Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 15)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 15)
Junon Inteqam By Rania Mehar
”چشمش پانی لاکر دینا “
شاویز صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا روحا کو زور زور سے پکار لگا رہا تھا ۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوٸی تو یہ دیکھ اس کے ہوش اڑے کے جو کمرہ ابھی وہ پانچ منٹ پہلے اچھی طرح صاف کر کے گی تھی ۔۔
وہ اب پھر سے بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔
پورے بیڈ پر کپڑے تھے۔بیڈ کی چادر زمین بوس تھی ۔۔
صوفے کے کشن بھی زمین کا مزا چک رہے تھے۔۔پرفیومز کی ساری بوتلوں کے کیپ تک کھولے پڑے تھے۔۔
باتھ روم کی ٹاول کمرے کے مین دروازے پر لٹک رہا تھا۔
چپس ۔۔بسکٹ ۔۔نمکو کے خالی ریپر پورے کمرے میں بکھرے نظر آرہے تھے۔۔
شاویز کا پورا کمرا کچرا خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
۔جیسے دیکھ وہ اب شاویز پر پیچ و تاب کھا رہی تھی جو اسے دیکھتے ہی پیاری سی دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اپنی ٹانگیں سامنے شیشے کی میز پر رکھ کر اس کے غصے سے لطف اندوز ہونے لگا۔۔۔۔
”پہلے پانی لادو مجھے ۔۔
۔پھر صاف کر لینا ۔
روحا اسے اگنور کیے کپڑے ہیگ کرنے جا رہی تھی ۔۔۔
“شاویز اسے غصے میں کپڑے ہینگر کر کے الماری میں رکھتا دیکھ۔۔۔۔ مزید مرچیں لگانے کے لٸے بےصبرا ہوکر گویا ہوا۔۔۔۔۔
جس پر جوأبًا روحا نے غرا کر دیکھا ۔۔۔۔۔
”ایک منٹ ۔کمرہ تم نے گندا کیا ہے تو صاف میں کیوں کر رہی ہوں ؟؟؟۔
روحا کا پارا ھاٸی ہوگیا تھا شاویز کو یوں ہنس ہنس کر ٹی۔وی پر شو دیکھتے ہوۓ ۔۔
وہ ٹی ۔وی اور اس کے درمیان حاٸل ہوکر ۔دونوں ہاتھ فولٹ کر اسے تیمور چڑھاۓ ۔کھاجانے والی نگاہ سے گھورتے ہوۓ استفسار کرنے لگی۔۔۔۔۔
”تو کس نے کہا ہے میری بیوی بنو ۔؟؟؟
دوست بھی بن سکتے ہے ہم چشمش ۔۔
۔اب سامنے سے ہٹو ۔۔۔۔میرا شو مِس ہورہا ہے۔۔۔“شاویز لاپرواہی سے گویا ہوا۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا روحا لڑے باتیں کرے اس سے ایسے خاموش نہ رہے تبھی وہ یہ سب کر رہا تھا۔۔۔
تم میرے پہلے دوست تھے اب نہیں
”تم اب نہایت ہی بےحس انسان ہو ۔۔۔“وہ دانت پیستے ہوۓ کہ کر اسے گھورنے لگی۔۔۔
”اوووو۔۔۔بے حِس۔۔۔۔۔سننے میں تو مزےدار ساؤنڈ کر رہا ہے۔
زبردست شاویز ۔۔۔۔
آج تم نے اپنے القابات میں ایک نٸے لقب کا اضافہ کر لیا۔۔۔۔ آئی ریلی پراؤڈ آف یو۔۔۔“شاویز فخر سے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے خود کو داد دینے لگا۔۔۔۔۔
پاگل ہو گے ہو تم عیجب انسان۔۔
روحا بیزار ہوتی باہر جاتی بولی تھی ۔۔
”اچھا سنو چشمش ۔۔۔۔پانی تو لادو یار “شاویز مسکراتے ہوۓ مزید تپانے لگا۔۔۔۔
”زہر لا دوں ؟؟؟“وہ جل کر بولی۔۔
تو شاویز مسکراتے ہوۓ۔۔۔۔”بلکل میں تو خود چاھتا ہوں ۔۔۔
ایک کام کرٶ چاۓ میں ملاکر دے دو۔
بس چینی زیادہ رکھنا موت بھی میٹھی میٹھی آۓ تو مزا آجاۓ گا موت کا “۔
اس نے ایک لمبی سانس لیتے ہوۓ پرسکون انداز میں کہا تو روحا منہ بسور پاٶں پٹکتی ہوٸی چلی گٸی۔۔۔۔
کیا ہوا چشمش تم نے ارادہ کینسل تو نہیں کر دیا نا مجھے زہر دینے کا؟؟؟۔۔۔“اس کے سوال پر روحا کا دل چاہا اس کی چٹنی بنا ڈالے۔۔۔۔
”اگر تم مجھے اسی طرح تنگ کرتے رہے تو مجھے یقین ہے میں نے ایک دن خونی ضرور بن جانا ہے۔۔۔۔“
روحا واپس آتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی۔۔۔
شاویز روحا کو اپنی ٹون میں آتا دیکھ بہت خوش ہوا تھا۔۔۔
”ویسے ۔۔۔۔صبر کا لیویل کیا تمھارا ؟؟؟
شاویز تجسس سے استفسار کرنے لگا۔۔۔۔
”کیوں تمھیں کیوں جاننا ہے ؟؟؟“
وہ کام چھوڑ تفتیشی افسران کی طرح کی تیمور چڑھائے پوچھ رہی تھی اپنی نازک کمر پر ایک ہاتھ ٹیکاتے ہوۓ۔۔۔۔
”کیونکے جب تمھارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گا تبھی تو مجھ بیچارے ہینڈسم سے لڑکے کو زہر ملے گا ۔۔۔۔
“شاویز نے معصومانہ چہرہ بناتے روحا کو کمر سے پکڑتے کہا تھا ۔۔
فکر مت کرو میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی ۔۔
روحا شاویز کے گال پر ڈمپل دیکھتی سکون سے بولی تھی۔۔
روحا میں ایک کوشش اور کرنا چاہتا ہو اگ۔۔
اگر تم اس میں بھی فیل ہو گے تو کیا کرو گے شاویز ۔۔۔
شاویز اپنے لب اس کے گال پر رکھتا بول رہا تھا جب روحا دور جاتی بولی تھی۔۔۔۔
تم جو سزا دو گی مجھے منظور ہوگی ۔۔
شاویز مسکراتا بولا تھا۔۔۔
ہمممم چلو میں کام کر لو۔۔۔
روحا پیچھے ہوتی بولی تھی اس نے شاویز کو ایک موقع دیا تھا وہ دیکھنا چاہتی تھی وہ کتنا بدل گیا ہے ۔۔
————————————————————
یہ میری جان کا جو گھونسلہ ہے کس نے کھلا ہے ۔۔۔
علیشبہ باتھ لیتی اب اپنے خشک ہوۓ بال بنا رہی تھی جب دلاور اسے بیک ہگ کیے مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
کیونکہ کمر تک آتے بال علیشبہ کے کرلی تھی۔۔۔
کیا ہے سائیں باجی بناتی تھی بال مجھے بنانے نہیں آ رہے اب یہ گھونسلہ بند ہی نہیں ہو رہا۔۔۔
علیشبہ اپنا رخ دلاور کی طرف کرتی جنجھلاتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا میں بنا دیتا ہو
دلاور اسے کرسی پر بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔
سائیں میں سوچ رہی تھی باجی کو ماہم کا بتا دو مطلب یہ بھی ان کی آئ ڈی کا پاسورڈ اس کے پاس ہ۔۔۔
روحا کی آی ڈی چلتی ہے کیا ۔۔۔
علیشبہ بول رہی تھی جب دلاور بولا ۔۔۔
نہیں باجی نے دو سال پہلے ہی ایف بی آف کر دی تھی وہ یوز نہیں کرتی اب ۔۔۔۔
علیشبہ سوچتی بولی تھی۔۔۔
پھر ریلکس رہو اگر روحا نے ہی بند کر دی تو بتانے کا فائدہ ابھی ہی تو وہ سہی ہوئ ہے خان کے ساتھ۔۔۔
دلاور اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔
علیشبہ بھی اپنے بالوں کی اچھی سی پونی بنتے دیکھ دلاور کے سینے سے لگتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
یہ یونی کا فارم ہے تمہارا ایڈمشن کروا دیا تم جایا کرنا ۔
روحا صوفے پر بیٹھی فون میں بزی تھی جب شاویز فارمز لاتا بولا تھا ۔۔۔
میں کہی نہیں جا رہی ویسے بھی پڑھنے کا فائدہ شادی تو ہو گی میری ۔۔۔
روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
یار چلی جاٶ تمہاری اسٹڈی کمپلیٹ نہیں ہوئ تھی یہ تو کم از کم کر لو ویسے بھی یہاں کام ہی کتنے ہے یا تم مڈل کلاس کی بہو ہو ایک امیرزادے شاویز خان کی بیوی ہو جہاں نوکروں کی ایک فوج حاضر ہے تم سب یہ کام کرو ۔۔۔
شاویز زبردستی فارمز اسے دیتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا کر لو گی اور کچھ۔۔۔
روحا راضی ہوتی بولی تھی۔۔۔
اففف شکریہ روحا بے بی ۔۔۔
شاویز بے قابو ہوتا اس کے گال چومتا بولا تھا۔۔۔
س۔سوری۔۔۔
اس کے گھورنے پر شاویز کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تبھی سر جھکاۓ وہ بولا تھا۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
روحا دوبارہ فون میں بزی ہو چکی تھی۔۔۔
————————————————————
ہاے راحیل کیسے ہو۔۔۔
شاویز اپنا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ کیا جیسے ہی اس نے مسیچرر آن کیا اسے ایک گروپ میں کسی نے انوائٹ کیا تھا ۔۔۔
جیسے ہی اس نے گروپ مسیچ دیکھا وہ روحا کا تھا راحیل کے لیے ۔۔۔
یہ روحا بے بی کی کبھی تو بنی نہیں راحیل سے اور یہ سب۔۔۔۔
سامنے صوفے پر بیٹھی روحا کو مسلسل فون میں بزی دیکھ شاویز نے سوچا تھا۔۔۔۔
خیر ویسے بھی بات کر سکتے ہے اب مجھے روحا بے بی پر یقین کرنا ہے پھر کیا ہوا اگر راحیل سے بات کر رہی وہ۔۔۔
شاویز دوبارہ گروپ میں اب روحا اور راحیل کی چیٹ دیکھتا خود کو تسلی دیتا بولا تھا۔۔۔۔
یہ تو وقت بتانے والا تھا شاویز ایک بار پھر بڑی غلطی کرنے جا رہا تھا۔۔۔۔
