Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 18)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 18)
Junon Inteqam By Rania Mehar
اففف میں نے کل رات روکا کیوں نہیں شاویز کو ۔۔۔
صبح روحا جاگی تو خود کی حالت دیکھ کر شرمندگی کے مارے خود کو کوستی ہوئ بولی۔۔
کہی مجھے محبت تو نہیں ہو گی ۔۔۔
نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے اویں سوچ ہے میری۔۔۔
روحا جلدی سے اپنی شرٹ ٹھیک کرتی خودی کو کوستی اٹھتی واش روم گی تھی۔۔۔۔
ت۔تمہارے خان کدھر ہے۔۔۔
واش روم سے واپس آ کر روحا روم سے باہر آتی ملازمہ سے پوچھا تھا۔۔۔
و۔وہ خان جی اپنے جم روم میں ہے ۔۔۔
ملازمہ جلدی سے بولتی وہاں سے گی تھی۔۔۔
اچھا۔۔
روحا اب نروس ہوتی اپنی انگلیاں مڑورتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
————————————————————
وہ جو اپنی مخصوص بلیک ٹراوزر اور بلیک ہی ویسٹ میں بیڈ روم سے ملحق جم روم میں پش اپس لگانے نے میں محو تھا ۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی پل بھر کو رکا۔۔۔۔
مگر مڑ کر نہ دیکھا کیونکہ آنے والی ہستی کون ہے اس بات کا اسے اچھے سے اندازہ تھا۔۔۔۔
وہ اسے ویسٹ میں دیکھ واپس مڑنے لگی تھی۔۔۔
و ۔وہ میں جاتی ہو۔۔
روحا پہلی دفعہ اس سے گھبراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
“رکو کہاں جا رہی ہو ؟
اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔۔۔۔
“تم پہلے کپڑے تو پہن لو “روحا منہ دوسری طرف کیے شرمسار لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“”یار ایکسرسائز ایسے ہی کی جاتی ہے ،
اس بار شاویز نے مڑ کر دیکھا۔۔
وہ اسی کے لائے ہوئے بلیک ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔۔
اسے روحا کے دونوں گال لال دیکھائ دے رہے تھے۔۔۔
اس کے لبوں پر مسکان بکھری جس سے اس مردانہ وجاہت کے شاہکار کے گالوں میں پڑے ہوئے ڈمپلز جھلک دکھلا کر غائب ہوئے۔۔۔
“میں جا رہی ہوں “وہ مڑی۔۔
روحا مسلسل اس کی نظروں سے نروس ہوتی واپس جاتی بولی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی اس نے مقابل کی ٹانگ میں پاؤں پھنسائے اسے جھٹکا دیا۔
اور خود پلٹ کر فرش پر سیدھا ہوا۔
وہ اس اچانک پڑی افتاد پر خود کو سنبھال نہ پائی اور لڑکھڑاتی ہوئی اس پر گری۔
وہ اس سچوئیشن کے لیے بالکل تیار تھا ۔۔۔
اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔
کیا ہوا آج میری شیرنی بھگی بلی کیوں بنی ہے ۔۔۔
شاویز اس کی آنکھوں پر پھونک مارتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
خوف کے باعث پورے بدن میں کپکپی طاری ہوئی۔
شاویز کو اتنا نزدیک محسوس کرتے وہ ڈری تھی۔۔۔
وہ اُس کے اس طرح لرزنے پر کان کے قریب اپنا چہرہ کیے سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔
“میری جانم ڈری ہوئی ہے “؟
اس کے دونوں ہاتھ تھام کر وہ نرمی سے سوال کر رہا تھا
روحا نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔۔
ب۔بلکل نہیں میں کیوں ڈرو گی۔۔۔
روحا ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاتھ میں موجود چوڑیوں کی کھنک سے سارا کمرہ جھنجھنا اٹھا۔۔۔
تم نے چوڑیاں پہنی ہے واہ ہ۔۔۔
شاویز اس کی کلائیاں چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
جس کو وہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔
دونوں بازوں کا حصار باندھ کر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ویسے رات جو کچھ ہوا میں ایسا نہیں چاہتا تھا سوری روحا بے بی ۔۔۔۔
روحا بے بی میری طرف دیکھو مجھے دیکھو میں وہی تمہارا شاویز ہو ۔۔۔
شاویز اسکے ریڈیش بال سہلاتے بولا تھا۔۔۔
پ۔پچھے ہو ۔۔۔
روحا جلدی سے اٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اففف روحا بے بی گھبرا گی۔۔۔
خفت کے مارے معصوم سے چہرے پر گلال ٹوٹ کر بکھرا تھا ۔۔۔
وہ اس سے اپنا آپ چھڑواتی ہوئی کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
“ایکسرسائز تو تم نے مس کردی اب نیکسٹ کلاس سٹارٹ وہ بھی اپنا جگہ سے اٹھ کر بولا۔۔۔
م۔میں جا رہی ہو بی جان کے پاس۔۔۔
روحا جلدی سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
“
“چلیں تو پھر زرا دماغ کو چھوڑ کر آج زرا دل کی باتیں نہ ہو جائیں
۔وہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے خمار آلود آواز میں بولا۔ اس وقت اس کی پشت اس کے سینے سے چھو رہی تھی اور اس کی گرم سانسیں اس کی گردن کو جھلسائے دے رہی تھیں۔
شاویز سمجھ گیا تھا وہ گھبرا رہی ہے تبھی وہ جان بوجھ کر اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔
اس کے پل پل بدلتے روپ اور حد درجہ قربت پر وہ سوکھے پتے کی مانند کانپنے لگی۔
شاویز نے نرمی سے اس کی گردن پر اپنے دہکنے لب رکھتے گردن پر سہلایا تھا۔۔۔۔
روحا نے اپنی آنکھیں زور سے میچیں۔۔۔۔
گردن اس کے پر حدت لمس سے جھلسنے لگی تھی ۔۔۔
شاویز بھی مدہوش ہوتا اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔۔۔
روحا کا دل زورں و شوروں سے دھڑک رہا تھا ایسے لگا اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔۔
خ۔خان جی شاہو کھانا نہیں کھا رہا۔۔۔۔
اس سے پہلے اسے تنگ کرنے کے لیے شاویز کچھ اور کرتا جب جم روم کے باہر کھڑا ملازم نے ڈرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
تم جاو میں آتا ہو۔۔۔
شاویز اچانک سنجیدہ ہوتا روحا کو چھوڑتے وہ بولا تھا۔۔۔۔
پیسنے سے بھیگی روحا جلدی سے تیز دھڑکنوں کے ساتھ وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔
————————————————————
سائیں آپ بہت تنگ کرتے ہے ۔۔۔
علیشبہ ابھی باتھ لے کر آئ تھی جب پھولے منہ سے بولی تھی۔۔۔۔
میں نے کیا کیا یار۔۔۔
دلاور معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
میرے کپڑے وہاں سے کس نے آٹھاۓ تھے۔۔۔
علیشبہ باتھ روب میں ملبوس اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ نے اٹھاۓ تھے میں تمہیں چینج ک۔۔۔۔
کیا چینجججججج۔۔۔۔
دلاور اس کے قریب آتا مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب علیشبہ آنکھیں بڑی کرتی چلائ تھی۔۔۔۔
کیوں نہیں کروا سکتا کیا دیکھو اتنی آسانی سے ہو جاۓ گے۔۔۔
دلاور نزدیک آتا روم کی ساری لائٹس آف کیے نرمی سے اس کا باتھ روب شولڈر سے اتارے وہاں اپنے لب رکھتا بولا تھا ۔۔
س۔سائیں ن۔نہ کرے پلیز۔۔۔
علیشبہ اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاے اسی ادا پر میں مرنے مٹنے کو تیار ہو سائیں کی جان ۔۔۔
چلو ریلکس ہو کر چینج کر لو۔۔۔
دلاور نرمی سے اس کے لبوں کو چومتا روم سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب علیشبہ بھی شرماتے ہوۓ اپنے کپڑوں کو لے وراڈب روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔
————————————————————
راحیل میں تم سے بہت محبت کرتی ہو ۔۔۔
شاویز اپنے آفس کی فائلز چیک کر رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ کیا۔۔۔
مسیچ سین کرتے شاویز کو شدید غصہ آیا تھا۔۔۔
اففف روحا بے بی میں بھی تم سے محبت کرتا ہو بہت دل چاہتا ہے تم سے ملنے کو۔۔۔
شاویز نے اب راحیل کا مسچ چیک کیا جس کے ساتھ اس نے کس ایموجی بھی یوز کیا تھا۔۔۔۔
شاویز سے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ شدید غصے سے اپنے روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔
———————————————————–
دیکھو بیٹا شوہر ایک بیوی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے میں جانتی ہو شاہو نے جو بھی کیا تھا وہ اچھا نہیں تھا لیکن تم ایک کوشش کا موقع دو مجھے امید ہے وہ تم سے اچھے سے رہے گا۔۔۔۔
میں نے ہمیشہ شاہو کی دیکھ بھال کی ہے وہ بہت معصوم ہے دنیا کے سامنے مضبوط دیکھنے والا حقیقت میں ایک کمزور دل کا مالک لڑکا ہے ۔۔۔
تم اسے سہارہ دو پیار دو پھر دیکھنا وہ تمہارے قریب آ جاۓ گا وہ ویسا شاہو نہیں بنے گا جیسا تمہارے ساتھ بن کر اس نے اپنا انتقام لیا تھا۔۔۔
بی جان روحا کی ساری بات سنتی نرمی سے اسے سمجھا رہی تھی۔۔۔
پ۔پتہ نہیں بی جان میرا دل کہتا ہے میں اسے معاف کر دو لیکن وہ سب یاد کرتے میرا دل مانتا ہی نہیں پتہ نہیں آجکل میری فیلگز بھی عیجب ہو رہی ہے۔۔۔
روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو جاۓ گا تم بس اسے ایک موقع دو ۔۔۔
بلکہ سج سنوار کر رہو یہ کیا ہر وقت بکھری حالت میں رہتی ہو ایک خان کی بیوی ہو خانم بنو اس کی پھر دیکھنا میرا شاہو ایک اچھا انسان بن جاۓ گا۔۔۔۔
بی جان اس کے بکھرے بالوں کو سنوارتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جی بی جان۔۔۔
روحا حامی بھرتی ہوئ اپنے روم میں گی تھی۔۔۔
————————————————————
کیا کرو میں اپنا۔۔۔
روحا اپنے بالوں کو پکڑتے شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی بولی تھی۔۔۔
اب اتنی بھی بری شکل نہیں میری جو وہ شاویز خان کو تیار ہو کر بتاٶ۔۔۔
اہنہہ۔۔۔
روحا روم
آتے شاویز کو دیکھتے برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
جو اندر آتا اب سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔
ب۔ن۔بند کرو اس زہر کو مجھے نفرت ہے اس سے تم سن رہے ہو میری بات ۔۔۔
مجھے یہ اچھی نہیں لگتی شاویز خان۔۔۔
روحا سگریٹ کا دھواں برداشت کرتی بامشکل سانس لیتی بولی تھی۔۔۔۔
تمہیں تم کچھ بھی نہیں پسند تو کیا جینا چھوڑ دے۔۔۔
شاویز ویسے ہی سگریٹ پیتا اسے کمر سے پکڑے سگریٹ اس کے لبوں کے پاس لاتا سردمہری سے بولا تھا ۔۔۔
ک۔کیا حرکت ہے یہ شا۔۔۔
ویسے میں سوچ رہا تھا کیا کمی رہی میری محبت میں جو تم دوسرے شخص کے پاس م۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہ۔۔۔
انہہہہ اہہہہ ۔۔
شاویز اپنی سگریٹ اس کے لبوں کے قریب لاتا بول رہا تھا جب روحا دانت پیستے غرای تبھی شدید غصے سے اپنی سگریٹ اس کے لبوں پر لگائ تھی۔۔۔
جب روحا چیخی تھی۔۔۔
جانور ہو تم پورے کے پورے جب جب سوچو تمہیں موقع دو تو پھر اپنی اوقات بتا دیتے ہو۔۔۔۔
اپنے جلتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی آنکھوں میں آنسو لاتی روحا اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔
رو۔روحا بے بی سوری میری جان۔۔۔
شاویز نے جب دیکھا اس نے کیا کر دیا تبھی پریشان ہوتا اب اسے بیڈ پر بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔
اہہہہ ڈرامہ ہے تمہارا چھوڑو مجھے پہلے درد دیتے ہو پھر سوری مانگ لیتے ہو۔۔۔۔
روحا اسے خود سے دور کرتی روم سے بھاگتی بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
سنو میری بات یہ شاویز کس کے روم میں جاتا ہے ۔۔۔
کافی دیر لان میں چکر لگاتے روحا اب ہال میں آتی ایک روم میں شاویز کو جاتا دیکھ ملازمہ سے پوچھا تھا۔۔۔
و۔وہ م۔میم۔ہم بیلو لائن سے پوچھے بنا نہیں بتا سکتے ۔۔۔
ملازمہ سر جھکاۓ بولی تھی۔۔۔
کیااااا ہاہاہااہاہاہاہہاہاہاایا۔۔۔
سیرسیلی یہ لائن ہے افففف یہ انسان تو بلی کو دیکھ کر چیخے مارے تم لوگ اسے لائن کہہ رہے ہو۔۔۔
ارے یار یہ جھوٹ کس نے بولا اب یہ بزدل انسان لائن ہے ارے یہ بلی بھی نہیں لگتا ۔۔
ہاہاہہاہااہاہااہاہا۔۔۔
روحا ملازمہ کی بات سنتی پاگلوں کی طرح قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔۔۔
و۔وہ۔م۔میم سر شا۔۔۔۔
ملازمہ اب اس کے پیچھے کھڑے شدید غصے میں شاویز کو دیکھتی بول رہی تھی جب روحا بولی تھی۔۔۔
ارے چھوڑو اس چوہے سے کون ڈرتا ہے میں تو بلکل نہیں ڈرتی ۔۔
یہ موٹا انسان ایک چوہے سے تو ایسے ڈرتا تھا کہ ب۔۔۔۔
روحا اب مسلسل مذاق بناتی بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر شاویز کی انگلیاں محسوس ہوئ ۔۔۔
اس کا اوپر کا سانس اوپر رہ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ ملازمہ بھی حیرت سے دیکھ رہی تھی ہونا کیا ہے اب۔۔۔
