304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 12)

Junon Inteqam By Rania Mehar

کیا ہوا عالی میں نے کچھ غلط کہا کیا۔۔۔

علیشبہ کو واش روم سے باہر آتے دلاور پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ ۔سائیں یہ سب میں نے نہیں کیا۔۔۔

علیشبہ روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

مطلب۔۔

دلاور نے حیران ہوتے پوچھا۔۔۔

مطلب یہ سب ماہم نے کیا ہے اسی کے پاس میری ایف بی آی ڈی کا پاسورڈ تھا۔۔۔

علیشبہ شرمندہ ہوتی بولی تھی۔۔۔

میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔

دلاور نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔

آپ سے جو بات کرتی تھی وہ ماہم تھی میں نہیں میں نے تو اس دن سے اپنی آی ڈی یوز ہی نہیں کی بلکہ ماہم نے مجھے بتایا تھا اس کے پاس میرا پاسورڈ ہے میں نے مذاق سمجھا تھا ا۔۔۔

ماہم کی کیا دشمنی تم سے ۔۔۔

علیشبہ بتا رہی تھی جب دلاور سوچتا بولا تھا۔۔۔

میرے ساتھ نہیں باجی کے ساتھ ۔۔

علیشبہ ویسے ہی آنسو بہاتی بولی تھی۔۔۔

ماہم کا بھای تھا احمد نام تھا اس کا اسے باجی سے محبت ہو گی تھی ۔۔۔

باجی نے بہت بار اسے سمجھایا وہ چھوٹا ہے ان سے یہ سب کام مت کرے لیکن وہ بس ضدی بنا باجی کو یہی کہتا تھا اسے محبت ہے ۔۔۔۔

جب باجی نہ مانی تو احمد نے دمھکی دی وہ خود کشی کر لے گا۔۔۔

ایک دن باجی تنگ آتی غصے سے بولی مر جاٶ انہیں پرواہ نہیں ۔۔

وہ باجی کے عشق میں اتنا پاگل ہوا اسی دن خودکشی کرکے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔۔۔

بس اسی دن سے ماہم باجی کو گناہگار سمجھتی ہے وہ کہتی ہے اس کی وجہ سے اس کا بھای مرا ہے ۔۔۔۔

اس لیے باجی کو دکھ دینے کے لیے اس نے میرے ساتھ یہ سوچ کر یہ سب کیا اگر آپ مجھے کچھ کہتے تو باجی مجھے دیکھ کر دکھی ہو جاتی ۔۔۔

لیکن آپ بہت اچھے تھے سائیں آپ نے مجھے کچھ نہیں کیا ۔۔۔

علیشبہ دلاور کے سینے سے لگی روتی ہوئ ساری بات بتا چکی تھی ۔۔۔۔

روحا کو سب پتہ ۔۔

دلاور اسے پر سکون کرتا بولا تھا۔۔۔

نہیں سائیں مجھے ڈر لگتا ہے باجی غصہ کرے گی تبھی نہیں بتایا ماہم کا ورنہ میں جان چکی تھی وہ میری آی ڈی یوز کر رہی ہے ۔۔۔

علیشبہ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

اچھا ریلکس جان اب سو جاٶ سکون سے آٶ۔۔۔

دلاور اسے لیے بیڈ پر لیٹاتا سکون سے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

یہ جانوروں کی طرح مجھے باندھ کر کیوں رکھا ہے کیا تم ڈرتے ہو مجھ سے۔۔۔

روحا صبح اپنے آپ کو باندھے دیکھ جیسے اب شاویز سکون سے کچن کی شلف پر بیٹھا رہا تھا تبھی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

زخمی شیرنی سے سب ڈرتے ہے سواۓ شیر کے ۔۔۔

شاویز اس کی آئ برو کے زخم کو چومتا ہوا سکون سے بولا تھا۔۔۔

انہہہ شیر ہاےےے ہنسی نہیں آی۔۔۔

روحا اپنا چہرہ دوسری طرف کرتی برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

اچھا ناشتے میں کیا لو گی۔۔۔

شاویز اب سکون سے اپنی شرٹ اتارے فریج سے بریڈ اور فروٹ نکالے بولا تھا۔۔۔۔

ب۔بھوک نہیں ہے اور یہ کیا طریقہ ہے ہر دفعہ ننگے ہو جاتے ہو شرم کرو بیوی ہو تمہاری چلو شرٹ پہنو ۔۔۔

شاویز کی ہیوی باڈی مسلز دیکھتے روحا ہکلاتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں تو بیوی کے سامنے ہی ہوتا ہو اچھا بتاٶ کیا کھاٶ گی ۔۔۔۔

شاویز اب کٹنگ بوڈر پر فروٹ کٹ کرتا اسے آنکھ ونک کرتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔

ہاں آملیٹ بناٶ میں بتاتی ہو۔۔۔

روحا اب شیطانی مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔

ضرور۔۔۔

شاویز بھی خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

————————————————————

نہیں یہ یمی نہیں تم اس میں مرچ ڈالو اور زیادہ۔۔۔

شاویز اب تھک ہار کر آملیٹ بناتا روحا کے پاس اسے کھلا رہا تھا جب روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

کیا ہے روحا بے بی تقربیاًمیں نے یہ بیس دفعہ آملیٹ بنایا ہے جو بھی کھاتی ہو انکار کر دیتی ہو ۔۔۔

مجھے لیٹ کر رہی ہو آفس جانا ہے مجھے۔۔۔

شاویز اب کچن شلف پر کافی پلیٹس دیکھتا تنگ آتا بولا تھا کیونکہ وہاں ہر طرح کا عیجب و غریب آملیٹ بنا کر رکھا تھا۔۔۔

اچھا لاسٹ بار اس پر چاکلیٹ ڈال دو۔۔۔

روحا اس کا سرخ چہرہ دیکھتی مزہ لیتی بولی تھی۔۔۔

پاگل ہو کیا نمکین کے اوپر کون آملیٹ کھاتا ا۔۔۔۔

شوہر ہو شوہر ہی بنو سمجھے دوست بنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔

شاویز اب طش میں آتا بول رہا تھا جب روحا بھی طش میں آتی چلائ تھی۔۔۔۔

اہہہہ روحا بے بی تم بھی پھر بیوی بن کر رہو میرے سر پر آنے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی اتنا فارغ انسان ہو جو تمہارے نکھرے اٹھاٶ گا۔۔۔۔

شاویز اب غصے سے ویسے ہی ہاتھ پاٶں باندھی روحا کو پکڑے گود میں آٹھاتے بولا تھا۔۔۔۔

بیوی میں بن چکی ہو تمہاری اگر تمہیں یاد ہو بہتر یہی ہو گا مجھے طلاق دو ۔۔۔

تمہارا انتقام پورا ہو چکا ہے ویسے بھی میں تمہاری محبت نہیں تھی ۔۔۔

روحا بے بس ہوتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

وہی بات بیوی ہو تو اپنا فرض بھی نبھاٶ روحا بے بی میں نے سوچا تھا تم سے نرمی سے بات کرو لیکن تمہارے دماغ میں پتہ نہیں کیا چلا گیا ہے ۔۔۔

روحا کا دور جانے کا سن کر اب شاویز سب بھولتا غصے سے کہتا روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔

ش۔شاویز یہ تم اچھا نہیں کر رہے چھوڑ دو مجھے تمہارا انتقام پورا ہوا میں نے اس رات وہ سب اس لیے برداشت کیا کیونکہ میں خود چاہتی تھی میرے ابو کو احساس ہو ایک بیٹی کا دکھ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔

لیکن اب بس تم مجھے چھوڑ دو۔۔۔

شاویز نے اندر آتے اسے بیڈ پر نرمی سے لیٹاتے اس کے اوپر جھکا تھا جب روحا گھبراتی بولی تھی۔۔۔۔

بلکل نہیں روحا بے بی بیوی ہو میری میرا جنون ہو کیسے چھوڑ دو تمہیں ۔۔

بلکہ آج سے اپنی موجودگی کا ایسا احساس کرواٶ گا کہ کبھی سوچو گی بھی نہیں مجھے چھوڑ کے جانے کے بارے میں ۔۔۔

شاویز اپنے لب اس کے گال پر رکھتا مدہوش ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

شاویز تم مر جاٶ بلکہ کسی دن تم بھی میری طرح بے بس ہو تب میں تمہیں پوچھو گی کیسا فیل کر رہے ۔۔۔

اپنی بیوٹی بون پر شاویز کے لبوں کا لمس پاتے روحا تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جبکہ اس کی خوشبو میں مدہوش شاویز اب آہستہ آہستہ اپنی شدت لٹا رہا تھا۔۔۔۔

میرا جنون ہو تم ۔۔۔

روحا کی آنکھوں سے نکلے آنسو کو اپنے لبوں سے صاف کرتا شاویز نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔

ن۔نفرت ہے مجھے تم س۔۔۔۔

روحا اسے گھورتی ہوئ بول رہی تھی جب شاویز نے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے اس کی سانسوں کو بند کیا تھا۔۔۔۔۔

روحا نے دکھ سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی کیونکہ جان چکی تھی شاویز اب اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔۔۔۔

————————————————————

“”ایک ماہ بعد۔۔۔۔

کیا ہے سائیں چھوڑے کام کرنے دے۔۔۔

علیشبہ کچن میں کھڑی آٹا گوند رہی تھی جب اپنی کمر پر دلاور کے ہاتھوں کی گرفت پاتے شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

اس ایک ماہ میں دلاور نے علیشبہ کو اپنی محبت کھول کر اظہار کیا تھا وہ کتنی شدت سے چاہتا ہے ۔۔۔

علیشبہ بھی خوش تھی اس کا ساتھ پاتے ۔۔۔

اپنی بیوی کی ہلیپ کر رہا میں۔۔۔

دلاور اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

لگتا آپ کو بھوک نہیں لگی تبھی ایسی حرکتیں کر رہے ہے چھوڑے م۔۔۔

علیشبہ پریشان ہوتی بول رہی تھی جب دلاور اس کے کان کی لو کو چومتا بولا تھا ۔۔۔

بھوک تو لگی ہے کافی دل کر رہا تمہیں کھا جاٶ۔۔۔

کیا ہے سائیں میں نے رونے لگ جانا ۔۔۔

علیشبہ سرخ چہرہ لیے رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔

اچھا آو باہر چلتے ہے کھانا کھانے ۔۔۔

دلاور اسے نرمی سے چھوڑے اب باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔

اچھا سائیں سنے تو۔۔

علیشبہ سمجھی تھی دلاور برا مان گیا تبھی اس کے پیچھے بھاگتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

کافی پیو گے یا جوس۔۔

شاویز ابھی آفس سے آیا تھا جب روحا سنجیدہ ہوتی ہال میں آتی بولی تھی ۔۔۔

کافی چاہے۔۔

شاویز مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ اکثر روحا کو دیکھ کر خوش ہو جاتا تھا۔۔۔

اچھا۔۔

روحا کہتی وہاں سے جانے والی تھی ۔۔۔

رکو تو سہی یار کیا ہے ایک ماہ سے دیکھ رہا تم بس مجھ سے یہی پوچھتی ہو۔۔

کھانا لگاٶ ۔کافی پیو گے ۔کپڑے تیار ہے بلا بلا بلا ۔۔۔۔

ان سب کے علاوہ پیار محبت بھی ہوتی ہے وہ بھی کیا کرو ایسے بن گی ہو جیسے مورت ہو بے جان سی ۔۔۔

شاویز اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے پاس بیٹھاتے بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ روحا واقعی ایسا ہی کرتی تھی اب وہ بلکل چپ ہوگی تھی وہ سارے کام چپ چاپ کرتی تھی ۔۔۔

بیوی ہو تمہاری میں فرض ہے میرا ۔۔

غلام دین خان کے لیے کافی بنا دے ۔۔

روحا اسے جواب دیتی اب اٹھ کر وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔

————————————————————

میں نے آج بہت مس کیا تمہیں روحا بے بی دن با دن مجھے اپنا عادی بنا رہی ہو ۔۔۔

روحا رات کو بیڈ پر آ کر لیٹی تھی جب شاویز بھی شرٹ لیس ہوتا اسے ہگ کیے محبت سے بولا تھا۔۔۔

روحا نے زور سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔

تمہارے پاس جب بھی آتا ہو ایسے لگتا پہلی دفعہ تم سے مل رہا ہو۔۔۔

روحا کا رخ اپنی طرف کیے شاویز اپنے لب اس کی گردن پر رکھے سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔۔

روحا بس خاموش مورت بنی سب سن رہی تھی ۔۔۔

کیا ہے یار کچھ تو بولو میں تو ترس گیا تمہاری آواز سنے کو ۔۔۔

خاموش آنکھیں بند کیے روحا کو دیکھ شاویز نے دکھی لہجے سے پوچھا تھا۔۔۔

روحا چپ تھی۔۔

تم نہیں جانتی میں تم سے ک۔۔۔

شاویز اپنے لب اس کے گال پر رکھتا بول رہا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔

تبھی برا موڈ لیے وہ فون اٹھاتا روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

————————————————————

سوری روحا بے بی و۔۔۔۔

شاویز کافی دیر فون پر بات سنتا اب روم میں آتا بول رہا تھا ۔۔۔۔

جہاں بیڈ پر اب روحا نہیں تھی ۔۔۔

روحا روحا کدھر ہو یار تنگ مت کرو ۔۔۔

شاویز اب پاگلوں کی طرح روم میں چلاتا بولا تھا۔۔۔۔

گارڈز گارڈز۔۔۔۔

شاویز اب غصے سے غرایا تھا جب اس کی آواز سنتے سارے گارڈز ہال میں جمع ہوۓ تھر تھر کانپ رہےتھے۔۔۔۔

روحا کدھر ہے بولو۔۔۔۔

سیڑھیوں سے نیچے آتے اب وہ طش سے چلایا تھا۔۔۔