304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 5)

Junon Inteqam By Rania Mehar

““دو سال بعد۔۔۔۔

س۔سر ہمیں مل گی علیشبہ کامرن۔۔۔

دلاور اپنے آفس میں سنجیدہ ہوا بیٹھا ضروری فائل دیکھ رہا تھا جب اس کا سکیرٹری ڈرتا ہوا اندر آتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں بتاٶ کدھر ہے وہ۔۔۔

دلاور اپنی سنہری آنکھیں اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

و۔ہ ۔آپ کی ماما کی دوست کی بیٹی ہے علیشبہ کامرن اور اس کی بڑی بہن روحا کامرن۔۔

سکیرٹری جلدی جلدی سب تفصیل بتا رہا تھا۔۔۔

ہہمممم جاٶ۔۔۔

دلاور دو سال سے اسے ڈھونڈ رہا تھا اسے نہیں تھا پتہ روحا لوگ شہر چھوڑ کر چلے گے ہے۔۔۔

تبھی وہ نفرت سے اسے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔

اب خوش ہوا تھا وہ کون ہے ۔۔

دلاور جانتا تھا اس کی ماں کی ایک دوست تھی جس کا نام گل پارہ تھا۔۔۔

روحا کامرن تو میرا کام کر سکتی ہے ۔۔۔۔

دلاور جلدی سے فون پر کال ملاتے خود سے بات کرتا خوش ہوا تھا۔۔۔

کیونکہ اسے یہ تو پتہ تھا روحا ایک شاپ چلاتی تھی ۔۔۔

رخسا جب زندہ تھی تب ہی اس کے کپڑے اسی کی شاپ سے سل کر آتے تھے۔۔۔

———————————————————–

اچھا میں بابا کو بتا دو گی۔۔۔

کامرن ان سب کو لے شہر چھوڑ کر کراچی لے آیا تھا ۔۔۔

وہاں وہ پوش علاقے میں رہتے تھے۔۔۔

روحا اپنی پہلی شاپ سیل کرتے یہاں کراچی میں چھوٹی سی بوتیک کھول چکی تھی۔۔۔۔

علیشبہ نے اپنی پڑھائ چھوڑ دی تھی اب وہ گھر رہتی تھی ۔۔۔

دادی کا وہی کام تھا ان دو سالوں میں روحا کو برا بھلا کہنا۔۔۔

کامرن بھی نشے کو کم کر چکے تھے لیکن اتنے زیادہ بھی نہیں ۔۔

اب وہ اچھے باپ کی طرح اپنی دونوں بچیوں پر دھیان دیتے تھے۔۔۔

روحا خوش تھی اپنی زندگی میں بس کبھی کبھی اسے اپنا موٹا شاہ یاد آ جاتا تھا۔۔۔۔

روحا اکثر سوچتی تھی اس کے بارے میں لیکن خود پر افسوس بھی کرتی تھی کیوں اس پر غصہ کیا تھا۔۔۔

ابھی بھی وہ اپنی بوتیک پر علیشبہ کی کال سنتی بولی تھی۔۔۔

————————————————————

تم یہاں کیوں آۓ ہو۔۔۔

روحا ابھی فری ہوئ تھی جب اندر آتے راحیل کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔

اب وہ نہیں ڈرتی تھی اس سے ۔۔۔

جہاں تم جیسی خوبصورت حسنہ ہو وہاں میرے جیسے ۔۔۔

آوراہ آ جاتے ہے یہی کہنا چاہتے ہو ۔۔۔

راحیل اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اس کی بات پوری کی تھی ۔۔۔

اب تو مان جاٶ دو سال تمہارے پیچھے خوار ہوا ہو اب تو وہ موٹا بھی تمہیں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔

راحیل کرسی پر بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔

اگر وہ یہاں میرے پاس ہوتا بھی تو میں ہرگز تمہارے پاس آتی بھی نہیں ۔۔۔

اب چاہتے ہو میں دھکے دے کر نکالو یہاں سے دفع ہو جاٶ یہاں سے ۔۔۔

روحا دانت پیستی اسے کرسی سے آٹھاتے بولی تھی۔۔۔۔

حاصل کر کے رہ۔۔۔

جاٶ یہاں سے راحیل ۔۔۔

راحیل بول رہا تھا جب روحا اسے زور سے دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔

یہ تم اچھا نہیں کر رہی۔۔

راحیل باہر جاتا بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

جی بولو دلاور شاہ کیا بات ہے ۔۔۔

روحا بزی تھی جب اسے دلاور کا فون آیا تھا۔۔۔

ضروری بات ہے تم اگر مناسب سمجھو ہم کہی اور بیٹھ کر سکون سے بات کر لے ۔۔۔

دلاور سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہاں ضرور میں ایک گھنٹے بعد ملتی ہو۔۔۔

روحا راضی ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

دادی ایسا تو مت کرے باجی کو پتہ چلا تو وہ بولے گی۔۔۔

علیشبہ دادی کی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

جو روحا کے سارے ناولز کو جلا رہی تھی۔۔۔

ارے اس ناولز کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہوتا ہے ۔۔۔

دادی ان سب کو آگ لگاتی بولی تھی۔۔۔

دادی ہر دفعہ کیوں ایسا کرتی ہے باجی سے اتنی نفرت کیوں نہ کرے پلیز ۔۔

علیشبہ جلے ہوۓ ناولز کو اپنے ہاتھوں سے اٹھاتے بولی تھی۔۔۔۔

دفع ہو جاٶ تم بھی اس کی طرح زبان چلاتی ہو۔۔۔

دادی اب علیشبہ کی کمر پر ڈنڈا مارتی بولتی اپنے روم میں چلی گی تھی۔۔۔

جبکہ علیشبہ روتی ہوئ اب ناولز کو اٹھا رہی تھی۔۔۔

————————————————————

جی مسٹر دلاور کہے ۔۔۔

بلیک گاٶن پہنے نقاب کیے روحا اس کے سامنے بیٹھتی بولی تھی ۔۔

علیشبہ سے شادی کرنا چاہتا میں ۔۔

مجھے محبت ہے اس سے ۔۔

دلاور سکون سے دو ٹوک کہا۔۔۔

ہمممم کتنی محبت کرتے ہو تم۔۔۔

روحا بھی سکون سے مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

بہت زیادہ بلکہ عشق ہے دو سال سے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔

جیسے ہی مجھے پتہ چلا تمہاری ماما میری ماما کی دوست تھی تبھی تمہارے پاس آیا ہو ۔۔۔۔۔

اگر میں نہ مانو تو۔۔۔۔

روحا اس کی تفصیل سے بات سنتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

تو سپمل سی بات ہے میں کڈنیپ کر لو گا ۔۔۔

دلاور بھی سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

ہاے میری بڑی خواہش ہے کوئ گن پوائنٹ پر مجھ سے نکاح کرے ہاے ۔۔۔

روحا خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی۔۔۔

دلاور نے اس کی حرکت پر اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔

مطلب تم چاہتی ہو ایسی شادی ہو۔۔۔

دلاور ابھی بھی مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے تم عالی سے شادی کر لو میں راضی ہو۔۔۔

ایک بات یاد رکھنا میری بہن کو کچھ مت کہنا کوئ مسئلہ ہو مجھے بتانا بچی ہے ابھی وہ۔۔۔۔

روحا جلدی سے اٹھتی ہوئ بولتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔۔

جبکہ دلاور سوچ رہا تھا آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔

————————————————————

افف آئم سو ہیپی۔۔ .

میری عالی کی شادی ہو گی ہاےے۔۔

روحا اپنی خوشی میں آنکھیں بند کیے وہ سرشار سی چل رہی تھی جب وہ بری طرح کسی سے ٹکرائی.. ۔

اففف انسان ہو یا آئرن مین..

اتنے چوڑے سینے سے ٹکرانے کے بعد اس کے حقیقتاً چودہ طبق روشن ہوئے تھے..

اتنے بڑے بڑے گلاسز لگاۓ ہے دیکھائ نہیں دیتا کیا تمہیں جاہل لڑکی ۔۔۔

شاویز خان روحا کی نقاب میں گرے آنکھیں دیکھتا دانت پیستے بولا تھا۔۔۔

مجھ پر چلانے کی بجائے اپنی آنکھیں ٹھیک کرو..

یوں اندھا دھند چلو گی تو کسی نا کسی سے ٹکرا ہی جاؤ گی..

اوے مسٹر اگر میں اندھا دھند چل رہی تھی تو تمہیں تو ٹھیک نظر آتا ہے نا. تم ہی پیچھے ہو جاتے مسٹر نیلی آنکھوں والے..

روحا بھی اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی خوب دل کی بھڑاس نکالی تھی..

اس کے اس طرح غصے سے بولنے پہ شاویز خان نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔۔

جو صرف سر سے پاوں تک بلیک گاٶن میں دیکھ رہی تھی۔۔۔

آس پاس ہجوم کا کافی رش لگ چکا تھا.. سب ہی اس لڑکی کو دیکھنے کو بے تاب تھے۔۔

جو شاویز خان سے پنگا لے رہی تھی..

بہت بول رہی ہے تو لڑکی ..

ہماری جاگیر میں مالک سے اتنا بولنے والے کی گنج کروا دی جاتی ہے..۔

شاویز کا گارڈ آگے آتا اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا جیسے اسے وارن کر رہا تھا.. ۔۔

مونچھوں والے بھای یہ تمہارا مالک ہو گا میرا نہیں سمجھے ۔۔

اس کے جواب پہ جہاں کچھ دبے دبے قہقہے نکلے تھے وہی شاویز خان کے ماتھے سلوٹوں کا جال بن گیا تھا.. ۔۔

اپنی شامت کو تم نے خود دعوت دی ہے لڑکی۔۔ اب دیکھتی جائو تمہارے ساتھ ہوتا کیا ہے۔۔۔

اسے لال انگارہ نیلی آنکھوں سے وہ وارن کر رہا تھا۔۔ ۔۔

ہاں ضرور نیلے باز دیکھ لو گی ۔۔۔

روحا بھی ترکی با ترکی جواب دیتی آگے بڑھی تھی۔۔۔

ارے کیا ہوا خان۔۔

دلاور بھی شور کی آواز ستا شاویز کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔

یہ لڑکی کی زبان دیکھو کتنی چلا رہی ہے بھول گی شاہد میں ہو کون۔۔۔

شاویز غصے سے بھرا ہوا روحا کو دور جاتا دیکھ بولا تھا۔۔۔

ارے یہ بس ایویں غصہ کرنے لگ جاتی ہے اگنور کر۔۔۔

شاویز اور دلاور اچھے دوست تھے تبھی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔۔۔

دلاور ریلکس ہوتا بولا تھا ۔۔

روحا روحا ۔۔۔

شاویز کو چھوڑے وہ روحا کے پیچھے آتا بولا تھا۔۔۔

تم جانتی ہو جس سے پنگا لے کر آئ ہو وہ کون تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔

روحا دور جاتے شاویز کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔

جس کے آگے پیچھے تقربیاًبیس یا چالیس گارڈ تھے۔۔۔۔

وہ عام بندہ نہیں ہے۔۔سوات کے گاٶں کا سردار اور ایم این اے دریاب خان کا بیٹا شاویز خان ہے۔۔

سب اس سے ڈرتے وہ تو کسی کو منہ نہیں لگاتا سوائے اپنی ایک دوست کے ۔۔

اور تم اس سے الجھ پڑی ہو۔۔

دلاور کی بات پہ وہ ایکدم سہمی تھی جانتی تو تھی اس نام کو سنا تھا ۔۔۔

انہہہ ڈرتی نہیں میں ۔۔۔

روحا نڈر ہوتی ناک سے مھکی اُڑاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

وہی دلاور نے مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔

————————————————————

کہاں ہے روحا بے بی ۔۔۔

شاویز اپنے سکیرٹری کو کالر سے پکڑے غراتے بولا تھا۔۔۔

و۔وہ سر ہمیں یہی اطلاع ملی تھی میم ادھر آی ہے شاہد چلی گی ہو۔۔۔۔

سکیرٹری ڈرتا ہوا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔۔

ہمممم چلو ٹائم ویسٹ کیا بلاو اس انسان کو جس نے یہ غلط اطلاع دی۔۔۔

شاویز پورے کیفے کو دیکھتا اچانک اداس ہوتا جاتا بولا تھا۔۔۔

ان دو سالوں میں شاویز نے روحا کو بہت ڈھونڈا تھا۔۔۔

اسے اپنی روحا چاہے تھی اپنی ماں کو کھو تو چکا تھا لیکن اب روحا کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

جہاں جہاں اسے پتہ چلتا روحا کدھر ہے وہ وہی آ جاتا تھا جب روحا کو نہ دیکھ مایوس ہوتا واپس چلا جاتا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

گرے کلر کے فل کمرے میں خوبصورت سجاۓ

وہ سب سے بے نیاز بلیک بینان بلیک ہی شارٹس پہنے وہ مسلسل رننگ میشن پر کانوں پر ہیڈ فون لگاۓ ورزش کر رہا تھا۔۔۔

جبکہ پاس کھڑے تین ملازم سر جھکاۓ خاموش تھے۔۔۔

ایک کے ہاتھ میں جوس دوسرے کے ہاتھ میں ٹاول جبکہ تیسرے کے ہاتھ میں چاقو تھا۔۔۔

روم کے ایک کونے پر کرسی سے بندے شخص کی درد ناک چیخیں گونج رہی تھی ۔۔۔

جبکہ رننگ مشین پر کھڑا شاویز ہیڈ فون لگاۓ سکون سے جوس کا گلاس پی رہا تھا۔۔۔

روم میں باقی کھڑے ملازم خاموشی سے کانپتے جسم سے سب سن رہے تھے۔۔۔۔

یہ روز کا معمول بن چکا تھا۔۔۔۔

بتاٶ اس رات کون تھا تمہارے ساتھ۔۔۔۔

شاویز اب رننگ میشن چھوڑتا اس آدمی کے پاس آتا بولا ٹاول لیے اپنی پیسنے سے بھیگی بینان اتارتا ہوا بولا تھا۔۔۔

و۔۔و۔ہ۔وہ کامرن تھا۔۔۔

آدمی اپنی جان بچاتا ہوا جلدی سے بولا تھا۔۔۔

تم جانتے ہو اس کو اور مجھے تصویر دو کامرن کی۔۔۔۔

شاویز کی نیلی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی یہ سن کر جس مجرم کو وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔

بالآخر آج اسے اپنا مجرم مل گیا تھا۔۔۔

یہ لو دو تصویریں ہے مجھے یہ دونوں چاہے۔۔۔

شاویز ویسے ہی روم سے باہر آتا اب اپنی سکیرٹری کو جلدی سے دو پکس دیتا بولا تھا۔۔۔

س۔سر یہ کون ہے۔۔۔۔

سکیرٹری ڈرتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔

یہ جو لڑکی پک میں ہے یہ جنون ہے میرا ۔۔۔

شاویز روحا کی پک اسے دیکھاتا ہوا بولا تھا ۔۔

اور یہ جو پک ہے یہ میرا انتقام ہے ۔۔۔۔

شاویز اب کامرن کی پک اسے دیکھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

میں اپنا انتقام پورا کرو پھر مجھے میرا جنون ملے گا ۔۔۔

تم یہ دونوں ڈھونڈ کر لاٶ ۔۔

شاویز اب اپنی نیلی سرخ آنکھوں سے انگارتے نکالتے ہوۓ بولتا روم کے اندر چلا گیا تھا۔۔۔