Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 7)

197.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 7)

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz

مشال کو گھر ڈراپ کر کے وہ سفیان کے گھر اسے پِک کرنے چلاگیا کیونکہ آج اسکا سفیان اور بلال کے ساتھ کلب جانے کا پلین تھا۔

کلب میں جاکر سفیان اور بلال تو ڈرنک کرنے لگے جبکہ وہ روز کی طرح سگریٹ پی رہا تھا۔

تو۔۔۔کب بلارہا ہے اپنی منگنی میں؟

سفیان نے وائن کا سِپ لیتے ہوئے التمش سے پوچھا

ابھی ڈیٹ نہیں رکھائی ہے۔۔۔۔اور خوش فہمی میں مت رہو۔۔۔۔تم کمینوں کو نہیں بلاؤنگا۔۔۔

التمش نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا

بلال جو ڈانس فلور پر تھرکتی لڑکیوں کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔التمش کی بات پر چونکتے ہوئے اسکی طرف دیکھا

پر کیوں یار۔۔۔؟

سفیان نے حیرت سے پوچھا

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ گھر میں کسی کو پتا چلے کہ میرے دوست کس قدر ٹھرکی ہیں۔۔۔

اس نے رسانیت سے وجہ بتائی

یار تو پاگل ہے۔۔۔۔ہم تیرے گھر میں تھوڑی کرینگے یہ سب۔۔

سفیان نے دھیما احتجاج کیا

ہاں یار تامی۔۔۔دوست ہیں ہم تیرے۔۔۔۔ایسا تو نہ کر۔۔۔۔۔بُلالے ہمیں اپنی بربادی۔۔۔۔میرا مطلب شادی میں۔۔

سفیان کو بولتا دیکھ بلال نے بھی گھگیاکر کہا

سالے کچھ زیادہ ہی چڑھ گئی ہے کیا۔۔۔۔شادی نہیں ابھی صرف منگنی ہورہی ہے۔۔

التمش نے ہنستے ہوئے اسکی تصحیح کی

اور ہاں۔۔۔آؤگے تو اپنا ٹھرک پن اور بے غیرتیاں کلب میں چھوڑ کر آنا۔۔۔

التمش نے دونوں کو وارن کرنا لازمی سمجھا

ابے تو شادی کر کیوں رہا ہے؟

بلال نے جب سے ذہن میں اُمڈتا سوال پوچھ لیا

تو کیا گرلفرینڈز بنا کر تیری طرح آوارہ گردیاں کروں۔۔۔

التمش نے اسے لتاڑا جس پر وہ خباثت سے ہنسنے لگا

ارے نہیں یار۔۔۔میرا مطلب ہے کہ شدت والے پیار ویار کا چکر ہے کیا۔۔۔جو ڈائریکٹ شادی۔۔

بلال کے پوچھنے پر التمش سوچ میں پڑگیا پھر کہا

پیار تو نہیں۔۔۔پر وہ پسند تھی مجھے تو میں نے اسے شادی کی آفر کردی۔۔

ہییییں۔۔

مطلب پسند ہے تو پیار بھی کرتا ہوگا نا۔۔۔۔یہ کیا پیار نہیں۔۔۔صرف پسند ہے۔۔۔تو پھر شادی۔۔

سفیان کو حیرت ہوئی اسکی عجیب سی تُک پر۔

ابے اگر پیار ہی نہیں کرتا۔۔۔۔صرف پسند آئی تھی تو ایک رات کے لیے بُک۔۔۔۔۔۔

بلال کی بکواس کرتی زبان کو التمش کی ایک ناگواریت بھری نظر نے ہی چپ کرادیا۔

سوری۔۔۔!!

اس نے بتیسی دکھاتے ہوئے کہا

فون کی بیل پر التمش نے دیکھا،نیہا کی کال تھی،

اس نے کال ریسیو کی۔

ہیلو۔۔

تامی کہاں ہو؟

نیہا کی چہکتی ہوئی آواز آئی

کلب میں۔۔۔

اوو۔۔۔واؤ تامی تمہیں پتا ہے،مجھے بھی بہت شوق ہے کلب جانے کا۔۔۔۔کسی دن مجھے بھی لے کر چلو نہ۔۔۔

نیہا نے خوشی سے فرمائش کی۔

یہاں تمھارا کوئی کام نہیں۔۔۔

التمش نے ناگواری سے کہا

کیا مطلب میرا کوئی کام نہیں۔۔۔۔ایسا بھی کیا کرتے ہو تم وہاں کہیں تم وہاں لڑکیوں کے ساتھ۔۔

شٹ اپ نیہا!!!

نیہا کے شکی انداز میں کہنے پر التمش نے سختی سے اسکی بات کاٹی

کیا فضول بکواس کر رہی ہو۔۔۔

التمش نے سختی سے پوچھا

نیہا نے اسکی آواز میں سختی کا عنصر محسوس کرکے گڑبڑا کر کہا

کیا تامی۔۔تم تو سیریس ہوگئے۔۔۔

میں تو صرف مذاق کررہی تھی۔۔

ہممم۔۔۔جانتا ہوں مذاق کررہی تھی۔۔۔

التمش نے اسکا گڑبڑانا نوٹ کرتے ہوئے طنز کیا

مگر مجھے مذاق میں بھی اپنے اوپر اس طرح کے الزام برداشت نہیں سو آئندہ خیال رکھنا۔۔

التمش نے ٹہرے ہوئے لہجے میں اس سے کہا

اوکے فائن۔۔۔۔اچھا سنو تامی مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔۔

نیہا نے بات بدلی۔

ابھی نہیں گھر جاکر بات کرونگا۔۔۔بائے

التمش نے کہہ کر کال کاٹ دی

جبکہ نیہا ارے ارے کرتی رہ گئی

ہنہہہ۔۔

موڈی،اکڑو انسان۔۔

نیہا نے منہ کے زاویے بگاڑکر کہا

ابھی وہ جیب میں فون رکھ ہی رہا تھا کہ پھر بیل بجی،اس نے بیزاریت سے فون کو دیکھا پر سامنے سکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ کر اسکے تاثرات بدلے۔۔مسکراتے ہوئے اس نے کال ریسیو کی۔۔

ہیلو۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا

آج اپکا گھر آنے کا ارادہ نہیں ہے کیا۔۔۔؟

مشال کی آواز ہمیشہ سے اسکے لیے سرشاری کا باعث ہوتی۔۔

جی بلکل۔۔۔پورا ارادہ ہے گھر آنے کا۔۔۔لیکن اگر تُو چاہتی ہے کہ نہ آؤں تو نہیں آتا۔۔

التمش نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا

تو نہ آئیے۔۔۔ہم ایسا کرتے ہیں کہ مین گیٹ لوک کردیتے ہیں۔۔۔پھر رہیے گا آپ ساری رات باہر۔۔

مشال کی نرمی سے دی گئی دھمکی پر وہ ہنسنے لگا۔۔۔جانتا تھا جتنی نرمی سے وہ بات کر رہی ہے اتنا ہی غصے میں ہوگی۔

آرہا ہوں دادی امّاں۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہہ کر فون رکھا

جبکہ سفیان اور بلال اسکے فیس ایکسپریشن نوٹ کررہےتھے جو نیہا۔۔۔اسکی ہونے والی منگیتر کی کال پر بیزاریت والے تھے اور اب مشال کی کال پر وہ کیسے کِھل اٹھا تھا۔

التمش نے ان دونوں کو دیکھا جو اسے عجیب نظروں سے گھوررہے تھے۔

کیا ہوا؟

اسنے ایک آئبرو اٹھاتے ہوئے پوچھا تو دونوں نے نفی میں سر ہلایا۔

میرا تو ہوگیا۔۔۔۔تم لوگ مرو یہیں پر۔۔۔۔میں گھر جارہا ہوں۔

ان دونوں کے مسلسل گھورنے کو اگنور کرتے ہوئے وہ سگریٹ پیروں کے نیچے مسلتا باہر کی طرف چل دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ جلدی اٹھا اور تیار ہوکر نکھرا نکھرا سا ڈائننگ ٹیبل پر پہنچا۔مشال نے اسے رات کو ہی بتادیا تھا کہ زمان صاحب نے اسے کل سے آفس جوائن کرنے کا کہا ہے۔اسی لیے وہ رات بنا نیہا سے بات کیے سو گیا تھا۔۔

ٹیبل پر پہنچ کر اس نے دیکھا زمان صاحب پہلے سے ہی موجود تھے۔عالیہ بیگم نے سر تا پیر اسے دیکھا۔۔۔وائٹ شرٹ پر بلیک پینٹ کوٹ پہنے۔۔بالوں کو جیل سے سیٹ کیے۔۔واقعی وہ یونانی دیوتاؤں جیسا حسن رکھتا تھا۔۔۔انہوں نے آنکھوں ہی سے اسکی نظر اتاری۔۔۔التمش کے بیٹھتے ہی مشال کچن سے اسکا ناشتہ لے کر آئی۔

چلیں برخوردار۔۔

ناشتے سے فارغ ہوکر زمان صاحب نے اپنے مخصوص ٹہرے ہوئے لہجے میں اس سے پوچھا

جی،

اس نے جوس کا گلاس رکھتے ہوئے تابعداری سے کہا

گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے اس نے مُڑ کر پیچھے دیکھا جہاں مشال مسکراتے ہوئے اسے آل دی بیسٹ کا اشارہ کررہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کا دن اسکے لیے بہت بزی گزرا تھا۔۔اپنی زہانت اور قابلیت کی وجہ سے وہ جلد ہی سارے کام سمجھ گیا۔دوپہر کو سفیان کی کال آئی۔۔۔اس نے بتایا کہ رات کو زیادہ ڈرنک کرنے کی وجہ سے بلال سے گاڑی ڈسبیلنس ہوگئی اور اسکا ایکسڈنٹ ہوگیا۔۔رات التمش جلدی سوگیا تھا تو کال ریسیو نہ کر سکا اور صبح جلدی آفس بھی آگیا۔۔۔

سفیان سے بات کر کے اس نے زمان صاحب کے آفس میں آکر ان سے جانے کی اجازت لی۔۔پھر ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوگیا۔

ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ ایک نیو مرسیڈیز اسکی کار سے ٹکرائی۔۔التمش غصے میں گاڑی سے اترا جبکہ مقابل کھڑی کار سے بھی کوئی اترا۔۔

دیکھ کر نہیں چلا سکتاکیا۔۔۔۔یا مرنے کا شوق چڑھا ہے۔

التمش نے اپنی کار پر پڑے سکریچ دیکھتے ہوئے مقابل کھڑے شخص سے غصے میں کہا

جو گرین ٹی شرٹ اور پینٹ میں کھڑا مسکراتے ہوئے التمش کو دیکھ رہا تھا۔

دیکھ کر چلائی ہے تبھی تو ٹکر ہوئی ہے۔۔۔اور جہاں تک بات مرنے کی ہے تو میں مرنے نہیں مارنے والوں میں سے ہوں۔۔

وہ شخص شاید ڈھیٹ قسم کا تھا تبھی التمش کے برعکس مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا

اپنی بکواس بند کر۔۔۔۔۔ورنہ یہیں پر ایسا حشر کرونگا کہ بولنے کیا مسکرانے لائق بھی نہیں رہے گا۔

اسکا مسکرانا التمش کو آگ لگا گیا پتا نہیں کیوں التمش کو لگا کہ سامنے کھڑے اس شخص نے جان بوجھ کر اپنی کار اسکی کار سے ٹکرائی تھی۔تبھی اسکی طرف قدم بڑھاتے ہوئے التمش نے دانت پیس کر کہا

ارے ارے! نقصان تو میرا زیادہ ہوا ہے اور ہائپر آپ ہورہے ہیں۔۔۔۔ریلیکس ہوجائیں۔

اس شخص نے صلح جو انداز میں کہتے ہوئے اپنی کار کی طرف اشارہ کیا جسکی ایک طرف کی ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی تھی۔۔

تیری قسمت اچھی ہے۔۔۔۔ورنہ آج تجھے بخشتا نہیں میں۔

اسکا مسکرانا التمش کو تپارہا تھا۔۔التمش کا دل چاہا یہیں پر اس ڈھیٹ شخص کے چودہ طبق روشن کر دے مگر سفیان کی مسلسل آتی کال پر التمش اسے گھور کر کہتے ہوئے اپنی کار میں بیٹھ گیا۔

قسمت میں کس کے کیا لکھا ہے۔۔۔۔آج تک تھوڑی کسی کو پتا چل پایا ہے۔۔۔۔کب کوئی ہنستا کھیلتا انسان برباد ہوجائے۔

خود سے دور ہوتی التمش کی کار کو دیکھتے ہوئے اس شخص نے مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپٹل جاکر اسے معلوم ہوا کہ بلال کو زیادہ چوٹیں نہیں آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔صرف ایک بازو کی ہڈی فریکچر ہوگئی تھی۔۔۔۔پھر بھی التمش نے اسے جھڑکتے ہوئے تاکید کی کہ آئندہ ڈرنک کر کے ڈرائیور نہ کرے۔

ابھی وہ ہاسپٹل سے نکلا ہی تھا کہ اسکے فون پر مشال کی کال آگئی۔

بول مشی۔

اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا

التمش۔۔۔۔آپ فری ہیں؟

کیوں!

التمش نے گاڑی کا گیٹ کھولتے ہوئے پوچھا

آپ ابھی گھر آسکتے ہیں۔۔۔۔مطلب۔۔۔اگر آپ فری ہیں تو۔۔۔

مشال کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے بولے تبھی التمش نے کہا

پانچ منٹ میں آرہا ہوں۔

فون رکھتے ہوئے التمش نے سوچا۔۔۔۔مشال کی آواز اسے تھوڑی کنفیوزڈ لگی پھر اپنی سوچ کو جھٹکتے ہوئے اسنے گاڑی گھر کے راستے پر موڑدی۔

حیدر ولا کے پورچ پر گاڑی روکتے ہوئے اسے حیرت ہوئی کیونکہ وہاں پر وہ ہی کار کھڑی تھی جس سے ہاسپٹل جاتے وقت اسکے کار کی ٹکر ہوئی تھی۔

اسکا شک یقین میں تب بدلا جب اس نے کار کی ہیڈ لائٹ دیکھی جو ٹوٹی ہوئی تھی۔

وہ کنفیوزڈ سا گھر کے اندر گیا پر لاؤنج کا منظر دیکھ کر وہ اور حیران ہوا۔

سامنے ڈبل سیٹر صوفے پر آغاجان اور بی جان بیٹھے تھے۔جبکہ عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم کھڑی مسکرارہی تھیں۔

دوسری طرف نیہا اور اسکے ماں باپ بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں کے ساتھ وہ۔۔۔۔۔۔جس سے اسکی کچھ دیر پہلے بحث ہوئی تھی۔۔

اسکو دیکھتے ہی التمش کی کشادہ پیشانی پر بل پڑ گئے۔۔۔پر اس لڑکے کے چہرے پر نرم مسکراہٹ دیکھ کر التمش نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا۔۔۔۔جہاں مشال تھری سیٹر صوفے پر نظر جھکائے دھیمی مسکراہٹ لیے بیٹھی تھی۔

ارے تامی بیٹا۔۔۔آؤ نہ۔۔

ریحانہ بیگم کی التمش پر نظر پڑی تو انہوں نے اسے مسکراتے ہوئے بلایا۔

وہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا اندر آیا۔

یہ سب۔۔۔

وہ کسی حد تک اس سچویشن کا مطلب سمجھ رہا تھا مگر پھر بھی اس نے پوچھنا مناسب سمجھا۔

بیٹا یہ میرا بھتیجا ہے۔۔۔بے چارے کے ماں باپ نہیں ہیں میں نے ہی اسے بچپن سے پالا ہے اب یہ ہاسٹل میں رہتا ہے۔۔۔تو چاچی ہونے کے باعث مجھے اسکے رشتے کی بہت فکر رہتی تھی۔۔۔جب میں نے مشال کو دیکھا تو مجھے یہ بچی بہت پسند آئی۔مجھےلگا میری تلاش ختم ہوئی۔۔۔بس پھر میں آگئی مشال کا رشتہ لے کر اور مجھے پوری امید ہے کہ بی جان آپ مجھے مایوس نہیں کرینگی۔

الینہ بیگم (نیہا کی امی) نے لہجے میں چاشنی گھولتے ہوئے التمش کو بتایا اور آخر میں آمنہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

بھئی پسند تو ہمیں بھی بہت آئیں ہیں آپکے بھتیجے۔۔۔

عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا

تبھی وہ اٹھ کر التمش کے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے ہاتھ التمش کی طرف بڑھایا۔۔

اس نا چیز کو وجدان علی کہتے ہیں۔۔۔

التمش نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا پھر مشال کو جو التمش کو دیکھتے ہوئے مسکرارہی تھی۔۔۔

اسکی آنکھوں کی چمک سے ہی وہ اسکا اقرار سمجھ گیا تبھی وجدان کا بڑھا ہوا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

التمش زمان۔۔

آپ سے مل کر خوشی ہوئی التمش۔۔۔

وجدان نے اپنی مخصوص مسکراہٹ سے کہا

پر مجھے زرا بھی خوشی نہیں ہوئی۔۔

التمش کے کہنے پر سب نے چونک کر اسکی طرف دیکھا،

مشال کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی جبکہ عالیہ بیگم حیران ہوئی کہ کیا انکا بیٹا اپنے اور نیہا کے رشتے کا بھی لحاظ نہ کرتے ہوئے اس رشتے کو بھی توڑدے گا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔