Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333

Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 25) Last Episode

304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 25) Last Episode

Junon Inteqam By Rania Mehar

روحا بے بی اٹھ جاٶ میری جان۔۔۔

گہری نیند سوتی روحا کو دیکھ شاویز اس کے قریب بیٹھتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔۔

سوری سوری شاویز بس پتہ نہیں چلا کیسے اتنا لیٹ سو گی میں ۔۔۔

آٶ تمہیں چینج کروا دو۔۔۔۔

روحا جلدی سے نیند سے جاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اکثر وہی شاویز کو تیار کرتی تھی تبھی اب شرمندہ ہوتی بولی تھی۔۔۔

کیونکہ شاویز رات والے کپڑوں میں ہی تھا۔۔۔۔

ہاں یار کروا دو چینج ۔۔۔

شاویز معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————

وہ رات پتہ نہیں چلا کب سو گی ورنہ جلدی جاگ جاتی میں ۔۔۔

روحا اب شاویز کو بیڈ پر بیٹھاتی خود اس کے پاس کھڑی اس کی شرٹ کے بٹن کھولتی بولی تھی۔۔۔

کوئ بات نہیں میری جان۔۔۔

ریڈیش بکھرے بال جو کچھ کمر کچھ شولڈر پر تھے بلیک کلر کے گلاسز لگاۓ جس میں اس کی گرے آنکھیں جو نیند سے جاگنے کی وجہ سے سرخ ہوتی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

صاف شفاف چہرہ رات والی وہی ڈریسنگ فکرمند ہوتی شاویز کو پورا بہکا رہی تھی۔۔۔

ش۔شہرام کو اٹھا دو پھر تم دونوں ناشتہ کرلینا۔۔۔

روحا کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے شاویز نے اس کی کمر کو چھوا لیکن اپنا وہم سمجھ کر وہ نارمل انداز سے بولی تھی۔۔۔

یہ کیا روحا بے بی یہ والی شرٹ نہیں پہنی ۔۔۔

شاویز ریڈ کلر کی ٹی شرٹ دیکھتا جان بوجھ کر بولا تھا۔۔۔

اچھا روکو میں دوسری لے کر آتی ہو۔۔۔

روحا اس سے دور جاتی اب وڈراب روم کی طرف گی تھی۔۔۔

جب آہستہ سے قدم اٹھاے شاویز چل کر اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔

بتاٶ شاویز کون سے پہنی ہے ۔۔۔

روحا الماری میں اس کی شرٹس دیکھتی بولی تھی اس کا دھیان اپنے پیچھے نہیں گیا تھا۔۔۔

یہ والی پہن لو شہرام بھی کہے گا بابا جیسی پہنی ہے پھر میں ایسی ہی پہنا دو گی اسے ۔۔۔

ماں سے اتنی محبت نہیں اسے جتنی تم سے ظاہر سی بات ہے باپ جو ہو تم ۔۔۔

روحا اتنی خاموشی دیکھ پرپل کلر کی ٹی شرٹ نکالے خودی شہرام کی نقل اتارے بول رہی تھی کیونکہ وہ روحا سے زیادہ شاویز کے قریب تھا اس کے باقول بابا کا عاشق ۔۔۔

شاویز نے مسکراہٹ روکی تھی ۔۔۔

وہ بلکل اس کے پیچھے کھڑا اس کے بالوں سے آتی شیمو کی آتی خوشبو میں مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔

بولو بھی اب کچھ اففف ایک شہرام کم تنگ کرتا اب تم بھی کرو گے کسی کو احساس نہیں ہے میرا کوئ م۔۔۔

روحا بے بی ۔۔۔

روحا جنھجلاتی ہوئ بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر شاویز کی انگلیاں اور کان میں اس کی بھاری سرگوشی سنائ دی تھی ۔۔۔

ش۔شا۔شاویز۔۔

روحا کی سانسیں اٹکی تھی اسے قریب پا کر ۔۔۔

بولو جانِشاویز ۔۔۔

شاویز اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے کان کی لو چومتا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم ٹھیک ہو گے شاویز افففف مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔۔۔

روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی اس کا چہرہ شولڈر سینے کو چھوتی خوشی سے آنسو نکالے روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

میری جان نے میرا بہت خیال رکھا تبھی میں بھی ٹھیک ہو گیا۔۔۔۔

روحا کو اپنے سینے سے لگاۓ وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میری فمیلی مکمل ہو گی شاویز اب میری لائف بھی نارمل ہو گی ۔۔۔

یہ سب مجھے سے اکیلے میں نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔

مجھے درد ہوتا تھا تمہیں اتنی تکلیف میں دیکھ کر ۔۔

روحا مسلسل اس کے چہرے کو چومتے روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ششش ریلکس میں ٹھیک ہو گیا اب میں اپنی روحا بے بی کا خیال خود رکھو گا ۔۔۔

میرا جنون ہو تم سانسوں میں بستی ہو۔۔۔

روحا کے بال سنوارتے شاویز اسے ہگ کیے بولا تھا۔۔۔

م۔میں بہت خوش ہو ۔۔۔

روحا دوبارہ اسے ہگ کیے گردن میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔

دونوں ہی ایک دوسرے کی سانسوں کو سن رہے تھے ۔۔۔

السلام و علیکم بابااااااااااا۔۔۔۔

شہرام دھڑام کرتا دروازہ کھولتے چلایا تھا۔۔۔۔

بڑی اچھی بات ہے بابا کو سلام کہا ماما کو نہیں ویری بیڈ بیٹا۔۔۔۔

روحا جلدی سے شاویز سے دور ہوتی اپنی ٹانگوں کے پاس کھڑے شہرام کو گود میں اٹھاۓ بولی تھی ۔۔۔

جو اپنی نیلی آنکھوں سے اپنی ماما کا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

میں ماما کو کس کرو گا سمجھا کرے ۔۔۔

شہرام جلدی سے روحا کے دونوں گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہااہاااہاہہاہہاہاہاہا پارٹی بدل لی تم نے ۔۔۔

شاویز روحا کو کمر سے پکڑے اپنے قریب کرتا شہرام کی ننھی سی ناک چومتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

شیم شیم بابا آپ نے کپڑے نہیں پہنے ۔۔۔

گندے بابا۔۔۔۔

ماما آپ کو مارے گی اب ۔۔۔

شاویز کا برہنہ سینہ دیکھتے شہرام اپنی آنکھوں پر ننھا سا ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔۔

اب تمہاری ماما نے ہی شرٹ پہنانی تھی مجھے میرا کیا قصور ۔۔۔

شاویز شریر نظروں سے روحا کو دیکھتا بولا تھا جو نظریں چڑہاۓ اب روم کو دیکھ رہی تھی جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہی ہو۔۔۔

ماما بابا کو شرٹ دے آپ باہر آ جاۓ ہم لوگ اب سمندر دیکھنے جاے گے آنی آنے والی ہے جلدی کرے۔۔۔

شہرام اس کی گود سے نکلتا ہوا ایک سمجھدار لڑکے کی طرح بولتا خودی باہر چلا گیا تھا۔۔۔

ت۔تم بھی کپڑے پہن کر آ جاٶ میں بھی جاتی ہو ماما جاگ گ ۔۔۔

روحا بھی جان بچاتی جلدی سے شہرام کے پیچھے جاتی بولی تھی جب شاویز نے دو ہی قدم بڑھاتے دروازہ بند کیے اسے دروازے کے ساتھ پن کیا تھا۔۔۔۔

ن۔نہ کرو ن۔ناشتے کا ٹائم ہو گیا۔۔۔

روحا اپنی سانسوں کے قریب اس کی گرم سانسیں محسوس کیے ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

روحا بے بی پہلے کپڑے چنیج کر لے ا۔۔۔

ہاں تو جاٶ کرو چینج میں چلتی ہو جلدی آ جانا۔۔۔

شاویز اس پر جھکتا شوخ نظروں سے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا اس کی باہوں کے نیچے سے نکلتی جلدی سے دروازہ اوپن کیے بولی تھی ۔۔۔

وہی کہہ رہا چلو جلدی چینج کرتے کپڑے پھر ہم نے جانا بھی ہے ۔۔

ایک ہی جھٹکے میں روحا کو شولڈر پر ڈالے شاویز واش روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔۔

ش۔شاویز مت کرو ایسا پل۔۔۔

روحا چیخ رہی تھی جب اس کی ایک گھوری سے بلکل چپ ہو گی تھی ۔۔۔

جانتی تھی ایسے جان تو بلکل نہیں چھٶڑے گا۔۔۔۔

————————————————————

تمہارا چہرہ میری ماما جیسا نہیں عروشو ۔۔۔

روحا شاویز دلاور علیشبہ شہرام عروش سارے سمندر دیکھنے آے تھے۔۔۔

تبھی ریت پر اکیلے بیٹھا شہرام عروش کے گال دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

کیوں میرے چہرے کو کیا ہوا ۔۔۔

عروش پھولے گال سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

وہ ریڈ نہیں ہے روکو میں نے دیکھا ہے جب کوئ مارے تب ریڈ ہوتے ہے ۔۔

شہرام اپنی نیلی آنکھوں میں شرارت لاے بولا تھا۔۔۔

ہاں تو م۔۔۔

اہہہ اہہہہہہ ۔۔۔

شہرام میں تمہیں چھوڑو گی نہیں روکو تم ۔۔

عروش بول رہی تھی جب شہرام نے زور سے اس کے گال پر تپھڑ مارا تھا۔۔۔

تبھی شدید طش میں آتی اسی کی گردن پکڑے ریت میں دباے وہ بولی تھی ۔۔۔

اہہہہ اہہہہی ماما بابا اہہہہہہ بابا ماما ۔۔۔۔

روحا شاویز دلاور علیشبہ چاروں سمندر کے کنارے واک کر رہے تھے جب انہیں دونوں کے چلانے کی آوازیں آی تھی ۔۔۔

روحا اور علیشبہ اپنے بچوں کو دیکھتے ہی اس بات پر انکار کر چکی تھی یہ ان کے بچے ہے اتنے شیطانی ۔۔۔

————————————————————

ماما اس نے مارا تھا پہلے۔۔۔

عروش سرخ گال لے علیشبہ کی گود میں جاتی بولی تھی ۔۔۔

ماما جھوٹ یہ موٹی نے مارا دیکھے بال میرے ۔۔۔

شہرام برا سا منہ بناۓ روحا کی گود میں بیٹھا بولا تھا۔۔۔

موٹی کس کو بولا تم موٹے کو گنڈے۔۔۔

عروش نے ایک بار پھر سے شہرام کو گردن سے پکڑے ریت میں سر دیتے بولی تھی۔۔۔

عروش بیٹا ایسا نہیں کرتے د۔۔۔

شہرام میں تمہیں طلاق دیتی ہو بات ختم ۔۔۔

علیشبہ اسے سمجھا رہی تھی جب ریت سے بھرے سر لیے شہرام کو دیکھتی عروش نے انوکھی بات کی تھی ۔۔۔

واٹ طلاق ۔۔

پاس بیٹھے دلاور اور شاویز کے منہ سے جوس نکالا تھا روحا اور علیشبہ کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔۔۔۔

جاٶ میں تم سے بات ہی نہیں کرتا موٹی سارے بال خراب کر دے ۔۔۔

شہرام برا سا منہ بناۓ اپنے بال روحا سے صاف کرواتے بولا تھا۔۔۔

عروش یہ کہا سے سنا طلاق والا لفظ۔۔۔

علیشبہ اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

وہ کل نانو ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب ایک لڑکے نے ایسا کہہ نانو سے پوچھا انھوں نے کہا جب لڑای ہو تب کہتے پھر اس سے بات نہیں کرتے بس میں اس کدو سے بات نہیں کرنی تبھی طلاق دی ۔۔۔

عروش اپنے براٶن بالوں کو ماتھے سے پیچھے کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

آٶ وہاں دیکھو مچھلی ہو گی ۔۔

شہرام عروش کا ہاتھ پکڑے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا دونوں ایسے ہی تھے منٹوں میں لڑاتے تو منٹوں میں مان جاتے ۔۔۔۔

دلاور شاہ میں شاویز خان تمہیں طلاق دیتا ہو۔۔۔

ہاہہہاہاہہاہاہااہاہاا ہہاہااہاہہہاہاہہاہاہ۔۔۔

ہاں میں بھی تمہیں طلاق دیتا ہو مسٹر شاویز خان۔۔۔۔

شاویز مٹھی میں ریت بھرتے دلاور کے منہ پر مارتے قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

جب دلاور بھی ریت اس کے منہ پر مارتے قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

توبہ ہے بچے کم تھے جو آپ لوگ شروع ہو گے چلو باجی یہاں سے ۔۔

علیشبہ ان دونوں کا پاگل پن دیکھتی روحا کا ہاتھ پکڑے بولی تھی۔۔۔

ہااہاہااہاہہاہاہہا۔۔۔

ریت پر لوٹ پوٹ ہوتے دلاور اور شاویز کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

کیونکہ دور کھڑے شہرام اور عروش دوبارہ لڑ رہے تھے عروش نے ویسے ہی شہرام کا منہ ریت کے اندر دیا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

سائیں باہر آ جاۓ اب بس بہت ہوا۔۔۔

شاویز اور دلاور سمندر کے اندر ہی تیر رہے تھے جب دونوں کو اچانک اندر گم ہوتے دیکھ علیشبہ چلای تھی۔۔

شاویز باہر آو بہت ہوا مذاق ۔۔۔

روحا بھی سمندر کے کنارے کھڑی چلای تھی۔۔۔

باجی کچھ ہو تو نہیں گیا ہم کیا کرے۔۔۔

علیشبہ اب رونے والا چہرہ

بناے بولی تھی۔۔

ارے کچ۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ ۔۔۔

آہستہ آہستہ سمندر کے اندر جاتی روحا اور علیشبہ ایک دوسرے سے بات کر رہی تھی جب اچانک روحا کو کسی نے پانی کے اندر کھیچا تھا۔۔۔

وہی وہ چلای تھی۔۔۔

باجی ماما ماماا۔۔۔۔

علیشبہ اور شہرام دونوں چلاۓ تھے ۔۔۔

اہہہ بچاٶ ا۔۔۔

سائیں کی جان کیا ہوا میں ہو ۔۔۔

علیشبہ کو بھی کسی نے اندر کھیچا تھا جب وہ چلای تبھی پانی سے باہر آتا دلاور بولا تھا۔۔۔

توبہ ہے شاویز تم نے جان نکل دی میری ۔۔۔

شاویز کی باہوں میں آتی روحا خود بھی گیلی ہوتی اسے دیکھتی بولی تھی جو اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ابھی تو جان نکالی ہی نہیں روحا بے بی ۔۔۔

روحا کی گلاسز اتارے اس کی آنکھوں پر پھونک مارتے شاویز سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

اس کی بات کا مطلب سمجھتے روحا کے گال سرخ ہوے تھے۔۔۔

اچھا چھوڑو باہر جا۔۔۔۔

روحا اس کی باہوں میں مچلتی ہوئ بول رہی تھی جب شاویز دوبارہ پانی کے اندر گیا تھا۔۔۔

ب۔باجی اہہہہ چھوڑے سائیں۔۔۔

روحا کی طرح علیشبہ بھی دلاور کی باہوں میں آتی پانی کے اندر جاتی چلای تھی۔۔۔

دونوں اب ایسا ہی کرتے جب روحا اور علیشبہ کو سانس آنا بند ہو جاتا پانی سے باہر آ جاتے جب وہ دونوں ٹھیک ہو جاتی دوبارہ پانی کے اندر لے جاتے۔۔۔

ہاہہاہااہاہاہہاہاہ ۔۔۔

دونوں کی چیخ و پکار پر دلاور اور شاویز کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

————————————————————

یہ دیکھو میرے بابا کے پاس باکس کتنے ہے ۔۔۔

عروش دلاور کا برہنہ سینہ دیکھتی اب شہرام کو اس کے سکس پیکس دیکھاتی بولی تھی۔۔۔۔

میرے بابا کے پاس بھی ہے اہنہہ۔۔۔۔

شہرام بھی شاویز کے سکس پیکس دیکھاتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔

روحا اور علیشبہ دونوں گیلی ہو چکی تھی تبھی دلاور اور شاویز نے اپنی شرٹس ان کو دی تھی پہنے کے لیے خود وہ ویسے ہی شرٹ لیس بیٹھے تھے۔۔۔

ب۔باجی وہ دیکھے سب لڑکیاں ان کو دیکھ رہی ہے۔۔۔

علیشبہ دور کھڑی کافی لڑکیوں کو دیکھتی ہکلاتی ہوئ بولی تھی جو سارے سمندر کو چھوڑے بس دلاور اور شاویز کو دیکھ رہی تھی جو عروش اور شہرام کی باتیں سنتے ہنس رہے تھے۔۔۔

دفع کرو یہ ساری ایسی ہی ہمارے معصوم شوہروں پر نظر رکھتی ہے ۔۔۔

روحا نے بیزار سی شکل بناے کہا تھا جبکہ دل سے توبہ کی تھی یہ سوچ کر اس کا شوہر معصوم ہے ۔۔۔

میں بھی اتنے سارے بناٶ گا بابا کہ کم ہے باکس ۔۔۔

شہرام اپنی شرٹ اٹھاتے اترتے ہوے بولا تھا۔۔۔

کدو جیسا پیٹ ہے تمہارا موٹے اور بناٶ گے انتے سارےےےےےےے۔۔

بابابببببببباااااااا۔۔

عروش اس کا چھوٹا سا نکالا ہوا پیٹ دیکھ کر منہ بناتے بول رہی تھی جب شہرام نے غصے سے اس کا بازو کاٹا تھا وہی وہ درد سے چلای تھی۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہا میرے خیال سے ہمیں جانا چاہے اب۔۔۔

دلاور قہقہ لگاتا بولا تھا کیونکہ عروش اور شہرام کی لڑای دیکھ اب روحا اور علیشبہ کا بھی منہ بن چکا تھا کیونکہ دونوں ہی ریت میں انتے گندے ہو چکے تھے وہ دونوں ہی مانے سے انکار کر رہی تھی یہ ان کے بچے ہے۔۔۔

ہاں چلو یہاں سے ۔۔

روحا ریت سے بھرے شہرام کو گود میں اٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

اففف شہرام تمہارے بالوں سے یہ ریت نہیں نکلی میں کیا کرو اب۔۔۔

روحا شہرام کو نہا لاتی ہوئ بولی تھی جو بار بار اپنے بالوں میں خارش کر رہا تھا۔۔۔۔

ماما نہیں نکل رہی کیا کرو سارا قصور اس موٹی کا ہے ۔۔۔

شہرام خارش کرتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اچھا دیکھو شاہد بارش ہونے والی تم ایسا کرو باہر جا کر نہا لو شاہد ریت نکال جاۓ۔۔۔

روحا اسے شرٹ پہناتی ہوئ بولی تھی جو اب بھاگ کر لان میں چلا گیا تھا۔۔۔

ہاےےے کیسی اولاد ملی ہے مجھے توبہ توبہ میں مانتی ہی نہیں تم میرے بیٹے ہو عروش ٹھیک کہتی ہے تم کدو ہو۔۔۔

ابھی پانچ منٹ ہی ہوۓ تھے جب روحا لان میں آی تھی کہ دیکھ کر حیران رہ گی جہاں اس نے صاف کپڑے پہنا کر اسے بھیجا تھا اب وہ زمین کے کیچڑ میں پڑا ہوا تھا۔۔۔

تبھی وہ جنھجلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اوپر مسلسل بارش ہو رہی تھی۔۔۔

ماما یہ مٹی میں گر گیا میں ۔۔۔

شہرام کو پتہ تھا اسے مار پڑے گی تبھی وہ رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

تمہارے بابا کو بتاتی ہو کتنا تنگ کرتے ہو اففف ابھی صاف کیا تھا تمہیں ۔۔۔

جاٶ اب نانو کے پاس وہ تمہیں چینج کروا دیتی ہے ۔۔

بارش میں بھیگتی روحا بیزار شکل بناۓ بولی تھی۔۔

سوری ماما۔۔۔

اچانک روتا شہرام روحا کو ہگ کیے بولا تھا۔۔۔

ماما کی جان اتنا تنگ مت کیا کرو ماما تھک جاتی ہے بیٹا ۔۔۔

اپنے جان سے پیارے بیٹے کو دیوانہ وار چومتی روحا بولی تھی ۔۔۔

میں نانو کے پاس جا رہا اب۔۔

روحا کے گال پر لگی مٹی کو دیکھ شہرام اب جلدی وہاں سے جاتا بولا تھا کیونکہ مٹی روحا کے گال اور ناک پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ کارٹون لگ

رہی تھی۔۔۔

ہاے کتنا معصوم بیٹا ہے میرا بلکل ماما پر گیا ہے ۔۔

روحا اب زمین سے اٹھتی خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔

جب روحا اپنی آنکھوں پر کسی کے ہاتھ محسوس ہوۓ تھے۔۔۔

ت۔تم یہاں کیا کر ر ہے ہو ” اس کے ہاتھ ہٹاتے ہی اس نے سختی سے پوچھا..

“تمہیں نہاتے ہوئے دیکھ رہا تھا..”

شاویز نے شرارتی لہجے سے کہا تھا۔۔۔

“بدتمیز انسان..”

زیر لب بڑبڑاتی وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا..

“اچھا میری بات سنو..”

اسے درخت سے لگا کر اپنے دونوں بازو اس کے ارد گرد جماۓ اپنے نظروں کے حصار میں لئے اس کے سامنے دیوار بنے کھڑے ہوتا شاویز بولا تھا۔۔۔

اس کی نظریں مسلسل اس کے گال اور ناک پر لگی مٹی پر تھی ۔۔

بولو ۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ پھاڑ کھانے کو بولی تھی۔۔

ا۔۔۔

“آآآآآچھی..” اس سے پہلے شاویز کچھ کہتا جب اچانک ہی اسے زور سے چھینک آئی..

“تمہیں تو سردی لگ گئی ہے..” فکرمندی سے اسے دیکھتے وہ بولا تھا۔۔

“نہیں میں تو اسٹیل کی ہوں مجھے کیسے سردی لگے گی..”۔

روحا جلتی ہوئ بولی تھی ۔۔

نہیں تم اسٹیل کی کہاں ہو تم تو بڑی سوفٹ ہو میں نے کافی دفعہ چھوا ہے تمہیں ۔۔

شاویز اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔

ہٹو میرے سامنے سے ۔۔

روحا اپنا لال چہرہ لیے بولی تھی ۔۔

“ہٹو گے میرے سامنے سے یا نہیں..”

“نہیں.. شاویز ایک ہی لفظ میں بات مکمل کر گیا تھا ۔ لہجہ ضدی تھا..

“میں چیخوں گی..” اس نے دھمکی دی..

“میری طرف سے اجازت ہے..” شاویز اس کی گال پر لگی مٹی پر اپنے لب رکھتا بولا تھا۔۔۔

تمہیں کو کوئی کام ہے مجھ سے..” روحا نے خود پر ضبط کرکے تحمل سے پوچھا تھا کیونکہ شاویز اب اس کا ناک پر لگی مٹی کو اپنے ہونٹوں سے صاف کر رہا تھا۔۔۔

“ہاں..”

شاویز نے تحمل سے جواب دیا۔۔۔

“کیا کام ہے..” وہ جیسے ہمہ تن گوش ہوئی..

“محبت کرنی ہے تم سے..”

شاویز نے کہتے ہی اس کی گردن پر بارش کے قطروں کو اپنے لبوں سے چھوتے بھاری سرگوشی سے بولا تھا۔۔۔

“بیہودہ انسان ہٹو میرے آگے سے..

شاویز کو بہکا ہوا دیکھ روحا اس کی باہوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی بولی تھی۔۔۔

“ہٹا لو اگر ہٹا سکو تو..

” وہ جیسے مزے لے رہا تھا اسے اب کمر سے پکڑے سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

روحا آگ بگولہ ہو کر اس کے سینے پر مکوں کی برسات کرنا شروع کر دی تھی ۔۔۔

“بس تم یہی کر سکتی ہو اور کچھ نہیں آتا تمہیں..”

شاویز نے ہنستے ہوئے اس کے دونوں بازو کلائیوں سے پکڑ کر پشت پر کرکے اسے خود سے قریب کیا تھا ۔۔

“کبھی محبت بھی کر لیا کرو.. یقین کرو بہت مزا آئے گا..”

اس کی حیرت سے پھٹی گرے آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں گاڑے وہ دلکشی سے بولا تھا ۔۔۔

م۔مجھے آج پتہ چلا شہرام تم پر گیا ہے باپ اتنا تنگ کرتا ہے تو بی۔۔۔

“کبھی دل نہیں کرتا مجھ سے محبت کرنے کا.

روحا گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ اپنی دھمیی آواز سے بولا تھا۔۔۔

شاویز کی دھیمی مسحورکن آواز میں وہ جیسے کھو سی گئی تھی وہ شاید ضبط کھوکر اس کی محبت کا جواب محبت سے دے دیتی لیکن کسی کے زور سے کھنکھارنے پر وہ جیسے اس کے سحر سے آزاد ہو گئی تھی..

“یہ ڈیمانڈ تم کمرے میں جاکر کرو تو شاید مثبت جواب بھی ملے..”

کسی کی معنی خیز آواز پر شرمندگی سے روحا سر جھکا گئی تھی ۔۔۔

جبکہ شاویز نے مسکرا کر گردن موڑ کر دیکھا اور پشت اس کی طرف کرکے اس کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔

جس سے اس کا گیلا وجود پوری طرح چھپ گیا تھا..

اففف ماما آپ تھوڑی لیٹ آ جاتی ۔۔

اپنے سامنے گل پارہ کو مسکراہٹ روکے دیکھ وہ بھی دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

نہایت ہی منہ پھٹ ہو تم شاویز خاننننن۔۔۔

روحا شرم سے پانی پانی ہوتی دانت پیستی کہتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔

“شکریہ.. مجھے بخوبی علم ہے..”

شاویز اس کے پیچھے ہانک لگاتا بولا تھا۔۔۔

اس کی ڈھٹائی پر گل پارہ نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا تھا ۔۔۔

آ جاٶ بیٹا وہ چلی گی ہے ۔۔

دور جاتی روحا کو نظروں سے اوجھل دیکھ گل پارہ بولی تھی شاویز جو مسلسل ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

———————————————————–

عروش کیوں تنگ کرتی ہو اففف توبہ ہے ۔۔۔

بیڈ پر لیٹی علیشبہ دانت پیستے بولی تھی ۔۔

کیونکہ عروش اپنا کارنامہ سر انجام دے رہی تھی۔۔۔

م۔۔۔

ہاہہاہاہہاہ ہاہاہا ۔۔

میں نہیں جانتا تھا عروش کا بھای اتنی جلدی آ جاۓ گا۔۔۔

علیشبہ کی حالت اندر آتا دلاور قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

جہاں علیشبہ کی شرٹ کے اندر عروش نے کشن دیا تھا جس کی پھولی شرٹ عروش غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

بابا آے ایسی شرٹ وہاں ایک انٹی نے پہنی تھی جس میں ان کا موٹا سا پیٹ تھا اب ماما کا ہے ہاہاہہاہاہاہااہا۔۔۔

عروش اپنے ہی کارنامے پر قہقہ لگاتی تالیاں بجاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

جبکہ علیشبہ نے دکھ سے اپنا سر پکڑا تھا کیسی

بیٹی ملی تھی اس کو ۔۔۔

دیکھو سائیں کی جان ہماری بیٹی بھی یہی چاہتی ہے ۔۔

دلاور علیشبہ پر جھکتا ہوا شوخ لہجے سے بولا تھا ۔۔

توبہ ہے دلاور بچی بیٹھی ہ۔۔۔

بیٹا جاٶ آپ سونے کی تیاری کرو میں تمہاری ماما کو سلا کر آیا۔۔۔

علیشبہ خود کو گھورتی عروش کو دیکھ بول رہی تھی جب دلاور بولا تھا۔۔۔

بابا ماما ایسی موٹی کب ہو گی میں دیکھنا ہے یہ سب۔۔۔

عروش علیشبہ کی شرٹ پر ہاتھ رکھتے پھر بولی تھی۔۔۔

سائیںننننننن۔۔۔

اس کی بات سنتی علیشبہ صدمے میں جاتی چلای تھی۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاہا اب میرا قصور نہیں ہے ۔۔

دلاور علیشبہ کی شرٹ سے کشن نکالے دور گراتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

اففف توبہ ہے سائیں مجھے یقین نہیں آتا یہ میری بیٹی ہے ۔۔

تھوڑی دیر عروش کو نیند میں جاتا دیکھ علیشبہ دلاور کے شولڈر پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔

چلو جب بیٹا آ جاۓ گا تب یقین کر لینا ۔۔

دلاور عروش کو بے بی کوڈ میں لیٹاۓ اب علیشبہ پر جھکتے بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں سائیں مجھے یقین آ گیا یہ میری ہی ہے۔۔۔

اپنی گردن پر اس کے لب محسوس کرتے علیشبہ ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ہمم۔۔

دلاور مدہوش ہوتا اب اس کے گال چوم رہا تھا۔۔۔

علیشبہ نے گھبراتے ہوۓ آنکھیں بند کی تھی۔۔۔

س۔سائیں عروش ج۔۔۔

اپنی شرٹ کو شولڈر سے سرکتے دیکھ علیشبہ جلدی سے بول رہی تھی جب دلاور نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھتے اس کی آواز بند کی تھی ۔۔۔

————————————————————

م۔میں ماما کے پاس آج سونا تم جاو۔۔۔

کافی دیر سے شاویز روحا کا ویٹ کر رہا تھا روم میں تبھی بالآخر تنگ آتے وہ گل پارہ کے روم میں گیا تھا جہاں ان کے کمبل میں دبی بیٹھی وہ اسے سامنے دیکھ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

اس وقت شاویز کی آنکھوں میں غصہ وہ دیکھ سکتی تھی ۔۔۔

میں پھر واقعی چلا جاٶ روحا بے بیییییی۔۔۔

شاویز ایک بار پھر دانت پیستے ہوۓ بولا تھا۔۔

اسے اچھا نہیں لگا تھا روحا گل پارہ کے ساتھ سونے والی تھی ۔۔

ہ۔ا ہاں جاٶ ماما میں سونے والی ہو۔۔۔

روحا جلدی سے ہکلاتی کہتی کمبل میں منہ دے بولی تھی۔۔۔

جبکہ گل پارہ دونوں کی حالت دیکھ مسکراہٹ روکی تھی۔۔

شاویز منہ بناتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

بیٹا تم جاٶ شاہو کے پاس ۔۔

کافی دیر روحا کو کروٹیں چینج کرتا دیکھ گل پارہ نیند سے جاگتی بولی تھی ۔۔

و۔وہ سوری ماما بس نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔

روحا شرمندہ ہوتی بولی تھی کیونکہ جانتی تھی گل پارہ میڈیسن کھا کر سوئ تھی۔۔۔

جس کے ساتھ نیند آتی ہے اسی کے پاس جاٶ۔۔۔

گل پارہ اس کا ماتھا چومتی پیار سے بولی تھی۔۔۔

جی ماما ۔۔۔ روحا نے شرم سے سر جھکاتے کہا تھا۔۔۔

————————————————————

خان ۔۔۔

خان۔

خان ۔۔

کیا ہے اب آ گی ہو تم سو جاٶ سر کیوں کھا رہی ہو۔۔۔

روحا اپنے روم میں واپس آتی جلدی سے بیڈ پر جاتی منہ پھولاے شاویز کے سرہانے بیٹھتے معصوم سی شکل بناے بولی تھی۔۔۔

جب کافی دیر اگنور کرنے کے بعد شاویز پھاڑ کھانے کو بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے نیند آی ہے ا۔۔۔

تو سو جاٶ میں نے روکا ہے تمہیں ۔۔

روحا رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب شاویز بنا دیکھے بولا تھا۔۔۔

روحا اب منہ بناۓ اسی کے قریب لیٹتی اس کے سینے پر سر رکھے لیٹ چکی تھی۔۔۔

خان ۔۔

خان مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔

سیدھے لیٹے شاویز کے ڈمپل پر انگلی رکھتے روحا ڈرتی ہوئ بولی تھی جو روٹھے بچے کی طرح اسے نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔

اب کیا گود پر لو میں بچی ہو کیا سو جاٶ آرام سے ۔۔

شاویز اس کی گلاسز اتارتے بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

میں ہی پاگل ہو جو تمہارے پاس آی بھاڑ میں جاٶ تم۔۔

شاویز کی اتنی بے رخی دیکھ روحا اب دکھی دل سے کہتی وہاں سے اٹھتی بولی تھی ۔۔

ارے میری جان میں تو بس تنگ کر رہا تھا معاف کر دو اپنے خان کو آو میں تمہیں سلا ٶ۔۔۔

روحا کو بیک ہگ کیے شاویز اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

دور ہٹو ۔۔۔

روحا اس کے پیٹ میں کہنی مارتی بولی تھی۔۔۔

اب تو ہٹنا نہیں اب تم نے ہی جاگایا مجھے ورنہ میں تو سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

شاویز اس کے بالوں کا جوڑا کھولتا ہوا اس کے بالوں میں چہرہ چھپاۓ بولا تھا۔۔۔

ا۔اب سو جاٶ ۔۔

روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی ہکلاتی بولی تھی ۔۔

جو مکمل اس میں مدہوش ہوا تھا۔۔۔

ش۔شاویز ا۔۔۔

شششش آج مت بولو میری سانسوں کو سنو ۔۔

سنو یہ کیا کہتی ہے یہ کہتی ہے انہیں بس روحا شاویز خان کا جنون ہے ۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب شاویز اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے بولا تھا۔۔

و۔م۔۔۔

روحا کی سانسیں تیز ہوئ تھی اس کی قربت سے ۔۔

تبھی اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔۔

میں اپنی ہر غلطی کی معافی مانگتا ہو جب اپنا انتقام لینے کا سوچا تب مجھے نہیں پتہ تھا میرا انتقام ہی

میرا جنون ہے ۔۔

جس رات تمہارے ساتھ وہ سب کیا مجھے بہت دکھ تھا جو لڑکی میری سانسوں کا جنون بن چکی تھی اسے میں نے اپنے انتقام کی آگ بجھائ تھی۔۔۔

میں بہت شرمندہ تھا اپنے کیے پر لیکن میں بھی کیا کرتا روحا میری ماما کے ساتھ وہ سب ہوا مجھ سے برداشت نہیں ہوا ۔۔

میں نے ان چار سالوں میں جتنی سزا پائ وہ بھی کم تھی ۔۔۔

تم بیوی تھی میری شوہر ہونے کے ناطے مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہے ۔۔۔

لیکن پھر سوچتا ہو اگر اپنا انتقام نہ لیتا تو میرا جنون مجھے واپس نہ ملتا ۔۔۔

کیونکہ تم مجھے کہی نہیں ملی تھی میں مایوس ہو گیا تھا ۔۔۔

شاویز روحا کو دوبارہ بیڈ پر لیٹاۓ اپنی شرٹ اتارے اس پر جھکتا نرمی سے بول رہا تھا۔۔۔

ت۔تم بھول جاٶ سب شاویز وہ ماضی تھا میں چاہتی ہو ہمارا حال و مستقبل اچھا ہو ۔۔۔

تمہارا انتقام بھی پورا ہوا اور تمہارا جنون بھی ۔۔۔

بس اب سب بھول جاٶ۔۔۔

روحا اپنی گرے آنکھیں اس کی نیلی آنکھوں میں گاڑھتی گھبراتی ہوئ بولی تھی جو صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

آج کی رات میں سب بھولنا چاہتا ہو بس یاد رہے بس اتنا کہ میں نے اپنا جنون حاصل کر لیا ہے ۔۔

شاویز اس کی تھوڑی پر لب رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا۔۔۔

و۔وہ شہرام کو دیکھنا تھا جاگ ج۔۔۔

شاویز کو اپنی سانسوں کے قریب آتا دیکھ اچانک روحا گھبراتی بول رہی تھی جب اس کے دونوں ہاتھ شاویز اپنے ایک ہاتھ میں قابو کیے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاۓ نرمی سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا۔۔۔

روحا نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔

اب صرف روم میں خاموشی تھی اسی خاموشی میں دونوں کی سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔۔۔

———————————————————–

علیشبہ دلاور شاہ کے ساتھ اور روحا شاویز خان کے ساتھ دونوں ہی خوش تھی ۔۔۔

شاویز جہاں اپنا انتقام لینے میں شرمندہ تھا وہی اپنا جنون حاصل کرتے بے حد خوش تھا۔۔۔

کامرن جیسے لوگ ہی ہوتے ہے جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ غلط کرتے ہے بلکہ دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ ہی شاہد وہ بھول جاتے ہے مکافات عمل بھی ہوتا ہے جیسے اسے بیوی بہن بیٹی ماں کے روپ میں ہی دینا پڑتا ہے ۔۔

ختم شد💕