Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 35) Last Episode
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 35) Last Episode
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
آج ایک ہفتہ ہوچکا تھا اسے ہوسپٹل سے ڈسچارج ہوئے۔۔۔التمش اسکا اور اپنا سامان لے کر حیدر ولا میں ہی آگیا تھا۔۔۔شروع کے ایک دو دن میں تو وہ سب کی باتوں کا صرف مختصر جواب دے دیتی پر سب کا رویہ اپنے ساتھ اتنا اچھا اور نرم دیکھ مشال نے بھی اپنی ناراضگی کو طول نہ دی۔۔۔۔وہ ایسی ہی تو تھی۔۔۔زیادہ دیر تک کسی سے خفا نہ رہنے والی۔۔۔پر التمش کی بےرخی اسکے ساتھ ہنوز وہی تھی۔۔۔۔وہ خود ہی کچھ نہ کچھ اس سے بات کرتی تو وہ روکھے لہجے میں جواب دیتا ورنہ خود سے تو وہ اسکی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن ہر رات کو مشال کو نیند میں ایک دہکتا لمس اپنی پیشانی پر ضرور محسوس ہوتا۔۔۔پر آج اس نے سوچ لیا تھا۔۔۔کہ چاہے جتنی بھی رات ہوجائے وہ سوئے گی نہیں اور جب وہ ستمگر اسکے پاس رات کو آئے گا۔۔۔تو اس سے پوچھ کے رہے گی اس بےرخی کی وجہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی۔۔
رات کو ہادی بیڈ پر بیٹھا آفس ورک کررہا تھا تبھی برابر میں لیٹی نور نے چھت کو گھورتے ہوئے اسے پکارا
ہمم۔۔۔
اسنے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے مصروفانہ انداز میں کہا
کتنا اچھا لگ رہا ہے نا۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہورہا ہے۔۔۔
نور نے یونہی چھت کو گھورتے ہوئے کہا
ہمم۔۔۔
اس نے انتہائی مختصر تائید کی
مجھے لگ رہا تھا کہ آپی کو کبھی کوئی معاف نہیں کرے گا۔۔۔پر میں غلط تھی۔۔۔لیکن تمہیں پتا ہے۔۔۔اب میں بہت خوش ہوں۔۔
اب کی بار نور نے اسکی طرف کروٹ لے کر کہا
ہمم۔۔۔
مسلسل کیبورڈ پر انگلیاں چلائے وہی جواب دیا
بس اب آپی کا پیر جلدی سے ٹھیک ہوجائے۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی
ہمم۔۔۔
پھر یونہی ہنکارا بھرا تھا جب کے نظریں ابھی بھی لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھیں۔۔۔اپنی باتوں کو اگنور ہوتا دیکھ نور کی آنکھوں میں ناگواری پھیلی
یہ کیا ہمم۔۔۔ہممم۔۔لگا رکھا ہے تم نے۔۔۔
اس کا میٹر ہی ہائی ہوگیا ہادی کی حرکت پر تبھی اٹھ کر نور نے غصے میں بولا
کیا ہوا۔۔
وہ چونک کر اسکے سخت تاثرات لیے چہرے کو دیکھنے لگا
کچھ نہیں۔۔۔کرو اپنا کام۔۔
نور تپ کر کہتے ہوئے واپس دوسری کروٹ ہوکر لیٹی ساتھ ہی کمفرٹر سر تک اوڑھ لیا۔
ارے۔۔۔کیا ہوا نور۔۔۔
ہادی بوکھلاتے ہوئے لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا اسکا رخ اپنی طرف کرنے لگا۔
نہیں کرنی مجھے تم سے کوئی بات۔۔۔میری باتوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں تمہاری نظر میں۔۔۔
وہ غصے میں بول کر اسکا ہاتھ جھٹکی مگر اگلے ہی پل ہادی نے اسے کمر سے پکڑ کر مکمل اپنی طرف کیا اور اسے اپنے حد درجہ قریب کرلیا۔
تمہاری باتوں کی ہی نہیں۔۔۔تمہاری بھی بہت اہمیت ہے میری لائف میں ٹڈی۔۔۔
وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
تو پھر میری بات سنتے کیوں نہیں ہو۔۔
اسکی شرٹ کے بٹنز سے کھیلتے ہوئے نور نے نروٹھے پن سے کہا
کہیے۔۔۔غلام سب سننے کو تیار ہے۔۔۔
اسکی ناک چڑھانے پر ہادی نے پیار سے کہا ساتھ ہی اسکے گال چوم لیے۔۔۔جس پر نور بوکھلائی
یہ۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔بات سننے کہا تھا۔۔۔یوں فری ہونے نہیں۔۔
اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرتے ہوئے نور نے اسے گھور کر کہا
ہاں تو کہو نا۔۔۔میں سن رہا ہوں۔۔
وہ بےخودی میں بول کر اسکی چھوٹی سی ستواں ناک سے آہستگی سے اپنی ناک رگڑنے لگا تو نور نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس کھینچی
ہا۔۔۔ہادی پلیز۔۔۔
اسکے لب نور کو جب اپنے کان کی لُو پر محسوس ہوئے تو اس نے کپکپاتے ہوئے کہا
اس کی لرزتی آواز پر ہادی نے ایک نظر اسکے سرخ چہرے کو دیکھا پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے اسکے پسینے سے نم ہاتھوں میں اپنے ہاتھ رکھ کر آہستگی سے انہیں دبانے لگا نور بےچین ہوئی تھی ہادی کے لبوں کو اپنے بازو پر محسوس کر کے۔۔۔
بہت تڑپایا ہے تم نے۔۔ظالم لڑکی۔۔۔
اسکی مسکاتی آواز پر نور نے آہستہ سے آنکھ کھول کر اسے دیکھا پر دوسرے ہی لمحے اس نے ہادی کو خود پر جھکتا دیکھ آنکھیں موند لیں۔۔۔رات بھر دونوں کی خاموشی میں دھڑکنیں گنگنارہی تھیں۔۔۔وہ جو کل تک ہادی کی قربت سے وجدان کی ہوس زدہ لمس کی وجہ سے ڈرنے لگی تھی۔۔۔۔اب ہادی کے نرم لمس میں اسے محبت کے سوا کچھ نہ محسوس ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کو جب اسے یقین ہوگیا کہ مشال سوچکی ہے تب التمش اٹھ کر اسکے پاس آیا اور مشال کے برابر میں بیٹھ کر اسکا معصوم چہرہ تکنے لگا۔ہلکی سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔وہ اس پر جھک کر نرمی سے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا۔۔۔تبھی مشال نے آنکھ کھولی۔۔۔پیشانی سے لب ہٹاکر التمش نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔تو اسکے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔اسے اٹھا ہوا دیکھ کر التمش دور ہوا۔۔۔ابھی وہ بیڈ سے اٹھتا کہ مشال نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
التمش۔۔۔
اس نے بمشکل بیٹھ کر اسے پکارا
کیوں خفا ہیں آپ ہم سے۔۔۔
اسکا اداس لہجہ التمش کو چبھا تھا مگر وہ ہنوز چہرہ موڑے بیٹھا رہا۔مشال کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
مت کریں التمش۔۔۔یوں بےرخی نہیں برتیں ہم سے۔۔
وہ تکلیف دہ لہجے میں بولتے ہوئے اسکے سینے پر سر رکھ گئی۔تبھی التمش اس کو دور کرتا ہوا اٹھا۔۔۔پر اب کی بار مشال نے اسکے ایک بازو کو اپنے دونوں ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی اسے اپنے برابر میں بیٹھایا
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔
اسنے کرخت آواز میں کہا تو مشال نے پلکیں جھکالیں۔۔۔پھر کچھ دیر بعد اٹھائیں تو آنکھوں میں آنسو تھے۔۔التمش نے ایک نظر اسکی بھوری آنکھوں میں بھرے آنسو کو دیکھا پھر اٹھنے لگا تو مشال نے اسکے دونوں کالر اپنے نازک ہاتھوں میں دبوچ لیے۔۔۔اسکی اس حرکت پر التمش چونکا تھا۔۔۔اس نے پہلے اپنے کالر کو جکڑے اسکے سرخ ہاتھوں کو دیکھا پھر اسکے گلال بکھرے چہرے کو۔۔۔وہ کیوں اتنی سرخ پڑ رہی تھی۔۔وہ ناسمجھی سے ابھی اسکا تیزی سے سرخ پڑتا چہرہ ہی دیکھ رہا تھا کہ اگلے ہی پل اسکی وجہ بھی التمش کو سمجھ آگئی جب مشال آہستگی سے اسکے قریب ہوئی اور اپنی بھوری آنکھیں سختی سے میچے اسکے دہکتے بھینچے ہوئے لب پر اپنے کٹاؤ دار گلابی ہونٹ رکھ گئی۔۔۔التمش کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے اسکی اس معصوم حرکت پر۔۔۔۔دوسری طرف مشال اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں سمیت یونہی کچھ دیر تک آنکھیں بند کیے بیٹھے رہی۔۔۔اس ستمگر کو منانے کا ایک یہی طریقہ اسے سمجھ آیا تھا۔۔۔پر جب التمش نے کوئی رئیکشن نہ دیا تو وہ آہستگی سے اس سے دور ہوتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔التمش جو اسکے عمل پر مسکرانے لگا تھا جلد ہی پھر اسی خول میں واپس آتا ہوا سپاٹ چہرہ بناگیا۔۔۔مشال کو بےساختہ رونا آیا وہ پھر اسکے قریب ہوئی اور اب التمش کے کندھے پر سر رکھتے اس کی گردن پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔پر ابھی بھی وہ اسی طرح بیٹھا رہا۔۔
کیا ثابت کرنا چاہتی ہو ان سب سے کہ بہت فرمانبردار بیوی ہو۔۔۔۔شوہر کو بہت خوش رکھتی ہو۔۔۔
وہ اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کرتا ہوا سختی سے استفسار کرنے لگا مگر اگلے ہی پل چونکا مشال کو بری طرح لرزتا دیکھ۔۔
مشال۔۔۔
اسکا چہرہ تھوڑی سے تھام کر التمش نے اوپر کیا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اسے۔۔۔وہ بنا آواز کے رورہی تھی۔۔۔چہرہ سمیت بھوری آنکھیں حد سے زیادہ لال ہورہی تھی۔۔۔اور کٹاؤ دار لب کپکپارہے تھے وہ جانتا تھا مشال ان سب سے گھبراتی تھی پر ابھی صرف اسے منانے کے لیے وہ مجبوراً یہ کررہی تھی جسکی وجہ سے اب مشال کی حالت خراب ہونے لگی تھی،دھڑکنیں حد سے زیادہ تیز ہورہی تھیں اسکی۔۔
مشال۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔تم ٹھیک ہو؟
اسکی آنکھوں کے سرخ ڈوروں پر نظریں جمائے التمش نے دھیمے لہجے میں پوچھا ساری ناراضگی اسکی بگڑتی حالت دیکھ کر پل میں ہوا ہوئی تھی۔
مشال نے لرزتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو بےساختہ التمش اسے خود میں بھینچ گیا اور نرمی سے اسکی پشت سہلانے لگا۔
سب ٹھیک ہے میری جان۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔
وہ تسلی دیتے ہوئے مشال کے بالوں پر لب رکھ گیا۔۔۔مگر تھوڑی ہی دیر بعد دبی دبی آواز پر وہ جھٹکے سے مشال کو دور کرتا ہوا اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔پر التمش کی آنکھیں پھیلی تھیں۔۔۔کیونکہ مشال ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ کیے اسے دیکھ رہی تھی مطلب وہ ڈرامہ کر رہی تھی طبیعت بگڑنے کا۔۔۔چند پل لگے التمش کو سنبھلنے میں۔۔
لڑکی۔۔۔یہ۔۔۔یہ کیا فضول حرکت ہے۔۔
وہ سختی سے بولنے لگا پر ناچاہتے ہوئے بھی مسکرادیا مشال کھلکھلاکر ہنسی۔
تم ڈرامہ کررہی تھی۔۔۔
وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں تو۔۔۔۔کیا صرف آپ ہی ناٹک کر سکتے ہیں۔۔۔ایک ہفتے سے آپکی حرکتیں نوٹ کر رہے ہیں ہم۔۔۔جب ہم نیند میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس ہوتے ہیں پھر پورا دن ہم سے ناراضگی کا ڈرامہ کرتے ہیں۔۔۔
وہ کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی تو التمش نے اپنی مسکراہٹ دبائی
تو تم نے جو کیا وہ ٹھیک تھا۔۔
وہ بھی آبرو بھنچے بولا
کیا کِیا ہم نے۔۔
مشال کے پوچھنے پر وہ کچھ پل خاموش رہا پھر کہا
اپنے بچ جانے پر پچھتارہی تھی۔۔۔مرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
اسکی گھمبیر آواز پر مشال کی مسکراہٹ غائب ہوئی وہ آہستگی سے سر جھکاگئی
ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوتا۔۔۔میں بھلے جیسے رہتا یا شاید زندہ رہتا بھی یا نہیں پر تمہیں صرف اپنی فکر تھی۔۔۔کہ مرجانے سے ساری پروبلم ختم ہوجاتی تمہاری جیسے۔۔
اسکے چپ رہنے پر التمش نے پھر سنجیدگی سے بولا
التمش۔۔۔ہم۔۔ہم تنگ آگئے تھے۔۔تھک چکے تھے سب کی بےرخی اور نفرت سے۔۔۔سوری۔۔
وہ دھیمے لہجے میں شرمندہ سی بولی تو التمش کو بےساختہ اس پر پیار آیا
آئی ایم رئیلی سوری سوئیٹی۔۔۔
وہ لہجے میں بےپناہ محبت سموئے بولا ساتھ ہی اسے سینے سے لگا گیا۔
اب تو آپ ناراض نہیں ہیں نا۔۔۔
وہ اسکے سینے پر سر رکھے پوچھ رہی تھی
نہیں۔۔۔لیکن ویسے میں پھر سے ناراض ہونے کو تیار ہوں اگر تم مجھے پہلے کی طرح مناؤ تو۔۔
اسکے شرارتی لہجے میں بولنے پر مشال نے خفگی سے اسکے سینے پر چپت لگائی۔۔۔التمش قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے اسکے گرد حصار اور مضبوط کرگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھ سال بعد![]()
بیٹا تم پراٹھا ہی بنارہے ہو نا؟
عالیہ بیگم نے اسے تاسف سے دیکھتے ہوئے پوچھا جو آستین فولڈ کیے جلدی جلدی پراٹھا بیل رہا تھا۔۔۔
ایک پراٹھا بنانے کے چکر میں اس نے اپنی بلیک شرٹ سفید کرڈالی تھی۔
او میری مدر پاکستانی۔۔۔آپ مجھ پر ساسو ماں والے ٹونٹ کم کریں اور میری ہیلپ کریں۔۔۔جلدی سے مجھے گھی کا ڈبہ پکڑائیں
اس نے مصروف انداز میں کہا وہ پراٹھا اس جدوجہد سے بیل رہا تھا جیسے اس سے مشکل اسکے لیے اور کوئی کام نہ ہو۔۔۔
عالیہ بیگم اسے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔۔جانتی تھیں اسے روٹی بنانا تک بہت پہاڑ توڑنے کا کام لگتا تھا پر ابھی وہ یہ پراٹھا بنارہا تھا۔۔۔صرف اور صرف اپنی اکلوتی و لاڈلی بیٹی پریسہ کے لیے۔۔۔۔چار سال کی پریسہ جو پورے گھر کی لاڈلی تھی۔۔۔سب کی آنکھوں کا تارا سوائے رمیز کے۔۔۔۔جو نور اور ہادی کا اکلوتا بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ حیدر ولا میں پریسہ کا واحد دشمن تھا۔۔۔پانچ سالہ رمیز کو یہ نک چڑھی سی بچی زرا نہیں بھاتی۔۔۔اور پریسہ۔۔۔وہ اپنے سے ایک سال بڑے رمیز کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی۔۔۔وہ ہرپل اسکے پیچھے ناک میں دم کیے رہتی تھی۔۔۔
یہ لو میری کیوٹی پائی کے لیے پاپا کے ہاتھوں کا بنا پراٹھا۔۔۔
التمش نے ڈائننگ ٹیبل پر آتے ہوئے پلیٹ پریسہ کے آگے رکھ کر محبت سے کہا
واؤ شو یمی۔۔
ایک بائٹ لیتے ہوئے پریسہ نے اپنی توتلی زبان میں کہا جس پر عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم سمیت آغاجان بھی اخبار پڑھتے ہوئے مسکرائے
یہ لو۔۔۔لمیج تم بی تھاؤ۔۔(رمیز تم بھی کھاؤ)
پریسہ نے اسکی طرف پلیٹ کھسکا کر معصومیت سے کہا
میرا نام رمیز ہے لمیج نہیں چھوٹی چُہیا۔۔۔
رمیز نے غصے میں اپنی عادت کے مطابق اسے ٹوکا
ہنہہ۔۔۔آیا بلا۔۔۔لمیج نہیں لمیز ہے۔۔
اب کی بار پریسہ نے منہ تیڑھا کر کے اسکی نقل کی تو سب کی ہنسی چھوٹی ساتھ ہی رمیز کا پراٹھے کی طرف ہاتھ بڑھاتا دیکھ پلیٹ واپس اپنی طرف کرلی۔۔۔جس پر وہ کلس کے رہ گیا اور اس نک چڑھی کو دیکھا جو منہ پر ننھا سا ہاتھ رکھ کر ہنس رہی تھی۔
پاپا ہم لوگ آج ہانی پھوپھی کے گھر جائیں گے۔۔
کچھ دیر بعد رمیز نے ہادی سے پرجوش ہوکر پوچھا تو اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
نو۔۔۔وہ الیجاہ مدھے بلتل اتھی نہیں لدتی(وہ علیزہ(ہانیہ کی بیٹی) مجھے بلکل اچھی نہیں لگتی)
پریسہ نے چڑتے ہوئے کہا
پر مجھے تو اچھی لگتی ہے نا۔۔اور الیجاہ نہیں علیزہ ہوتا ہے۔۔
رمیز نے اسے گھورتے ہوئے کہا
ہنہہ۔۔۔پاپا۔۔۔ہم لود اچھ بال دھومنے تہاں دائیں دے(ہم لوگ اس بار گھومنے کہاں جائیں گے۔۔
اسے زبان چڑھا کر پریسہ نے التمش سے پوچھا
کوئی کہیں نہیں جانے والا اس بار۔۔۔۔ایگزیمس ہونے والے ہیں۔۔۔تو اس بار کا پروگرام کینسل۔۔
ابھی التمش کچھ بولتا کہ مشال اوپر سے پریسہ کا اسکول بیگ لاتے ہوئے بولی
ماما اش شو بولنگ۔۔(Mama is so boring)
پریسہ نے مشال کو دیکھتے ہوئے ناک چڑھائی تو مشال نے اسے غصے میں گھورا
نو بیٹا آپ کی ماما بورنگ نہیں بہت کیوٹ ہیں۔۔۔
التمش نے پریسہ سے کہا پر نظریں اسکی مشال پر تھیں۔۔۔جسکی صحت اب پہلے سے بھری بھری لگ رہی تھی۔۔۔التمش کو وہ اب اور کیوٹ لگنے لگی تھی۔۔
اسکے بےباکی سے کہنے پر مشال کے گال سرخ پڑے اس نے اب کے التمش کو گھورا جو ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اسکے لال چہرے کو دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔پھر مشال نے ایک چور نظر سب کو دیکھا۔۔۔آغاجان نے ہنسی چھپانے کے لیے اخبار واپس منہ کے آگے کرلیا۔۔۔۔باقی سب سر جھکائے بظاہر ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔پر ان لوگوں کے چہروں پر دبی دبی ہنسی مشال کے گالوں کو اور ٹماٹر کرگئی۔
چلیں اٹھیں۔۔۔جلدی پہلے ہی لیٹ ہوچکی ہیں آپ۔۔۔
مشال نے بات بدلتے ہوئے جلدی سے پریسہ کو کہا تب تک نور بھی رمیز کا بیگ لے کر آگئی۔
چلو بچہ پارٹی۔۔۔
التمش نے ناشتہ ختم کر کے کہا اور ان دونوں کو لے کر گھر سے نکلا۔۔۔۔جاتے جاتے وہ پلٹا تھا اور ہمیشہ کی طرح پیچھے کھڑی مشال کو ایک آنکھ ماری جس پر وہ مسکراتے ہوئے اسے گھور کر اندر چلی گئی۔
لمیج۔۔۔لمیج۔۔
پریسہ نے توتلے لہجے میں رمیز کو پکارا
کیا ہے۔۔
اس نے لٹھ مار جواب دیتے ہوئے پریسہ کو دیکھا تو التمش کی دیکھا دیکھی پریسہ نے اسے آنکھ ماری جس پر وہ تپ کے رہ گیا۔۔اور غصے میں اپنے ننھے ہاتھوں کو بھینچ لیا۔۔۔پھر التمش کو دیکھا تو ڈر کر خود پر کنٹرول کیا اور اس نک چڑھی کو بعد میں سبق سکھانے کا سوچا
اندر بیٹھی بی جان نے مسکراتے ہوئے اپنے ہنستے کھیلتے آشیانے کو دیکھا جو اتنی مشکلات و تکالیف جھیلنے کے بعد اب واپس اپنے روپ میں آگیا تھا۔۔۔انہوں نے اوپر دیکھتے ہوئے دل سے دعا مانگی کہ اب سب ٹھیک رہے اور بےشک کچھ دعائیں قبول ہونے کے لیے ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔THE END۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
