304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 23)

Junon Inteqam By Rania Mehar

””چار سال بعد۔۔۔۔

جلدی جلدی کرو جانتے ہو شاویز سر کو لیٹ کام پسند نہیں ہے ۔۔۔

میٹنگ روم میں اس کے آفس کے ورکرز جلدی جلدی سب سیٹ کر رہے تھے جب اس کا مینجر پریشان بولا تھا۔۔۔۔

کیونکہ سب کو پتہ تھا ان کے سر کو ہر چیز پرفیکٹ چاہے تھی ۔۔۔۔

سیپن سے ایک ڈیلنگ آی تھی جس نے شاویز خان گروپ آف انڈسٹرز کے ساتھ ایک اہم

پراجیکٹ ہونا تھا ۔۔۔۔

جس کے لیے سب ہی بے تاب تھے کیونکہ چار سال بعد شاویز خود میٹنگ کرنے والا تھا۔۔۔۔

س۔سر آگے سر آگے۔۔۔

اس کا سکیرٹری میٹنگ روم میں آتا چلایا تھا۔۔۔۔

جب سارے سانس روکے اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔۔

سیپن سے آیا دوسرے کمپنی کا آیا مینجر سامنے حیران سا شاویز کو دیکھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔

جو بڑے شان سے روم میں آیا تھا۔۔۔۔

اس کے آفس کے سارے ورکرز کا پیسنہ چھوٹا تھا۔۔۔۔

اتنے شوک ہونے والی کیا بات ہے ویسے۔۔۔

میٹنگ سٹارٹ کی جاۓ ۔۔۔۔

گرے کلر کی فل فراک پہنے اپنی گرے آنکھوں پر گلاسز لگاۓ سر پر بلیک حجاب لیے وہ سب کے سامنے کھڑی کنفیڈیس سے بول رہی تھی۔۔۔

آپ کون ہے۔۔۔

ان میں ایک آدمی سامنے روحا کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔

یہ مسز شاویز خان ہے انھوں نے ہی چار سال ان کا بزنس ہنیڈل کیا ہے آج بھی یہ ہی میٹنگ کرے گی۔۔۔

شاویز کا مینجر محتاط ہوتا بولا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ جانتا تھا ان چار سالوں میں روحا نے غصے کی وجہ سے ان ان لوگوں کو آفس سے نکالا تھا۔۔۔

اووو واہ ہ ہم نہیں جانتے تھے مسٹر شاویز کی اتنی بیوٹی فل وائف ا۔۔۔

وہ رہا ڈور آپ جا سکتے ہے شکریہ آپ لوگ پاکستان آۓ۔۔۔

روحا جو چیئر پر بیٹھی لیپ ٹاپ اوپن کیے ای میلز چیک کر رہی تھی تبھی وہ ان کے ساتھ آے ایک آدمی انگلیش میں بول رہا تھا جب غصہ کنٹرول کیے وہ دانت پیستے مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ہمت کیسے ہوئ جانتی نہیں ہو تمہاری کمپنی کو کتنا لاس ہو گ۔۔۔۔

مسٹر پرویز میں گھر جا رہی ہو آپ دیکھ لینا سب کچھ ۔۔۔

انہیی کا اونر طش سے کھڑا بول رہا تھا جب روحا ان سنا کرتی سکون سے کھڑی ہوتی اپنے سکیرٹری کو کہتی وہاں سے واک آٶٹ کر چکی تھی۔۔۔

روحا کے جاتے ہی اس کے آفس کے ورکرز آہستہ آہستہ باہر چلے گے تھے۔۔۔

———————————————————–

افففف عروش نہ کرو یار ماما تھک گی ہے ۔۔۔

علیشبہ بیڈ پر لیٹی بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

جہاں براٶن آنکھوں والی پھولے گال جس پر ڈمپل تھے تین سال پانچ ماہ کی کیوٹ سی عروش بلکل دلاور کی کاربن کاپی تھی ۔۔

عروش اپنی ایج سے زیادہ شرارتی تھی ۔۔۔

ہر وقت وہ علیشبہ کو تنگ کرتی تھی ابھی بھی علیشبہ اس کے سب کھلونے اٹھا کر تھک ہار کر بیڈ پر لیٹی تھی ۔۔۔

جب عروش اس کی ٹانگوں پر بیٹھی تھی۔۔۔

ماما بابا کہاں ہے ۔۔

عروش اب رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

بیٹا وہ کام پر گے ہے آتے ہو گے ۔۔۔

علیشبہ اسے پکڑتی اپنے سینے پر بیٹھاۓ بولی تھی۔۔۔۔

بابا بابا بابا۔۔۔

دلاور کے کار کا ہارن سنتی عروش اب بیڈ سے اترتی باہر کو بھاگتی چلائ تھی ۔۔۔

آرام سے بابا کی جان ۔۔۔۔

دلاور جیسے ہال میں انٹر ہوا تو عروش کو اپنی ٹانگوں سے لگاتا دیکھ مسکراتا ہوا اسے گود میں اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

بابا ماما گندی ۔۔۔

عروش علیشبہ کی شکایت لگاتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی۔۔۔

یہ اس کا روزانہ کا کام تھا جب بھی علیشبہ اسے کسی کام سے روکتی وہ ایسے ہی کرتی تھی۔۔۔۔

اب کیا کر دیا ماما نے ۔۔۔

دلاور روم سے باہر آتی علیشبہ کو اپنے پاس آتا دیکھ عروش سے پوچھا تھا۔۔۔

آنی کے گھر جانا میں نے ۔۔۔

عروش منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

نہیں جانا اس نے وہاں جا کر شہرام کو مارتی ہے۔۔

علیشبہ بھی منہ بناتی ہوئ پاس جاتی بولی تھی۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہ آنی کے پاس جانا میں نے ۔۔۔

اچانک عروش روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

چلے جائیں گے میری جان پہلے بابا کپڑے چینج کر لے۔۔۔

دلاور روتی عروش کو چپ کرواۓ بولا تھا۔۔

جب خوش ہوتی عروش اب علیشبہ کے پاس گی تھی ۔۔۔

وہی دلاور خوش تھا اپنی فمیلی میں اپنی بیٹی سے جو ان دونوں کی جینے کی وجہ بنی تھی۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم ماما ۔۔۔

روحا گھر آتی اب ملازمہ کے ساتھ بزی ہوتی گل پارہ کو ہگ کیے بولی تھی۔۔۔۔

وعلیکم السلام میری جان ۔۔۔

آ گی تم ۔۔۔

گل پارہ روحا کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ان چار سالوں میں گل پارہ کوما سے باہر آ گی تھی ۔۔۔۔

اللہٌنے اسے بیٹا دیا تھا جس کا نام اس نے شہرام شاویز خان رکھا تھا۔۔۔

جی ماما بس کام نہیں تھا تبھی آ گی ۔۔۔

روحا اب حجاب اتارے وہی کرسی پر بیٹھتی پانی پیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

کتنا کام کرتی ہے میری بیٹی شاہو ہوتا تو سب

ہنیڈل کر لیتا ۔۔۔

گل پارہ اپنی بیٹی کا مرجھایا چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ارے شاہو سے یاد آیا شہرام کدھر ہے ماما ۔۔۔

روحا جلدی سے پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

کہاں ہو گا وہی ہے جہاں روزانہ ہوتا ہے ۔۔۔

گل پارہ اب شہرام کے روم کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں اب ننھے قدموں سے چھپتا ہوا شہرام اپنے روم سے نکل کر اب روحا کے روم کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔

افففف ماما ایک یہ نہیں ہینڈل ہوتا مجھ سے ۔۔

روحا اب اس کے پیچھے جاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

بابا آپ کب جاگے گے ۔۔۔

شہرام اب بیڈ پر آتا سوتے ہوۓ شاویز کے سینے پر بیٹھا اس کے گال چھوتا بولا تھا۔۔۔۔

بیٹا بابا کو تنگ مت کرو وہ سو رہے ہے ا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ بابا بابا۔۔۔

روحا جلدی سے پاس آتی شہرام کو گود میں اٹھاۓ بول رہی تھی جب اچانک وہ رویا تھا۔۔۔

ک۔کیا ہوا روحا بے بی شہرام کیوں رو رہا ہے یار۔۔۔

نیند سے جاگتا شاویز ویسے ہی لیٹا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں یہ تمہیں جاگا رہا تھا اب دیکھو کیسے جاگ گیا ہے ۔۔۔۔

روحا دوبارہ اس کے سینے پر شہرام کو بیٹھاۓ بولی تھی جو خوشی سے چہک رہا تھا۔۔۔۔

چار سال پہلے شاویز کوما سے باہر آ گیا تھا لیکن وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا پورے چار ہو گے تھے وہ ویسے ہی معذور بستر پر پڑا تھا۔۔۔۔

روحا ہی گھر اور اس کا بزنس ہینڈل کر رہی تھی ۔۔۔

کوئ ایسا دن نہ تھا جس دن شاویز نے معافی نہ مانگی ہو ۔۔۔

روحا اسے روزانہ سمجھاتی تھی ایک دن آے گا جب وہ خود اپنے پاٶں پر چلے گا ۔۔۔۔

اپنی ایسی حالت دیکھتے وہ اکثر ناامید ہو جاتا تھا۔۔۔۔

شہرام بلکل شاویز کی کاربن کاپی تھی گولو مولو سا نیلی آنکھوں اور گال پر ڈمپل پڑنے والا شہرام شاویز خان ۔۔۔

جو زیادہ تر روحا کی بجاۓ شاویز کے قریب رہتا تھا۔۔۔۔

لیکن شاویز کے پاس روحا شہرام کو کم جانے دیتی تھی کیونکہ وہ جب اسے اپنے ساتھ کھلینے کو کہتا شاویز شرمندہ ہو جاتا تھا کیسے اپنے بیٹے کو بتاۓ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔

روحا نے بہت ہمت سے ان سب کو ہنیڈل کیا تھا۔۔۔

روحا بے بی مجھے بیٹھنا ہے ۔۔۔

شاویز شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں بیٹھو بلکہ ڈاکٹر نے کہا ہے بہت جلد تم چل سکتے ہو ۔۔۔

بس تھوڑی سی ہمت کرنی پڑے گی ۔۔۔۔

روحا اسے آرام سے بیٹھاۓ مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

نہیں روحا جو کچھ تمہارے ساتھ کیا یہ بھی کم سزا ملی مجھے ا۔۔۔۔

شاویز تم سب بھول کیوں نہیں جاتے میں نے معاف کر دیا ہے تمہاری سزا بھی ختم ہو چکی ہے ۔۔۔۔

ایسا مت سوچو تم پلیز۔۔۔۔

روحا اسے بیٹھاتی اس کا ماتھا چومتی بولی تھی ۔۔۔

وہ سب بھول گی تھی لیکن شاویز روز اپنی حالت دیکھ ایسے ہی کہتا تھا۔۔۔

بابا میں آپ جیسا بنو گا۔۔۔۔

شہرام اپنے ننھے ہاتھ اس کی شیو پر پھیرتا ہوا بولا تھا۔۔۔

نہیں بیٹا تم اپنی ماما جیسا بنا میں اچھا نہیں ہو ۔۔۔

شاویز اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اففف ایسا کیوں کرتے ہو تم اچھے انسان ہو شاویز یہی وجہ سے تم آج تک ٹھیک نہیں ہوۓ جب سوچ ہی ایسی ہو۔۔۔۔

روحا اب طش میں آتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا چھوڑو یہ بتاٶ میری جان نے آج پھر غصہ کیا ۔۔

شاویز بات بدلتا ہوا اسے سینے سے لگاۓ بولا تھا۔۔۔۔

ہاں جاہل لوگ ایویں بکواس کرنے لگ جاتے ہے ۔۔۔

اب تمہیں کیا بتاٶ میں ۔۔۔

روحا بھی اس کے سینے پر سر رکھے آنکھیں بند کیے بولی تھی۔۔۔۔

ہممم تم نہ کیا کرو یہ سب مینجر ہنیڈل ک۔۔۔

سب دھوکہ دیتے ہے شاویز تمہاری سالوں کی کمائ ضائع ہو جاتی ۔۔۔

تم جلدی سے ٹھیک ہو جاٶ پھر دیکھنا سب سیٹ ہو جاۓ گا۔۔۔۔

روحا شاویز کا ہاتھ چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ماما بابا رو رہے ہے۔۔۔۔

شہرام شاویز کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا رونی شکل بناۓ روحا کی گود میں آتا بولا تھا۔۔۔

تم جاٶ نانو کے پاس بیٹا ۔۔۔

روحا شہرام کو پکڑے بیڈ سے اتارے بولی تھی۔۔۔

لیکن بابا ک۔۔۔

جاٶ بابا کے عاشق رات کو سو جانا اب جاٶ ۔۔۔

شہرام منہ بناۓ بول رہا تھا جب روحا اسے گھورتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ماما گندی۔۔۔

شہرام منہ بناتا باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔

کیوں رو رہے ہو میں مر گی کیا بتاٶ مجھے۔۔۔

روحا اس کی گردن دبوچتے ہوۓ زرا سختی سے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ اپنے لبوں سے اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔

م۔میری ایسی حالت تمہیں دکھ دینے کی وجہ سے ہوئ ہے م۔۔۔

شاویز روتا ہوا بول رہا تھا جب روحا نے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے اس کی بولتی بند کروائ تھی ۔۔۔۔

شششش ایک لفظ مت سنو میں شام کو واک کرے گے ہم اب تم سو جاٶ تھوڑا سا ۔۔۔۔

روحا اسے نرمی سے چھوڑتی اس کا چہرہ اپنے ڈوپٹے سے صاف کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

شاویز نے اپنی نظریں جھکائ تھی ۔۔۔

————————————————————

ہاں ایسے ہی قدم اٹھاٶ دیکھنا تم بہت جلدی ٹھیک ہو جاٶ گے شاویز ۔۔۔

روحا اب شاویز کو کمر سے پکڑے اپنے ساتھ واک کروا رہی تھی ۔۔۔

شاویز جو کہ باڈی بلڈر تھا اسے ہنیڈل کرنا روحا کے لیے بے حد مشکل تھا لیکن وہ کٶئ نرس بھی اس کے پاس نہیں آنے دیتی تھی ۔۔۔

خودی اس کا کام کرتی تھی ۔۔۔۔

دیکھو چل تو رہے ہو اب تم جلدی ٹھیک ہو جاٶ گے۔۔۔

روحا شاویز کو گہرے گہرے سانس لیتے دیکھ مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ک۔کیا میں ٹھیک ہو جاٶ گا ۔۔۔۔

شاویز گھبراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

تم بہت جلد ٹھیک ہو گے دیکھنا بس ہمت کرو تم تو ہمارے بہادر ہونہار آرمی آفسر ہو ۔۔۔

روحا سے پہلے وہاں دلاور آتا شاویز کو پکڑے بولا تھا۔۔۔

شاہد ایسا ہو۔۔۔

شاویز اب اس کے گلے لگتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

شاہد کیوں کہتے ہو تم ہو گے ضرور ٹ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہہ بابا ماما۔۔۔۔

دلاور بول رہا تھا جب عروش کے رونے کی آواز آی تھی۔۔۔۔

علیشبہ کی گود سے اترتی عروش بھاگ کر شہرام کو ہگ کیے کس کیا تھا۔۔۔۔

جب شہرام نے برا سا منہ بناۓ اس کے گال پر کاٹا تھا تبھی وہ چلائ تھی ۔۔۔

افففف یہ بچے۔۔۔۔

روحا اور علیشبہ ایک ساتھ بولی تھی جہاں دونوں ایک دوسرے کے بال پکڑے لڑ رہے تھے۔۔۔۔

میم آفس سے کال آی ہے کچھ پیپرز ہے ان پر سائن چاہۓ آپ کے۔۔۔

روحا شہرام کو چپ کروا رہی تھی جب وہاں ملازمہ آتی بولی تھی ۔۔۔۔

اچھا میں دیکھ لیتی ہو ۔۔۔

روحا حامی بھرتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

ہاےےے اسے بھی ابھی خراب ہونی تھی ۔۔۔

روحا وہاں دلاور لوگوں کو چھوڑے خود آفس آ گی تھی ۔۔۔

جب وہاں سے فری ہوتی اب وہ گھر کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔

تبھی خان پیلس سے تھوڑی دور ہی اس کی کار رات کے اندھیرے میں روکی تھی ۔۔۔

جب روحا نے چیک کیا تو کار خراب ہو چکی تھی ۔۔۔

لو موبائل بھی گھر رہ گیا اب کیا کرو۔۔۔۔

روحا کار میں فون کو نہ پاتے دیکھ خود سے بولی تھی جلد بازی میں فون بھی گھر چھوڑ آی تھی۔۔۔۔

چلو پیدل ہی چل لیتی ہو ۔۔۔۔

روحا کار کو لاک کیے اب باہر آتی سڑک پر چلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

اوےے دیکھو وہ لڑکی کتنی حسین ہے ۔۔

روحا تھوڑا سا آگے ہی آی تھی جب کچھ آوارہ لڑکوں نے پاس سے گزارتی روحا کو دیکھ ہانک لگای تھی۔۔۔۔

روحا نے مشکل سے اگنور کیے آگے گی ہی تھی جب وہ سارے لڑکے اس کے آس پاس آ کر کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔

چار سال میں پہلی دفعہ روحا کو احساس ہوا تھا اسے شاویز کی ضرورت ہے وہ اکیلی ہے اس وقت جو اس کی مدد کرنے کے لیے کوئ نہیں آ سکتا ۔۔۔

روحا کی سانسیں روکی تھی ان سب کو قریب آتا دیکھ ۔۔۔

وہ الٹے پاٶں وہاں سے بھاگی تھی جب وہ سارے بھی آوازیں دیتے بھاگے تھے ۔۔۔۔