304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 13)

Junon Inteqam By Rania Mehar

س۔سوری ۔خ۔خان جی ہمیں نہیں پتہ۔۔۔

سارے گارڈز ڈرتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

کیسے ن۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے شاویز کچھ کہتا جب اسے روحا کے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔

جیسے سنتے وہ پاگلوں کی طرح واپس روم میں بھاگا تھا ۔۔۔

روحا بے بی روحا بے بی یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔

روم میں آتے ہی شاویز اس کی آواز سنتا واش روم میں آتا بولا تھا جہاں وہ پاگلوں کی طرح ٹھنڈے پانی سے شاور لیتی اپنا جسم نوچتی چیخ رہی تھی ۔۔۔۔

د۔دور رہو مجھے تم سے وحشت ہوتی ہے تمہارا وحشت بھرا لمس میرے جسم پر ہے گھن آتی ہے مجھے تم سے تمہارے وجود سے تمہاری قربت سے۔۔۔۔

اس ایک ماہ بعد روحا نے اپنے دل کا غبار نکلا تھا ۔۔۔

ریلکس روحا تم باہر آٶ م۔۔۔۔

دفع ہو جاٶ تم میری زندگی سے کتنی دفعہ کہو تم سے گھن آتی مجھے مرنے کو دل کر رہا میرا۔۔۔۔

ٹھنڈے پانی میں بھیگتی مسلسل کانپتی روحا شاویز کو دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔۔

روحا میری جان وہ میری محبت تھی جو میں دن رات ت۔۔۔۔

بلکل نہیں وہ تمہارا شوہر ہونے کا حق تھا جو تم ہر دن اور رات لیتے تھے مجھ سے یہ جانے بنا کہ مجھ پر کیا گزارتی تھی۔۔۔۔

تم میرے شاہ نہیں ہو جو میرے درد میں تڑپ جاتا تھا تم شاویز خان ہو جو بس ظلم ڈھانا جانتا ہو ۔۔۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے جاٶ ورنہ اپنی جان لے لو گی میں۔۔۔

روحا پھر سے شاویز کو دھکا دیتی اب پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔

دیوار سے ٹائپ لگنے کی وجہ سے شاویز کے سر پر چوٹ آئ تھی جہاں سے اب خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔

اچ۔اچھا تم مجھے ایک م۔۔۔۔۔

تم جا رہے ہو یا نہیں شاویز خانننننن۔۔۔۔

اپنے سر سے نکلے خون کی پرواہ نہ کرتے وہ بول رہا تھا جب روحا اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔

وہی وہ زخمی سر لیے روم میں چلا گیا تھا جبکہ روحا ویسے ہی بھیگ رہی تھی۔۔۔

————————————————————

اففف آدھی رات ہو گی ویسے ہی بھیگ رہی ہے کیا میں اتنا برا بن چکا تھا ۔۔۔

شاویز ویسے ہی زخمی سر لیے بیڈ کے کنارے بیٹھا سوچ رہا تھا اب تو آدھی رات بھی بیت گی تھی نہ ہی شاویز اٹھا تھا اپنی جگہ سے نہ ہی روحا باہر آئ تھی۔۔۔

م۔میں سب ٹھیک کر دو گا ہاں بس روحا میری محبت پر یقین کر لے ۔۔۔۔

شاویز بھی بھی بیٹھا سوچ رہا تھا جب اسے اپنے ماتھے پر ٹھنڈے گیلے ہاتھ محسوس ہوۓ ۔۔۔

روحا بے بی م۔۔۔۔

بیوی ہو تمہاری مرہم تو لگا سکتی ہو میں۔۔۔

شاویز اسے سامنے کھڑی دیکھ کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتا بول رہا تھا جب روحا اس کا خون صاف کرتی سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

ر۔۔

آرام کرو تم ۔۔۔

روحا اس کی پٹی کرتی واپس جاتی بولی تھی۔۔۔

پلیز روحا ایک چانس دے دو میں اپنے گناہ کا ازلہ کرنے کو تیار ہو۔۔۔

روحا کو بیک ہگ کیے شاویز پھوٹ پھوٹ کر روتے بولا تھا۔۔۔

تمہارے کپڑے گیلے ہو گے چینج کر لو ۔۔۔

روحا اسے نرمی سے دور کرتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہی شاویز نے اپنا سر ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔

———————————————————–

کیا ہوا عالی کروٹ پر کروٹ لے رہی ہو خیریت۔۔۔

دلاور گہری نیند سو رہا تھا جب اسے محسوس ہوا عالی جاگ رہی ہے تبھی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

جی پتہ نہیں دل گھبرا رہا آپ باجی کو فون کرے کہ وہ ٹھیک ہے یا شاہ بھای کو پوچھ لے ۔۔۔

عالی اٹھ کر بیٹھتی رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔

اففف پاگل لڑکی اس ٹائم میں فون کرو کتنا عیجب لگے گا وہ کپل ہے یار میں صبح پوچھ لو گا۔۔۔۔

دلاور اسے اپنی باہوں میں لیتا اس کے ڈمپل پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔۔

نہیں مجھے بتاۓ پھر آپ کیوں جاگے ہے چلے سو جاۓ۔۔۔

عالی گھبراتی ہوئ دور ہوتی بولی تھی۔۔

اب تو نیند آنی ہی نہیں جاگنا پڑے گا تو کچھ کر لیتے ہے ۔۔۔

دلاور اب اسے پکڑتے اپنی گود میں بیٹھاۓ اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بولا تھا۔۔۔

سائیں میں سوچ رہی تھی آپ ماہم پر کیس کر دے وہ آپ کے پیسے لے کر بھاگی ہ۔۔۔۔

ہاےےے کتنی ذہین ہو تم یار۔۔۔

علیشبہ اب کچھ سوچتی بول رہی تھی جب دلاور طنز کرتا بولا تھا۔۔۔

آپ تعریف کر رہے یا بےعزتی۔۔۔

عالی اسے شکوہ کرتی نگاہوں سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

یار ہم دونوں کی بات کیا کرو یہ ہر کسی کو درمیان میں لانا ضروری ہے کیا۔۔۔

اب بلکل خاموش ۔۔۔

دلاور اس کے نیم وہ کھولے لبوں کو دیکھتا چپ کرواتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔۔

س۔سائیں بس کرے سو جاۓ غلطی ہو گی جو اٹھا دیا آپ کو۔۔۔۔

علیشبہ جلدی سے دور ہوتی شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

و۔۔

کون ہے ۔۔۔

اس سے پہلے دلاور کچھ کہتا جب روم کے دروازے پر ملازمہ نے دستک دی تھی ۔۔

و۔ہ۔وہ سائیں آپ کا دوست شاویز خان آیا ہے ۔۔

ملازمہ ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

اچھا جاو اب۔۔۔

دلاور پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

دیکھا میں نے کہا تھا باجی ٹھیک نہیں دیکھے شاہ بھای آے ہے

علیشبہ اچانک سنتے پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

ریلکس کچھ نہیں ہوا وہ بس مجھ سے کام کے سلسلے میں آیا ہو گا ملنے ۔۔۔۔

دلاور اسے پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔

کون سا کام۔۔۔

علیشبہ نے پھر پریشان ہوتے پوچھا تھا۔۔۔

یار وہ آرمی ایجنٹ ہے بس میرے ساتھ کام کرتا ہے ۔۔۔

بلیو لائن کے نام سے جانا جاتا یہ اب تم یہی رکو میں آتا ہو۔۔۔

دلاور اسے بتاتا اب باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

————————————————————

دلا۔دلاور میں ٹوٹ گیا یار میری محبت ہار گی ۔۔۔

دلاور ہال میں آیا تھا جب شاویز روتا ہوا اس کے گلے لگتا بولا تھا۔۔۔۔

ریلکس کیا ہوا خان ۔۔۔

روحا ٹھیک ہے ۔۔۔

دلاور اسے صوفے پر بیٹھاۓ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

جب شاویز نے اسے ساری بات بتا دی تھی۔۔۔۔

چھوڑ دے اس۔۔۔

نہیں چھوڑ سکتا میں اسے جنون ہے میرا چاہے مجھے خود کیوں نہ مرنا پڑے۔۔

میری بات سن میں کہہ رہا اسے اپنی ان دیکھی محبت سے آزاد کر دو تاکہ وہ اپنی پرانی روحا بن جاۓ۔۔۔

دلاور اسے سمجھاتا بولا تھا۔۔۔

لیکن دلاور میری محبت ہے و۔۔۔

اس کا شاہ بن جا تنگ کر اس کی ہر بات مان پھر دیکھنا وہ ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔۔۔

تمہارے پر حدت بھرے لمس کو وہ تشدید سمجھتی ہے وہ سمجھتی ہے تم انتقام لے رہے ہو ۔۔۔

تبھی کہہ رہا اس کا وہ والا شاہ بن جاٶ جس سے مذاق کرتی تھی ۔۔۔۔

وہ خود چل کر تمہارے پاس آۓ گی دیکھنا ۔۔۔

دلاور نے ایک بار پھر سمجھایا۔۔

ہمممم۔۔

آٶ نماز پڑھنے چلے تم بھی اپنے گناہ کی معافی مانگ لو۔۔

آذانوں کی آواز سنتے دلاور اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔

ہاں چلو میرا رب مجھے معاف کر دے روحا بھی معاف کر دے گی۔۔

شاویز بھی ساتھ جاتا بولا تھا۔۔

دوسری طرف روحا اس کے بنگلے سے نکلتی اکیلی باہر چلی گی تھی۔۔