Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 11)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 11)
Junon Inteqam By Rania Mehar
چ۔چھوڑو مجھے تم ۔۔۔
روحا اس کی کمر پر مکے مارتی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
اگر جنگل میں خاموشی ہو جاۓ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا شیر مر چکا ہے ۔۔۔۔
بلکہ وہ اپنی شیرنی کا ویٹ کر رہا ہوتا کب وہ خود چل کے پاس آۓ ۔۔۔۔
شاویز اب مسکراتا اپنی ہڈی اتارے اسے روم میں لاتا بیڈ پر گراتا بولا تھا۔۔۔۔
انہہہ شیر ہو تم توح ہے تم پر ۔۔۔۔
روحا زخمی شیرنی بنے اپنے قریب بیٹھے شاویز کو بولتی اس کے چہرے پر تھوکا تھا۔۔۔۔
نہیں ہو میں تمہاری شیرنی سنا تم نے بس اپنا انتقام پورا کیا جو کہ ہو گیا اب دفع ہو جاٶ میری زندگی سے دو طلاق مجھے ابھی کہ ابھی۔۔۔۔
غصے سے بھرے بیٹھے شاویز کو دیکھتے سکون سے روحا دھاڑی تھی۔۔۔۔
میری شیرنی میں نے وہی کہا اگر جنگل میں خاموشی ہو تو مطلب یہ نہیں شیر مر چکا ہے ۔۔۔۔
تمہارے نازک وجود پر میری ایک ہی دھاڑ کافی ہے ۔۔۔۔
شاویز آہستہ آہستہ اپنا چہرہ اس کے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔
میں نے بھی یہی کہا تم شیر ہو ہی نہیں سکتے تم تو جانور ہو جس نے مجھ پر ظلم ڈھاہا ا۔۔۔۔
جنون ہو میرا وہ بھی تب سے جب تم مجھے پہلے دن ملی تھی اب تو مشکل ہے تمہارے بنا رہنا ۔۔
ایک ہفتہ تمہیں چھوڑا کیونکہ میں جان چھڑوانا چاہتا تھا کہ میرا انتقام پورا ہو گیا ۔۔۔
لیکن میرا نادان دل تمہارے حسن پر اٹک گیا بس یہ تمہیں چاہتا ہے ۔
اب بھول جاٶ میں تمہیں چھوڑو گا یا طلاق دو گا۔۔۔
روحا بیڈ سے اٹھتی بول رہی تھی جب شاویز اپنے گال پر لگا اس کا تھوک روحا کے گال سے لگاتا سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
فیل کرو روحا بے بی اب کیا ہوا بولتی بند ہو گی۔۔۔
روحا کو برا سا منہ بناۓ دیکھ شاویز اب اسے کمر سے پکڑتا بولا تھا۔
اتنا ظلم ڈھا کر تمہیں اب یاد آیا جنون ہو میں تمہارا نہیں ہو میں تمہاری مجھے جانے دو تم پہلے ہی مجھے حاصل ک۔۔۔۔
ایک دن آۓ گا روحا بے بی کہ تم خود مجھے کہو گی شاویز میں اس دنیا سے لڑتے لڑتے ہار گی ہو مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔
شاویز اسے پکڑتے اپنے سینے سے لگاۓ اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ت۔تم پاگل ہو خودی عیجب بات بول رہے ہو گندے انسان۔۔۔
روحا کے دماغ میں کوئ بات اس کی نہیں پڑ رہی تھی تبھی دانت پیستی وہ بولی تھی ۔۔۔
شاویز کا اب دماغ گھوما تھا کیونکہ وہ کب سے اسے ہینڈل کر رہا تھا۔۔۔
————————————————————
سچ کہوں تو مجھے تمھاری خوبصورتی نے پل میں اپنا دیوانہ بنا لیا تھا ۔۔
اور جو چیز شاویز خان کو اچھی لگے وہ اُسے حاصل کر لیتا ہے یا تو ہنس کر یا پھر لڑ کر ۔
۔اور تم مجھے بہت زیادہ پسند آئی ۔۔۔۔
روحا بے بی ۔۔
شاویز آہستہ سے اس کے کان کی لو کو چومتا بولا تھا۔۔۔
۔ہممممم میں گھما پھرا کر باتیں کرنے کا عادی نہیں اسئلے میں اصل بات کی طرف آتا ہو ۔۔
بات یہ ہے میں تمہارے بنا ایک پل نہیں گزار سکتا ۔۔
اس بات پر ڈیل کرنی تھی تو ڈیل تمھیں میری رکھیل بن کر رہنا ہوگا تب تک جب تک میرا دل بھر نہیں جاتا تم سے ۔۔۔
شاویز روحا کا حیرت سے منہ کھولا دیکھ سکون سے پھر بولا تھا۔۔۔۔
ارے ایسے مت دیکھوں ویسے تم جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کو منہ تو نہیں لگاتا میں پر یہ کمبخت دل ۔۔
اسلئیے یہ ڈیل زیادہ فائدے مند رہے گی ہم دونوں کے لئیے۔۔۔ تمھیں میرے ساتھ گزاری ہر رات کی قیمت
ملی گی جتنا وقت گزاروں گی میرے ساتھ اُسکا تمھیں حساب دوں گا مطلب ۔۔۔
شاویز ابھی بھی ویسے ہی بولتا اب اس کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔
اور جتنی قیمت تمھیں میں دونگا صرف کچھ پل میری قربت میں رہنے کی اُس سے باقی کی زندگی سکون سے گزرے گی تمھاری ٹرسٹ می ۔۔۔۔
اور اس بات کی بھی ٹینشن نہ لو کہ میں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کہ بعد پھینک دونگا تمھیں ۔۔۔
بلکہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی ۔۔۔
ایسے ہی کوئ تم مجھے سے امید رکھتی تھی تم سے بات کرو گا ۔۔۔۔
جبکہ اس کے برعکس ایک چھوٹی سی بات ہے روحا بے بی یہ شاویز خان تمہارے عشق میں ڈوبا ہوا ہے اب یہ کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑے گا جو بھی میں نے کیا وہ بہت غلط تھا اس کی میں معافی پوری زندگی مانے کو تیار ہو۔۔۔
میری زندگی میں اپنی ماں کے بعد کوئ عورت آی ہے وہ صرف تم ہو صرف تم۔۔۔۔
شاویز روحا کا حیرت کی زیادتی سے سرخ چہرہ دیکھتا گود میں اٹھاۓ بیڈ پر لیٹاتا اس کے ہاتھ پاٶں باندھتے بولا تھا۔۔۔
پ۔پلیز خ۔خان مت کرو آ۔آج کے دن۔۔۔
روحا ڈرتے ہوۓ اپنی اس رات والی حالت دیکھ منت کرتی بولی تھی۔۔۔۔
شاویز کے دل کو جٹھکا تھا اس کی بات سن کر مطلب اس کے قریب آنے سے روحا ڈرتی تھی اسے وحشت ہوتی تھی ۔۔۔۔
شاویز نے سوچ لیا تھا وہ روحا کو پہلے جیسی بنا دے گا تبھی پرسکون ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
روحا بے بی ریلکس زخم میں نے دے ہے تو مرہم بھی میں ہی لگاٶ گا۔۔۔۔
بیڈ کے کنارے بیٹھتے شاویز نے نرمی سے اس کا سرخ سفید ملائم پاٶں پکڑتے وہاں اب زخم کی ٹیوب لگاتے آرام سے بولا تھا۔۔۔۔
روحا جس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کی تھی کہ شاویز پہلے کی طرح اس پر ظلم ڈھاۓ گا اب پاٶں کے پاس بیٹھے دیکھ وہ شوک ہوئ تھی۔۔۔
انہہ ڈرامہ۔۔۔۔
روحا کو اپنے پاٶں پر کچھ ٹھنڈا سا محسوس ہوا تبھی وہ تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
تم بہت پیاری ہو بلکہ میری سوچ سے بھی زیادہ بہادر ورنہ تمہاری جگہ اور لڑکی ہوتی وہ ظلم سہتی کب کی مر چکی ہوتی ا۔۔۔۔
مر تو میں اسی دن گی تھی جس دن تمہارے نکاح میں آئ تھی۔۔۔۔
روحا اپنا سر اٹھاۓ شاویز کو دیکھتی بولی تھی جو اب شرٹ لیس ہوتا نرمی سے اپنے لب اس کے پاٶں پر رکھتا بول رہا تھا۔۔۔۔
چلو اچھی بات ہے اب مت مرنا دوبارہ زندہ ہونا روحا بے بی ۔۔۔۔
شاویز اب اٹھ کر بیڈ کی طرف آتا اس پر جھکتے نرمی سے آئ برو کے کٹ کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
م۔م۔مر جاٶ تم ۔۔۔
روحا اپنے آنسو روکتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں مر جاٶ گا بہت جلد۔۔۔
شاویز اب اس کا ماتھا چومتا اپنے روم سے چلا گیا تھا۔۔
جبکہ وہ اپنے وجود پر کوئ عیجب سی خوشبو محسوس کرتے وہ آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں جا رہی تھی۔۔۔۔
روحا کو نیند میں جاتا دیکھ وہی کھڑا شاویز اب آرام سے اس کے پاس لیٹتا مسکراتا ہوا سو گیا تھا۔۔۔
جبکہ وہ اب اس کے ہاتھ پاٶں بھی کھول چکا تھا۔۔۔
———————————————————–
کیا سوچا جا رہا ہے جانِ سائیں۔۔۔
علیشبہ ابھی فارغ ہوتی بیڈ روم آئ تھی جب دلاور ہشابشا مسکراتا ہوا آیا تھا۔۔۔۔
و۔وہ میں کچھ پوچھو۔۔۔
علیشبہ گھبراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں بولو اجازت کی ضرورت نہیں ۔۔۔
دلاور اس کے ہاتھ پکڑتا وہاں لبوں سے چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ پہلے آپ نفرت کرتے تھے مجھ سے مطلب اس رات جو آپ نے مجھے کہا کہ مجھے ایسی لڑکی نہیں سمجھتے ا۔۔۔
وہ میں صرف ایک بات پر بہت پریشان تھا بس یہی کہہ لیکن میرا یقین ہے اس رات جو کچھ بھی ہوا اس میں تمہارا قصور نہیں ہے ۔۔۔
بس قسمت کا لکھا سوچ کر میں سب بھول گیا کیونکہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہو ۔۔۔
شادی تو انتقام کے لیے کی لیکن تمہاری معصوم صورت دیکھ میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔
دلاور نرمی سے اسے اپنے سینے سے لگاتے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آ۔آپ مجھے ساری بات بتا دے کہ ایسی کیا غلطی تھی میری جو ایسی شادی کی۔۔۔۔
علیشبہ ساری بات سنتی اٹھتی ہوئ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
ارے چھوڑو یار میں سب بھ۔۔۔
نہیں سائیں مجھے بتاۓ کیا کیا تھا ایسا میں نے جو آپ نے یہ سب سوچا۔۔۔۔
دلاور اسے بہلاتا ہوا بول رہا تھا جب علیشبہ نے منت کی تھی۔۔۔
ک۔کیا۔۔۔۔
دلاور اسے سب بتا چکا تھا جب حیرت سے علیشبہ منہ کھولے سنتی چلای تھی۔۔۔
اچھا ریلکس تم پریشان مت ہو م۔۔۔
عالی عالی کہاں جا رہی ہو یار۔۔۔
دلاور کی ساری بات سنتی گھبراتے ہوۓ علیشبہ روتی ہوئ واش روم بھاگی تھی ۔۔۔
وہی دلاور پریشان ہوتا بولا تھا۔۔
جبکہ واش روم کے دروازے سے ٹک لگاۓ علیشبہ اب پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔
