304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 10)

Junon Inteqam By Rania Mehar

سائیں آپ کی چاۓ ۔۔۔۔

اگلے دن علیشبہ تیار ہوتی کچن میں جاتی دلاور کے لیے چاۓ بنا کر لائ تھی ۔۔۔

جو کوئ ضروری کال سن رہا تھا۔۔۔

ہاں رکھ دو۔۔۔

دلاور بزی ہوتا بنا دیکھے بولا تھا۔۔۔۔

جی اچھا۔۔

علیشبہ اداس ہوتی چاۓ کا کپ رکھتی واپس جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہ بڑے پیار سے اس کے لیے چاۓ بنا کر لائ تھی ۔۔۔

سائیں نے کیا باجی کے کہنے پر شادی کی ہے لگتا مجھ سے محبت نہیں کرتے باجی کیوں ایسا کیا مجھے ایسا ہمسفر نہیں چاہے تھا ا۔۔

اہہہہ اہہہہ۔۔۔

علیشبہ کچن میں واپس آتی اپنے لیے کپ میں چاۓ ڈالتی سوچ رہی تھی جب گرم گرم چاۓ اس کے ہاتھ پر گری تبھی وہ درد سے چلائ تھی ۔۔۔

کیا ہو گیا کیا موت کا فرشتہ دیکھ لیا صبح صبح چیخ رہی ہو ۔۔۔

دلاور غصے سے کچن میں آتا طش سے بولا تھا۔۔۔

و۔وہ سائی۔

جاٶ میڈیسن لگاٶ ۔۔۔

علیشبہ اپنا سرخ ہاتھ لیتی آنسو بہاتی بول رہی تھی جب دلاور اپنی کہہ کر بے حسی سے بولتا گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

باجی آپ کتنی بہادر ہے ہر درد سہہ جاتی ہے ایک میں ہو جو زرا سی چوٹ پر رونے لگ جاتی ہو ۔۔۔

میں نے آپ کی طرح بنا ہے باجی بہادر والی ۔۔

میں تو کچھ بھی نہیں سہہ پاتی۔۔۔

علیشبہ روحا کی آنکھوں میں ڈراپ ڈالے بولی تھی کیونکہ شدید غصے سے اس کی آنکھ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔

ب

باجی۔۔۔

علیشبہ اپنے روم میں بیٹھی اپنے ہاتھ پر مرہم لگاتی روحا کو سوچتی روی تھی ۔۔۔۔

زیادہ گرا لی تھی کیا یار دیکھ کے کام کیا کرو ملازم ہے گھر ۔۔۔

دلاور سے جب رہ نہیں گیا تو خودی اس کے پیچھے روم میں آتا اسے روتا دیکھ پاس جاتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔

س۔سائیں بہت زیادہ آپ کو پتہ باجی نے کبھی مجھے کچن نہیں جانے دیا خودی سب بناتی تھی ۔۔۔

دلاور کا لمس اپنے ہاتھ پر پاتی علیشبہ روتی ہوئ بتا رہی تھی ۔۔۔

ہمممم اچھا تیار ہو جاٶ گھر جانا ہے ۔۔۔

دلاور اب مرہم لگاتا کچھ سوچتا ہوا بولا تھا۔۔۔

خ۔خیریت مطلب باجی ٹھیک ہ۔۔۔

تمہارے ابو کا انتقال ہو گیا کیونکہ اب وہ اپنے گناہ کا بوجھ نہیں سہہ پاۓ تھے۔۔۔۔

علیشبہ پریشان ہوتی بول رہی تھی جب دلاور سکون سے بمب گراتا اب روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

ا۔ابو ابوووو۔۔

علیشبہ اب دھاڑے مارتی رو رہی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

““کچھ گھنٹے پہلے۔۔۔

س۔سر۔۔

۔۔ کیا؟؟؟

“شاویز نے ایک آنکھ زبردستی کھول کر۔۔۔۔سرونٹ کو دیکھ منہ بسور پوچھنے لگا۔۔۔۔

” سر آپ کو بی جان بلا رہی ہے ۔۔۔

”افففف۔۔۔۔یہ بی میری جان کیوں نہیں چھوڑتی مجھے ؟؟؟۔

شاویز نے بیزار سی شکل بناکر بیڈ پر زور زور سے ہاتھ پٹکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

”کہ دو ۔۔۔۔جب فری ہوں گا تو آجاٶں گا ملنے ۔۔۔

شاویز نے جماٸی لیتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔

شاویز اب سگریٹ سلگتا ہوا منہ میں لے چکا تھا۔۔۔

” سر کتنی بار کہا ہے صبح صبح یہ سگریٹ مت پیا کرے ۔۔۔

یہ بیٹ مینرس ہوتے ہیں“سرونٹ نے ٹوکا تو وہ بےزاری سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔

”تم جاٶ سرو ۔۔۔مجھے ابھی پینے دو۔۔۔

۔۔۔ تمہارا گڈ اور بیٹ مینرس کا لیسن میں بعد میں سن لوں گا۔۔۔“شاویز نے سگریٹ کا دھواں چھوڑتے سکون سے کہا تھا۔۔۔

”سر۔۔۔ پلیز اٹھ جائیں۔۔۔آپ کو ابھی بلایا ہے بی جان نے۔۔۔۔

اگر آپ خود نہیں گئے تو آپ کو اٹھا کر لے جانے کا آرڈر دیا گیا ہے۔۔۔

اس لیے پلیز اٹھ جائیں“سرونٹ نہایت التجائیہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔

شاویز سرونٹ کی بات کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔

کیونکہ وہ جانتا تھا سرو بی جان کا اسپیشل والا ملازم تھا جو اس کی ہر بات ان کو بتاتا تھا۔۔۔

” میں آخری بار کہہ رہا ہوں سر ۔۔۔اٹھ جاٸیں۔۔۔۔ورنہ پھر جو ہوگا اس کے آپ خود ذمہ دار ہو گے ۔۔۔

کیوں تم ڈان ہو کسی ملک کے۔

۔ہہہہہہہ۔۔۔۔

ابھی شاویز بول ہی رہا تھا کے کمرے میں ایک گارڈ ۔۔۔۔ کالی وردی پہنے ہوئے حاضر ہوا۔

اس نے شاویز کو بیڈ سے اٹھا کر اپنے کندھے پر لاد لیا تھا

”آٶٶٶٶ۔۔۔۔۔یہ کیا کررہے ہو۔

سرو اس سے کہو نیچے اتارے مجھے۔۔۔۔

شاویز خوب زورزور سے چیخ کر احتجاج بلند کر رہا تھا۔۔۔۔

پر وہ گارڈ شاویز کو ناٸٹ ڈریس کی حالت میں ہی کندھے پر لادھے روم سے باہر لے کر نکالا تھا ۔۔

سب ملازمین تو آٹھویں عجوبے کی طرح ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگے۔۔۔۔

”ابے یار۔اتار نیچے۔ت۔تو میری بچی کچی عزت کا بھی فالودہ بنا رہا ہے۔۔

شاویز خان نام میرا کچھ تو لحاظ کرو ۔۔۔

شاویز بس بی جان کی عزت کے لیے غصہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔

یار میں کوئی کنواری چھوٹی بچی تھوڑی ہوں۔۔۔

جو بی جان کے پاس مجھے اس طرح اٹھا کر لے جا رہا ہے۔۔

”دیکھ مجھ پر ترس کھا یار اتنا ہینڈسم چہرہ ہے میرا ۔۔

بیچارا شاویز چیختا رہا ۔

اپنا احتجاج مسلسل ریکارڈ کرواتا رہا۔ بی جان کے گارڈ نے شاید نو رسپونس کا بورڈ لگایا ہوا تھا۔۔۔۔

”اچھا میرے پیارے بھاٸی ۔۔۔۔مجھے نیچے اتار دو میں نے کہاں گاڑی سے بھاگنا ہے

شاویز معصومانہ چہرہ بنائے التجائی انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔

”سر آپ پہلے بھی اسی طرح کہہ کر بھاگ گئے تھے۔۔۔

بی جان آپ کو یاد کر رہی ہے ۔۔۔

گارڈ اسے زبردستی کار میں بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

اس بار میں آپ کے جھانسے میں آنے والا نہیں “گارڈ نے سرد لہجے میں بولا تھا۔۔۔

پھر سہی ہے بی جان کو کہنا میں ان کو وہ موٹا شاہو نہیں رہا شاویز خان بن چکا ہو جب دل کرے گا تب آ جاٶ گا ۔۔۔۔

شاویز گارڈ کو دیکھتا اب کار سے نکلتا اسے دھکا دیتا بھاگتا غصے سے بولا تھا۔۔۔

س۔سر سر سر ہاے بی جان کو کیا جواب دو گا۔۔۔

دور جاتے شاویز کو دیکھ گارڈ نے اپنا سر پکڑتے افسوس سے سوچا تھا۔۔۔

———————————————————–

ا۔اہہہہ ی۔یہاں بھ۔بھی جان ن۔نہیں چھ۔چھوڑ رہے م۔مر جاٶ تم۔۔۔۔

کافی دیر روحا کا جب ہوش آیا تبھی وہ بیڈ سے اٹھتے ہوۓ چیخی تھی ۔۔۔

کیونکہ شاویز ویسے ہی اسے کمر سے پکڑے سکون سے لیٹا تھا۔۔۔۔

تم مری نہیں تو میں کیسے مر جاٶ روحا بے بی ۔۔۔

شاویز اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔

چھوڑو مجھے درد ہو رہا کافی خان ۔۔۔

کچھ تو لحاظ کرو میرے ابو کے گھر ہو ت۔۔۔۔

روحا اس کے سینے پر گرے درد سہتی بول رہی تھی جب شاویز نے اس کے کٹ لگے آئ برو پر دانت گاڑھتے وہاں سے خون نکالا تھا۔۔۔۔

۔ن۔نفرت ہے مجھے دفع ۔ہو جاٶ ۔۔۔

ت۔تم تو مجھ۔سے محبت کرتے تھے۔۔۔۔

روحا جیسے تیسے اس سے دور ہوتی بیڈ کی دوسری سائیڈ پر بیٹھتی اب روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس میں اب اتنی ہمت بھی نہیں تھی وہ وہاں سے ہل بھی پاتی ظم سہتا جسم اب بے جان ہو رہا تھا۔۔

اہہہ محبت ۔۔

شاویز طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اسے دوبارہ پکڑتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

چ۔چھوڑو مجھے ت۔تمہارا انتقام پورا ہوا مجھے طلاق دے دو بس بات ختم ۔۔۔

روحا اس سے دور جاتی نفرت سے بولی تھی ۔۔۔

ت۔۔

آتا ہو۔۔۔

اس سے پہلے شاویز کچھ کہتا جب فون سنتا اسے گھورتے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔

———————————————————-

باجی باجی یہ سب کیسے ہو گیا۔۔۔۔

علیشبہ روم میں آتی روحا کے سینے سے لگی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

یہ سب میری وجہ سے ہوا عالی ابو چلے گے سب میری وجہ سے شاویز نے میرے ساتھ یہ سب کیا دادی بلکل ٹھیک کہتی ہے میں اچھی لڑکی نہیں ۔۔۔۔

روحا گم صم وہی بیٹھتے علیشبہ کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ی۔یہ سب باجی شاویز بھای نے کی۔۔۔۔

ہاں شاہد اب تو خود سے نفرت ہو رہی مجھے مر جانا چاہے تھا ابو کے ساتھ ویسے یہ سزا تھی ان کے لیے وہ چلے گے مجھے بھی ساتھ لے جاتے ۔۔۔

علیشبہ روتی ہوئ روحا کے گال پر بہتے خون کو دیکھتی بول رہی تھی جب روحا ویسے ہی سرد لہجے سے بولی تھی۔۔۔۔

نہیں باجی ایسا مت کرے آپ تو اتنی اچھی ہے شاویز بھای بھی اچ۔۔۔

دلاور تم لے جاٶ عالی کو یہاں سے ۔۔۔

علیشبہ روتی بول رہی تھی جب روحا ویسے ہی دلاور کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔۔

دلاور سمجھ سکتا تھا روحا کی کیڈیشن کو ۔۔۔

آٶ عالی چلے ۔۔۔

دلاور اسے کندھوں سے پکڑتے بولا تھا۔۔۔

نہیں باجی ایسا مت کرے کم از کم اپنے دل کا غم مجھ سے شیئر کرے۔۔۔

علیشبہ منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

جاٶ میری جان میں بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔

روحا اب بیڈ سے اٹھتی دونوں کو باہر نکالتی ہوئ ڈور بند کرتی بولی تھی۔۔۔۔

———————————————————–

سائیں میری بہن ایسی نہیں ہے سب جھوٹ بول رہے ۔۔۔

رات علیشبہ روم میں آتی دلاور کے پاس بیٹھتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

میں جانتا ہو سب تم ریلکس رہو۔۔۔

دلاور اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

سائیں میں نے ہمیشہ باجی کو اپنا سب کچھ منانا ہے ماں باپ بہن بھای وہ ہر روپ میں میرے ساتھ رہی ہے لیکن جس روحا کو ہمیشہ بہادر دیکھا وہ آج ٹوٹ گی ہے سائیں میں کیا کرو ۔۔۔۔

ابو کے جانے کا دکھ ہے شاہد اتنا نہیں جیتنا باجی کو ہوا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ابو کے ساتھ رہی جبکہ میں صرف باجی کے پاس ہوتی تھی۔۔

دلاور اسے تسلی دے رہا تھا جب علیشبہ اس کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

ریلکس میں جانتا ہو تمہاری فلیگز ۔۔۔

دلاور اسے پرسکون کرتا بولا تھا جبکہ اس کا دل و دماغ مسلسل اس بات پر لڑ رہا تھا اس کی عالی ایسی نہیں ہو سکتی جو اب بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔

م۔میری باج۔۔۔

دلاور کافی دیر علیشبہ کی بات سنتا اب تنگ آتا اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا۔۔۔۔

س۔سائیں چ۔چھوڑے۔۔۔۔

علیشبہ دلاور کا لمس پاتی گھبراتی ہوئ اس سے دور ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

بہت محبت کرتا ہو عالی مسلسل دو سال سے تم نہیں جانتی کتنا تڑپا ہو میں بہت کوشش کی تم سے نفرت کرو لیکن تمہاری معصوم شکل دیکھ مجھے سب بھول جاتا ہے ۔۔۔

دلاور اب بہکا ہوا اپنی شرٹ اتارے علیشبہ کو بیک ہگ کیے کان میں سر گوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

علیشبہ کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ کیا کہا رہا تھا۔۔۔

جبکہ وہ اپنے دھیان میں اپنی دھڑکنیں سبھنال رہی تھی۔۔۔۔

پہلے دن تمہیں دیکھا تو مجھے محسوس ہوا تم ہی وہ میری ہمسفر ہو ۔۔۔

دلاور نرمی سے علیشبہ کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے چہرے کے ہر نقش کو چومتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

س۔سائیں رات ہو گی۔۔۔

علیشبہ خود پر قابو پاتی بنا سوچے سمجھے وہ منہ جو آیا بول گی تھی۔۔۔

ارے واہ سائیں کی جان مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا رات ہو گی۔۔۔۔

اس کی بات پر مسکراہٹ روکے دلاور اسے اب بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا۔۔۔۔

نہ۔نہی ٶ۔۔۔

ششششش مجھے محسوس کرو بس تم صرف اجازت دو۔۔۔۔

علیشبہ بول رہی تھی جب دلاور اس کے ڈمپل پر لب رکھتے سرگوشی سے بولا تھا۔۔۔۔

علیشبہ نے شرماتے ہوۓ آنکھیں بند کی تھی۔۔۔۔

اس کی اجازت پاتے ہی دلاور نے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتے اس پر اپنے پیار کی برسات کی تھی ۔۔۔

جس پر وہ ساری رات اس کے پیار کی بارش میں بھیگتی رہی تھی ۔۔۔

کبھی وہ شرما جاتی تو کبھی گھبراتی ہوئ وہ اسی کے سینے میں پناہ لیتی رہی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

“““ایک ہفتے بعد۔۔۔

دادی میں ایسی لڑکی نہیں ہو آپ بھی جانتی تھی شاویز نے کیسے نکاح ک۔۔۔۔

ارے تم ہو گی آوارہ بد چلن لڑکی اپنے باپ کو کھا گی بلکہ اب تمہارے پاس کوئ رشتہ نہیں رہا تم مر کیوں نہیں جاتی ۔۔۔۔

روحا آج کچھ بہتر فیل کرتی روم سے باہر آی تھی جب محلے کی عورتیں باتیں کرتی وہاں سے چلی گی تھی تبھی روحا افسوس کرتی بول رہی تھی جب دادی نفرت سے بولی تھی۔۔۔

اس ایک ہفتے میں وہ مسلسل بخار سے نڈھال رہی تھی جہاں سرخ سفید چہرہ تھا اب وہ زرد پیلا رنگ جیسا چہرہ بن چکا تھا آنکھوں کے نیچے ڈراک سرکل تھے۔۔۔۔

میں آوارہ نہیں ہو سنا آپ نے اپنے ہی بیٹے کی تربیت اچھی کر لیتی کم از کم مجھے یہ سزا نہیں ملتی ۔۔۔

اب روحا غصے سے پھٹتی چلائ تھی۔۔۔

میں نے اپنے شریف بیٹے کی تربیت اچ۔۔۔۔

شریف بیٹا جو لوگوں کے گھر کی عزتیں لوٹتا تھا۔۔۔

ویسے اگر میں سوچو تو میرے ساتھ بلکل ٹھیک ہو آپ کے بیٹے کے ساتھ بھی سہی ہوا ۔۔۔

میں ایویں ایک ہفتہ اس بات کا غم مناتی رہی ۔۔۔

آپ بجاۓ مجھے حوصلہ دینے کہ مجھ پر ہی الزام لگا رہی ہے ۔۔۔

ہاں ہو میں بد کردار اب خوش ۔۔۔

روحا تو آپے سے باہر ہوتی چلاتی گھر سے باہر چلی گی تھی۔۔۔۔۔

———————————————————–

ہاں تم لوگ پتہ لگواٶ کون سی یونی میں ہے وہ۔۔۔

نیلی ہڈی پہنے کان میں ئیر پیس لگاۓ وہ سنسنان راستے میں کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ چہرہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا جبکہ ہڈی پر بڑے لفظوں میں بیلو لائن لکھا ہوا تھا۔۔۔۔

ہاں چلو بات کرتا ہو میں۔۔۔

سامنے سے بھاگتی ہوئ آتی لڑکی کو دیکھ وہ جلدی سے فون بند کر چکا تھا۔۔۔۔

روحا جو اپنے گھر سے نکلتی بنا دیکھے اپنی گلی سے کافی آگے روتی ہوئ آ گی تھی ۔۔۔

جب راحیل کے آدمی اس کے پیچھے لگے تھے۔۔۔۔

گلاسز وہ غصے سے اتار چکی تھی تبھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کہاں جاۓ اب کیونکہ وہ راستہ بھی بھول چکی تھی۔۔۔۔۔

تبھی بھاگتے بھاگتے وہ اس ہڈی والے کے پاس پہنچی تھی۔۔۔۔۔

ب۔بچاٶ۔مجھے ی۔یہ لوگ ۔مج۔مجھء تنگ کر رہے ۔۔۔۔

روحا ہاپتی کاپتی ہوئ اس کے قریب جاتی بولی تھی کیونکہ پاس جانے سے ہی اسے اس کی مسکراتی نیلی آنکھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

روحا کی جان لبوں میں آی تھی جس انسان سے بچتی وہ اپنی دادی کے گھر سے بھاگی تھی وہی انسان اسے دوبارہ مل چکا تھا۔۔۔۔

روحا بے بی۔۔۔۔

وہ اب اس کے لبوں کے پاس سرگوشی کرتا اپنے شولڈر پر ڈالے لے کر جا رہا تھا۔۔۔