304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 17)

Junon Inteqam By Rania Mehar

ہاے میری عالی کے بچے ہو گے ۔۔۔

روحا خوشی سے جھومتی ہوئ روم میں لہرا رہی تھی جب سامنے سے آتی بی جان سے ٹکرائ تھی۔۔۔

اووو سوری آپ کو لگی تو نہیں ۔۔۔

روحا جلدی سے سبھنالتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کتنی پیاری بیٹی ہے میری لگتا شاہو کی دلہن ہو تم۔

بی جان نرمی سے روحا کے گال پر ہاتھ رکھتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

کو۔کون شاہو آپ کا ۔۔۔

روحا نے ہکلاتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔۔

تم میرے شاویز خان کی دلہن ہو۔۔

بی جان اب اس کا ہاتھ پکڑتے مسکراتی بولی تھی۔۔۔

جی اور آپ کون ہے۔

روحا بھی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ی۔یہ بی جان میری ہے کیسی ہے آپ مجھے بتا دیتی میں آ جاتا لینے ۔۔۔

شاویز پھولے سانس سے آتا ان سے گلے ملتا بولا تھا۔۔۔

اگر تم آتے مجھے لینے تو میں اپنی پیاری سی بیٹی سے کیسے ملتی۔۔

بی جان اسے گلے لگاۓ سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

چلے شکر آپ نے مل لیا اس جنگلی بلی سے ۔۔۔

شاویز روحا کے بال کیھچتا ہوا بولا تھا ۔۔

تم کیا ہو نیلے باز مجھے بلی کہا تم نے ۔۔۔

روحا بھی اس کے بال ہاتھوں میں لیتی کیھچتی بولی تھی۔۔۔

ارے ارے بس کرو بچوں کیسے لڑ رہے ہو۔۔۔

بی جان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی بولی تھی۔۔۔

بی جان اس کا قصور ہے ۔۔

شاویز روحا کی طرف دیکھتا اپنی مسکراہٹ روکتے بولا تھا۔۔۔

بی جان یہ پاگل ہے آپ میرے ساتھ آۓ ہم ائسکریم کھاتے ہے ۔۔۔

روحا بی جان کا ہاتھ پکڑتی روم سے باہر لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ارے سائیں یہ بڑے بچوں کے کپڑے ہے ۔۔۔

علیشبہ اپنے سامنے بڑے بچوں دیکھتی مسکراتے بولی تھی۔۔۔

کیا واقعی بڑے بچوں کے کپڑے آ گے چلو تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔

دلاور پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہاااہاہااہاہاہاا کتنے معصوم لگ رہے ہے بے بی کے کپڑے بہت چھوٹے ہوتے ہے یہ کافی بڑے تھے ہم یہ بھی رکھ لیتے ہے۔۔۔

علیشبہ قہقہ لگاتی اس کے گال کھیچتی بولی تھی۔۔۔

اچھا سنو خان نے ڈنر پر بلایا ہے تم اچھا سا تیار ہو جانا شام کو چلے گے ۔۔۔

دلاور اسے شاویز کا مسیچ دیتا بولا تھا۔۔۔

اچھا پنک ساڑھی پہنا ساتھ یہ گھونسلے جیسے بال بھی کھل لینا۔۔۔

دلاور اس کے بالوں کو ہاتھ لگاتا مسکراتے بولا تھا۔۔۔

کیااااااا میرے بال گھونسلے جیسے ہے روکے ابھی بتاتی ہو ۔۔

علیشبہ چیختی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ااہہہہ یہ کس نے کہا دیا مجھے بتاٶ ابھی جان سے مار دو گا۔۔۔۔

دلاور اسے کمر سے پکڑتے معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔

کیا ہے سائیں تنگ نہ کرے۔۔۔

علیشبہ شرماتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

روحا بے بی میں کیا کہا رہ۔۔۔۔

رات کو تیار ہوۓ شاویز روم میں آتا بول رہا تھا جب سامنے روحا کو تیار ہوتا دیکھ وہی رک گیا تھا۔۔۔

جہاں ریڈ کلر کی ساڑھی پہنے ہلکے سے میک اپ میں اپنے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ عیجب سا منہ بنا کر کھڑی تھی ۔۔۔

ہاں بولو کیا کہہ رہے تھے۔۔۔

روحا نوز پن پہنتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

بیوٹی فل روحا بے بی ۔۔۔

شاویز بہکا ہوا اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔۔

وہ تو میں ہو کوئ نئی بات کرو۔۔۔

روحا اترا کر بولی تھی۔۔۔

تم تو دن با دن حیسن ہوتی جا رہی ہو یار میرے بہکنے کا سامان بنتی ہو تم ۔۔۔۔

شاویز اسے نرمی سے کمر سے پکڑتے شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

ہو گی تعریف اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔

روحا اس سے دور جاتی روٹھے پن سے بولی تھی۔۔۔۔

آ جاٶ عالی لوگ آ گے ہے ۔۔۔۔

شاویز دور جاتا سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ میں ایسا نہیں کہنا چاہتی تھی بس وہ۔۔۔

ششش تم نے کچھ نہیں کہا تھا اب آ جاٶ روحا بے بی ۔۔۔

روحا جلدی سے اس کے پاس جاتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب شاویز آس کا ماتھا چومتا ہوا بولتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

عالی یہ کھاٶ تمہارے لیے یہ بریانی بنائ میں نے ۔۔۔

ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھتے روحا علیشبہ کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

جی باجی لیتی ہو آپ بھی لے ۔۔۔

علیشبہ مسکراتی بولی تھی۔۔۔

دلاور تمہاری جاب کیسی جا رہی ہے ۔۔۔

شاویز چکن کا پیس کھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

پوچھ تو ایسے رہو جیسے تمہیں کچھ نہیں معلوم ۔۔

مسٹر بیلو لائن ۔۔

دلاور اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔

ہاااہاہااہاہاہا کتنا فنی نیم ہے ویسے ۔۔

روحا نام سنتی قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔۔

روحا بے بی کچھ زیادہ ہنسی آ رہی ہے آج تمہیں ۔۔۔

شاویز اسے گھورتا بولا تھا۔۔۔

کیوں میں کیا ہنس نہیں سکتی میرا منہ ہ۔ہے۔۔۔

روحا اسے دیکھتے ہی ہکلاتی بولی تھی کیونکہ اسے اپنے پاٶں پر شاویز کا پاٶں محسوس ہوا تھا۔۔۔۔

کیا ہوا روحا بے بی۔۔۔

روحا کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ شاویز اپنا پاٶں اب اس کی ٹانگ پر رکھتا بولا تھا۔۔۔۔

ک۔کچھ نہیں نیلے باز ت۔تم اپنا کام کرو اچھا۔۔۔

اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی ٹانگ پر مکہ مارتی روحا دانت پیستے بولی تھی۔۔۔

لو میں کیا کرنا تمہارے سامنے ہی ہو ۔۔۔۔

شاویز باز نہ آتا اپنی ٹانگ دوبارہ اس کی ٹانگوں پر رکھتا بولا تھا۔۔۔

ع۔عالی وہ یہ ختم ہو گی بریانی میں لے کر آتی ہو ۔۔۔

روحا جلدی سے کھڑی ہوتی اپنی ساڑھی ہینڈل کرتی کچن میں جاتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

دلاور سنو کیا عالی نے کوئ گروپ بنایا ہے مطلب اپنے لیے۔۔۔۔

شاویز اپنے موبائل پر گروپ میں پھر سے روحا اور راحیل علیشبہ کی چیٹ دیکھتا بولا تھا۔۔۔

ہاں عالی اور روحا کا ہے مجھے عالی نے بتایا تھا دونوں وہی بزی رہتی ہے ۔۔۔

دلاور کھانے سے انصاف کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ت۔تمہیں غصہ نہیں آتا کیا میرا مطلب و۔۔۔۔

دیکھو خان وہ دونوں بہنں ہے جو مرضی کرے ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہے مجھے عالی پر یقین ہے پورا۔۔۔

شاویز ان سب کی دوبارہ چیٹ پڑھتا سوچتا بول رہا تھا جب دلاور اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔۔

ہمممم ۔۔۔

شاویز اسے بتا نہیں سکا وہ کس گروپ کی بات کر رہا ہے کیونکہ دلاور کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

نہیں شاویز روحا بے بی پر یقین کرو کیا پتہ وہ ویسے ہی بات کرتی ہو راحیل سے ۔۔۔

شاویز اب راحیل اور روحا کی آن لائن چیٹ پڑھتا سوچ رہا تھا کیونکہ روحا علیشبہ کے ساتھ بیٹھی موبائل پر بزی تھی۔۔۔۔۔

شاویز کو بار بار مسیچ کا انٹفکیشن آ رہا تھا جیسے وہ ہر دو منٹ کے بعد آن کر کے مسیچ پڑھ لیتا تھا۔۔۔۔

افففف راحیل تم کتنے فنی ہو ۔۔۔۔

ہاہاہہاہاااااہااہاہاہہاہاا۔۔۔

شاویز اب مسیچ پڑھ رہا تھا جب اسے ہال میں روحا کا قہقہ گونجتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔

لگتا کوئ فنی بات ہوئ جو روحا بے بی کافی عرصے بعد ہنس رہی ہے ۔۔۔

شاویز اب سرخ نیلی آنکھوں سے روحا کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ طنزیہ بولا تھا۔۔۔

ہاں عالی نے ایک فنی مسیچ کیا مجھے۔۔۔

روحا علیشبہ کی طرف دیکھتی بولی تھی جو خود بھی مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

روحا بے بی نے جھوٹ کیوں بولا یہ تو راحیل سے بات کر رہی ابھی۔۔۔۔

شاویز دوبارہ گروپ اوپن کرتا سوچتا بولا تھا جہاں مسلسل راحیل اور روحا آپس میں بات کر رہے تھے۔۔۔۔

شاویز کو اب جیلس ہو رہا تھا راحیل سے جس کے ساتھ روحا آرام سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔

————————————————————

تھک گی میری جان۔۔۔

رات کو بیڈ پر آتے دلاور علیشبہ کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جی تھوڑا سا ۔۔۔

علیشبہ مسکراتی بولی تھی۔۔۔

یہاں آٶ سر دبا دو۔۔۔

دلاور اس کا سر دباتے بولا تھا۔۔۔۔

سائیں مجھے لگتا باجی کی آی ڈی ماہم یوز کرتی ہے آپ کو پتہ کچھ دن پہلے باجی کی آی ڈی سے مجھے ایک گروپ میں ایڈ کیا گیا میں نے وہ گروپ کی ڈیلیٹ کر دیا ۔۔۔

میں چاہتی تھی باجی کو بتا دو ایسا نہ ہو کچھ گڑبڑ ہو جاۓ ۔۔۔

علیشبہ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

نہیں رہنے دو بڑی مشکل سے روحا اپنی لائف میں سیٹ ہو رہی ہے تم یہ ماہم والی بات مت بتاٶ ویسے بھی روحا کون سا اب ایف بی یوز کرتی ہے ا۔۔۔

پر سائیں اگر ماہم نے شاہ بھای کو ایڈ کر لیا وہ تو یہی سمجھے گے باجی ہے وہ ۔۔۔

دلاور بول رہا تھا جب علیشبہ بولی تھی۔۔۔

شاویز ایک آرمی ایجنٹ ہے یار اس کی نظریں باز جیسی ہے شیر کی طرح اپنے آس پاس ہر دشمن پر نظر رکھتا ہے وہ سمجھ جاۓ گا وہ روحا نہیں ۔۔۔

ہم انہیں کچھ نہیں بتاۓ گے وہ خوش ہے اپنی لائف میں اگر ایسا کوئ سین ہوتا خان مجھ سے پوچھ لیتا ۔۔۔

دلاور اس کا ڈر دور کرتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

بس اب سب کچھ ٹھیک ہو میری باجی بھی خوش رہے اپنی لائف میں ۔۔۔

علیشبہ اپنی آنکھیں بند کرتی بولی تھی۔۔۔۔

إن شاءالله ایسا ہی ہو گا تم پریشان مت ہو۔۔۔

دلاور اس کا ماتھا چومنے کے

کے بعد نرمی سے اس کے ہونٹوں پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————

اففف میرے گلاسز ٹوٹ گے ہاے۔۔

روحا اپنی ساڑھی کا پلو کی پن نکال رہی تھی جب ہاتھ لگتے اس کے گلاسز اتارتے دور جاتے ٹوٹ گے تھے۔۔۔

تبھی وہ جنھجلاتی بولی تھی۔۔۔۔

میں مدد کرو کچھ۔۔۔

شیشے کے سامنے اب ہاتھ مارتی اپنے گلاسز ڈھونڈتی وہ جھکی تھی جب شاویز پیچھے آتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں یہ گلاسز ٹوٹ گے میں نے ابھی کپڑے چینج کرنے تھے تم مجھے وارڈب روم لے چلو ۔۔۔

روحا اسے مشکل سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

تمہاری آنکھوں کا آپریشن کروا دیتا ہو تم ٹ۔۔۔

ہاں تم تو یہی چاہتے ہو میں اندھی ہو جاٶ ۔۔۔

اس کی بائیں اپنی گردن میں ڈالے کمر سے پکڑے وہ اسے ساتھ لے کر جاتا بول رہا تھا جب روحا بلکل اس کے کان کے پاس پھاڑ کھانے کو بولی تھی۔۔۔

شاویز نے مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔

ہاں ہو جانا میں تمہیں ہنیڈل کر لو گا سپمل۔۔۔

شاویز اب کبڈ سے اس کا نائٹ سوٹ نکالتا بولا تھا۔۔۔

میں بھی تمہاری آنکھیں نکال دو گی چاقو سے پھر دونوں ایک دوسرے کو ہنیڈل کر لے گے۔۔۔۔

روحا ہاتھ مارتی اپنے کپڑے لیتی منہ بناتی بولی تھی۔۔۔۔

میرے گلاسز یوز کر لو آج کی رات میں صبح منگوا لو گا ۔۔۔

اپنی ساڑھی سے آلجھتی روحا کو دیکھ شاویز وہی کھڑا سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

اب اتنی بھی اندھی نہیں ہوئ میں سب دیکھ رہا مجھے یہ دیکھو میرے پاٶں ہاتھ میرے بال انہہہ مجھے اندھی کہہ رہے ہو۔۔۔

روحا اب برا سامنہ بناۓ اپنے ہاتھ پاٶں اسے دیکھاتی واپس موڑتی بولی تھی۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ ہاے جن بچاٶ بچاٶ ۔۔۔

روحا نے جیسے ہی آگے بڑھنا چاہا اپنے بالوں کو کسی کی گرفت میں آتے دیکھ وہ چلائ تھی۔۔۔

وہی شاویز نے مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔

کیونکہ اس کے بال کبڈ کے ہنیڈل میں اٹک چکے تھے ۔۔۔۔

ریلکس میں چینج کروا دیتا ہو روحا بے بی ۔۔۔

شاویز نرمی سے پاس جاتا بولا تھا جب ڈر کے مارے روحا اس کے گلے لگی تھی۔۔۔

ش۔شاویز یہاں جن ہے ہاے باہر چلے۔۔۔

اپنی گرے بڑی بڑی آنکھیں گھومتے روحا ڈرتی اسی کے سینے سے لگی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں جن ہے یہاں جو تمہیں کھا جاۓ گا اب سکون سے کپڑے چینج کروا لو بعد میں نکلے گے باہر۔۔

اپنی دھڑکنوں پر قابو پاتے شاویز نے لائٹس آف کیے روحا کی ساڑھی کا پلو نیچے گراتے کہا تھا۔۔۔۔

و۔و۔ہ میں کر ل۔۔۔

شششش کچھ بھی نہیں کر رہا میں ریلکس رہو۔۔۔

روحا کو اپنی کمر پر اس کی انگلیاں محسوس ہوئ تو وہ تیز چلتی سانسوں کے درمیان بول رہی تھی جب شاویز آرام سے اس کی بیک سے ڈوریاں کھولتا بولا تھا۔۔۔۔

ت۔تم مجھے اپنی گلاسز دے دو ۔۔۔

شاویز اسے چینج کروا چکا تھا جب اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاۓ روحا بولی تھی۔۔۔۔

اچھا اب سونا ہے آٶ تمہیں سلا دو ۔۔

لائٹس آن کرتے شاویز اسے گود میں آٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں مجھے اب سونا ہے ۔۔۔

روحا اپنا سرخ چہرہ لیتی بولی تھی کیونکہ اسے محسوس ہو رہا تھا جو نائٹ شرٹ اس نے پہنی تھی اس کا گلا کافی ڈیپ تھا۔۔

تم بہت خوبصورت ہو روحا بے بی میں جیتنا بھی خود پر کنٹرول کرو پھر بھی مجھے مدہوش کرتی ہو مجھے ۔۔۔۔

بیڈ پر اسے لیٹاۓ شاویز اس پر جھکتا بولا تھا۔۔۔

ش۔شاویز ن۔۔۔۔

روحا ابھی بھی اپنی آنکھیں پوری کھلے آس پاس دیکھتی بولی تھی جب شاویز نے نرمی سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔

ش۔شاو۔د۔دو۔۔۔

خود سے دور کرتی روحا سانسوں کے درمیان بول رہی تھی جب شاویز بہکا ہوا اپنے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ لیتا اپنی شدت لٹانے لگ گیا تھا۔۔۔

اسے بس اتنا یاد تھا اس کی روحا بے بی اس کے سانسوں کے قریب تھی ۔۔۔

جیسے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔۔۔۔