304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 21)

Junon Inteqam By Rania Mehar

افففف اففف عالی کیا کرو میں ۔۔۔

روحا ساری بات اسے بتاتے اب پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

باجی اب خودی منا لے میں کیا کہہ سکتی ہو اب آپ سمجھدار ہے ۔۔

علیشبہ فون سنتی خودی گھبراتی بولی تھی۔۔۔

کیسی بہن ہو تم یار مجھے حل بتاٶ کیا کرو میں ۔۔

روحا ابھی بھی رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

باجی جو میں کہو گی آپ نے منانا ہی نہیں ہے پھر فائدہ ب۔۔۔

تم بتاٶ میں کر لو گی سب ۔۔۔

علیشبہ اب شیطانی مسکراہٹ لاۓ بول رہی تھی جب روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔

چلے سنے اب۔۔۔

علیشبہ اب مسکراہٹ روکے جیسے بول رہی تھی وہی روحا کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔

————————————————————

ہاہااہاہا ہاہہاہاہا ۔۔

علیشبہ اب اکیلی روم میں کھڑی قہقہ لگا رہی تھی۔۔۔

کیا ہوا آج میری بیوی اتنا مسکرا رہی ہے ۔۔۔

دلاور روم میں آتا علیشبہ کو کمر سے پکڑتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

و۔وہ آپ سنے گے سائیں تو خود بھی ہنس پڑے گے۔۔۔

علیشبہ ابھی بھی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ہاں سناٶ پھر۔۔۔

دلاور اسے بیڈ پر گراے اس کے اوپر جھکتے بولا تھا۔۔۔۔

اففف سائیں آپ کو رومینس ہی سوجتا ہے ۔۔۔

علیشبہ اب سب بھولے گھبراتے بولی تھی۔۔۔۔

تم بتاٶ ہنس کیوں رہی تھی۔۔

دلاور اس کی گردن پر لب رکھے بولا تھا۔۔۔۔

وہ میں ن۔۔۔۔

علیشبہ اس کی شیو کو چھوتی ساری بات بتا چکی تھی۔۔۔۔

ارے واہ میری بیوی تو رومانٹک بنی ہوئ ہے آج مجھ سے بھی کر لو رومینس۔۔۔

دلاور ساری بات سنتا اس کے گال پر اپنے لب سہلاتا بولا تھا۔۔۔

ہاہااااہاہا وہ بس ب باجی ک۔کے لیے تھا۔۔۔۔

علیشبہ قہقہ لگاتی ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

کیونکہ دلاور اس کی شرٹ اس کے شولڈر سے نیچے کر رہا تھا۔۔۔۔

س۔سائیں مت ک۔کرے۔۔۔

علیشبہ اس کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی۔۔۔

تم بہت پیاری ہو میری جان ۔۔

دلاور اس کے دونوں بازوں اپنے ایک ہاتھ میں قید کرتا اس کے لبوں پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔۔

علیشبہ گھبراتی ہوئ اسی کے سینے میں منہ چھپا گی تھی۔۔

————————————————————

اففف عالی کدھر پھسا دیا ہے ۔۔۔

روحا شاویز کو تنگ کرنے کے لیے اسے کہا تھا وہ اپنی ماما کے پاس رات کو سوۓ گی جیسے وہ سکون سے مان گیا تھا۔۔۔۔

روحا کو عادت ہو گی تھی اب شاویز کے قریب رہنے کی یہی وجہ تھی اب وہ رات کے آدھے پہر روم کے باہر تیار ہوئ علیشبہ کو کوس رہی تھی ۔۔۔۔

یہ لو جس کے لیے اتنا تیار ہوئ یہ سو رہا ہے ۔۔۔

اہہہہ اہہہہ۔۔۔

روحا جیسے ہی روم میں آئ تو روم میں زیرو بلب جلتا دیکھ برا سا منہ بناۓ اب دھڑام کیے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

جب گہری نیند میں گیا شاویز ہڑبڑا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔

کیا تکلیف ہے سو جاٶ اگر آ ہی گی ہو۔۔۔۔

شاویز اسے کم روشنی میں دیکھتا بولتا دوبارہ لیٹ چکا تھا۔۔۔۔

اہہہ سونے ہی والی ہو تمہیں کوئ ناول نہیں سنانے والی۔۔۔

روحا بھی برا سا منہ بناۓ لیٹتی ہوئ ویسے ہی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں سو جاٶ میں نے تمہاری آنکھیں پکڑی ہے کیا۔۔۔۔

شاویز بھی لیٹتا اب جلتا ہوا بولا تھا۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ موڑے لیٹ چکے تھے۔۔۔

لیکن سویا کوئ بھی نہیں تھا ۔۔۔

اپنے اتنے قریب روحا کو لیٹتے دیکھ شاویز کی نیند جلدی سے اُڑی تھی اب وہ بے چین ہوتا مسلسل کروٹ پر کروٹ لے رہا تھا۔۔۔۔۔

کیا ہے اب کیا بیڈ توڑنا ہے نہیں نیند آ رہی تو باہر چلے جاٶ۔۔۔۔

بالآخر روحا چڑتی ہوئ اس کی طرف رخ کیے بولی تھی۔۔۔۔

تم چلی جاٶ باہر اب بندہ ناراض بھی نہیں ہو سکتا حد ہے بار بار دل تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔

شاویز بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

میں نہیں جا رہی باہر تم دفع ہو۔۔۔

روحا بھی جھجلاتی بیڈ سے اٹھتی لائٹ آن کرتی بولی تھی۔۔۔۔

می۔۔۔۔

شاویز روم میں روشنی ہوتا دیکھ طش سے بول رہا تھا جب سامنے روحا کو دیکھ وہ ہکا بکا رہ گیا ۔۔۔

جہاں پنک ساڑھی ہلکے میک اپ بالوں کو کرل کیے جو ہلکے سے رف ہو گے تھے آنکھوں پر کاجل لگے گلاسز لگاۓ کلاہئوں میں چوڑیاں پہنے وہ شیرنی بنی کھڑی تھی۔۔۔۔

روحا کو اتنا تیار اور حسین دیکھ کر خوش ہوتا بیڈ سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔

اب کیا آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے ہو ۔۔۔

روحا اسے اپنے قریب آتا دیکھ جلدی سے کرسی پر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

اتنا تیار ہوئ ہو کوئ کام تھا کیا۔۔۔

شاویز اس کے اوپر جھکے اس کی کلائ نرمی سے پکڑتے بولا تھا۔۔۔۔

چھوڑو میری کلائ ۔۔

روحا غصے سے بولی تھی۔۔

شاویز نے کلائی چھوڑ کر روحا کو کھڑا کیے اس کے گرد بانہوں کو لپیٹ لیا تھا.. ۔

چ۔چھوڑو میں بس منانا چاہتی تھی تاکہ تم ناراض مت ہو۔۔

روحا اس سے دور جاتی بولی تھی۔۔۔

شاویز نے دوبارہ کلائی سے پکڑ کر دبایا اور چند چوڑیاں ٹوٹ گئی تھی ۔۔۔۔

شاویز نے روحا کو پیچھے کی طرف کھینچا اور اپنے ساتھ لگالیا تھا۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے روحا آہستگی سے بولی تھی..

شاویز نے جیب سے ایک کالی پٹی نکال کر روحا کی گلاسز اتار کر اس کی آنکھوں پہ باندھ دی …

ی۔یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔

روحا اس کی گرفت میں مچلتی ہوئ بولی تھی۔۔

تم نے منانا نہیں مجھے پتہ ہے بس میں خودی مان گیا اب ۔۔۔

شاویز نرمی سے کہتا اس کے گال پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔

روحا نے جنجھلا کر اس کے پیٹ میں کہنی مارتے دور ہوئ تھی۔۔۔

شرم نہیں آتی تمہیں میرے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے۔”

قید سے رہائی پاتے ہی روحا دھاڑی تھی۔

“بلکل بھی نہیں کیونکہ اپنا جائز کا لینے میں کیسی شرم ویسے بھی کافی ڈھیل دے چکا ہوں میں تمہیں۔

میں اتنا تو جانتا ہو تم مجھ سے محبت کرتی ہو ورنہ رات کے ایسے پہر میں اتنا بن سنوار کر مجھ پر بجلیاں نہ گرا رہی ہوتی۔۔۔

ن۔نہیں بلکل بھی نہیں تم بکواس کرتے میں تو صرف معافی مانگنے آئ تھی۔۔۔

روحا سراسیمہ انداز میں کہتی پیچھے ہٹی تھی۔

اسے کچھ بھی دیکھائ نہیں دے رہا تھا۔۔۔

لو میں نے معاف کر دیا روحا بے بی ۔۔۔

شاویز اسے تنگ کرتا اپنی شرٹ ایک طرف کو پھینکتے روحا کو کندھوں سے پکڑے بیڈ پر گراتے اس پہ جھکا ۔۔

تو اس نے خوفزدہ ہوتے آنکھیں بند کرلیں۔۔

شاویز نے اسکا جائزہ لیا جو لرزتے ہونٹوں اور پلکوں سے اسکے ایمان کو ڈاماڈول کررہی تھی۔۔

جبکہ اس کی تیز چلتی گرم سانسیں اس کے چہرے پر پرتی گرمائش پیدا کر رہی تھی۔۔۔۔

وہ مسکرایا تھا اور انتہائی نرمی سے اسے اپنے حصار میں لے گیا ۔

ش۔ا۔شاویز نہیں

اس نے خود پہ جھکتے شاویز کو پیچھے دھکیلنا چاہا تھا ۔۔

جب شاویز نے اس کی دونوں کلاہیٶں کو پکڑتے بیڈ کے ساتھ لگی تھی۔۔۔

تم جانتی ہو نشہ کیا ہوتا ہے۔۔۔

شاویز روحا کے گال پر اپنے لب سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے کیا پتہ کون سا نشہ کہہ رہے ہو ۔۔۔

فضول آدمی۔۔۔

روحا جلدی سے آنکھیں کھولے پھولے منہ سے آس پاس دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

نشہ وہ جو جذبات میں شامل ہو اور تمہارے لیے جذبات میں بے حد نشہ ہے جو تمہیں آج پتہ چلے گا۔۔۔۔

شاویز نرمی سے اس کی بیوٹی بون پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔۔

م۔میں بس م۔۔۔

ششششش اب خودی تم ایک سوتے ہوۓ شیر کو جاگا بیٹھی ہو اب انجام کی سزا تو ملے گی۔۔

میری سویٹ سی شیرنی ۔۔۔۔

روحا گھبراتی بول رہی تھی جب شاویز اپنی کہتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔

روحا اس کا لمس پاتی چپ ہو گی تھی ۔۔۔

جانتی تھی شاویز اب اس کی ایک نہیں مانے گا۔۔۔۔

————————————————————

ارے دادی دھیان سے چلے۔۔۔

شاویز اپنے آفس سے گھر کی طرف جا رہا تھا جب کار کے آگے روحا کی دادی آی تبھی وہ جلدی سے روکتا باہر آتا بولا تھا۔۔۔۔

تم اس آوارہ لڑکی کے شوہر ہو منحوس کہی کی۔۔۔۔

دادی شاویز کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔

شاویز کو ان کی حالت ٹھیک نہیں لگی تھی وہ انہیں پاگل جیسی لگی تھی۔۔

بکھری کپڑے پھٹے پرانے بکھرے بال یہ تو وہ دادی نہیں تھی روحا کی جو صاف ستھرای رہتی تھی۔۔۔۔

آپ بڑی ہے میں اسی ل۔۔۔۔

ارے جاو میاں یہ آوارہ ایسا ہی کرتی ہے تم نہیں جانتے ماہم کے بھای کے ساتھ کیا ہوا تھا اس کی وجہ سے ۔۔۔

شاویز طش سے دانت پیستا بول رہا تھا جب دادی بولی تھی۔۔۔

م۔مطلب۔۔۔

شاویز نے شوک ہوتے پوچھا تھا۔۔۔

جب دادی نے من گھرٹ کہانی ماہم کے بھای کی سنائ تھی۔۔۔

جس میں سارا قصور روحا کا بتایا تھا۔۔۔

آ۔اپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے آے میرے ساتھ۔۔۔

شاویز سب سنتا ہکابکا دادی کو کار میں بیٹھاۓ ہاسپٹل لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔۔

جبکہ ذہین پورا اس کا پھٹنے والا ہو گیا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

اففف دادی نے سارا دن لگا دیا روحا بے بی کو کال کرتا ہو پریشان ہو گی۔۔۔۔

شاویز دادی کو ہاسپٹل لے کر آیا تھا ان کے چیک اپ میں ہی سارا دن لگ گیا تبھی وہ شام کو وہی ہاسپٹل میں کھڑا روحا کو کال ملاتا بولا تھا۔۔۔۔

جب اس نے راحیل کا گروپ میں مسیچ دیکھا تھا۔۔۔۔

وہ اسے شام چار بجے ملنے کو کہہ رہا تھا۔۔۔

جب روحا نے حامی بھری تھی۔۔۔۔

شاویز شدید طش میں مسیچ پڑھتا جیسے ہی سامنے دیکھا تھا وہی پتھر کی مورت بن چکا تھا۔۔۔۔

————————————————————

میں بہت خوش ہو میرے شاہو کے بھی بچے ہو گے اب ۔۔

بی جان روحا کا ماتھا چومتی ہوئ خوشی سے بولی تھی۔۔۔

صبح سے روحا کی طیبعت خراب تھی بی جان

اسے ہاسپٹل لائ تھی جب ڈاکٹر نے یہ بتایا تھا وہ ماں بنے والی ہے ۔۔۔۔

روحا ایک ہی الجھن میں مبتلا تھی وہ خوش ہو یا روے اس خبر پر ۔۔۔

لیکن بی جان کی بات سنتی وہ شرمائ ضرور تھی۔۔۔۔

تبھی بی جان اسے چھوڑتی ڈاکٹر کے کیبن گی تھی۔۔۔۔

روحا خوش ہوتی علیشبہ کو فون ملا رہی تھی جب سامنے سے آتے راحیل سے ٹکراتی اس کی باہوں میں آی تھی۔۔۔۔۔

یہ سارا منظر دور کھڑے شاویز نے نفرت سے دیکھا تھا۔۔۔۔

ہاے بے بی ک۔۔۔

کیا بکواس ہے تم اپنے ہوش میں تو ہو۔۔۔

راحیل خباثت سے اسے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا طش سے چلای تھی۔۔۔

ارے تم نے ہی مجھے بلایا ملنے کو کہ کہی ملتے ہے یہ تو اپنے ایک دوست سے ملنے آیا تھا اب تم مل گی تو بس سوچا یہی پر بات کر لو۔۔۔

راحیل سامنے سے آتے شاویز کو دیکھ بولا تھا۔۔۔

شرم کرو کچھ ڈوب مر و۔۔۔۔۔

روحا اپنے چکراتے سر سے بول رہی تھی جب شاویز کو سامنے دیکھتی خاموش ہو گی تھی۔۔۔

ش۔شاو ۔۔۔

بسسسس تم چلو میرے ساتھ۔۔۔

روحا گھبراتی بول رہی تھی جب شاویز اس کا بازو پکڑے گھیسٹتے لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔

جبکہ روحا چلا رہی تھی اس کی بات سن لی جاۓ بی جان بھی حیران پریشان سی کار میں بیٹھی تھی۔۔۔

چچچچ روحا بے بی۔۔۔

روحا کی حالت انجواۓ کرتے راحیل نے اب مذاق بناتے بولا تھا۔۔۔

————————————————————

آہ۔۔” درد سے روحا کی کراہ نکل گئی ۔۔

جب شاویز اسے گھر لاتا ہال میں گرایا تھا۔۔۔۔

مگر اس شخص کو کوئی پرواہ نہیں تھی چند سیکنڈ تک کھڑا وہ لہو رنگ نیلی آنکھوں سے اس کو گھورتا رہا۔۔

“بتاؤ کیا کمی رہ گئی تھی روحا بے بی میری محبت میں جو تم مجھے دھوکا دیئے چلی جارہی ہو دل تو کر رہا ہے تمہیں جان سے مار دوں” ۔۔

شاویز نے اسے ایک جھٹکے سے بالوں سے پکڑ کر زمین سے اٹھایا اور اپنے مقابل کھڑا کرتا ہوا غصے سے پھنکارا۔

م م۔مجھے نہیں پتہ تھا اس کا شاویز تم یقین کرو۔۔۔

روحا آنسو بہاتی ہوئ بولی تھی پہلی دفعہ اسے اس کے غصے سے ڈری تھی۔۔۔

ت۔تم جانتے تھے وہ کیسا ہے ا۔۔۔

یہ سب بھی نہیں جانتا تھا میں روحا بے بیییییی۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب شاویز موبائل آن کرتا دانت پیستا چیختا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

روحا ہکا بکا موبائل پر اپنی ساری چیٹ دیکھتی وہی زمین پر بیٹھی تھی۔۔۔

شاویز نے اب زمین پہ بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی اس پہ کسی مجسمے کا گمان ہو رہا تھا وہ دوبارہ اس کا قریب گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیدردی سے کھڑا کیا۔

“میں نے کچھ نہیں کیا میرا یقین کرو ” روحا نے بمشکل آنسوؤں کے درمیان کہا آنسو اسے کچھ کہنے کی اجازت ہی کب دے رہے تھے۔۔۔

اسے یقین نہیں آ رہا تھا کب یہ ساری چیٹ ہوئ تھی ۔۔۔

م۔یری میری یہ آی ڈی بند ہے دو سالوں سے تمہیں یقین نہ آۓ تو عالی س۔۔

“دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے” ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑ کر اس کا بازو سختی سے پکڑا اور اسے ہال سے باہر دھکا دیا تھا۔۔۔۔

خود وہ زمین پر بیٹھا پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔۔۔

کیوں روحا بے بی کیوں یہ سب مطلب تمہاری دادی ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔

شاویز اپنا سر ہاتھوں میں لیتا بولا تھا ۔۔۔

ک۔کیا کہا دادی ن۔۔۔

احمد کو جانتی ہو تم ۔۔۔

روحا ہکلاتی بول رہی تھی جب شاویز سرخ نیلی آنکھوں سے بولا تھا۔۔۔۔

و۔ہ ماہم کا بھای میرا قصور نہیں ا۔۔۔

تمہارا کام ہی یہی ہے پہلے لڑکوں کو پھساتی پ۔۔۔

بسسس بسسسس بہت ہو گیا شاویز خان میری یہ غلطی تھی راحیل کو وہی مارتی لیکن تم آ گے ۔۔۔

اب بھی اپنی صفای دے رہی ہو ۔۔۔

میرا کوئ قصور نہیں اگر میں ایسی لڑکی ہوتی تم سب سے پہلے جانتے کیا پہلے دن میرے قریب آے میں ایسی لڑکی تھی کیا میں بری تھی تم سب جان گے تھے کب تمہیں بے وفای دی میں نے ۔۔۔

کتنی پاگل تھی تمہیں میں نے موقع دیا ۔۔۔

کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوتا ہے ۔۔۔

میں اب کچھ نہیں کہو گی۔۔۔

شاویز بول رہا تھا جب روحا شیرنی کی طرح دھاڑتی اس کا کالر پکڑتے غرای تھی۔۔۔۔

و۔وہ میں روحا ب۔۔۔

بس بہت سنا لی تمہاری میں یہاں ایک منٹ نہیں رہو گی۔۔۔

شاویز کو احساس ہوا تھا وہ کتنا غلط بول چکا تھا تبھی اب شرمندہ ہوتا بول رہا تھا جب روحا بولی تھی۔۔۔

اور ہاں یہ بچہ بھی میرا ہے تمہارا کچھ نہیں لگتا۔۔۔

دور جاتی روحا دوبارہ اس کے قریب آتی کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی۔۔۔۔

اففف افففف اہہہہ اہہہہاہہہہہہہہ۔۔۔

روحا کو جاتے دیکھ شاویز بے بس ہوتا اپنے بال نوچتا ہوا چلایا تھا۔۔۔۔

کتنی بڑی وہ غلطی کر چکا تھا۔۔۔۔

یہ شاہو کیا کر دیا بیٹا ابھی تو وہ خوش ہوئ تھی۔۔۔۔

بی جان شاویز کو اپنے سینے سے لگاۓ آبدیدہ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

اب وہ کتنی بڑا گناہ کر چکا تھا۔۔۔۔

میں کیا کرو اب ۔۔

شاویز اپنا سر پکڑتے روتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔