304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 20)

Junon Inteqam By Rania Mehar

شاویز میں کہہ رہی تھی تم وہ شیر چھوڑ دو میں جان گ۔۔۔۔

روحا روم کے اندر آتی بنا دیکھے نان سٹاپ سٹارٹ ہو چکی تھی۔۔۔

جب سامنے بیڈ پر بیٹھے شاویز اور اس کی ماما کو دیکھتے باقی کے الفاظ اس کے منہ میں رہ چکے تھے۔۔۔۔

و۔وہ روحا بے بی آٶ یہ ماما ہے میری۔۔۔

شاویز اسے دیکھتا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔۔

م۔ما۔م۔ماما ہے تمہاری ییییییییی۔۔۔۔۔

روحا شوک سے وہی زمین پر بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔

اس کے ایسے ری ایکشن پر شاویز کو شوک لگا تھا وہ بیڈ سے اترتا بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔

جہاں اب روحا کی گرے آنکھیں رونے سے سرخ ہو چکی تھی۔۔۔۔

ی۔یہ ماما ہے تمہاری۔۔۔

شاویز کو اپنے قریب بیٹھتا دیکھ روحا اس کے سینے سے لگی بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ شاویز ابھی بھی شوک تھا روحا رو کیوں رہی ہے ۔۔۔

کیا ہوا روحا بے بی رو کیوں رہی ہو یار میں نے کچھ کہا کیا دیکھو میں معافی مانگ لیتا ہو ۔۔۔

شاویز اسے سینے سے لگاۓ دکھی ہوتا بولا تھا۔۔۔

جو مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔

ی۔یہ تمہاری ماما ہے کیا۔۔۔۔

بھیگے چہرے کے ساتھ روحا بیڈ کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں یہ ماما ہے میری ہے۔۔۔

شاویز پریشان سا اس کے بالوں کو سہلاتا بولا تھا۔۔۔

م۔مطلب دادی ٹھیک کہتی تھی کیا کہ امی نے کسی سے شادی کر لی۔۔

روحا اب شوک ہوتے ہکلاتے بولی تھی۔۔

کیا بول رہی ہو کون سی امی تمہاری ۔۔۔

یہ ماما ہے میری۔۔۔۔

شاویز اب حیرت اندازہ چہرہ دیکھتا بولا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔۔۔

یہ میری ماما ہے سنا تم نے اگر یہ میری ماما ہے تو تمہارے پاس کیسے آ گی اس کا یہی مطلب ہوا کہ دادی نے جو کہا تھا وہ ٹھیک تھا۔۔۔۔

ایکدم روحا چلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

دماغ ٹھکانے پر تو ہو جانتی ہو کس کے بارے میں بول رہی ہو میں اپنی ماما کے خلاف کوئ بھی لفظ نہیں سن سکتا تمہیں اگر کچھ پتہ نہیں تو بولو بھی مت ۔۔۔

اچانک شاویز بھی اسے خود سے دور کیے غصے سے غرایا تھا۔۔۔۔

پھر یہ یہاں کس۔۔۔

میری پھپھو ہے یہ سنا تم نے میں نے ہمیشہ ان سے ماما جیسی محبت کی ہے بلکہ یہ میری ماما ہی ہے دیکھو ان کی حالت پندرہ سالوں سے کوما میں ہے روز ویٹ کرتا ہو کب یہ ہوش میں آے تم اپنی دادی کی باتوں میں آ کر یہ بول گی ہو حد ہے ویسے تم اس عورت کو ماما کہہ رہی ہو ۔۔۔

شاویز اب کوما میں گی گل پارہ کا کمزور سا ہاتھ پکڑتے شدت ضبط سے بولا تھا ۔۔۔

اس کی نیلی آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئ تھی۔۔۔

م۔میری ماما ہے یہ اور یہ سب کیسے ہوا شاویز۔۔۔

روحا کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا بول گی ابھی بھی وہ شوک ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

بابا اور پھپھو پر بابا کے دشمنوں نے حملہ کر دیا تھا ۔۔۔

بابا تو وہی پر اپنی جان کی بازی ہار چکے تھے جبکہ پھپھو کی سانسیں چل رہی تھی۔۔۔۔

جب ان کو ہاسپٹل لے کر گے تو پتہ چلا ماما کوما میں چلی گی ہے ۔۔۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے ان کی سانسیں کسی کے انتظار کے لیے چل رہی ہے ۔۔۔

سالوں سے ان کی دیکھ بھال کر رہا میں کہ شاہد کبھی ہوش میں آتے وہ اپنے شاہو کو پکار لے لیکن بے سود یہ ایسی ہی ہے ۔۔۔

شاویز اب آبدیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

روحا خود بھی آنسو بہاتی اس کے قریب آئ تھی ۔۔۔۔

م۔مطلب تم کزن ہو می۔میرے امی کے وہ بھای کے بیٹے جن کے بارے می۔میں امی نے بتایا تھا ت۔تم وہ شاہو ہو جن سے امی اس دن مل کر آتے بے حد خوش تھی۔۔۔۔

روحا اپنی ماما کا ہاتھ پکڑتی چومتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

لیکن ماما نے تو کہا تھا ان کی کوئ اولاد نہیں پھر یہ سب کیسے تم جانتی ہو کتنے سالوں سے میں ماما کے شوہر کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔

لیکن آج جان کر بہت خوشی ہوئ جس انسان سے میں نے انتقام لیا تھا وہی ماما کا وہ شوہر تھا جیسے اپنی ہی بیوی پر یقین نہ تھا۔۔۔۔

پہلے میں بہت شرمندہ تھا لیکن آج نہیں ۔۔۔۔

روحا بے بی تم نہیں جانتی ماما کو اذایت سے روتے میں نے دیکھا تھا جب وہ بابا کے سامنے روتی تھی ۔۔۔

آج تم بھی یہی کہہ رہی ہو تمہاری دادی نے ٹھیک کہا تھا تم نے کیسے سوچ لیا میری ماما ایسی عورت تھی ۔۔۔

ایک محبت کی ہی شادی کی تھی انھوں نے اس معاشرے نے بہت بری سزا دی میری ماما کو ۔۔۔۔

شاویز ابھی بھی حیرت اور پریشانی سے روحا کا چہرہ دیکھتا کہتا وہاں سے اٹھا تھا۔۔۔

ن۔نہیں وہ میرا مط۔مطلب ن۔۔۔

تمہارا جو بھی مطلب تھا روحا بے بی لیکن اپنی ماں کو دیکھ کر یا مجھے ان کا ماما کہنے پر تمہیں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہے تھا تمہاری امی نے وہی کیا جو تمہاری دادی نے کہا تھا۔۔۔۔

میں سخت ناراض ہو تم سے روحا بے بی حد ہے۔۔۔

اپنے قریب آتی روحا کو دیکھ شاویز سختی سے کہتا روم سے واک آوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔

افففف یہ ناراض ہو گیا۔۔۔۔

روحا پہلی دفعہ اس کی ناراضگی دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

ی۔ہ

یہ دیکھو ہماری ماما عالی زندہ ہے تمہیں پتہ شاویز کی پھوپھو ہے یہ اس نے خیال رکھا ماما کا۔۔۔

روحا روتی ہوئ اب علیشبہ کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔

جیسے وہ خود بھی فون کرتی بلا چکی تھی۔۔۔۔

ہاے مطلب شاہ بھای کزن ہے ہمارے اففف۔۔۔

کافی دیر اس کی بات سنتی علیشبہ خوش ہوتی بولی تھی۔۔

ہاں کزن ہے تم کیوں اتنا خوش ہو رہی ہو ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔

اففف مجھے پہلے ہی کہی لگتا تھا وہ ہمارے کچھ لگتے ہے بس آپ کے سامنے کچھ کہا نہیں ۔۔

ویسے کدھر ہے بھای میں نے ملنا ہے ۔۔۔

علیشبہ ویسے ہی خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔

و۔وہ عالی میں نے ۔۔

روحا شرمندہ ہوتی اسے سب بتا چکی تھی ۔۔۔۔

یہ کیا تھا باجی آپ نے امی کے لیے ایسا کہہ دیا وہ بھی شاہ بھای کے سامنے آپ کو اندازہ ہے وہ کتنا ہارٹ ہوۓ ہو گے آپ کی بات پر ہم سے زیادہ وہ امی کے پاس رہے ہے یہ غلط بات تھی آپ کو منانا چاہے تھا بھای کو۔۔۔

علیشبہ سب سنتے اسے ڈانٹتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

اچھا بس کرو میں منا لو گی اسے بات ختم ابھی میری سنو۔۔

روحا پہلے شرمندہ ہوتے پھر برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

وہ بھی دیکھ چکی تھی کافی دیر سے شاویز روم میں نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

اب منا لینا بھای کو۔۔۔

علیشبہ اسے راضی کرتی بولی تھی۔۔۔

————————————————————

ب

بچاٶ بچاٶ کوئ ہے۔۔۔

روحا لان میں اکیلی ٹہل رہی تھی جب اسے پیلس کے ایک کونے میں بنے کال کوٹھری سے آوازیں آئ تھی۔۔۔

وہ چلتی ہوئ اس کال کوٹھری کے قریب آی تھی۔۔

ہاے بچارے کی کیا حالت کی ہے یہ کون ہے ۔۔

کال کوٹھری کی چھوٹی سی کھڑکی سے اندر دیکھتے روحا شوک سے بولی تھی۔۔۔

جہاں ایک آدمی بکھری حالت زنجیروں سے باندھا مدد مانگ رہا تھا۔۔۔۔

م۔میم آپ جاۓ یہاں سے یہ کافی خطرناک آدمی ہے خان جی نے یہ آرمی والوں کے حوالے کرنا تھا بس یہ جانے والا ہے آپ جاۓ یہاں سے۔۔۔

چار پانچ گارڈز اس کے قریب بھاگتے آتے وہ بولے تھے۔۔۔

مجھے نہیں لگتا یہ خطرناک ہے حالت دیکھو اس کی رحم کرو تمہارے خان تو بے رحم ہے چھوڑو ابھی اس کو۔۔

روحا غصے سے غراتی بولی تھی۔۔۔۔

لیکن م۔۔۔

میری بات مانو ورنہ شاویز سے کہہ کر تم سب کو نکال دو گی جاب سے ۔۔۔

گارڈز پریشان ہوتے بول رہے تھے جب روحا سب کو دمھکی دیتی بولی تھی۔۔۔۔

———————————————————–

آپ ٹھیک ہے شکر ان لوگوں نے ایویں پکڑ لیا آپ جاۓ جہاں سے آتے ہے ۔۔

گارڈز اس کی بات مانتے کال کوٹھری کا دروازہ کھول چکے تھے جب وہ اندر جاتی اسے زنجیروں سے آزاد کرتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں میں ٹھیک ہو تم کون ہو۔۔۔

وہ آدمی شطیانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔

میں شاویز کی ب۔۔۔

روحھھھھھھھھھااااااا ۔۔

کیا حرکت ہے یہ ابھی نکلو یہاں سے۔۔۔

پیسنے سے بھیگا وہ غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔۔

گارڈز اسے فون کرتے سب بتا چکے تھے۔۔۔۔

وہ جم روم سے بھاگا ہوا آیا تھا۔۔۔

جب اسی کوٹھری کے باہر ان دونوں کو دیکھ وہ غرایا تھا۔۔۔

کیوں تم ظلم ڈھاتے رہو اور یہ معصوم۔۔۔

معصوم نہیں ہے یہ سریل کلر ہے یہ اتنا خطرناک بندہ ہے۔۔۔۔

روحا وہی کھڑی بول رہی تھی جب قریب جاتے شاویز دھاڑا تھا۔۔۔

بکواس ہے یہ تم اس کی حالت تو دیکھو کتن۔۔۔۔

ٹھاہہہہہ ہہہہہ۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب اسے اپنے شولڈر کے قریب سے گزارتی گولی پیچھے کھڑے اس آدمی کی گردن کی شہ رگ پر لگی تھی۔۔۔

گولی لگتے ہی وہ آدمی زمین بوس ہوا تھا۔۔۔

روحا کی حیرت سے آنکھیں کھولی تھی اسے امید نہیں تھی شاویز ایسا کام کرے گا۔۔۔۔

ی۔یہ کیا طریقہ تھا اس کو ایویں م۔۔۔۔

بس بہت ہوا ہر دفعہ تم ہی ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ دوسرے بھی ٹھیک ہوتے ہیں ہے۔۔۔

جانتی ہو یہ کیا کرنے والا تھا وہ تمہارے کندھے پر زہر کا انجشکن لگانے والا تھا۔۔۔

پر نہیں تم اپنے آپ کو صیح کہتی ہو بس کبھی عقل بھی یوز کر لیا کرو حد ہے۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب شاویز اس کے پاس آتا کندھوں سے پکڑتے غصے سے بولتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔۔

ش۔شاویز سوری۔۔۔

زمین سے اٹھاتے اس مردہ آدمی کو دیکھ روحا اب حیرت زرہ ہوتی وہی بیٹھتی چلائ تھی ۔۔۔

جب وہ اگنور کیے وہاں سے گیا تھا۔۔۔۔