Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 4)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 4)
Junon Inteqam By Rania Mehar
باجی اگر کبھی میں کوئ غلطی کر دو یا آپ سے چھپ کر کسی سے بات کرو تو آپ کیا کرے گی۔۔۔۔
رات کو علیشبہ روحا کی گود میں سر رکھے گہری سوچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
تو میں کچھ نہیں کہو گی تم اب بڑی ہو رہی ہو میں سوچ رہی تمہاری شادی کر دو۔۔۔
روحا ریلکس ہوتی بولی تھی۔۔۔
شادی تو آپ کو بھی کرنی چاہے آپ جانتی ہے مجھے شاہ بہت پسند ہے اور وہ آپ سے محبت بھی کرتا ہے ۔۔۔۔
علیشبہ اٹھ کر بیٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اگر لڑکا لڑکی آپس میں بات کرتے ہے اچھے ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ان کا کوئ لو سین ہو۔۔۔
دوستی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔
شاہ سے اگر میں شادی کر بھی لو تو کوئ فائدہ نہیں کیونکہ دادی اور ان جیسی عورتیں شاہ کے کان بھر دے گی میری امی آوارہ چالاک بلا بلا بلا تھی ۔۔۔
اور سب سے بڑی بات دادی نے تو پہلے ہی مشہور کیا ہے میں منہ پھٹ ہو مجھے تمیعز نہیں ہے بولنے کی۔۔۔۔
شاہ سے شادی کرنے سے اچھا ہماری دوستی رہے۔۔۔
میں نہیں چاہتی شاہ سے شادی کر کے مجھے شوہر تو مل جاۓ پر دوست گم ہو جاۓ۔۔۔
میری پیاری بہنا میں ایسے ہی ٹھیک ہو تمہاری شادی کرواو گی پھر تمہارے چھوٹے چھوٹے بچوں کی آنی بنو گی۔۔۔
روحا تفصیل سے ساری بات بتاتی مسکراتی ہوئ علیشبہ کے گال کھیچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
کیا باجیییی۔۔۔
علیشبہ شرماتی ہوئ اسی کے سینے میں منہ چھپاتی بولی تھی۔۔۔
ہاہاہہا شرما گی میری بہن۔۔۔
روحا قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
علیشبہ کدھر ہے۔۔۔
دلاور پیسے لے اس کی بتائ جگہ پر آیا تھا۔۔۔
جب سامنے سے ماہم کو آتا دیکھ وہ بولا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا علیشبہ کی دوست ماہم ہے۔۔۔
اس نے کہا تم پیسے مجھے دو میں لے جاتی ہو تم اس کا یہی ویٹ کرو۔۔۔
ماہم مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
میں کیسے مان لو تمہیں علیشبہ نے ہی کہا ہے۔۔۔
دلاور گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
تو مت مانو میں چلی جاتی ہو اسی کی نظر میں برے بنو گے میں تو بس مدد کے لیے آئ تھی۔۔۔
ماہم لاپرواہ ہوتی واپس جاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا رکو لے جاٶ پیسے اسے کہنا جلدی آ ۓ میں نے اپنی امی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔
دلاور جلدی سے ہار مانتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
ماہم پیسے لیتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————-
کہاں ہو یار علیشبہ کتنا ویٹ کروانا اب تو امی کا آپریشن بھی ہو گیا ہو گا۔۔۔۔
دلاور کب سے وہی کھڑا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔
صبح ہونے والی تھی وہ اپنے عشق میں پاگل یہ بھی بھول چکا تھا اس کی امی کس حالت میں ہو گی اب ہار تھک کہ وہ اپنا موبائل آن کرتا علیشبہ کا نمبر ڈائل کرتا بولا تھا۔۔۔
جس کا مسلسل آف جا رہا تھا۔۔۔
جی ڈاکٹر بس م۔۔۔
دلاور کو ڈاکٹر کا فون آیا تھا جب وہ جلدی سے اٹھاتا گاڑی میں بیٹھتا بول رہا تھا ۔۔
جب ڈاکٹر کی بات سنتے اس کی ساری دنیا ہی اجڑ گی تھی۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح کار ڈوراتا ہوا گیا تھا اپنی امی کے پاس۔۔۔
————————————————————
امی مجھے روحا سے شادی کرنی ہے آپ ایسا کرے رشتہ لے جاۓ ۔۔۔
شاہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے پیار سے بولا تھا۔۔۔
ضرور بیٹا یہ کچھ زمین کا مسئلہ حل ہو جاۓ تب جاٶ گی تم ایسا کرو ایک دفعہ گاٶں جا کر دیکھ لو پھر ہم وہاں سے فارغ ہوتے روحا کے گھر چلے جاۓ گے۔۔۔۔
اس کی امی سارا پلان بناتی پیار سے بولی تھی۔۔۔
امی آپ جانتی روحا پہلی لڑکی جیسے میں موٹا لڑکا برا نہیں لگا بلکہ اسے پسند آیا ہو ا۔۔۔
شاہ اب خوش ہوتا بچوں جیسی باتیں اپنی ماں کو سنا رہا تھا۔۔۔
تمہاری ماما بھی ایسی ہی تھی جب کسی کی بات بری لگتی فورا کہہ دیتی تھی کاش وہ ہمیں دیکھ سکتی۔۔۔۔
شاہ کی ماں اچانک اداس ہوتی بولی تھی۔۔۔
روحا کو دیکھ کر مجھے یہی لگا تھا وہ ماما جیسی ہے لیکن پھر آیا ماما کی اولاد ہی نہیں تھی۔۔۔۔
شاہ بھی اداس ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
اوے روحا کے موٹے ایسے اچھے نہیں لگتے۔۔۔
شاہ کی امی اسے ہنسانے کے لیے بولی تھی اب تو ان کی پوری زندگی شاہ ہی تھا۔۔۔۔
———————————————————–
امی امی امی آپ ایسا نہیں کر سکتی مجھے اکیلے کو چھوڑ کر چلی گی امی کیوںننننننن۔۔۔
دلاور اپنے سامنے اپنی ماں کا جنازہ دیکھتا دھاڑے مارتا چلایا تھا۔۔۔۔
پوری آرمی فورس اس کی امی کے جنازے پر آئ تھی۔۔۔
حوصلہ کرو بیٹے۔۔۔
کرنل صاحب نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے تسلی دیتے کہا تھا۔۔۔۔
کیسے حوصلہ کرو سر میری امی میرا سب کچھ تھی۔۔۔۔
دلاور پھوٹ پھوٹ کر روتا چلایا تھا۔۔۔۔
کرنل خود حیران تھے ان کا ہونہار بہادر آفسر کیسے بچوں جیسا رو رہا تھا۔۔۔
وہ بھول چکا تھا
کہ وہ میجر دلاور شاہ ہے ۔۔۔
اگر یاد تھا تو اتنا وہ رخسا کا بیٹا دلاور شاہ تھا۔۔۔
————————————————————
دیکھو گل تم بہت پیاری ہو بلکہ خوبصورت اتنی ہو اس کا مطلب یہ نہیں تم اس آوارہ بد کردار کامرن سے شادی کر لو جو تمہاری ہی حویلی کا ملازم ہے ۔۔۔
رخسا گل پارہ کی بچپن کی دوست تھی تبھی وہ گل پارہ کو سمجھا رہی تھی۔۔۔
کامرن ان کی حویلی کا مالی تھا جو انتہا کا لالچی ہوس پرست انسان تھا ۔۔
اس کا مقصد صرف گل پارہ سے شادی کر کے اس کی جائیداد لینا تھا۔۔۔
گل پارہ کو اپنی جھوٹی محبت میں پھسا چکا تھا اب وہ اس سے جائیداد لینا چاہتا تھا۔۔۔
رخسا سب جانتی تھی تبھی وہ سمجھا رہی تھی۔۔۔
میں بلکل بھی ایک منٹ نہیں رہ سکتی کامرن کے بنا تم سے بات کرنی فضول ہے۔۔۔
گل پارہ طش سے کہتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
گل پارہ گل پارہ۔۔۔
رخسا اسے آوازیں دیتی رہ گی تھی لیکن وہ ان سنی کرتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
————————————————————
عالی میرا فون کدھر ہے۔۔۔
روحا کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی جب اسے کچھ یاد آتا وہ بولی تھی۔۔۔۔
و۔وہ۔باجی ماہم کے پاس ہے۔۔۔
علیشبہ کالج کے لیے تیار ہوتی بولی تھی۔۔۔
کتنی دفعہ کہا تمہیں اس لڑکی سے دور رہو وہ اچھی لڑکی بلکل نہیں ہے لیکن تم۔۔۔۔۔
افففف ۔۔۔
روحا اچانک طش میں آتی کچن سے باہر آتی چلاتی اب اپنے روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔
باجی سوری میں لے لو گی ف۔۔۔
علیشبہ ناشتہ کرو اور جاٶ کالج۔۔۔۔
روحا گاٶن پہنتی باہر آتی کہہ کر وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔۔
باجی باجی باجی۔۔۔
علیشبہ اب روتی ہوئ اس کے پیچھے بھاگتی بولی تھی۔۔۔
ارے ارے کیا ہوا عالی۔۔۔
شاہ بنگلے کے اندر آ رہا تھا جب سامنے سے آتی علیشبہ سے ٹکراتے بچتا ہوا بولا تھا۔۔۔
و۔
وہ باجی ناراض ہو گی م۔جھ سے۔۔۔۔
علیشبہ روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا چلو میں منا لو گا تم کالج جاٶ۔۔۔
شاہ اسے اپنی کار میں بیٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آپ بہت اچھے ہے بھای۔۔۔
علیشبہ اپنے آنسو صاف کرتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
تمہاری باجی بھی بہت اچھی ہے بہت جلد میں شادی کرنے والا اس سے۔۔۔۔
شاہ شرماتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاےےےے۔۔
علیشبہ نے پہلی دفعہ دیکھا تھا کوئ لڑکا اپنی شادی کی بات پر شرماتا ہو گا تبھی وہ مسکراتی اپنے دل پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ شاہ۔۔۔
شاہ کب سے اس کے پاس شاپ پر آیا مسلسل تنگ کر رہا تھا جب روحا طش سے چلائ تھی۔۔۔
یار بس کرو بچی ہے تم ا۔۔۔
تم مت بولو شاہ جاٶ میں کافی غصے میں ہو تم کچھ بھی منہ سے نکل سکتا ہے ۔۔
شاہ مسکراتا ہوا بول رہا تھا جب وہ طش سے دانت پیستی بولی تھی۔۔۔
تو نکال لو ویسے بھی ہم شادی ک۔۔۔
کون شادی کرنے والا۔۔۔
شاہ جان بوجھ کر روحا کے گلاسز اتارتے بولا تھا۔۔۔
جب سامنے کچھ بھی نہ دیکھائ دیتا روحا بات ٹوکتی بولی تھی۔۔۔
ہماری شادی ظاہر سی بات ہے ہماری ہی ہو گی۔۔۔
شاہ شرماتا ہوا بولا تھا۔۔
شادی کا نام سنتے روحا کا دماغ بھک سے اُڑا تھا۔۔۔
تم موٹے مجھ سے شادی کرو گے شکل ہی اچھی ہے ورنہ اتنے موٹے سے شادی کون کرے گا ۔۔۔
چار دن ہنس کر بات کیا کر لی تم سمجھتے ہو میں تمہاری محبت میں پاگل ہو گی ۔۔۔
سوری مسٹر شاہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ بنگلہ یہ شاپ کا سامان دے کر مجھے خرید لو گے ا۔۔۔
نہیں نہیں روحا ایسی بات نہیں ہم دوست بھی تو ہے تم ایسا مت کرو شادی نہ سہی ہم دوست ٹھیک ہے پلیز۔۔۔۔
شاہ روحا کی بات سنتا اچانک بچوں جیسا روتے بولا تھا۔۔۔۔
روحا کو کچھ بھی دیکھائ نہیں دے رہا تھا ورنہ دیکھ لیتی شاہ رو رہا ہے۔۔۔
دوست بھی نہیں ہو تم سمجھے اب نکلو یہاں سے بلکہ میں ہی چلی جاتی ہو ۔۔
روحا ہاتھ مارتی چابی ڈھونڈتی ہوئ بولتی باہر گی تھی۔۔۔۔
میں چلا جاٶ ا۔۔۔۔۔
جاٶ یہاں سے تم جیسے موٹے کو میں دوست بھی نہیں بنا رہی بھاڑ میں جاٶ شوق سے۔۔۔
جان چھوڑو میری۔۔۔
شاہ اسے دمھکی دیتا بول رہا تھا جب روحا چلائ تھی۔۔۔
روحا تمہاری آنکھ سے خون ن۔۔۔۔
آنے دو خون اچھی بات ہے مجھے تو موت بھی نہیں آتی تم ابھی بھی یہی کھڑے ہو دفع ہو جاٶ۔۔۔
روحا کی آنکھ کے کنارے سے خون نکلتا دیکھ شاہ سب کچھ بھلاۓ اس کے سامنے آتا بول رہا تھا جب روحا اسے دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔۔
روحا کے گلاسز ٹوٹ چکے تھے۔۔۔
روحا میری بیٹی۔۔۔
اچانک وہاں کامرن آتے بولے تھے۔۔۔
کامرن کی ضمانت شاہ نے کروا دی تھی تاکہ روحا کو اس کا باپ مل سکے۔۔
آپ کیوں آۓ ہے پیسے چاہے کیا۔۔۔
روحا ان کو خود سے دور کرتی بولی تھی۔۔۔
دیکھو میں تمہارا ابو ہو بیٹا چلو گھر چلتے ہے مجھے معاف کر دو بیٹا۔۔۔
کامرن اس کو ساتھ لے کر جاتے بولے تھے جبکہ
روحا اب شاہ کو بھولتی اپنے باپ کے ساتھ جا رہی تھی۔۔۔۔
روحا غصے میں ہے ابھی میں بعد میں منا لو گا۔۔۔۔
زمین سے اٹھتے شاہ نے خود کو تسلی دیتے کار میں بیٹھتے بولا تھا۔۔۔
————————————————————
ماہم کا پتہ وہ کہاں ہے۔۔۔
علیشبہ سارا دن کالج میں ماہم کو ڈھونڈتی رہی جب وہ نہ ملی تو کلاس کی ایک لڑکی سے پوچھا اس نے۔۔۔
ارے تمہیں نہیں پتہ کل رات وہ ایک لڑکے کے ساتھ بھاگ گی ۔۔۔
اور ہاں یہ فون بھی دیا شاہد تمہارا ہے۔۔۔
لڑکی اسے بتاتی اب فون دیتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
روحا کے غصے کو یاد کرتی علیشبہ جلدی سے فون لیتی باقی ساری بات پر توجہ نہ دیتے گھر چلی گی تھی۔۔۔۔
ایک طرف سے خوش تھی کہ ماہم سے جان چھوٹ گی اس کی ۔۔۔
————————————————————
علیشبہ کامرنننننننن تیار رہنا سزا پانے کے لیے تمہاری وجہ سے میں اپنی امی سے پورے چھ گھنٹے دور رہا ان کی آخری آواز بھی نہ سن سکا۔۔۔
اب تو دلاور شاہ اپنا انتقام لے گا۔۔۔
دلاور کو جب سے پتہ چلا تھا اس کی امی اسی وقت فوت ہو گی تھی جب وہ علیشبہ کو پیسے دینے گیا تھا۔۔۔
تب سے وہ طوفان بنا بس علیشبہ کی پک لیتا مسلسل سوچ رہا تھا۔۔۔
اسے اپنا انتقام لینا تھا وہ سمجھ رہا تھا اس کی امی علیشبہ کی وجہ سے مری تھی۔۔۔۔
وہ اپنا عشق بھول چکا تھا یاد تھا صرف اتنا اپنا انتقام لینا چاہتا تھا۔۔۔
————————————————————
آ گی تو پتہ نہیں اس ایک ماہ میں کس کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہو گا تم نے۔۔۔
رات کو دادی اپنے گھر میں دوبارہ روحا اور علیشبہ کو دیکھ وہ بولی تھی ۔۔
روحا کامرن کی پیار بھری باتیں سنتی راضی ہو گی تھی اپنے گھر آنے پر ویسے بھی وہ شاہ کے بنگلے میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔
ہاں آ گی میں آپ کو مسئلہ ہے میں تو سمجھی تھی آپ مر گی ہو گی ایک ماہ کے اندر اندر۔۔۔۔
روحا بھی جواب دیتی طش سے بولی تھی۔۔۔
اتنی لمبی زبان سے اتنا کڑوا بولتی ہو تڑپا دیتی ہو دیکھنا ایک دن ایسا آۓ گا تمہیں کوئ تڑپانے والا آے گا اتنا رو گی تڑپو گی پھر میرے دل پر ٹھنڈک پڑے گی ۔۔۔
اہہہہ آوارہ ماں کی بیٹی۔۔۔
دادی جلتی ہوئ دل سے بددعا دیتی بولی تھی۔۔۔
فکر مت کرے آپ سے پناہ مانگنے نہیں آٶ گی دادی ۔۔۔
روحا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔
عالی یہ اتنے پیسے کہاں سے آۓ۔۔۔
بیڈ پر پڑے پیسے دیکھ علیشبہ کو دیکھتی پوچھ رہی تھی۔۔
وہ باجی و۔۔۔۔
چلو ہمیں یہاں سے جانا ہے فورًا۔۔۔
علیشبہ ڈرتی بول رہی تھی جب نشے سے جھولتے کامرن ڈرتے اندر آتے بولے تھے۔۔۔
لیکن کیوں اب۔۔۔
چلو جلدی ۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بولی تھی جب کامرن کہتے باہر چلے گے تھے۔۔۔
————————————————————
باجی چلے۔۔۔
علیشبہ تیار ہوتی بولی تھی جب روحا کسی کو فون ملانے میں بزی تھی۔۔۔
ہاں یار چلتے ہے ایک تو ابو کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے شہر ہی چھوڑنے کا کہہ رہے جبکہ آج شاہ پر اتنا غصہ کیا بچارے کا دل دکھا دیا میں نے ہاے پریشان ہو گا اب تو میرا فون بھی نہیں اٹھا رہا۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
باجی وہاں جا کر ف۔۔۔
نہیں عالی اسے بتا دو ہم سے شہر چھوڑ رہے ورنہ پریشان ہو جاۓ گا پہلے ہی میں اتنی شرمندہ ہو۔۔۔
علیشبہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئ بول رہی تھی جب روحا ایک بار پھر فون ملاۓ بولی تھی۔۔۔
چلو یار چلتے ہے شاہد میرا موٹا شاہ ناراض ہو گیا ۔۔
ہاےے پتہ نہیں کب ملے گے ہم۔۔۔
مسلسل فون ملاتے آخر روحا دکھی ہوتی وہی اپنا فون غصے سے گراتے بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف شاہ بنا کسی کی پرواہ کیے مسلسل روتا اپنی ماں کا جنازہ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
شاہ جیسے لڑکے کو بچوں جیسا روتا دیکھ اس کا پورا گاٶں رو رہا تھا۔۔۔
شاہ کو یاد تھا تو صرف اتنا اس کی امی اسے چھوڑ کر چلی گی تھی وہ سب کو بھول چکا تھا۔۔۔
گاٶں پورا اس کے غم میں شریک تھا کیوں نہ ہوتا آخر ان کے گاٶں کا وہ سردار تھا شاویز خان۔۔۔۔
جس کے حکم سے اس کا گاٶں چلتا تھا۔۔۔
