304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 8)

Junon Inteqam By Rania Mehar

بول کیوں نہیں رہے تم کون ہو میری عالی کدھر ہے ۔۔۔

روحا اب طش میں آتی چلا رہی تھی ۔۔۔۔

روحا بے بی ۔۔۔۔

شاویز اس کے کان میں سرگوشی کرتا طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔

ش۔شاہ۔۔۔

روحا آواز پیچانتی ہوئ ہکلائ تھی۔۔۔

شاویز خان تمہارا دشمن۔۔۔۔

شاویز اب روحا کو بالوں سے پکڑے اپنے چہرے کے قریب لاتا سرد انداز سے بولا تھا۔۔۔

ک کیا ۔چاہے۔۔۔

روحا ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

تم ۔۔۔

شاویز پھر سرگوشی کرتا ایک لفظ بولا تھا۔۔۔

م ۔میری بہن کو چھوڑ دو پلیز تم جو بھی ہو ۔۔

روحا اب منت کرتی بولی تھی۔۔۔۔

ویسے ارداہ یہی تھا تمہاری بہن سے بدلہ لو لیکن تمہیں تڑپانے میں مزہ آۓ گا۔۔۔۔

شاویز روحا کے بالوں کو اور زور سے پکڑتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

عالی کو چھوڑ د۔۔۔

نکاح کرو مجھ سے ابھی ورنہ اپنی بہن سے جان دھو بیٹھو گی۔۔۔۔

شاویز اپنی گن اب روحا کے چہرے پر سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

روحا کی گرے سرخ آنکھوں سے آنسو نکلتے گردن پر بہہ رہے تھے۔۔۔

ک۔کیوں کرو میں نہیں جانتی تمہ۔۔۔

لے جاٶ اس لڑکی کو وہی کرو جو۔۔۔۔

نہیں نہیں عالی کے ساتھ کچھ مت کرنا میری بہن ہے میں راضی ہو ۔۔۔

روحا طش میں آتی بول رہی تھی جب شاویز کا حکم سنتی جلدی سے ہار مانتی بولی تھی۔۔۔

اہہہ گڈ گرل۔۔۔۔

شاویز گن سے اس کی گال پر پھکی دیتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

ب۔باجی یہ کیا آپ نے ی۔یہ وہ شاہ نہیں جس سے آپ نے نکاح کر لیا مجھے ت۔تو ڈر لگ رہا۔۔۔۔

نکاح نامے پر روحا کا ہاتھ پکڑتے علیشبہ نے روتے ہوۓ سائن کرواتے کہا تھا۔۔۔۔

دفع کرو جو بھی ہے میرے لیے کافی ہے تم بچ گی باقی میں دیکھ لو گی ۔۔۔۔

روحا ہاتھ لگاتی اب علیشبہ کا ماتھا چومتی بولی تھی۔۔۔۔

ہ۔ہو گیا نکاح اب جاٶ یہاں سے۔۔۔

روحا اب سامنے دیکھنے کی کوشش کرتی شاویز کو بولی تھی۔۔۔۔

نکاح تو ہو گیا لیکن وہ مزہ نہیں آیا آو میرے ساتھ۔۔۔۔

شاویز اب بے چین ہوتا اٹھ کر روحا کا ہاتھ پکڑتے اسی کے روم میں لے کر جاتے بولا تھا۔۔۔

دادی دادی آپ کچھ کرے پلیز۔۔۔

روحا کو اندر جاتا دیکھ علیشبہ بھاگ کر دادی کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔

انہہہ آوارہ پہلے لڑکوں کو پھساتی ہے پھر معصوم بنے کا ڈرامہ کرتی ہے۔۔۔

دادی نفرت سے کہتی اب روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔

جبکہ علیشبہ اکیلی شاویز کے آدمیوں کے ساتھ کھڑی رو رہی تھی۔۔۔۔

———————————————————–

چ

چھوڑو ہاتھ میرا نکاح ہو گیا بس ٹھیک ہے ۔۔۔

روحا اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

نکاح کے بعد بھی کچھ ہوتا ہے روحا بے بی۔۔۔۔

شاویز روحا کو بیڈ پر دھکا دیتا خود اس پر جھکتے بولا تھا۔۔۔۔

د۔دفع ہو جاٶ منحوس انسان ایک تو شکل نہیں دیکھ رہی مجھے تمہاری ۔۔۔

ا۔اچھا ایسا کرتے ہے پہلے میں عالی کا نکاح کروا دو پھر تم چاہے جو مرضی کرنا میں اف بھی نہیں کرو گی۔۔۔

روحا پہلے مکے مارتی بول رہی تھی جب شاویز کی قید میں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کو محسوس کرتی جلدی سے بہانہ بنایا تھا۔۔۔۔

ہمممم سوچا جا سکتا ہے ویسے بھی میں یہ انتقام تمہارے باپ کے ہوش میں آتے لینا چاہتا ہو ۔۔

ورنہ مجھے مزہ نہیں آۓ گا۔۔۔۔

شاویز مسلسل روحا کی سوجی آنکھیں دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

جس جنون کو پانے کے لیے وہ دو سال تڑپا تھا وہ آج اس کی سانسوں کے قریب تھا جیسے وہ چھو سکتا تھا محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔

لیکن اسے اپنا انتقام بھی لینا تھا۔۔۔۔

ہاں ہاں سہی ہ۔۔۔۔

روحا جو اچھے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلاتی بول رہی تھی جب شاویز نے شدت بھرے انداز سے اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔۔

روحا کی سانسیں اکھڑی تھی شاویز کے عمل سے ۔۔۔

ت

۔تم مک۔مکر گے اپنی بات پر عالی کا نکاح ہونے دو پلیز۔۔۔۔

روحا اپنا آپ چھڑواتی جلدی سے سائیڈ پر ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔۔

تیار رہنا تم۔۔۔

شاویز اپنی بے خودی پر شرمندہ ہوتا جلدی سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔۔

باجی باجی آپ ٹھیک ت۔۔۔

دلاور کو فون کرو جلدی اسے کہو تم سے نکاح کرے اور تم جاٶ یہاں سے۔۔۔۔

علیشبہ روتی ہوئ روم میں آتی بول رہی تھی جب روحا اپنے گلاسز ڈھونڈتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

باجی آپ کو میری فکر ہے اپن۔۔۔

ہاں تمہاری فکر ہے امی نے کہا تھا تمہارا خیال رکھو میں وہی کر رہی اب چپ رہنا تم۔۔۔۔

علیشبہ شوک ہوتی بول رہی تھی جب روحا اب گلاسز لگاۓ فون پر کال ملاتی بولی تھی۔۔

علیشبہ حیران تھی روحا کیسے اتنا پر سکون رہ سکتی تھی جس کا نکاح اس شخص کے ساتھ ہوا جیسے وہ جانتی ہی نہیں تھی جبکہ وہ ابھی بھی اپنی بہن کی فکر کر رہی تھی۔۔۔۔

————————————————————

دلاور اب تم عالی کو ساتھ لے جاٶ۔۔۔۔

دونوں کا بھی روحا نکاح کروا چکی تھی۔۔۔

تبھی وہ جلد بازی سے بولی تھی۔۔۔

دادی اور کامرن وہی بیٹھے تھے۔۔۔

اتنی بھی کیا جلدی روحا میں اپنے دوستوں کو لے کر آتا ہو

دلاور سرخ ڈوپٹہ لے علیشبہ کو دیکھ بولا تھا۔۔۔۔

لیکن دوستوں کو لانا ضروری ہے کیا تم لے جاٶ ورنہ وہ جنگلی آ جاۓ گا۔۔۔۔

روحا پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

اچھا تم علیشبہ کو لے آٶ میں باہر ویٹ کر رہا۔۔۔

دلاور راضی ہوتا بولا تھا ۔۔۔

علیشبہ روتی ہوئ دادی اور کامرن کے پاس آئ تھی۔۔۔

صرف کامرن نے اپنے سینے سے لگا کر اور روحا نے دعائیں دے کر رخصت کیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

امی کاش پاس ہوتی آپ مجھے آج سب سے زیادہ ضرورت آپ کی ہے ۔۔۔

میں خوش ہو میری عالی اپنے گھر چلی گی لیکن پتہ نہیں کیوں دل گھبرا رہا میرا جیسے میں مرنے والی ہو۔۔۔۔

روحا علیشبہ کو رخصت کرتی روم میں بند ہو چکی تھی ۔۔۔

ناشتہ کیے بنا وہ بخار سے تپتی ہر چیز سے بیگانہ گل پارہ کی پک لیتی روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔۔

میں نے بہن ہونے کا فرض نبھا لیا امی آپ نے کہا تھا میں اس کی حفاظت کرو ۔۔۔

میں نے کی پتہ نہیں کوئ میرے پاس بھی ہو ایسا جو میری حفاظت کرے ۔۔۔

میں نے ہمیشہ دادی سے آپ جیسا لمس پانے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ مار کر بھاگا دیتی تھی۔۔۔۔

کاش امی آج میرے پاس بھی کوئ ایسا ہوتا جس کے سینے سے لگ کر میں اپنی ہر بات کہتی کاش امی ۔۔

آپ ہی آ جاۓ امی اب تو عالی بھی نہیں۔۔۔

روحا مسلسل آنسو بہاتی سالوں کا غم بانٹ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ بخار زیادہ ہونے کی وجہ سے اب وہ غنودگی میں جا رہی تھی۔۔۔۔

———————————————————-

آ۔آپ کے گھر کوئ نہیں ہے ک۔۔۔

تم مجھے سائیں کہو گی۔۔

علیشبہ کب سے شاہ پلیس اکیلی بیٹھی دلاور کا ویٹ کر رہی تھی جب اسے اندر آتے دیکھ وہ ہکلاتے بول رہی تھی جب دلاور پاس بیٹھتا بولا تھا۔۔۔

ج۔جی سائیں۔۔۔

علیشبہ سرخ چہرہ لیتی سر جھکاۓ بولی تھی۔۔۔

تمہاری امی بہت پیاری اور اچھی عورت تھی پتہ نہیں تم کس پر چلی گی۔۔۔

دلاور بڑے گھور سے اسے دیکھتا بولا تھا اس کا دل نہیں مان رہا تھا علیشبہ ایسا کچھ کر سکتی تھی ۔۔۔

جی۔۔۔

علیشبہ نے پریشان ہوتے سر اٹھاتے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔۔۔

مجھے جانتی ہو۔۔۔

دلاور اچانک بات بدلتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

ج۔جی آپ وہی جیسے باجی نے تھپڑ مارا ت۔۔۔

اچھا جاٶ وہاں روم ہے ریسٹ کرو جاٶ۔۔۔۔

علیشبہ شرماتے ہوۓ بول رہی تھی جب دلاور بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔

جی اچھا۔۔۔۔

علیشبہ اپنی فراک سبنھالے اٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

آٶ دلہن ہو میری جیسی بھی سہی لیکن پوری شدت سے محبت کرتا ہو تم سے میں عالی ۔۔۔۔

علیشبہ کو جاتے دیکھ دلاور مجبور ہوتا اسے گود میں آٹھاتا سیڑھیوں سے جاتا بولا تھا۔۔۔

سائیں ۔۔

علیشبہ شرماتے ہوۓ اسی کے سینے میں منہ چھپا چکی تھی۔۔۔

دلاور کے لبوں پر اس کی حرکت سے مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔

دل اسے مسلسل یہی کہہ رہا تھا علیشبہ ایسی لڑکی ہرگز نہیں ہے ۔۔۔

————————————————————

ماما کاش آپ کی بیٹی ہوتی میں اسے اپنی بیوی بنتا جیسے آپ پیاری ہے ۔۔۔

شاویز بیڈ پر لیٹی اپنی ماما کا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔۔

روحا بے بی سے مل کر مجھے یہی لگا تھا وہ آپ کی بیٹی ہے لیکن وہ آپ جیسی بلکل نہیں وہ تو اپنے باپ جیسی ہے کامرن نے میری امی کے ساتھ اتنی بری کی۔۔۔۔

میں کیا کرو ماما اگر روحا بے بی کو وہی سزا دو جو میری امی کے ساتھ ہوا تو مجھ میں اور کامرن میں کیا فرق رہ جاۓ گا۔۔۔۔

لیکن میں مجبور ہو میں اپنا انتقام ضرور لو گا ماما روحا سے چاہے مجھے جیتنا بھی جنون سہی لیکن میرا انتقام زیادہ ضروری ہے ۔۔۔

شاویز اب ضبط کرتا بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

————————————————————

ک۔کون ہے۔۔۔۔

شام ہو گی تھی بھوک اور بخار سے نڈھال ہوتی روحا وہی روم میں تھی۔۔۔

جب روم کا دروازہ کوئ توڑتا ہوا اندر آیا تھا ۔۔۔

جب اندر آتے شاویز نے روحا کو دیکھا تھا ۔۔

جو بامشکل اٹھتی ہوئ بول رہی تھی۔۔۔۔

کیا ہوا روحا بے بی۔۔۔۔

شاویز پاس جاتا نڈھال سی روحا کو کھڑا کیے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔

ش۔شاہ ہو کہاں چلے گے تھے تم۔۔۔۔

روحا شاویز کا لمس پاتی اس کے سینے پر سر رکھتے بولی تھی۔۔۔

روحا تمہیں بخار ہے ۔۔۔۔

شاویز روحا کے گال کو چھوتا فکر مندی سے بولا تھا کیونکہ اس کا جسم بخار سے گرم پھٹی بنا ہوا تھا۔۔۔۔

ہ۔ہاں شاہ۔۔۔

ہیلو ڈاکٹر جلدی سے شاویز پلیس آٶ ۔۔۔

روحا آنکھیں بند کرتی بول رہی تھی جب شاویز ہیر پیس لگے آلے سے آڈر دیتا اسے گود میں آٹھاۓ لے گیا تھا۔۔۔۔

کامرن کو بھی لے آٶ۔۔۔

شاویز باہر جاتا اب آپنے آدمیوں کو حکم دیتا بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————

اب کیسی طیعبت ہے روحا کی۔۔۔

شاویز اپنے روم سے باہر آتے ڈاکٹر ریحان کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

کون ہے یہ خان۔۔۔۔

ریحان اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔

بیوی ہے میری تو بتا کیسی ہے وہ اب۔۔۔۔

شاویز اب دانت پیستے بولا تھا۔۔۔۔

اتنی ٹھیک نہیں ہوئ اسے کچھ کھلاٶ تاکہ تھوڑی انرجی آۓ پی لو کافی ہے اوپر سے بخار بھی خیال رکھنا اس کا زیادہ طیبعت خراب ہو تو مجھے فون کرنا۔۔۔۔

ریحان اسے ہدایت کرتا جاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ہمممم طبیعت تو میں ٹھیک کرو گا۔۔۔۔۔

شاویز غصے سے اب روم جاتا بولا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

کیسی ہو امید ہے اتنی جلدی نہیں مرنے والی تم۔۔۔

بکھرے بال سوجی آنکھیں سرخ انار جیسے گال نڈھال سی روحا بیڈ پر بامشکل بیٹھی ہوئ تھی۔۔۔۔

جب شاویز اندر آتا بولا تھا۔۔۔

کون ہو ت۔تم۔۔۔

روحا اسے انجان نظروں سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

ارے یار شوہر ہو تمہارا بھول گی کیا۔۔۔۔

شاویز طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اس کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔۔

م۔مجھے نہیں یاد ۔۔۔۔

روحا اپنا سر پکڑتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

بہت جلد یاد آۓ گا کہ میں شوہر ہو تمہارا۔۔۔۔

شاویز روحا کو بیڈ پر گراۓ اس کے ہاتھ پاٶں باندھتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ی۔یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔

روحا گھبراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

اپنا انتقام لینا ہے لاٶ کامرن کو یہاں۔۔۔۔

شاویز اس پر جھکتے ہوۓ حکم دیتا غرایا تھا۔۔۔

جب رسیوں سے باندھے کامرن کو اندر لایا گیا تھا۔۔۔۔

ابو ۔ا۔آپ یہاں کیسے۔۔۔۔

روحا گلاسز سے سامنے کامرن کو زخمی حالت میں دیکھ بولی تھی۔۔۔۔

پوچھو اپنے باپ سے اس رات اس نے کیا کیا تھا ۔۔۔

کس کو قتل کیا تھا پوچھو اپنے باپ سے روحا بے بی ۔۔۔

شاویز روحا کا منہ ہاتھوں سے پکڑتے دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ن۔نہیں میرے ابو ایسے ہی۔۔۔

ایسے ہی ہے مس روحا اب تمہارا باپ دیکھے گا جب کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔۔۔

غصے سے پاگل ہوتا شاویز اب سب بھولے اس کی بات کاٹتا اس کا ڈوپٹہ اتارتے بولا تھا۔۔۔

کامرن تڑپے تھے روحا کی حالت دیکھ۔۔۔

نہی۔نہیں نہیں پلیز میری بیٹی کے ساتھ ایسے مت کرو ۔۔۔

کامرن روتے ہوۓ بولے تھے جب ان کی بات سنتے روحا نے شوک ہوتے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔

مطلب شاویز بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔۔

روحا نے دکھ سے آنکھیں بند کیے سوچا تھا ۔۔۔

پورے پلیس کو خالی کرو مجھے یہاں کوئ نہیں چاہے ۔۔۔

شاویز اپنے سارے آدمیوں کو حکم دیتا اپنی شرٹ اتار چکا تھا۔۔۔۔۔

شاویز کو ایسے روپ میں دیکھتے کامرن کا آج صیح دل دکھا تھا ۔۔۔

وہ سمجھ گے تھے ان کے مکافات کی سزا ان کی بیٹی پانے والی تھی۔۔۔