آٶ کھانا کھاۓ۔۔۔۔
دلاور اس کا ہاتھ پکڑے ٹیبل پر بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔۔
جاٶ کھانا لگاٶ اور پورے پیلس کو صاف کرو۔۔۔
ملازموں کو ہال کے باہر کھڑا دیکھ دلاور بولا تھا۔۔۔
ج۔جی سر۔۔۔
سارے ملازمین حکم مانتے جلدی سے بولتے اپنے کام میں بزی ہو چکے تھے۔۔۔
———————————————————–
باجی میں ٹھیک ہو آپ پریشان کیوں ہو رہی ہے آپ کی حالت بھی تو ایسی ہے ۔۔۔
علیشبہ روحا سے جوس کا گلاس لیتی بولی تھی۔۔۔
دلاور نے روحا کے کہنے پر شاویز کو نہیں بتایا تھا وہ کہاں رہتی ہے شاویز کی حرکت پر دلاور کو بھی بے حد غصہ تھا تبھی اس نے نہیں بتایا تھا اس کو ۔۔۔
اپنا خیال رکھ لو میں بھی رکھ لو گی ۔۔
روحا اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
روحا کا دل تنگ آ گیا تھا سب سے لیکن کبھی کبھی اسے شاویز کی بے حد یاد آتی تھی ۔۔۔
لیکن اس کی باتیں سنتے وہ اکثر خاموش ہو جاتی تھی۔۔۔۔
اچھا تم یہ جوس پیو میں اپنا ناول پڑھ لو ۔۔۔
روم میں انٹر ہوتے دلاور کو دیکھ روحا جلدی سے اٹھ کر جاتی بولی تھی۔۔۔۔
با۔جی ر۔۔۔
علیشبہ روکتی ہی رہی لیکن وہ جا چکی تھی۔۔۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا شاہ بھای ٹھیک ہے۔۔
علیشبہ پریشان سے دلاور کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
می۔میرا وہ خان ہی نہیں جو رعب والا تھا یہ تو کوئ ٹوٹا بکھرا انسان تھا۔۔۔
تم روحا کو کہو بس ایک بار اس سے مل لے پھر چاہے میرے دوست کو مت بلاۓ ۔۔۔
اسے بس ایک معافی مانگنے دے۔۔۔۔
تم بار کرو روحا سے ۔۔۔
دلاور پریشان ہوتا اس کا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔
میں خود چاہتی ہو باجی شاہ بھای کے ساتھ رہے ۔۔۔
آپ جانتے ہے سارا دن خود بھی اکیلی رہتی ہے رات بھی سوتی نہیں ہے پتہ نہیں کہاں گم رہتی ہے۔۔۔
مجھ سے زیادہ باجی ویک ہے ڈاکٹر ہزار دفعہ بتا چکی ہے ان کی حالت کے بارے میں۔۔۔۔
علیشبہ بھی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
باجی میں آ سکتی ہو۔۔۔
روم میں آتی علیشبہ روحا کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔
جو گلاسز لگاۓ ناول پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
آو میری جان ۔۔
روحا اسے دیکھتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
باجی بس ایک بات کہنی ہے شاہ بھای سے م۔۔۔
میں ہرگز نہیں ملو گی عالی ۔۔۔
علیشبہ پاس بیٹھتی بول رہی تھی جب روحا طش سے بولی تھی ۔۔۔
باجی میں مانتی ہو بھای نے اچھا نہیں کیا یہ بھی سوچے آپ کی آزمائش تھی۔۔۔
انسان کی قسمت میں جو لکھا ہو وہی ہوتا ہے ۔۔۔
اگر سوچے آپ کے ساتھ شاہ بھای یہ سب نہ کرتا تو کوئ اور انسان کر دیتا راحیل جیسا بندہ ہی کر دیتا پھر آپ کیا کرتی ۔۔۔۔
ہم انسان ہے کوئ فرشتے نہیں جو ہم سے غلطیاں نہ ہوتی ہو ۔۔۔۔
انسان تو قتل کر کے اپنے رب سے معاف مانگ لیتا ہے کہ ہمارا رب ہمیں معاف کر دے گا ۔۔۔۔
آپ یہ بھی سوچے آپ انسان ہی ہے تو بھای کو ایسی سزا کیوں ۔۔۔
وہ اپنی سزا پا چکے ہے باجی اب معاف کر دے جب کوئ اپنے گناہ پر روتا ہے تو ہمارا رب بھی معاف کر دیتا ہے۔۔۔۔
سب سے بڑی بات شاہ بھای نے اتنے سال امی کی دیکھ بھال کی ان کا خیال رکھا بلکہ ابھی بھی رکھ رہے ہے ۔۔۔
آپ تھوڑا سا سوچے کل کو بے بی ہو گیا کیا بتاۓ گی اسے کہ اس کا باپ کدھر ہے ۔۔
پلیز باجی سب بھول کر ایک بار بھای سے مل لے ۔۔۔۔
جو انسان معاف کرتا ہے اسے ہمارا رب بھی پسند فرماتا ہے ۔۔۔۔
آپ یہ کام کرے پھر چاہے بھای سے مت ملنا ۔۔۔۔
میں یہ بھی جانتی ہو آپ کو بھی محبت ہے ورنہ ان کی جدائ پر آپ کی یہ حالت بھی نہ ہوتی ۔۔۔
علیشبہ روحا کی حلقے زدہ آنکھیں دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ن۔نہیں و۔۔۔
بہن ہو آپ کی سب سمجھتی ہو بس آپ خودی ایک کوشش نہیں کرتی ۔۔۔۔
بس ایک کوشش کرے باقی آپ کی مرضی ہو گی۔۔۔۔
روحا اس کی بات سنتی گھبراتی بول رہی تھی جب علیشبہ کہتی وہاں سے گی تھی۔۔۔۔
————————————————————
غلام دین یہ سارے ناولز اچھے رکھنا روحا بے بی کو پسند ہے پڑھنا یہ سب وہ پڑھے گی۔۔۔۔
شاویز اسٹڈی روم میں کھڑا غلام دین کو حکم دیتا بولا تھا۔۔۔۔
جب روحا انٹر ہوئ تھی۔۔۔۔
ج۔جی خان ۔۔۔
غلام دین اس کے پیچھے کھڑی روحا کو دیکھ ہکلاتا بولا تھا۔۔۔۔
ت۔۔۔
معاف کیا تمہیں میں نے شاویز خان تمہاری ہر غلطی کو ۔۔۔
شاویز بول رہا تھا جب روحا سپاٹ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔
روحا بے بی ۔۔۔
کدھر تھی میری جان تم جانتی ہو کتنا ڈھونڈا میں نے ہر وہ جگہ دیکھی جہاں تم ہو سکتی تھی ۔۔۔
اففف یہ تم ہو دیکھو سب یہ میری روحا آئ ہے ۔۔۔
ہاہااہاہہاہاہاااہ میں بہت خوش ہو ۔۔۔
شاویز روحا کو کندھوں سے پکڑے دیوانہ وار اب اس کا چہرہ چومتے بولا تھا۔۔۔
بڑھی ہوئ کالی شیو ۔سرخ حلقے زدہ نیلی آنکھیں بکھرے لمبے بال بکھری حالت وحشت زدہ چہرہ یہ تو وہ شاویز تھا ہی نہیں جس پر لڑکیاں مرتی تھی ۔۔
یہ تو کوئ لاش تھی جو صرف چل رہی تھی۔۔۔۔
روحا کو شدید حیرت ہوئ تھی اس کی حالت پر ۔۔۔
م۔میں وعدہ کرتا ہو تمہیں اب ہر خوشی دو گا ۔۔۔
افففف میں بھی کتنا پاگل ہو تمہیں بیٹھانا چاہے ہمارا بے بی آنے والا ہے ۔۔
اپنا خیال رکھو یار ۔۔۔۔
شاویز پاگلوں کی طرح روتا روحا کو پکڑے صوفے پر بیٹھاۓ خود اس کے قدموں میں بیٹھتا بولا تھا۔۔۔
ت۔تم مجھے مارنا چاہو تو مار سکتی ہو میں افف نہیں کرو گا ۔۔
میں اپنے بچے کا خیال پورا رکھو گا میں نے سوچ لیا ہے ہم یہاں نہیں رہے گے۔۔۔۔
شاویز اس کے ہاتھ پکڑے مسلسل خودی بول رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ روحا تو بس اس کی حالت دیکھتی رو رہی تھی ۔۔۔
م۔مجھے جانا ہے ۔۔۔
کیوں روحا بے بی تم یہی رہو پلیز ۔۔۔
روحا ہمت جمع کرتی بامشکل اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
جب شاویز حیران پریشان ہوتا اٹھتا بولا تھا ۔۔۔
غلام دین خیال رکھنا۔۔۔۔
روحا اب بنا دیکھے ہال میں آتی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ شاویز پیچھے آ رہا تھا۔۔۔۔
مت جاٶ روحا پلیز یہ سب تمہارا ہے میں چلا جاٶ گا یہ سب چھوڑ کر تم بس مت جاٶ ۔۔
روحا ہال سے باہر لان میں آچکی تھی جب شاویز اس کا ہاتھ پکڑے روتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
مت کرو شاویززززززز ۔۔۔
روحا روتی ہوئ حلق کے بل چلاتی ہاتھ چھڑواتی پلیس کے گیٹ سے باہر نکل گی تھی۔۔۔
روحا روحا مت جاٶ میں مر جاٶ گا پلیز روحا۔۔۔۔
بنا چپل کے شاویز سڑک کنارے کھڑا روتا ہوا بولا تھا۔۔۔
جب کار میں بیٹھی روحا دور جا رہی تھی۔۔۔۔
اسے شاویز کی چیخ و پکار سن رہی تھی۔۔۔
روحاااااااا۔۔۔۔۔۔
ابھی روحا کی کار تھوڑی دور گی تھی جب اسے شاویز کی چیخ سنائ دی ۔۔۔۔
جہاں وہ کھڑا تھا پیچھے سے آتے ٹرک سے ٹکر لگتے وہ دور جا کر گرا تھا۔۔۔
شا۔شاوی۔شاویزززززز۔۔۔۔
کار روکتے روحا نے جیسے ہی پیچھے موڑ کر دیکھا تھا تبھی وہ ہکا بکا ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
جہاں آس پاس ہجوم کے درمیان خون میں لت پت شاویز خان اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔۔۔۔
ش۔شاویز شاویز پلیز کوئ
ہلیپ کرو ۔۔۔
غلام دین کاکا جلدی آے ۔۔۔
روحا مدد مانگتی جلدی سے اٹھتی پیلس کی طرف بھاگتی چلای تھی ۔۔۔
جب اس کے کافی تعداد کے گارڈز باہر آتے شاویز کو اٹھاۓ کار میں لیٹا چکے تھے۔۔۔۔
————————————————————
ڈاکٹر ڈاکٹر وہ ٹھیک تو ہے۔۔۔
روحا اسے ہاسپٹل لے آی تھی اب وہ اسے آپریشن تھیٹر لے کر گے تھے ۔۔۔
کافی دیر بعد ڈاکٹر کو آتا دیکھ وہ روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
عالی لوگوں کو وہ فون کر چکی تھی ۔۔
اس کا خود کا چہرہ خون سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
سوری مسز شاویز ہم نے آپریشن کر تو دیا لیکن ۔۔
لیکن کیا ڈاکٹر ۔۔۔
ڈاکٹر دکھی لہجے سے بول رہا تھا جب روحا بے بے تابی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
ان کی ریڑ کی ہڈی فکچیر ہوئ ہے ۔۔۔
ٹانگوں سے معذور ہو چکے ہے ۔۔
اب وہ کوما میں جا چکے ہے ۔۔۔۔
ک۔کیاااااا۔۔۔
روحا یہ سنتی گرنے والی تھی جب علیشبہ نے آتے اسے پکڑا تھا۔۔۔۔
ہمت سے کام لے دعا کرے اللہٌسب بہتر کرے گا۔۔۔
ڈاکٹر اسے حوصلہ دیتے وہاں سے گیا تھا۔۔۔۔
ن۔نہیں عالی ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
روحا وہی پھوٹ پھوٹ کر چیختی روی تھی۔۔۔۔
————————————————————
““ایک ہفتے بعد۔۔۔۔
اب کیسی حالت ہے ان کی ۔۔۔
روحا ڈاکٹر کے کیبن میں آتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
زرا اچھی نہیں ہے وہ کسی بھی میڈیسن کا رسپانس نہیں دے رہے ۔۔
کچھ بھی کر لو ان کی ویل پاور ہی نہیں کام کر رہی جیسے وہ جینا نہیں چاہتا زندگی سے تنگ آ گیا ہو۔۔۔۔
ہم سب ڈاکٹرز پریشان ہے کیا کرے اب اگر یہی حالت رہی تو بس ہمیں لگتا وہ کچھ دن بعد ہی م۔۔۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا م۔میں واپس لاٶ گی شاویز کو زندگی کی طرف ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سنتے روحا روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
م۔میں ملنا چاہتی ہو اس سے ۔۔۔
روحا کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ملنا مشکل ہے چلے آپ مل لے۔۔۔۔
ڈاکٹر پہلے بولتا پھر کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
باجی پلیز کچھ بھی کرے شاہ بھای ٹھیک ہو جاۓ ۔۔
ان کے لیے یہ سزا کافی تھی باجی جو اپنی ہی سانسوں کے لیے محتاج ہو چکے ہے آپ پلیز انہیں دل سے معاف کر دے باجی ۔۔
روم کے باہر کھڑی علیشبہ روحا کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
روحا بھی تڑپی تھی اس کی حالت دیکھ کر ۔۔۔
یہ تم غلط کر رہے ہو شاہو۔۔۔۔
روحا روم میں آتی لاتعداد مشینوں میں گھیرے شاویز کو کوما میں گے اس کے پاس بیٹھتی آنسو روکتی بولی تھی ۔۔۔۔
اسے کیسے بھی کر کے شاویز کو یہ امید دلانی تھی وہ زندگی دوبارہ جی سکتا ہے۔۔۔
کیسے چپ ہو تم مجھے تو تم پٹر پٹر بولتے اچھے لگتے ہو۔۔۔
روحا شاویز کے خشک ہونٹوں کو اپنے ڈوپٹے سے صاف کرتی آنسو روکتی بولی تھی۔۔۔
اتنی باڈی بنا لی بس عقل تمہاری گھٹنوں میں چلی گی ہے بندہ دیکھ ہی لیتا ٹرک آ رہا ہے۔۔۔۔
روحا نرمی سے اس کے بال سنوارتی بولی تھی۔۔۔۔
آنسوٶں سے اس کا سارا چہرہ بھیگ رہا تھا۔۔۔۔
می۔میں کیا کرو ایسا جو تم کوما سے باہر آ جاٶ تھک گی میں ۔۔۔
میں ایسا نہیں چاہتی تھی شاویز میں نے معاف کر دیا تھا بلکہ آج میں کہتی ہو مجھے تم سے عشق ہے یہ نہیں جانتی کب سے ۔۔۔
پلیز واپس آ جاٶ شاویز تمہاری یہ سزا کافی تھی ۔۔۔
اب تو ہمارا بے بی بھی آنے والا پلیز واپس آ جاٶ شاویز۔۔۔۔
روحا مسلسل اس سے بات کر رہی تھی جب دیکھا شاویز کوئ خاص رسپانس نہیں دے رہا اسی کے سینے پر سر رکھے وہ آنسو بہاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ کہ نظریں اس کی ہارٹ ریٹنگ مشین پر تھی جو بہت سلو چل رہی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔
روحا شاویز کی اچانک تیز ہوتی سانسوں اور میشن پر ہارٹ ریٹنگ تیز ہوتی دیکھ پریشان ہوتی چلائ تھی۔۔۔۔
ڈاکٹرز بھاگے ہوۓ آے تھے۔۔۔
آپ باہر جاۓ پ۔۔
نہیں میں یہی رہو گی ۔۔۔
ڈاکٹر روحا کو دیکھتا بولا تھا جب وہ روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
پلیز مس شاویز آپ باہر جاۓ۔۔۔
ڈاکٹر تحمل سے بولا تھا۔۔۔
عالیییییی۔۔۔
باہر آتی روحا اب علیشبہ کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔
———————————————————–
“”چار سال بعد۔۔۔۔
جلدی جلدی کرو جانتے ہو شاویز سر کو لیٹ کام پسند نہیں ہے ۔۔۔
میٹنگ روم میں اس کے آفس کے ورکرز جلدی جلدی سب سیٹ کر رہے تھے جب اس کا مینجر پریشان بولا تھا۔۔۔۔
کیونکہ سب کو پتہ تھا ان کے سر کو ہر چیز پرفیکٹ چاہے تھی ۔۔۔۔
سیپن سے ایک ڈیلنگ آی تھی جس نے شاویز خان گروپ آف انڈسٹرز کے ساتھ ایک اہم
پراجیکٹ ہونا تھا ۔۔۔۔
جس کے لیے سب ہی بے تاب تھے کیونکہ چار سال بعد شاویز خود میٹنگ کرنے والا تھا۔۔۔۔
س۔سر آگے سر آگے۔۔۔
اس کا سکیرٹری میٹنگ روم میں آتا چلایا تھا۔۔۔۔
جب سارے سانس روکے اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔۔
سیپن سے آیا
دوسرے کمپنی کا آیا مینجر سامنے حیران سا شاویز کو دیکھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
جو بڑے شان سے روم میں آیا تھا۔۔۔۔
اس کے آفس کے سارے ورکرز کا پیسنہ چھوٹا تھا۔۔۔۔
