Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333

Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 24) 2nd Last Episode

304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 24) 2nd Last Episode

Junon Inteqam By Rania Mehar

ہاےےے اسے بھی ابھی خراب ہونی تھی ۔۔۔

روحا وہاں دلاور لوگوں کو چھوڑے خود آفس آ گی تھی ۔۔۔

جب وہاں سے فری ہوتی اب وہ گھر کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔

تبھی خان پیلس سے تھوڑی دور ہی اس کی کار رات کے اندھیرے میں روکی تھی ۔۔۔

جب روحا نے چیک کیا تو کار خراب ہو چکی تھی ۔۔۔

لو موبائل بھی گھر رہ گیا اب کیا کرو۔۔۔۔

روحا کار میں فون کو نہ پاتے دیکھ خود سے بولی تھی جلد بازی میں فون بھی گھر چھوڑ آی تھی۔۔۔۔

چلو پیدل ہی چل لیتی ہو ۔۔۔۔

روحا کار کو لاک کیے اب باہر آتی سڑک پر چلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

اوےے دیکھو وہ لڑکی کتنی حسین ہے ۔۔

روحا تھوڑا سا آگے ہی آی تھی جب کچھ آوارہ لڑکوں نے پاس سے گزارتی روحا کو دیکھ ہانک لگای تھی۔۔۔۔

روحا نے مشکل سے اگنور کیے آگے گی ہی تھی جب وہ سارے لڑکے اس کے آس پاس آ کر کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔

چار سال میں پہلی دفعہ روحا کو احساس ہوا تھا اسے شاویز کی ضرورت ہے وہ اکیلی ہے اس وقت جو اس کی مدد کرنے کے لیے کوئ نہیں آ سکتا ۔۔۔

روحا کی سانسیں روکی تھی ان سب کو قریب آتا دیکھ ۔۔۔

وہ الٹے پاٶں وہاں سے بھاگی تھی جب وہ سارے بھی آوازیں دیتے بھاگے تھے ۔۔۔۔

کہاں پھس گی میں اب کیسے جاٶ میں ۔۔

روحا دوبارہ اپنی کار کے پاس جاتی گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔

ارے جانمن کہاں گی ڈر گی کیا ۔۔۔

وہ سارے لڑکے کار کے آس پاس کھڑے ہوتے ہانک لگاے بولے تھے۔۔۔۔

————————————————————

بابا ماما نہیں آی ابھی تک ۔۔

شہرام شاویز کی گود میں بیٹھا رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

آج ہمت کرتے شاویز خود مشکل سے چیئر پر بیٹھا تھا۔۔۔۔

وہ چاہتا تھا اب ٹھیک ہو جاۓ کب تک دیکھ سکتا تھا روحا اس کا ہر کام کرتی رہے ۔۔۔

ماما آ جاۓ گی ویسے بھی تم اپنی ماما کو تنگ کرتے ہو کافی ۔۔۔

شاویز اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ماما بھی اچھی ہے مجھے نیند ان کے ساتھ آتی ہے آپ فون کرے ۔۔۔

شہرام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔

میری جان آج میرے ساتھ سو لے ماما آتی ہو گی ۔۔۔

شاویز اسے گود میں لیتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کیونکہ شہرام جلدی سے اپنی ننھی آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔۔

کہاں رہ گی ہو یار ۔۔۔

غلام دین ۔۔

شاویز آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا سوتے شہرام کو گود میں لیتا بے بی کوڈ میں ڈالتا ہوا غرایا تھا۔۔۔۔

ج۔جی خان ۔۔۔

غلام دین اپنے سامنے صیح کھڑے شاویز کو شوک ہوتا دیکھ بولا تھا ۔۔۔

جاٶ آفس روحا کو لے ک۔کر آو۔۔۔۔

اتنے سے قدم اٹھاتے شاویز کا سانس پھول گیا تھا۔۔۔۔

جی سر۔۔۔۔

وہ سر جھکاے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

یا اللہٌمیں کیا کرو میری مدد فرما۔۔۔۔

مسلسل روتی روحا وہی کار میں ڈری بیٹھی بولی تھی۔۔۔

جہاں ان لڑکوں نے اس کی کار کی ونڈوز کا شیشہ توڑا تھا۔۔۔

ہاں ی۔یہ کام کر جاے گی پر مجھے تو یوز نہیں کرنے آتی۔۔۔

اچانک روحا کی نظر کار کے بوکس کے اندر گن پڑی دیکھی تھی ۔۔۔

تبھی وہ ہاتھوں میں لیتی بولی تھی ۔۔۔

د۔دور رہو سب مجھ سے ورنہ شوٹ کر دو گی ۔۔۔۔

روحا ونڈو کے اندر سے گن باہر نکالے کانپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اے لڑکی ہمیں اس گن سے ڈراتی ہو جو نقلی ہے ۔۔۔

ان سب لڑکوں نے روحا کو ایک جھٹکے سے کار سے باہر نکالے بولے تھے جب گن دور جاتی گری تھی۔۔۔

ن۔نہیں وہ اصلی تھی۔۔۔

روحا گھبراتی ان کی گرفت میں بولی تھی۔۔۔

اسے آج احساس ہوا تھا چاہے شاویز کا اس کے آس پاس رہنا پہلے گھن محسوس کرتا تھا لیکن اس میں اس کے لیے حفاظت ہوتی تھی جیسے وہ محسوس کیا کرتی تھی۔۔۔

آج اس کا ساتھ نہ پاتی وہ خود کو اکیلی محسوس کر رہی تھی۔۔۔

یہ ڈرامے ہمارے ساتھ مت کرو شرافت سے ہماری بن جاٶ۔۔۔

ان میں سے ایک لڑکا روحا کا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔

ن۔نہی۔۔۔

چھوڑو ورنہ شوٹ کر دے گے۔۔۔

اس سے پہلے کوئ روحا کے ساتھ کچھ غلط کرتا جب وہاں شاویز کے گارڈز آتے غراے تھے۔۔۔۔

غ۔غلام دین ان سب کو مت چھوڑنا مارنا ان کو ۔۔۔

ان سب نے ڈر سے روحا کو چھوڑ دیا تھا جب وہ ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

میم آپ جاۓ ہم دیکھ لے گے۔۔۔

غلام دین کچھ گارڈز کے ذریعے بھیجتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں تم سب یہی رہو میں چلی جاٶ گی بس یہ تم لوگوں کی گرفت سے باہر مت آے ۔۔۔۔

روحا جلدی سے وہاں سے بھاگتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

ک۔کہاں رہ گیا ہے اب غلام دین۔۔۔

دیوار کو پکڑتے ساتھ چلتا شاویز اب پھولے سانس سے بولا تھا۔۔۔

وہ کب سے ایسے ہی چلتا ہوا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

ش۔شاویز شاویز۔شاویز ۔۔۔

اچانک اسے روحا کے چلانے کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔۔

جو بھاگتی روتی ہوئ اب روم میں انٹر ہوتی شاویز کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

روحا کا دھیان نہیں گیا تھا وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہے ۔۔۔۔

اسے بس اس وقت شاویز کا ساتھ چاہے تھے۔۔۔۔

رو۔روحا بے بی کیا ہوا ۔۔۔۔

شاویز آہستہ سا چلتا ہوا اس کے قریب جاتے بولا تھا۔۔۔

شاویز پلیز ٹھیک ہو جاٶ مجھے تمہاری ضرورت ہے میں بہت کمزور لڑکی ہو ۔۔۔

میں اس دنیا سے اکیلی نہیں لڑ سکتی ۔۔۔

م۔مجھے تمہاری ضرورت ہے شاویز آج میں ہار گی ۔۔۔

روحا اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

ششش ریلکس کچھ نہیں ہوا یہاں آو تم۔۔۔

شاویز اسے کمر سے پکڑے آہستہ آہستہ چلتا بیڈ کی طرف لاتا بولا تھا۔۔۔

کیا تمہیں واقعی میرا ساتھ چاہے۔۔

شاویز روحا کے گال صاف کرتا آرام سے بولا تھا۔۔۔

اپنی آخری سانس تک تمہارا ساتھ چاہے یہ دنیا اکیلی عورت کو جینے نہیں دیتا چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔۔۔

روحا ویسے ہی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

میں ساتھ دو گا اپنی جان کا اب بس سو جاٶ سکون سے ۔۔۔

شاویز اس کا اب گاٶن اور حجاب اتارے آرام سے اسے بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم کہاں جا رہے ہو۔۔۔

خود سے دور جاتے شاویز کو دیکھ وہ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

وہ سب بھول گی شاویز کی حالت اسے یاد تھا تو اتنا کہ شاویز کو اس کے پاس ہونا چاہے۔۔۔

میں سونے جا رہا ت۔۔۔

نہیں تم یہاں آ جاو مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت شاویز ۔۔۔

شاویز بیڈ پر آرام سے بیٹھتا بول رہا تھا جب وہ پھر سے روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

اچھا آو میرے پاس۔۔۔۔

شاویز اس کا ہاتھ پکڑے اپنے قریب لاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم چھوڑو گے تو نہیں ۔۔

روحا اسے ہگ کیے گھبراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

نہیں چھوڑو گا میری جان ۔۔۔

شاویز مسکراتا ہوا اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔۔۔

تبھی اس کی پناہوں میں آتی روحا سکون سے نیند کی وادیوں میں گی تھی ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا کر رہی ہو عالی ۔۔۔

رات کو دلاور روم میں آتا بولا تھا وہ ضروری کام سے اسٹڈی روم میں بزی تھا ابھی وہ روم میں آیا تھا جہاں عروش کو گود میں لیے علیشبہ اس کا سر دیکھ رہی تھی ۔۔۔

سائیں جوئیں دیکھ رہی ہو مجھے لگتا عروش کے جوئیں ہے ۔۔۔

علیشبہ فکرمند ہوتی بولی تھی۔۔۔

ہاہہاہہاہاہاا کیا یار اتنی چھوٹی بچی کی جوئیں ۔۔۔

دلاور قہقہ لگاتا ہوا پاس جا کر بیٹھتا عروش کو گود لیتا بولا تھا۔۔۔

تین دن سے دیکھ رہی ہو یہ بالوں میں ہاتھ ہی چلاتی رہتی ہے مجھے شک پڑا اس لیے دیکھ رہی ہو سارا دن تو ہاتھ ہی نہیں آتی یہ آ۔۔۔

مطلب میری بیٹی کو لالچ دیا گیا ہے کسی چیز کا اب جلدی سے بتاٶ کیا لالچ دیا جو اتنے سکون سے بیٹھی ہے یہ۔۔۔

دلاور علیشبہ کو کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔

میں نے کہا ہم سی ویو جاے گے دیکھنے اور یہ بھی شہرام بھی ساتھ ہو گا پھر یہ مان گی ۔۔۔

علیشبہ دانت نکالے اپنا کارنامہ سنا رہی تھی ۔۔۔

یار بس کرو سونے دو اسے ۔۔۔

علیشبہ کو دوبارہ عروش کا سر دیکھتے دیکھ دلاور برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔

کیونکہ عروش نیند میں جا رہی تھی۔۔۔

دیکھیں سائیں اس کا ہاتھ پھر بالوں کے اندر ہے پکا جوئیں ہے ۔۔۔

عروش کو خارش کرتا دیکھ علیشبہ ایک بار پھر بولی تھی۔۔۔

ماما جوئیں نہیں ہے یہ شہرام نے ببل لگای ہے میرے بالوں میں ۔۔۔

عروش نیند میں بربڑای تھی۔۔۔

لیکن کیوں بیٹا ۔۔۔

دلاور نے حیران ہوتے پوچھا تھا۔۔۔۔

بابا میں نے اسے کہا وہ مجھ سے شادی کر لے میں دلہن بنو گی اس کی اسے غصہ آیا اس نے ببل لگآ دی وہی اتارنے کی کوشش کر رہی میں ۔۔۔

عروش دونوں پر ایک نیا بمب گراتی منہ بناتی بولی تھی۔۔۔

ہاہااہاہہاہاہااہاااہا۔۔۔

شہرام نے بلکل ٹھیک کیا اور یہ دلہن والی بات کہاں سے آی۔۔

علیشبہ قہقہ لگاتی عروش کے گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

وہ نانو نے کہا تھا دلہن اپنے دلہے کے پاس ہمیشہ رہتی ہے جیسے آپ بابا کے پاس آنی خالو کے پاس ۔۔۔

بس مجھے شہرام کے پاس رہنا تھا تو کہ دیا۔۔۔۔

عروش بھی اب دانت نکالے بولی تھی۔۔۔۔

دونوں ہی ہکا بکا تھے آج کل کے بچے اتنے تیز ہو سکتے ہے ۔۔۔

چلو سو جاٶ اب ۔۔۔

علیشبہ حیران ہوتی اسے گود میں لیتی بولی تھی۔۔۔

عالی جان میں سوچ رہا تھا عروش کا بھای آ جاۓ گا تو یہ شہرام کا پیچھا چھوڑ دے گ۔۔۔۔

سائیں آپ سو رہے یا میں دوسرے روم میں جاٶ۔۔۔۔

دلاور مسکراہٹ روکے علیشبہ کے کان میں سرگوشی کرتا اس کی لو کو چومتا بول رہا تھا جب علیشبہ سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔

کیونکہ عروش آنکھیں کھولے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔

لیکن بابا میرا بھای آ بھی گیا تو فائدہ شادی تو میں بس شہرام سے کرو گی۔۔۔

عروش اس کی گود سے اٹھتی ہوئ معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔

ہاہہاہاہااااہہہاہاہہااااا۔۔۔۔

علیشبہ اور دلاور دونوں ایک دوسرے

کو دیکھتے قہقہ گونجا تھا۔۔۔

جبکہ اپنی بات کہتی عروش اب سکون سے سو رہی تھی ۔۔۔

جیسے کتنا بڑا کام کیا ہو اس نے ۔۔۔