304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 3)

Junon Inteqam By Rania Mehar

“““ایک ماہ بعد۔۔۔

یونی کیوں نہیں آتی تم اب۔۔۔

شاہ روحا کے سامنے کرسی پر بیٹھتے بولا تھا۔۔۔

وہ علیشبہ کو لے کافی پینے کیفے آئ تھی ۔۔۔

جب شاہ اسے دیکھتا پاس آتا بولا تھا۔۔۔

اب دل نہیں کرتا پڑھنے کو شاہ پتہ نہیں اب میں ہمت ہار رہی ہو ۔۔۔

روحا دکھی ہوتی بولی تھی۔۔۔

یار کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے ریلکس رہو ۔۔۔۔

شاہ اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتا بولا تھا۔۔۔

شکریہ شاہ اس دن تم نہ ہوتے تو شاہد میں یہاں نہ ہوتی۔۔۔

روحا ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔

ہوا کیا ہے یہ بتاٶ۔۔۔

شاہ خود بھی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ابو کو پولیس پکڑ کے لے گی شاہ۔۔۔

روحا دکھی انداز سے بولی تھی۔۔۔۔

اہہ لیکن کیوں روحا۔۔۔

ایکدم شاہ بھی پریشان ہوتے بولا تھا۔۔۔

ابو نے کل ایک گھر میں چوری کی جس گھر میں چوری کی وہاں کی ملازمہ کے ساتھ ریپ بھ ۔۔۔۔

روحا بولتی اچانک پھوٹ پھوٹ کر روی تھی۔۔۔۔

شششش ریلکس میں سمجھ سکتا ہو تم ایسا کرو ابو کو اپنے پاس لے آٶ۔۔۔۔

شاہ حیران ہوتا روحا کو چپ کرواتا بولا تھا۔۔۔

کیوں شاہ کیا ابو کو شرم نہ آئ یہ حرکت کرتے وہ کیا بھول گے ان کی دو بیٹیاں بھی ہے انہیں بھی مکافات عمل اچکانا پڑے گا۔۔۔

کیا اتنے اندھے ہو گے اپنے نشے میں کہ وہ بھول گے کیا کر رہے کیا نہیں۔۔۔

میں بلکل ابو کو اپنے گھر نہیں لاٶ گی جو شخص ایک ماہ میں یہ بھول گیا اس کی بیٹیاں کہاں اور کس حال میں ہو گی وہ شخص کسی کا کچھ نہیں لگتا۔۔۔۔

روحا اچانک اٹھ کر کہتی وہاں سے غصے میں چلی گی تھی۔۔۔۔

شاہ اور علیشبہ جو کافی کے مگن لے کر آ رہی تھی وہ خاموش کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔

————————————————————

“”ایک ماہ پہلے۔۔۔

باجی ہم کہاں جاۓ گے۔۔۔

رات کے اندھیرے گہرے ہو رہے تھے جب ساتھ چلتے علیشبہ زرا ڈرتی بولی تھی۔۔۔

کہی بھی چلے جاۓ گے میری جان باجی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔

روحا اسے ہمت دیتی بولی تھی جبکہ دل سے خود کو کوس رہی تھی کیوں وہ اتنے غصے سے باہر آ گی تھی کم از کم پیسے ہی رکھ لیتی۔۔۔

ارے دیکھو آج تو دو بلبل رات کے اندھیرے میں جا رہی ہے ۔۔۔

روحا علیشبہ کا ہاتھ پکڑے اپنی گلی سے باہر آ گی تھی جب سامنے لڑکوں کا ٹولے میں بیٹھے آوارہ راحیل ملک ہوس بھری نظروں سے بولا تھا۔۔۔

راحیل ملک اس محلے کے کونسل کا بیٹا تھا آوارہ جو کسی بھی لڑکی کی عزت نہیں کرتا تھا۔۔۔

لڑکیوں کو یوز کرنا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اس کا فیورٹ کام ہے۔۔۔

کافی عرصے سے اس نے روحا پر نظر رکھی تھی لیکن اسے چالاک نڈر دیکھ اکثر راحیل بھی ہارتا ڈر کر بھاگ جاتا تھا۔۔۔

تم سے مطلب ۔۔۔

روحا غصے سے بولتی اب سڑک پر آتی بولی تھی۔۔۔

ب۔باجی یہ ہمارے پیچھے آ رہے ہے ہمیں گھر جانا چاہے۔۔۔

اپنے پیچھے راحیل کے لڑکوں کا گروہ آتا دیکھ علیشبہ بھی ڈرتے بولی تھی۔۔۔

ڈری تو روحا بھی تھی چاہے کچھ بھی کر لیتی تھی تو لڑکی ہی ۔۔

اسے اپنے سے زیادہ علیشبہ کی فکر تھی جو ڈر سے کانپ رہی تھی۔۔۔

اہہہہ اہہہہ۔۔

روحا علیشبہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔

جب لڑکوں نے چاروں طرف سے دونوں کو قابو کیا تھا۔۔۔

چھوڑو میری بہن کو راحیل تم نے جو کہنا مجھے کہو اسے چھوڑ دو پلیز۔۔۔

روحا اور علیشبہ لڑکے پکڑے کھڑے تھے جب ان کی گرفت میں تڑپتی روحا چلائ تھی ۔۔۔

ارے واہ بڑی جلدی اکڑ نکل گی ویسے تم روحا کامرن ہی ہو جس نے مجھے تھپڑ مارا تھا۔۔۔

آج کیسے بے بس ہوئ ہے۔۔۔۔

راحیل اس کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔

ایک دن اس نے علیشبہ کو ہاتھ لگاتا تھا جب روحا نے پورے محلے والوں کے سامنے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔

تبھی وہ اب بدلہ لینا چاہتا تھا ۔۔

چھوڑو میری بہن کو تم نے مارنا ہے مجھے مارو میں اف نہیں کرو گی لیکن اسے چھوڑ دو۔۔۔۔

روحا منت کرتی بولی تھی۔۔۔

ہمممم ویسے تم سے بدلہ لینا تمہاری بہن سے نہیں ویسے بھی مجھے وہ لڑکی تڑپانے میں مزہ آتا جو میرے مقابل کی ہو ایسی روتی ہوئ نہیں۔۔۔

راحیل بدمزہ ہوتا علیشبہ کو چھوڑنے کا اشارہ کرتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں باجی میں یہاں سے نہیں جاٶ گی آپ بھی چلے۔۔۔۔

علیشبہ روتی ہوئ اس کے پاس آتی بولی تھی ۔۔

جاٶ عالی یہاں سے تمہیں میری قسم ہے جاٶ۔۔۔۔

روحا غصے سے چلائ تھی۔۔۔۔

ل۔۔۔

جاو اگر مجھے اپنی بہن مانتی ہو تو جاٶ پلیز۔۔۔

علیشبہ نہ میں سر ہلاتی بول رہی تھی جب روحا غراتی بولی تھی ۔۔۔۔

تم جو کرنا چاہتے کرو پر تمہارے آدمی میری بہن کے پاس بھی نہیں آنے چاہے۔۔۔

دور جاتی علیشبہ کو دیکھ روحا نے دانت پیستے راحیل کو دیکھتے کہا تھا۔۔۔

سب سے پہلے معافی مانگو ورن۔۔۔

مانگنے والی کو دمھکی کیسے دے رہے ہو۔۔۔

راحیل جان بوجھ کر بات چھوڑتا بولا تھا جب روحا بھی چلائ تھی۔۔۔

سوری۔۔۔

روحا نے منہ بناۓ کہا تھا۔۔۔

ایسی سوری نہیں چاہے جیسے احسان کر رہی میرے پاٶں پکڑو تم۔۔۔

راحیل اپنی ٹانگ اس کے سامنے کرتا بولا تھا۔۔۔

اچھا۔۔۔

روحا نیچے جھکی معافی مانگنے والی تھی اپنی بہن کی عزت بچانے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ جھکتی جب اس کے سامنے کوئ آیا تھا۔۔

پکڑو سب کو اور لے کر جاٶ پولیس اسٹیشن ۔۔۔

شاہ وہاں آتا اپنے آدمیوں کو حکم دیتا بولا تھا۔۔۔

راحیل اور اس کے آدمی شاہ کے بندے پکڑتے ساتھ لے گے تھے۔۔۔

عالی ۔۔۔

روحا اپنی جان بچتی دیکھ شاہ کے ساتھ کھڑی علیشبہ کو گلے لگاے روی تھی۔۔۔۔

————————————————————

ہممم تم میرے گھر آ جاٶ ۔۔۔

ویسے بھی اتنے بڑے پلیس میں ہم دو ہی لوگ ہے۔۔۔

روحا شاہ کا شکریہ ادا کرتی اپنے بارے میں سب بتا چکی تھی جب وہ خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

بلکل نہیں شاہ آج تم نے مدد کر دی اس کا مطلب یہ نہیں تم سے ہی سب کام کرواو میں ڈھونڈ لو گی ک۔۔۔۔

دیکھو میرا ایک بنگلہ خالی پڑا ہے تم وہاں رہ لو اتنی خود دار ہو تو تمہاری جو شاپ ہے اس میں سے پیسے مجھے کرایے کے طور پر دے دیا کرنا دیکھو مسئلہ حل ہو گیا۔۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب شاہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

شاپ کو جانتے ہو اتنی مشکل سے چلتی ویسے بھی وہاں وکرز کی ضرورت ہے ا۔۔۔۔

سب ہو جاۓ گا اب تم میرے گھر آ رہی نہ ہی اپنے ابو کے پاس جا رہی کم از کم یہاں ہی رہ لو ۔۔۔

اپنے لیے نہ سہی عالی کا سوچ لو۔۔۔

شاہ جانتا تھا وہ علیشبہ کی وجہ سے مان جاۓ گی تبھی وہ جان بوجھ کر بولا تھا۔۔۔

ہممم موٹے میں کرایہ دے دیا کرو گی۔۔۔۔

روحا حامی بھرتی بولی تھی۔۔۔۔

یہ چابی رکھو میں زرا گاٶں کی زمینوں کی وجہ سے آج جا رہا تھا یہ تو سڑک پر مجھے علیشبہ مل گی تو میں وہاں آ گیا۔۔۔

اچھا چلتا ہو تم چلی جانا وہاں ہر چیز ہے میں جلدی آ جاٶ گا۔۔۔۔

شاہ جلدی سے اب اپنی گاڑی میں بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔

موٹے مجھے نہیں پتہ تھا تم اتنے امیر ہو۔۔۔۔

روحا اس کی کار کے پیچھے دس گاڑیاں گارڈز کی کھڑی دیکھ بولی تھی۔۔۔

تمہیں اپنی عالی کے سوا کچھ دیکھائ نہیں دیتا روحا بے بی۔۔۔

شاہ مسکراتا ہوا کہتا جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔

شاہ کی بات پر روحا کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔

————————————————————

گھر سے بھاگی ہوئ لڑکی ہو تم آوارہ۔۔

ہاے میرے بیٹے کی قسمیت خراب پہلے تجھے لے آیا پھر یہ منحوس بیٹی پیدا کر لی اب دوسری بھی پیدا کرنے والی لگتا کبھی پوتا دیکھ پاٶ گی یا نہیں ۔۔۔

گل پارہ روحا کو گود میں لیے اسے دودھ پینے والا فیڈر دے رہی تھی جب دادی بھڑاس نکالتی بولی تھی۔۔۔۔

اماں چپ کر جاۓ میں شوق نہیں آئ تھی آپ کے بیٹے کے پاس ۔۔۔

جو مجھے آوارہ کہا رہے ہے ۔۔۔

آپ کو زرا احساس ہے خود عورت ہو کر کسی دوسری عورت کو یہ کہہ رہی بیٹی کی جگہ بیٹا ہونا چاہے تھا۔۔۔۔

آپ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔

گل پارہ آخر آج غصے سے پھٹتی بولی تھی۔۔۔۔

بکواس کرتی ہو میرے سامنے ابھی گھر سے نکال دو تو کوئ بھی تمہ۔۔۔۔

نکال دے گھر سے باہر مجھے بھی شوق نہیں یہاں رہنے کا۔۔۔

اپنے بچے میں پال لو گی اچھے سے پہلے اپنا آوارہ بدکردار جوۓ باز بیٹے کو سبھنال لے پھر مجھے کہنا۔۔۔۔

دادی دانت پیستی بول رہی تھی جب گل پارہ غصے سے کہتی وہاں سے روحا کو لے چلی گی تھی۔۔۔۔

انہہہہ آوارہ ماں کی آوارہ ہی بیٹیاں ہو گی کاش بیٹا ہوتا تو ہماری نسل بھی بڑھ جاتی۔۔۔

دادی ابھی بھی پان کھاتی زہر اگل رہی تھی۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا شرٹ کو۔۔۔

روحا کی ماں کی اپنی ایک چھوٹی سی کپڑوں کی دوکان تھی جیسے وہ خود چلاتی تھی۔۔۔۔

پھر وہ دوکان اس کی ماں نے غریب عورت کو کرایے پر دی تھی ۔۔۔جس کا ہر ماہ کرایہ آتا تھا۔۔۔

روحا اپنی شاپ خود لیتی چلانا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔۔

اس ایک ماہ میں شاہ نے اپنے پیسوں سے اس کی دوکان میں زیادہ سامان اور لڑکیاں رکھ دی تھی تاکہ وہ اچھے سے کما سکے ۔۔۔

بلکہ شاہ تو اپنے گاٶں کی ہر عورت اور گھر کی ہر ملازمہ کو روحا کی شاپ پر جان بوجھ کر بھیجتا تھا وہ وہاں سے کپڑے سلائ کرواے تاکہ روحا کو منافع ہو۔۔۔

علیشبہ روزانہ کالج جاتی تھی جبکہ روحا یونی چھوڑے اب دوکان پر آ جاتی تھی۔۔۔

دادی اور ابو کو وہ اس ماہ کا کرایہ بیھج چکی تھی۔۔۔

انہوں نے نہیں پوچھا تھا روحا کہاں اور کس حال میں ہے وہ بس پیسے لے کر ہی خوش ہو چکے تھے۔۔۔۔

روحا ابھی بھی دوکان پر تھی جب اندر آتے شاہ کو دیکھتی مسکراہٹ روکے بولی تھی۔۔۔

کیونکہ اس ماہ میں شاہ روزانہ اپنی شرٹ پھاڑے اس کے پاس لے آتا تھا جیسے سلائ کروا کر وہ پیسے دیتا تھا۔۔۔۔

ہاں بٹن ٹوٹ گیا۔۔۔

شاہ معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

ہاں اتنے موٹے ہو شرٹ کے بٹن ہی

ٹوٹنے تھے۔۔۔

روحا اپنی مسکراہٹ دباۓ بولی تھی۔۔۔

ت۔تو کیا کرو میں ۔۔۔

شاہ پھر ویسے بولا تھا۔۔۔

اچھا یہ بٹن سوئ سے بھی لگ جاۓ گا تو پیسے نہیں چاہے۔۔۔

روحا اس کا مقصد جان گی تھی تبھی سوئ لیتی اس کی شرٹ پکڑے بولی تھی۔۔۔

اچھاااااا۔۔۔۔ہاں یاد آیا مجھے یہ والی شرٹ بنانی ہے۔۔۔

شاہ اب سوچ میں پڑتا پھر اچانک فون نکالتا ہوا بولا تھا۔۔۔

جہاں رنگ برنگ عیجب سی شرٹ تھی جیسے وہ روحا کو دیکھا رہا تھا۔۔۔

ہاہااہہہاہہہہااا نکلو باہر ابھی نکلو۔۔۔

روحا قہقہ لگاتی اب شاہ کو شولڈر سے پکڑے باہر نکالتی بولی تھی۔۔۔

اچھا رکو یہ نہیں بنانے آتی تو ایسا کرو پیسے لے لو مجھے یہ والی سیم شرٹ بنا دینا اس کے بٹن روز ٹوٹ جاتے ہے۔۔۔

شاہ ابھی بھی اپنی بات پر اٹکتا ہوا بولا تھا۔۔۔

شاہ اب اگر تم شاپ پر آے میں نے تمہارا بنگلہ چھوڑ دینا۔۔۔

روحا باہر آتی دمھکی دیتی بولی تھی۔۔۔

بہت بری ہو تم۔۔۔

شاہ اچانک برا سا منہ بناۓ ہونٹ باہر نکالے روٹھے بچے کی طرح بولا تھا۔۔۔

اور تم بہت کیوٹ ہو موٹے۔۔۔

روحا پیار سے اس کے گال کیچھتی ہوئ اندر جاتی بولی تھی۔۔۔

امی سے بات کرتا ہو روحا کا رشتہ لے آے۔۔۔

شاہ اپنی سوچتا ہوا شرماتے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

————————————————————

امی آپ آپریشن کروا لے کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔

دلاور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے اداس ہوتا بولا تھا ۔۔

لیکن بیٹا اتنے پیسے لگانے کا فائدہ ۔۔

امی دکھی ہوتی بولی تھی۔۔۔

جلدی سے ٹھیک ہو جاۓ میری شادی بھی کرنی آپ نے ابھی علیشبہ کے گھر جانا ہے۔۔۔

دلاور زرا ان کا دھیان بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔

اس ایک ماہ میں علیشبہ اور دلاور کی دوستی سے آگے محبت کا سفر شروع ہو چکا تھا۔۔۔

علیشبہ اپنے بارے میں سب کچھ اسے بتا چکی تھی بلکہ اپنی پک بھی اسے دیکھا چکی تھی۔۔

میسچ ہر روزانہ وہ دلاور سے مہنگے مہنگے گفٹ لیتی تھی۔۔۔

دلاور تو اس کے لیے بلکل جنونی ہو گیا تھا تبھی علیشبہ کی پک اپنی امی کو بھی دیکھائ تھی۔۔۔

اہ۔۔۔

امی چلے ابھی ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔

اس کی امی ابھی بول رہی تھی جب ان کو خون کی الٹی آی تھی تبھی وہ زرا سختی سے کہتا ساتھ لے گیا تھا ۔۔

————————————————————

میجر دلاور شاہ آپ کی امی کا آپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔۔

ڈاکٹر پریشان ہوتے روم سے باہر آتا بولا تھا۔۔۔

پلیز ڈاکٹر میری امی کو بچا لے جیتنے بھی پیسے چاہے میں دو گا۔۔۔

دلاور فکر مند ہوتا بولا تھا۔۔۔

دلاور شاہ کا باپ ایک کرنل تھا جو اپنے ایک میشن میں شہادت پای تھی ۔

دلاور کرنل اسرار اور ئمامہ بیگم کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔۔

ساری زمین جائیداد اس کی تھی۔۔۔

اب وہ اکیلا اپنی امی کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔

کچھ ماہ پہلے اسے پتہ چلا تھا اس کی امی کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہے تبھی وہ جلد سے جلد ان کا علاج کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔

ہیلو علیشبہ بولو۔۔۔

دلاور ابھی کھڑا سوچ ہی رہا تھا جب اسے علیشبہ کی کال آی۔۔۔

مجھے پیسے چاہے دلاور باجی کو دوکان کے لیے چاہے۔۔۔

علیشبہ رونی آواز نکالتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

ہاں لے لو میرا سب کچھ تمہارا ہی ہے تم میرے ا۔۔۔۔

نہیں تم لے کر آو پیسے مجھے دس لاکھ چاہے ۔۔۔

دلاور بول رہا تھا جب علیشبہ اپنی سناتی فون بند کر چکی تھی۔۔۔۔

افففف کیا کرو ۔۔۔۔

دلاور اپنی ماں کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔

چلے ہی جاتا ہو ابھی تو آپریشن ہو رہا۔۔۔

دلاور علیشبہ کی محبت میں پاگل ہوتا ہاسپٹل سے باہر چلا گیا تھا تاکہ وہ اسے پیسے دے سکے۔۔۔۔

————————————————————

ڈاکٹر ڈاکٹر مسز اسرار نے آپریشن کروانے سے انکار کر دیا ہے وہ کہہ رہی اپنے بیٹے سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر دلاور کو دیکھنے اپنے آپریشن تھٹر سے باہر آیا ہی تھا جب نرس اندر سے بھاگتی آتی بولی تھی۔۔۔۔

آپریشن کا بھی کوئ فائدہ نہیں ہے نرس ان کا کینسر پورے جسم میں پھیل چکا ہے میں بھی میجر دلاور کو یہی بتانے باہر آیا تھا۔۔۔۔

ڈاکٹر مسلسل دلاور کو فون ملاتے بولے تھے جس کا فون اب آف جا رہا تھا ۔۔۔

پ۔پھر ڈاکٹر کیا کرے ایسے تو ان کی جان چ۔۔۔۔

ڈاکٹر مسز اسرار کا انتقال ہو گیا۔۔۔۔

نرس ابھی بول ہی رہی تھی جب اندر سے دوسری نرس آتی گھبراتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون۔۔

َڈاکٹر نے یہ سنتے دکھ اور افسوس سے کہا تھا۔۔۔۔

ان کو اب جلد سے جلد دلاور کو فون کرکے بتانا تھا اس کی امی اس دنیا میں نہیں رہی ۔۔۔۔