Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 14)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 14)
Junon Inteqam By Rania Mehar
یا اللہٌمجھے معاف کر دے میرا گناہ معاف کر دے میں جانتا ہو کتنا بڑا گناہگار ہو میں ۔۔
میرا ہر گناہ معاف کر دے مجھے میری روحا واپس کر دے میں وعدہ کرتا ہو کبھی اسے کوئ تکلیف نہیں دو گا ۔۔۔
میں اپنی ہر غلطی کا ازلہ کرو گا میں کیسے بھول گیا امی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ ان کی قسمت میں تھا ۔۔۔۔
مجھے گناہگار بندے کو روحا سے ایسا انتقام نہیں لینا چاہے تھا ۔۔۔
مجھے معاف کر دے میرے رب ۔۔۔
شاویز نماز پڑھنے کے بعد روتے ہوۓ دعا مانگ رہا تھا جبکہ دلاور خود بھی اسے روتا دیکھ آبدیدہ ہو رہا تھا۔۔۔۔
بس کر یار جو ہونا تھا ہو گیا اب روحا کو پرانی والی بنا اسے تنگ کر تم ایسا کرو اسے یونی میں ایڈمیشن لے دو دیکھنا ٹھیک ہو جاۓ گی ۔۔۔۔
دلاور اسے حوصلہ دیتا بولا تھا۔۔۔
ہممم کوشش ک۔۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔
شاویز بول رہا تھا جب اس کے گارڈ کا فون آیا تھا۔۔۔۔
تبھی وہ سرد پن سے بولا تھا۔۔۔
و۔وہ خان جی۔م۔میم گھر نہیں ہے ا۔۔۔۔
اچھا ٹھیک۔۔۔
گارڈ بول رہا تھا جب شاویز بات کرتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا سب خیریت ہے ۔۔۔
دلاور نے پریشان ہوتے پوچھا تھا۔۔۔۔
ہاں روحا چھوڑ گی مجھے ۔۔
شاویز سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
تم ڈھ۔۔۔
نہیں یار اب نہیں میں دیکھنا چاہتا ہو وہ واپس آتی یا نہیں میں اس کا شاہ بنا چاہتا ہو ۔۔۔
دلاور بول رہا تھا جب شاویز کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
———————————————————-
آ گی تم پھر سے آوارہ لڑکی نکلو باہر ابھی کہ ابھی ۔۔۔
روحا ابھی اپنے گھر آی ہی تھی جب دادی اسے دھکا دیتی چیخی تھی۔۔۔
چلی جاٶ گی دادی پہلے مجھے ناولز لینے دے ۔۔۔
روحا انہیں سائیڈ پر کرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
تم آوارہ ب۔۔۔
ہاں ہو سب کچھ آوارہ بد چلن بلا بلا بلا ۔۔۔
یہ تھکتی نہیں اتنا بول کر ۔۔
اللہٌتوبہ کیا کرے کم از کم آپ کو سکون آۓ گا ۔۔۔
سارا دن اکیلی رہتی ہے کیا میرے بارے میں ہی سوچتی رہتی ہے حد ہے دادی میں تنگ آ گی آپ کی باتوں سے ۔۔۔۔
دادی ایک بار پھر سے بول رہی تھی جب روحا روم سے باہر آتی روتے ہوۓ چلائ تھی۔۔۔۔۔
میرا دل کرے تمہارا قتل کر دو تمہاری وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا ا۔۔۔۔
آپ کا بیٹا گیا لیکن میرا تو عزت نفس چلا گیا میں برباد ہوئ آپ کو یہ احساس ہے کاش آپ کے ساتھ یہ سب ہوتا تو پتہ چلتا آپ کو دادی ۔۔۔۔۔
روحا ایک دفعہ پھر سے دھاڑی تھی ۔۔۔۔
ہوا تھا میرے ساتھ بھی میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی تمہارے دادا کی محبت میں پاگل ہوتی اپنا گھر بار چھوڑ کر اس بدکردار انسان کے ساتھ بھاگ گی میں۔۔۔
اس انسان نے نکاح کیا ایک ہفتہ اپنے نکاح میں رکھا عیاشی کی پھر مجھے طلاق دے دی۔۔۔
میں اجڑی حالت میں جب اپنے گھر واپس گی تو مجھے دھتکارا گیا یہ کہہ کر میں آوارہ بیٹی تھی ان کی ۔۔۔۔
پھر اکیلے معاشرے میں رہ گی پھر میری گود میں کامرن آیا ۔۔۔۔۔
اسی نے بھی تمہاری ماں کے ساتھ وہی کیا جو میرے ساتھ ہوا ۔۔
اب تمہارے ساتھ بھی وہی ہوا مطلب تم بھی آوارہ ہوئ پھر ۔۔
ہاہااہاہہاہاہااہاہا۔۔۔۔
دادی اپنا آپا کھوتی قہقہ لگاتی خودی بولتی اب روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
انہہ پاگل ہو گی بوڑھی عورت۔۔
روحا بھی برا سا منہ بناۓ روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔
————————————————————
باجی کیسی ہے آپ اور یہاں کیوں آ گی آپ۔۔۔
علیشبہ بھی دادی کے گھر آتی اب روحا کے روم میں آتی بولی تھی جو سکون سے بیڈ پر سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔۔۔۔
ارے عالی میری جان۔۔۔
روحا اپنی سرخ گرے آنکھیوں سے اسے دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہ۔۔۔۔
وہ لڑکی کہاں ٹھیک ہو سکتی ہے عالی جس کی عزت نفس روز نوچی جاۓ اب تو ایک بے جان مورت ہو میں ۔۔۔
اب کچھ فیل نہیں ہوتا پتہ نہیں کیوں ۔۔۔
میں نے کبھی کسی کا برا نہیں کیا کسی کا حق نہیں کھایا پھر میرے ساتھ ہی برا کیوں ہوا ابھی تک سمجھ نہیں آئ مجھے۔۔۔
علیشبہ پاس آتی بول رہی تھی جب روحا سرد مہری سے بولی تھی۔۔۔۔
نہیں باجی ایسا مت کہے شاہ بھای تو بہت اچھے ہے ہاں مانتی ہو انھوں نے جو کیا وہ غلط تھا ل۔۔۔۔۔
کیا میں ہی ملی تھی اسے ایسا کرنے سے اچھا تھا میرا قتل کر دیتا کم از کم اپنی نظروں سے میں روزانہ نہ گرتی ۔۔۔۔
باجی یہ آزمائش ہے آپ کی اللہٌپر بھروسہ کرے سب ٹھیک ہو جاۓ گا آپ ایک نئی شروعات کرے زندگی کی ۔۔۔
علیشبہ روحا کا ہاتھ پکڑتی خود بھی روتے بولی تھی۔۔۔۔
وہی بات میں ہی کیوں عالی چھوٹی تھی جب امی نے کہا عالی کا ہمیشہ خیال رکھنا اپنا بچپن بھول کر تمہیں پالا کوئ دوست نہیں بنائ جب بھی ماں یا دوست کی ضرورت محسوس ہوتی تم میں ڈھونڈ لیتی تھی ۔۔
تم ہی بتاٶ کیا غلطی کی کہاں گناہ ہوا جو زندگی ایسی سزا دے رہی ہے مجھے ۔۔۔۔
موت چاہے مجھے ۔۔۔۔
روحا پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔۔
باجی ایسی باتیں نہ کرے زندگی ہے اچھے سے ان۔۔۔۔
نہیں عالی موت سزا نہیں ہوتی زندگی سزا ہوتی ہے ۔۔۔۔
مجھے نہیں جینا ۔۔۔
علیشبہ اسے گلے لگاۓ بول رہی تھی جب روحا بولی ۔۔
اچھا باجی کبھی شاویز کی جگہ خود کو رکھ کے سوچے اگر یہ سب ہماری امی کے ساتھ ہوتا تو کیا کرتی آپ ۔۔
علیشبہ اسے سمجھاتی بولی تھی۔۔۔
میں جان سے مار د۔۔۔۔
شاویز بھای نے بھی وہی کیا تھا وہ صرف غصے میں کیا جو بھی تھا آپ انہیں ایک موقع دے دیکھنا وہ ٹھیک ہو جاۓ گے آپ کے ساتھ۔۔۔
روحا بول رہی تھی جب علیشبہ اس کی آنسو صاف کرتی بولی تھی۔۔۔۔
ہممم۔۔
روحا اب پرسکون ہوتی وہی لیٹ چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
آ گی تم میں تو اداس ہو گیا تھا ۔۔۔
میں سمجھا شاہد رات بھی وہی رہو گی ۔۔۔
شام کو علیشبہ کو گھر آتے دیکھ دلاور اسے کمر سے پکڑتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔
باجی وہی تھی مجھے کہتی میں گھر چلی جاٶ بس آ گی میں۔۔۔
علیشبہ بھی مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہممم کیسی ہے روحا اب۔۔۔
دلاور اسے لے اب روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے کافی سمجھایا ہے شاہ بھای کو ایک موقع اور دے اب پتہ نہیں کیا کرتی ہے ۔۔
علیشبہ بیڈ پر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔
اچھا کیا اب سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔
دلاور بھی پاس بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
آپ نے کیا کیا سارا دن۔۔۔
علیشبہ اب اس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔
اپنی جان کو بہتتتت سارا مس کیا ۔۔۔
دلاور اسے ہگ کیے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جھوٹ اچھا ہے۔۔
علیشبہ اپنی مسکراہٹ روکے بولی تھی۔۔۔
ابھی بتاتا ہو یہ جھوٹ تھا یا سچ ۔۔
دلاور اسے بیڈ پر لیٹاۓ اس کے ہونٹوں پر انگلی پھیرتا بولا تھا ۔۔۔
نہ۔نہیں و۔۔۔
علیشبہ گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب دلاور نے نرمی سے اس کی سانسوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہاے میری ناولز کی دیوانی روحا بے بی۔۔۔
شاویز اکیلا اب اپنے روم میں اندھیرہ کیے ایک ناول لیے اسے دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
سارا دن اس نے ویٹ کیا تھا روحا کا لیکن اب رات ہوتے ہی وہ مایوس ہوا روم میں آیا تھا ۔۔۔
کاش ہماری زندگی بھی ناولز والی ہوتی۔۔
شاویز دکھی آہ بھرتا بولا تھا۔۔
شاویز اب چلتا ہوا بیڈ پر آتا بولا تھا ۔۔۔
ایک موقع روحا بے بی میں دوبارہ شاہ بننے کو تیار ہو ۔۔۔
شاویز اب بیٹھتا سوچ رہا تھا جب اسے اپنے سینے پر کوئ نرم سے وجود کا گمان ہوا تھا ۔۔۔
ر۔روحا بے بی تم آ گی ۔م۔میں کتنا خوش ہوا ہو۔۔۔
شاویز جلدی سے سائیڈ لگا لیمپ آن کرتا روشنی میں اپنے سینے پر سر رکھے روحا کو دیکھتے خوشی سے بولا تھا ۔۔۔
تمہیں پتہ میرے ابو ہمیشہ امی کو بولتے تھے مارتے تھے لیکن میری امی نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا نہ ہی انہیں چھوڑتی تھی تم جانتے ہو کیوں۔۔۔
روحا اپنا سر اٹھا کر اس کی نیلی سرخ آنکھوں میں دیکھتی سوال کرتی بولی تھی۔۔۔
کیوں۔۔۔
شاویز نے بھی سوالیہ انداز سے پوچھا تھا ۔۔۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکیلی عورت کی کوئ مقام نہیں ۔۔۔ابو چاہے جیسے بھی سہی لیکن امی کو ایک تحفظ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اکیلی نہیں ہے یہاں۔۔۔۔
ایسے ہی میں چاہے تم سے محبت نہ کرتی ہو لیکن تم شوہر ہو میرے بس بات ختم ویسے بھی تمہارے علاوہ میرے پاس کوئ رشتہ ہی نہیں جو تمہیں چھوڑ کر کہی بھی بھاگ جاتی آنا تو یہی تھا میں نے ۔۔
روحا اسے ہگ کیے سکون سے بولی تھی۔۔۔
تم مجھے مو۔۔۔
آٶ کھانا کھاۓ دادی نے تو ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا رات کو دھکا دے کر نکال دیا مجھے یہ بھی نہیں سوچا میں اکیلی کہاں جاٶ گی ۔۔۔۔
شاویز خوش ہوتا بول رہا تھا جب روحا اب اٹھتی بالوں کا جوڑا بناے روم سے باہر جاتی بولی تھی۔۔۔
شاویز بھی خوش ہوتا اب باہر گیا تھا ۔۔۔
اسے امید تھی وہ اپنی روحا کو واپس پا لے گا ۔۔۔۔
