Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 10)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 10)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
سامنے ہی التمش کوٹ کو ایک بازو پر ڈالے گرے شرٹ اور پینٹ پر اپنی بھر پور وجاہت سمیت چہرے پر ہلکی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔۔۔
مشال کو لگا اسکی دُعا قبول ہوگئی۔۔۔
اسی کے ساتھ نیہا بھی کھڑی تھی پر نیہا کے فیس ایکسپریشن سے لگ رہا تھا کہ وہ خود شاکڈ ہے مشال اور وجدان کو دیکھ کر۔۔۔
التمش آہستہ قدم اٹھاتا ہوا ان لوگوں کی ٹیبل پر آیا،بے ساختہ وجدان نے مشال کا ہاتھ چھوڑا۔۔اسنے مشال کو دیکھا جو آنکھوں میں خوشی کی چمک لیے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔اسکا خون کھول گیا۔۔۔
کتنی خوشی ہورہی ہے مجھے تم دونوں کو یہاں دیکھ کر،کتنا اچھا اتفاق ہے نہ آج میرا بھی نیہا کو لے کر یہیں آنے کا پلین تھا۔۔
التمش نے ایک نظر نیہا کو دیکھ کر ان دونوں سے کہا
جبکہ نیہا کو اب اسکے اچانک لنچ پر لے کر آنے کا مطلب سمجھ میں آیا۔۔۔۔
اب ایک جگہ پر مل ہی گئے ہیں تو لنچ بھی ایک ساتھ ہی کر لیتے ہیں۔۔۔
التمش نے پر جوش ہوکر وجدان سے رائے لی جو اب تک خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیوں نہیں،ضرور۔۔۔
مشال نے خوشی سے کہا
دراصل میں نے صرف دو افراد کے لیے ٹیبل بُک کی تھی۔۔۔
وجدان نے مشال کو دیکھتے ہوئے التمش کو سنجیدگی سے کہا
نو پروبلم!!
یہ کہتے ہوئے التمش نے برابر والی ٹیبل سے ایک چئیر اٹھا کر ان لوگوں کی ٹیبل کے ساتھ رکھی اور اس پر بیٹھ گیا۔۔۔
چلو نیہا تم بھی ایک چئیر اٹھالو وہاں سے۔۔۔
التمش کی اس حرکت پر جہاں وجدان نے اپنا غصہ ضبط کیا،وہیں نیہا نے بے یقینی سے اسے دیکھا
میں،
نیہا نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا
ہاں بلکل۔۔۔نیہا تمہارا ہی نام ہے نا۔۔۔۔
التمش کے طنزیہ انداز پر نیہا غصے سے منہ بناتے ہوئے برابر والی ٹیبل سے ایک چئیر لے آئی۔۔۔
ویٹر۔۔
نیہا کے بیٹھنے پر التمش نے ویٹر کو بلایا پھر سب سے پوچھ کر آرڈر دے دیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ چھوٹی موٹی باتوں کے ساتھ اپنا لنچ کرنے لگے،وجدان جو جب سے خوموشی سے لنچ کررہا تھا معاً اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیلی،اس نے ایک نظر التمش کی طرف دیکھا جو مکمل باتوں میں مگن تھا۔۔۔۔پھر آہستگی سے اپنا ایک پاؤں شوز سے آزاد کیا اور مشال کے پیروں کی طرف لے کر گیا پر اچانک اسے اپنے پیر پر کسی کے شوز کا دباؤ محسوس ہوا۔۔۔اس نے اچھنبے سے ہلکا سا سر جھکا کر ٹیبل کے نیچے دیکھا۔۔۔۔تو اسے شدید حیرت ہوئی۔۔۔اسکا پیر التمش کے شوز کے نیچے تھا۔۔۔۔وجدان نے نظر اٹھا کر دیکھا تو التمش سرد آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
اس نے آہستگی سے اپنا پیر اس سے چھڑوا کر واپس شوز پہن لیے۔۔۔وجدان ایک بات اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ وہ کم از کم التمش کے سامنے مشال کے ساتھ کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
کیسا لگا۔۔؟
التمش نے وجدان سے سرد لہجے میں پوچھا
اسکے لہجے پر نیہا اور مشال نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
کھانا کیسا لگا یہاں کا؟
کافی فیمَس ریسٹورنٹ ہے یہ۔۔۔
التمش ان دونوں کو وضاحت دے کر پھر کھانے میں مگن ہوگیا۔۔۔
بہت اچھا ہے۔۔
مشال نے مسکراتے ہوئے کہا تو نیہا نے بھی مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا۔۔
جبکہ وجدان تنے ہوئے جبڑوں سمیت التمش کو گھور رہا تھا۔۔۔
لنچ کے بعد وجدان ضروری کام کا کہہ کر وہاں سے چل دیا۔۔۔۔تو مشال التمش کے ساتھ ہولی۔۔۔
التمش نے نیہا کو اسکے گھر ڈراپ کر کے مشال کو بھی حیدر ولا ڈراپ کیا۔۔۔پھر آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔
ابھی مشال پورچ سے ہوتے ہوئے اندر ہی جارہی تھی کہ ہارن بجا۔۔۔مشال نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے وجدان کی کار کھڑی تھی۔۔۔۔وجدان کار سے نکل کر مشال کے سامنے آیا۔۔۔۔
ارے وجدان آپ۔۔
مشال نے حیرت سے پوچھا
تمہارا پرس میری کار میں رہ گیا تھا۔۔۔
وجدان نے کہتے ہوئے مشال کا پرس آگے کیا۔۔۔
مشال نے پرس تھام کر وجدان کو ہلکی سی سمائل دی۔۔۔پھر اندر چلی گئی۔۔۔۔
تبھی وجدان کے موبائل پر نیہا کی کال آئی
ہیلو۔۔
وجدان نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم اور مشال وہاں کیا کر رہے تھے۔۔۔
نیہا نے غصے سے پوچھا
اگر یہی سوال میں تم سے کروں کہ تم اور وہ التمش وہاں کیسے پہنچے۔۔۔حالانکہ مشال نے بات کرتے ہوئے مجھے یہ بتایا تھا کہ وہ میرے ساتھ لنچ پر آنے کی بات التمش کو بتانا بھول گئی تھی۔۔۔پھر کس نے التمش کو بتایا۔۔؟
وجدان نے سختی سے پوچھا
مجھے کیا پتا؟
نیہا نے تنگ آکر کہا
دیکھو نیہا،میں تمہارے کام کے لیے صرف اسی لیے راضی ہوا تھا،کہ مجھے معاوضے کے ساتھ ساتھ اس بکری کو یوز کرنے کو بھی ملے،مگر یہاں تو سب کچھ الٹ ہے،جب میں اس مشال کے ساتھ اکیلے ہونا چاہ رہا ہوں تو اسکا وہ کزن بیچ میں ٹپک جاتا ہے۔۔۔
وجدان نے تلخی سے کہا
تو میں کیا کروں۔۔۔۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا۔۔۔ان دونوں کی دوستی بہت گہری ہے۔۔۔۔اگر تمہیں اتنی ہی جلدی ہے نا مشال کو یوز کرنے کی تو پہلے ان دونوں کی دوستی ختم کرواؤ۔۔۔
نیہا نے بھرپور نفرت سے کہا
میں بھی یہیں سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔کچھ تو پلین کرنا پڑے گا۔۔۔
وجدان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا پلین کرنا پڑے گا؟
پیچھے سے آتی آواز پر وجدان کچھ دیر چپ رہا پھر آہستگی سے کال کاٹ کر فون جیب میں رکھا اور مُڑ کر دیکھا
سامنے ہی نور کھڑی تفتیشی نظروں سے وجدان کو دیکھ رہی تھی۔۔
وجدان کے ماتھے پر شکنیں پڑیں۔۔
پہلے کزن۔۔۔۔اب بہن۔۔
وہ آہستہ سے بڑبڑاتا ہوا اسکے قریب آیا
وجدان بھائی کس پلین کی بات کررہے تھے آپ۔۔۔؟
نور نے پھر پوچھا تو وجدان خاموش نظروں سے کچھ دیر اسے یونہی دیکھتا رہا
تمہاری عمر کیا ہے؟
وجدان نے اسکا سوال نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا
اٹھارہ کی ہوں۔۔۔
نور کو حیرت ہوئی اسکے بے رُکے سوال پر پھر آہستگی سے اسنے جواب دیا
ہمم۔۔۔۔چھوٹی ہو ابھی۔۔۔۔سو لٹل گرل میری ایک بات مانوگی۔۔۔
وجدان نے اسکی طرف تھوڑا جھکتے ہوئے پوچھا
جی۔۔
نور نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے کہا
اپنے کام سے کام رکھا کرو ورنہ بہت پچھتاؤ گی۔۔۔
وجدان نے جتنی سرد آواز میں کہا،نور کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی
سمجھ آئی۔۔۔لٹل گرل۔۔
نور کے چپ رہنے پر اس نے پھر پوچھا،
نور کو اس کی نظروں سے خوف آنے لگا تبھی آہستہ سے سر اثبات میں ہلاکر وہ اور کچھ کہے بنا جلدی سے اندر چلی گئی۔۔۔۔
سب سے پہلے اس چھوٹی بکری کا منہ بند کروانا ہوگا۔۔۔
وجدان نور کے سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں بعد وجدان نے پھر مشال کو ملنے کی ضد کی۔۔۔۔اس بار مشال نے صاف انکار کر دیا تو وجدان حیدر ولا پہنچ گیا۔۔۔۔۔اس نے بی جان سے اجازت لی تو انہوں نے دو تین دفعہ منع کرنے کے بعد آخر اسے اجازت دے دی جس پر مشال نے التمش کو بتایا تو اپنی پوزیسو نیچر کے بر خلاف التمش نے بھی اسے وجدان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔مشال کو شدید حیرت ہوئی۔۔۔
پچھلی دفعہ وجدان نے جو اسکے ساتھ کیا۔۔۔۔اسکی وجہ سے وہ کافی گھبرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔مگر وجدان کی لگاتار ضد کی وجہ سے آخر کار وہ مان گئی۔۔۔
جبکہ وجدان خوش تھا کہ اس بار اس نے التمش کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔۔۔۔
ہم کہاں جارہے ہیں وجدان۔۔؟
مشال نے کار ڈرائیور کرتے وجدان سے پوچھا
سوئیٹ ہارٹ،اس بار میں تمہیں کسی جگہ نہیں لے جارہا۔۔۔۔۔بلکہ لانگ ڈرائیو پر ہیں ہم۔۔۔
وجدان کے ‘سوئیٹ ہارٹ’ کہنے پر مشال کے گال سرخ ہوگئے
پلیز وجدان۔۔۔ہم سے اس طرح سے بات مت کیا کریں۔۔۔
مشال نے چڑتے ہوئے کہا تو وجدان نے آنکھیں گھومائیں
تو کس طرح سے کروں۔۔۔تم ہی بتاؤ۔۔۔
وجدان نے پیار سے کہتے ہوئے مشال کا نازک سا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اسکے سرخ ہوتے گال پر جھکا ہی تھا کہ مشال نے جھٹکے سے اسے دور کیا اور اس سے اپنا ہاتھ چھڑالیا۔۔۔۔وہ بہت بری طرح گھبرائی تھی وجدان کی اس حرکت پر۔۔۔۔۔۔اب ہر جگہ التمش تھوڑی اسے پروٹیکٹ کرنے آئے گا۔۔۔۔کبھی تو اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔۔۔۔۔
وجدان نے حیرت سے اسکی یہ حرکت نوٹ کی پھر جھٹکے سے گاڑی روکی۔۔۔
واٹ رابش۔۔۔مشال۔۔
وہ ناگواری سے بولا
دیکھیے وجدان۔۔۔۔ہم نے آپکو پہلے۔۔۔۔پہلے بھی بتایا تھ تھا۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔ہمیں اس طر۔۔۔طرح کی حرکتیں بلکل نہیں پسند۔۔۔
اس کے لہجے سے گھبراتے ہوئے مشال نے اٹکتے ہوئے کہا
کس طرح کی حرکتیں!
وجدان نے سختی سے پوچھا
بقول وجدان کے آخر ایسا بھی کیا انوکھا تھا اس میں جو وہ اتنے نخرے کر رہی تھی۔۔۔ہاں وہ یہ بات مانتا تھا کہ مشال کے خوبصورت چہرے پر بلا کی معصومیت تھی جو اسے دوسری لڑکیوں سے تھوڑا مختلف بناتی تھی۔۔۔مگر وہ بھی تو کسی سے کم نہ تھا۔۔۔۔لڑکیاں اسکی خوبصورتی سے معیوب ہوکر اسکے آگے پیچھے گھومتی تھیں۔۔۔آخر کیسے برداشت کرلیتا وہ مشال کا خود کو دھتکارنا۔۔۔۔
اسکے سخت لہجے پر مشال نے ڈر کر سر جھکا لیا۔۔
دیکھو مشال۔۔۔آج کل کے دور میں یہ سب معمولی بات ہے۔۔۔۔مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔اور ویسے بھی میں کوئی غیر تھوڑی ہوں۔۔۔۔تمھارا منگیتر ہوں۔۔۔۔کچھ مہینوں بعد ہماری شادی ہے پھر یہ سب۔۔۔۔
وجدان نے بہت مشکل سے اپنے لہجہ کو نرم کرتے ہوئے اسے سمجھایا
پر جو بھی ہو وجدان۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔
مشال نے اسکا لہجہ نرم دیکھتے ہوئے پُر نم لہجے میں کہا
اسکی آواز میں نمی محسوس کرتے ہوئے وجدان نے اپنا غصہ کنٹرول کیا پھر نرمی سے کہا
اوکے۔۔۔اگر تمہیں برا لگا تو سوری۔۔۔آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرونگا۔۔۔۔ہمم
یہ کہتے ہوئے آخر میں وجدان مسکرایا تو مشال بھی ہلکا سا مسکرادی۔۔
پھر وجدان نے گاڑی سٹارٹ کردی۔۔
اسکے منہ پر تو وہ مسکرادیا پر وجدان نے سوچ لیا تھا کہ اسے دھتکارنے کی سزا وہ مشال کو دے گا اور یہ سزا وہ ابھی دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
یکایک اسکے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔۔۔اس نے آہستگی سے اپنا موبائل نکالا اور اس پر کچھ ڈائل کر کے واپس جیب میں رکھ دیا پھر ایک نظر مشال کو دیکھا جو باہر دیکھنے میں مگن تھی۔۔۔۔وجدان نے گاڑی کی سپیڈ تھوڑی سلو کرتے ہوئے مشال کے پرس کی زپ کھولی۔۔۔اور اس میں سے مشال کا موبائل نکال لیا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد وجدان کے فون پر بِپ بجی۔۔۔
اس نے کار روکی تو مشال بھی اسکی طرف متوجہ ہوئی
ہیلو۔۔۔
وجدان نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا
ہاں بولو۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔واٹ۔۔۔اچھا تم ویٹ کرو میں پندرہ منٹ میں آتا ہوں۔۔۔
وجدان نے پریشانی سے کہہ کر فون رکھا
کیا ہوا وجدان۔۔
مشال نے اسکا پریشان چہرا دیکھ کر پوچھا
مشال ایک امرجنسی ہوگئی۔۔۔۔آفس کے کچھ کَلیگس نے ہماری ڈیل میں گڑبڑ کردی ہے۔۔۔۔مجھے ابھی جانا ہوگا۔۔۔
وجدان نے ٹینشن سے کہا
تو کوئی بات نہیں وجدان۔۔۔۔آپ ہمیں گھر ڈراپ کر کے چلیں جائیں۔۔۔۔ویسے بھی کافی دیر ہوگئی ہے ہمیں گھر سے نکلے ہوئے۔۔۔۔
مشال نے باہر دیکھتے ہوئے کہا جہاں شام کے سائے لہرا رہے تھے
مشال پروبلم یہ ہے کے میرا آفس یہاں سے پندرہ منٹ کی دوری پر ہے جبکہ تمہارا گھر یہاں سے تقریباً پون گھنٹے دور ہے۔۔۔اور مجھے آفس ابھی پہنچنا ہے۔۔۔
وجدان کی بات پر اب مشال بھی پریشان ہوگئی
تو کیا کریں پھر۔۔۔
مشال نے پریشانی سے پوچھا
مشال۔۔۔۔ایسا کرو تم کار سے اترو۔۔۔۔۔ٹیکسی سے گھر چلے جاؤ۔۔۔۔یہاں ویسے بھی کئی ٹیکسیس آتے جاتے رہتی ہیں۔۔۔
وجدان کی بات پر مشال کے ہوش اڑ گئے اس نے آس پاس دیکھا دور دور تک اسے جنگل ہی دکھ رہا تھا۔۔۔
وجدان آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔۔۔۔آپ وقت دیکھیں۔۔۔شام ہونے والی ہے ہم کیسے ٹیکسی سے جائیں گے۔۔۔
مشال نے بوکھلاتے ہوئے کہا
دیکھو مشال اگر ارجنٹ نہ ہوتا تو میں تمہیں خود ٹیکسی کروا دیتا۔۔۔پر ابھی۔۔۔۔بات سمجھو مشال۔۔۔۔۔چاچو بھی آفس نہیں گئے۔۔۔۔میرا جانا ضروری ہے۔۔۔۔پلیز اتر جاؤ۔۔۔
وجدان نے متانت سے کہا تو مشال کو رونا آنے لگا اس نے ایک بار پھر باہر دیکھا جہاں تقریباً شام ہوچکی تھی۔۔
پھر وجدان کو دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں موبائل تھامے وہ فُل سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔جبکہ اسکی نظر ہر تھوڑی دیر میں موبائل پر جارہی تھی۔۔۔لوکیشن دیکھ کر وہ تھوڑا حیران ہوا۔۔۔۔
اس نے مشال کو وجدان کے ساتھ باآسانی جانے دیا کیونکہ وہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ آخر وجدان چاہتا کیا ہے پر مشال کے جانے سے پہلے وہ اسکے فون پر لوکیشن آن کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔
اور اب لوکیشن جنگل کے بیچوں بیچ سٹاپ ہوگئی تھی۔۔۔
اسنے موبائل دیکھتے ہوئے کار جنگل کے راستے پر موڑی ہی تھی کہ اسکے فون پر نیہا کالنگ لکھا آگیا۔۔۔
ہیلو۔۔۔
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
ہیل۔۔۔ہیلو تامی
نیہا کی روتی آواز پر اس نے جھٹکے سے کار روکی
سب ٹھیک ہے نیہا؟۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔
التمش نے سیدھے ہوتے ہوئے پوچھا
۔۔۔۔پلیز تامی۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔جلدی میرے گھر آجاؤ۔۔۔۔پاپا کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے انکی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔۔۔
نیہا نے روتے ہوئے اس سے کہا
کیا ہوا ہے انکل کو؟
التمش نے پریشانی سے پوچھا
پتا نہیں۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔۔تم بس پلیز جلدی آجاؤ۔۔۔ان کو ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا۔۔۔۔
نیہا کے کہنے پر التمش نے اپنی پیشانی مسلی۔۔
اوکے۔۔۔تم رو مت۔۔۔۔میں کوشش کرتا ہوں جلد آنے کی۔۔۔
التمش نے کہہ کر فون رکھا
پلیز جلدی آؤ تامی۔۔۔
نیہا نے اپنے فون کو دیکھتے ہوئے کہا پھر اسکے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔
التمش نے ایک دفعہ پھر لوکیشن دیکھی جو ابھی تک اسءمی جگہ پر اسٹاپ تھی۔۔
وجدان نے کار جنگل کے بیچ میں سٹاپ کیوں روکی ہے۔۔۔
التمش نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا
کیا کروں۔۔۔۔
مشی کے پاس جاؤں۔۔۔۔لیکن اگر انکل کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو۔۔۔۔
یہ سوچتے ہی التمش نے گاڑی واپسی کے رستے پر موڑلی۔۔۔
جبکہ دوسری طرف مشال روہانسی ہوکر اپنا پرس لیتے ہوئے آہستگی سے وجدان کی کار سے اتری۔۔۔۔
سوری مشال۔۔۔
وجدان نے متانت سے کہتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
کیا کریں ہم۔۔۔
وجدان کے جانے کے بعد مشال نے پریشانی سے سوچا تبھی اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا
التمش!!!
اُف۔۔۔۔ہم نے یہ پہلے کیوں نہیں سوچا۔۔۔۔ہم التمش کو کال کر لیتے ہیں۔۔۔۔
پہلے کے مقابلے میں مشال کے چہرے سے اب پریشانی غائب تھی اس نے خوش ہوتے ہوئے جلدی سے اپنے پرس میں فون نکالنے کے لیے ہاتھ ڈالا۔۔۔۔
پر یہ کیا۔۔۔
اسکا موبائل ہی نہیں تھا پرس میں۔۔۔۔
اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔۔۔اس نے سر جھکا کر غور سے اپنے پرس کے اندر دیکھا پھر اسے ٹھیک سے ٹٹولا۔۔۔۔
اسی میں تو رکھا تھا۔۔۔۔
اس نے روہانسی ہوکر خود سے کہا
اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی۔۔۔۔مکمل شام ہوچکی تھی۔۔۔۔اب تو اندھیرا بھی چھانے لگا تھا۔۔۔۔پھر اس نے روڈ دیکھا۔۔۔۔دور تک سنسان روڈ۔۔۔۔دائیں بائیں جنگل۔۔۔۔۔۔ٹیکسی تو دور کی بات اب تک ایک بائیک یا کار تک نہیں گزری تھی وہاں سے۔۔۔۔۔مشال کو اب صحیح معنوں میں اپنے ہوش اڑتے ہوئے محسوس ہوئے اس نے پوری کوشش کی کے نہ روئے پر آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے اسکے سفید گالوں پر پھسل پڑے۔۔۔۔
خوف سے اسکی جان نکلنے کو تھی۔۔۔۔۔تبھی اسکے منہ سے صرف ایک ہی لفظ نکل سکا
التمش!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
