Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 16)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 16)
Junon Inteqam By Rania Mehar
وہ یونیورسٹی کے باہر کھڑی ہو کر اس کی بلڈنگ کو بیزار سی شکل بناۓ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کیونکہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا آخری دن پورا ہوگیا تھا ۔۔
آج روحا کی کلاس کا فرسٹ ڈے تھا ۔۔۔
اس نے یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف قدم بڑھایے تھے۔۔۔
ابھی وہ اینٹر ہو کر مڑتی ہے کے ایک لڑکے سے ٹکرا گئی تھی ۔۔۔
عدیل جو اپنی اسائنمنٹ جمع کروانے جلدی جلدی جا رہا تھا کسی سے ٹکرانے کی وجہ سے اسائنمنٹ نیچے گر گئی تھی ۔۔
“اندھے ہو نظر نہیں آتا کیا پاگل انسان”
روحا اپنے گلاسز سیٹ کرتی غصے سے بولی ۔۔
“اوۓ میڈم ایک تو چوری اوپر سے سینا زوری چشما ٹو ۔۔۔
وہ روحا کو دیکھ کر بولا تھا۔۔
جس نے بلیک وائٹ کنٹراس میں ٹراؤزر اور شرٹ پہنی تھی جس کے بال دوبٹے میں چھپے ہوئے تھے لیکن گرے آنکھیں بہت خوبصورت تھی جس پر لگے گلاسز سے کوئ بھی شخص ان میں کھو سکتاتھا ۔۔
جیسے دیکھتے عدیل بھی دو پل کے لیے حیران ہوا تھا۔۔۔
“اوے ہوۓ آسٹریلین بندر بھی باتیں کر رہا ہے۔”
روحا کو شدید غصہ آیا تھا اس شخص پر اوپر سے چشما ٹو بول دیا اس نے تو جواباً وہ بھی اس کا نام رکھ چکی تھی ۔۔
عدیل نے غصے سے روحا کو بازو سے پکڑ کر اپنے بلکل قریب کیا ۔۔۔
تو وہ اور زیادہ غصے میں آ گی تھی ۔۔۔
“لڑکیوں کو اتنی بکواس نہیں کرنی چاہیے سمجھیں”
وہ اس کے کان کے بلکل قریب آہستہ سے سرگوشی کرتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
روحا نے اسے دھکا دے کر اس کے ہاتھ سے اسائنمنٹ لے کر پھاڑ دی تھی ۔۔
وہ ایک دم شاکڈ سا ہو گیا تھا اس کی محنت سے بنائی گئی اسائنمنٹ وہ ایک دم سے چیخ پڑا تھا ۔۔
” آئندہ میرے منہ مت لگنا اس سے بھی برا کروں گی میں اور مجھے عام لڑکی نہ سمجھنا کبھی”
شاویز خان کی بیوی ہو میں سمجھے تم ہاتھ کاٹ کر رکھ دو گی انہہ۔۔۔۔
روحا اسے بولتی اپنے گارڈز کے ساتھ اپنی کلاس کی طرف چلی گی تھی۔۔۔
خ۔خان کی بیوی یہ ۔۔
عدیل شاویز کا نام سنتا کانپتا ہوا بولا تھا۔۔۔
عدیل چوہدری اسی کے گاٶں کا لڑکا تھا جس گاٶں کا سردار شاویز خان تھا۔۔۔۔
ہاے یہ اب خان کو شکایت لگاۓ گی اففف میں بھی پاگل چل بیٹے سوری کر لے ورنہ اس یونی میں پڑھنا تیرا خواب رہے گا۔۔۔۔
عدیل کچھ سوچتا ہوا اس کے پیچھے بھاگتے بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
غصہ کرنا ضروری تھا کیا روحا بے بی ۔۔۔
روحا ابھی کلاس میں آئ تھی جب آگے بھی سر نے اس کی انسلٹ کر دی تھی یہ کہہ کر وہ لیٹ کلاس میں آی ہے تبھی اب غصے سے شاویز کو فون ملاتی بلا چکی تھی ۔۔
تبھی وہ پاس آتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
میں نے نہیں پڑھنا گھر چلو۔۔۔
روحا اپنا سرخ چہرہ لیتی بولی تھی۔۔۔
چلے جاۓ گے پہلے کلاس لو ۔۔۔
شاویز بیلو تھری پیس پہنے اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بلیک گلاسز لگاۓ اُونچا لمبا قد کسرتی جسم صاف شفاف چہرہ نیلی آنکھیں گالوں پر پڑتے ڈمپل اپنی بھر پور پرسنلٹی لیے وہ ہر لڑکی کو اگنور کیے بس اپنی روحا بے بی کے لیے آرام سے کھڑا سب سن رہا تھا۔۔۔۔
تم میری بات نہیں مانو گے خان۔۔
روحا کو یہ پڑھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا تبھی وہ اب اس کے سینے سے لگے لاڈ سے بولی تھی۔۔۔۔
شاویز یہی پر پگھلا تھا ۔۔۔
اچھا آ جاٶ لیکن کل تم آٶ گی ضرور۔۔۔
شاویز اسے کمر سے پکڑے کلاس سے باہر لے کر جا رہا تھا۔۔۔
السلام و علیکم خان ج۔جی کیسے ہے ۔۔
عدیل اپنی کلاس سے باہر آ رہا تھا جب سامنے سے آتے شاویز کو دیکھ پاس جاتا ہکلاتا بولا تھا کیونکہ روحا اسے ہی گھور رہی تھی۔۔۔۔
وعلیکم السلام ٹھیک ہو تم بھی یہی پڑھتے ہو ۔۔
شاویز اس سے ہاتھ ملاتا مسکراتے بولا تھا۔۔۔
جی اگر تمہاری بیوی مجھے یہاں پڑھنے دے ۔۔۔
کیا بول رہے ہو۔۔۔
عدیل گردن جھکاۓ بڑبڑایا تھا جب شاویز بولا تھا۔۔۔۔
ارے کچھ نہیں خان تم سناٶ بی جان کیسی ہے ۔۔۔
عدیل بات بدلتا بولا تھا۔۔۔
بی جان سے مل لینا ویسے بھی اپنے پوتے سے ملنا چاہتی تھی تم آ جایا کرو حویلی تمہاری بھی ہے ۔۔۔
شاویز اب اس سے گلے ملتا ہوا بولا تھا۔۔۔
روحا ابھی بھی اسے ہی گھور رہی تھی۔۔۔
جی۔۔
عدیل حامی بھرتا جلدی سے گیا تھا۔۔
یہ کون تھا مجھے اچھا نہیں لگا خان ۔۔۔
روحا دور جاتے عدیل کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔
یہ بی جان کا پوتا ہے وہی بی جان جنھوں نے امی کے بعد مجھے سبھنالا تھا۔۔۔
شاویز اسے کار میں بیٹھاتا بولا تھا۔۔۔
ہممم۔۔۔
روحا اب خاموش ہو چکی تھی۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا عالی طعیبت ٹھیک نہیں کیا ۔۔۔
دلاور بیڈ پر نڈھال سی علیشبہ کو بیٹھے دیکھ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
پتہ نہیں سائیں الٹیاں آ رہی کافی میں نے تو کچھ
کھایا بھی نہیں ایسا ویسا ۔۔۔
علیشبہ دلاور کا ہاتھ پکڑتے رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
اففف یار پہلے بتاتی چلو آٶ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے ۔
دلاور اسے پکڑتا کھڑا کرتا بولا تھا۔۔۔
نہیں زرا ہمت نہیں چل پاٶ میں ٹھیک ہو جاٶ گی ا۔۔۔
علیشبہ منع کرتی بول رہی تھی جب دلاور اسے گود میں آٹھاۓ باہر لے گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ایسی حالت میں یہ سب ہو جاتا ہے اب آپ زیادہ خیال رکھے اپنا ۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر علیشبہ کا چیک اپ کرنے کے بعد مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
کیا ہوا عالی کو مجھے سمجھ نہیں آیا۔۔
دلاور ابھی بھی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
مسز دلاور پریگنٹ ہے۔۔
لیڈی ڈاکٹر ایک بار پھر بولی ۔۔۔
کیاااااااا مطلب میں بابا بنے والا ہاے کتنی بڑی خوشی دی ہے عالی میری جان۔۔۔۔
علیشبہ تو سنتے ہی شرمائ تھی جبکہ دلاور خوشی سے پاگل ہوتا ادھر ہی علیشبہ کو گود میں اٹھاۓ جھولے دینے لگ گیا تھا۔۔۔۔
ک۔کیا کر رہے ہے ڈاکٹر ہے کچھ تو لحاظ کرے۔
علیشبہ شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
کوئ بات نہیں مسز دلاور یہ بات ہی اتنی خوشی والی ہوتی ہے بس آپ انجواۓ کرے ۔۔۔
ڈاکٹر کہتی خودی اپنے کیبن سے باہر نکل گی تھی۔۔۔
شکریہ میری جان اتنی بڑی خوشی دینے کا ۔۔۔
دلاور علیشبہ کو گود سے اتارے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آپ خوش ہے۔۔۔
علیشبہ نے سوال کیا۔۔۔
ارے پاگل میں بے حد خوش ہو اتنا زیادہ بتا نہیں سکتا اب تمہیں خیال رکھنا ہے۔۔۔
دلاور اس کے ہاتھ چومتے ہوۓ اب اسے ہدایت دیتا بول رہا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ادھر آٶ زرا سارے یہ اتنی لمبی لمبی زلفوں کا فائدہ بتاٶ اپنا ۔۔۔
روحا ہال سے باہر آتی لان میں آتی دس بارہ گارڈز کو دیکھتی بولی تھی جس کے بال کافی لمبے تھے۔۔۔
جی بیگم ص۔۔۔
ارے اتنی بوڑھی نہیں ہوئ میں جو اتنے بھاری نام سے پکارتے ہو مجھے روحا کہہ لیا کرو۔۔۔
گارڈ سر جھکاے بول رہا تھا جب وہ بولی تھی۔۔۔
اچھا یہ لمبی لمبی زلفیں رکھنے کا فائدہ اتنے برے لگ رہے ایسا کرو سب کاٹوا دو ۔۔
اچھے اچھے بن کر رہو۔۔۔
روحا اب ان سب کا حیلہ دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ج۔جی میم ۔۔۔
سب نے سر جھکاۓ حامی بھر لی تھی۔۔۔۔
ہاں ایسا ہی کرو سچی ورنہ دور سے مجھے عورت ہی لگتے تھے اتنے بالوں سے ۔۔۔
آٶ میں گوگل سے دیکھ کر تم سب کی لک بتاٶ گی ۔۔۔۔
روحا اب سب کو لے اندر لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ سارے گارڈ ڈر رہے تھے شاویز کو پتہ چلا تو کیا ری ایکٹ کرے گا۔۔۔
———————————————————–
آہہہہ آہہہی اہہہہہہ۔۔۔۔
شاویز اپنے اسٹڈی روم میں تھا جب اسے روحا کے چلانے کی آواز سنائ دی تھی۔۔۔
ک۔کیا ہوا روحا بے بی ۔۔۔
شاویز ننگے پاٶں باہر آتا بولا تھا جہاں سے روحا بھاگتی ہوئ اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔
دونوں کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی۔۔۔
شاویز شاویز میں آنی بنے والی ہو ہاےےےےے۔۔۔
میری عالی کے بچے ہو گے ہاے میں سبھنالو گی ان کو میں بنو گی ان کی آنی ۔۔۔
روحا خوشی سے چیختی اچھلتی ہوئ بول رہی تھی۔۔۔
ی۔یہ تو بہت اچھی بات ہے تم خوش ہو۔۔۔۔
شاویز اسے مسکراتا دیکھ بولا تھا۔۔۔۔
بہتتتت زیادہ بلکہ ہم دونوں شاپنگ کرنے جاۓ پھر رات کو ان دونوں کا ڈنر رکھ دے گے کیسا۔۔۔
روحا اسے اب اپنا پلان بتا رہی تھی۔۔۔۔
ہاں ضرور تم تیار ہو جاٶ پھر جاتے ہم شاپنگ کرنے ۔۔۔
شاویز اسے خوش دیکھتا خود خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
روحا تو چلی گی لیکن اب اپنے ہی پیلس کے گارڈز دیکھتا شاویز کا حیرت سے منہ کھولا تھا۔۔۔۔
یہ سب کس نے کیا جو تم سب کی حالت ایسی بنی ۔۔
شاویز انہیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ خان جی یہ سب میم نے کیا۔۔۔۔
وہ گارڈ جو پہلے لمبے لمبے بالوں میں گھومتے تھے آج اچھے سے سوٹ پہنے چھوٹے چھوٹے بالوں کے ہیئر سٹائل میں وہ سوبر لگ رہے تھے ۔۔
تبھی گارڈ ہکلاتا بولا تھا۔۔۔۔
ہممم اچھی بات ہے پیارے لگ رہے ہو ۔۔۔
شاویز اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
خان ج۔جی وہ بی جان آئ ہے۔۔۔
ایک گارڈ اندر آتا ڈرتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اووو شیٹ بی جان آ گی ہاے روحا کو دیکھے گی تو کیا کہے گی ۔۔۔
شاویز اب پریشان ہوتا سوچا تھا۔۔۔
کہاں ہے بی جان۔۔
وہ آپ کے روم میں چلی گی ہے۔۔۔
اففف روم میں روحا بے بی ہے ۔۔۔
گارڈ کی بات سنتا اب شاویز اپنے روم کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
