Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 23)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 23)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
وہ جلدی سے اٹھ کر بھاگتے ہوئے گیٹ پر گئی۔۔۔تو کیا وہ واپس آیا تھا اسے لینے۔۔۔یہ سوچ کر اس نے خوشی سے دروازہ کھولا مگر سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر اسے اور حیرت ہوئی۔۔۔
سوری میں آج ہی بُک ہوچکا ہوں۔۔۔آپ مجھے اس طرح سے گھور نہیں سکتیں۔۔۔
ہادی نے اسکے مسلسل دیکھنے پر مذاقاً کہا تو مشال ہوش میں آئی۔
ہادی۔۔تم کیوں آئے ہو۔۔
اسکا دل دکھا تھا التمش کو نہ دیکھ کر اسی لیے وہ ہادی سے تحیر بھرے لہجے میں پوچھنے لگی
یہ لو۔۔۔اب یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ظاہر سی بات ہے تمہیں لینے ہی آیا ہوں۔۔۔اب جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔ورنہ وہاں سب بولیں گے کہ شادی سے دولہا ہی غائب ہے۔۔۔
ہادی رسانیت سے بولتے ہوئے اندر آیا اور لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
پر ہادی تم جاؤ۔۔۔۔وہاں کوئی نہیں چاہے گا کہ ہم آئیں اور ہمارے نہیں ہونے سے ویسے بھی کونسا شادی رک جانی ہے۔۔۔
اس نے دکھ سے کہا تو ہادی اسکے مرجھائے چہرے کو دیکھ کر تاسف سے سوچنے لگا۔۔۔کتنی ضروری ہوا کرتی تھی کبھی یہ لڑکی حیدر ولا کے ہر فرد کے لیے۔۔۔اور آج۔۔۔اسے افسوس ہوا سب کی سوچ پر۔۔۔۔کسی نے بھی ایک دفعہ یہ نہیں سوچا کہ تقدیر میں جو لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔۔۔۔انسان تو صرف کٹ پلی بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔
کسی کو فرق پڑے نہ پڑے پر جن کی شادی ہے انہیں ضرور فرق پڑے گا۔۔۔۔وہاں میری پیاری سی دلہن رو رو کر اپنا میک اپ خراب کیے بیٹھی ہے۔۔۔۔کہ اسکی بہن نہیں آئی اب تک۔۔۔اب چلو ورنہ جس طرح سے وہ ٹڈی وہاں پر رورہی ہے۔۔۔مجھے تو لگتا ہے تمہارے نہیں آنے پر دھرنا لگائے گی اور پھر مجھ معصوم کی شادی ہی نہیں ہوپائے گی آج۔۔۔
ہادی نے جس انداز میں کہا بے ساختہ مشال کی ہنسی چُھوٹی تھی۔۔۔اتنے مہینوں بعد آج وہ کھل کر ہنسی تھی۔۔۔
اب مجھ پر رحم کرو۔۔۔اور جلدی سے تیار ہوکر آؤ۔۔۔دیر ہورہی ہے۔۔
ہادی نے اسکا کِھلا چہرہ دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تو مشال آہستہ سے اثبات میں سر ہلاکر اندر چلی گئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ چینج کر کے سادہ سے میک اپ میں تیار ہوکر آئی تو ہادی اسکو لے کر حیدر ولا کے لیے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاچی ہادی کہاں ہے؟
التمش جو ہادی کو کب سے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔اسکے نہیں ملنے پر ریحانہ بیگم سے پوچھنے لگا۔
بیٹا اس نے کہا تھا۔۔کسی ضروری کام سے جارہا ہے۔۔۔آتا ہی ہوگا۔۔
ریحانہ بیگم نے اسے بتایا تو التمش حیران ہوا
ایسا بھی کیا ضروری کام تھا۔۔۔۔مجھے تو بڑا بول رہا تھا دیر ہورہی ہے۔۔۔اور اب خود غائب۔۔۔۔
وہ آہستگی سے بڑبڑاتے ہوئے نظر دوڑانے لگا مگر گیٹ پر نظر پڑتے ہی اسکے الفاظ منہ میں رہ گئے۔۔۔۔
ہادی مشال کے ساتھ اندر آرہا تھا۔۔۔اسکی پیشانی پر بل پڑے تھے مشال کو یہاں دیکھ کر۔۔۔
ہادی مسکراتے ہوئے اسکے پاس آیا۔۔
یہ ضروری کام تھا تیرا۔۔۔
التمش کے سیریس ایکسپریشن دیکھ ہادی نے لب دانتوں کی دباکر مسکراہٹ روکی اور اثبات میں سر ہلانے لگا
جبکہ عالیہ بیگم کے ساتھ ساتھ گھر کے سبھی فرد کے بھی تاثرات تنے تھے۔۔مشال سب سے پہلے ویل چئیر پر بیٹھے زمان صاحب کے پاس گئی۔۔۔۔اپنے مہینوں بعد بھی زمان صاحب کی وہی حالت دیکھ کر اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔کتنی دعائیں کی تھی اس نے۔۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ تھوڑے بہت بہتر ہوگئے ہونگے۔۔۔وہ انکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ ہی رہی تھی کہ عالیہ بیگم نے ویل چئیر وہاں سے ہٹادی۔۔۔اور انہیں لے کر کہیں اور جانے لگیں۔۔۔
مشال نے شرمندگی سے چہرہ جھکا لیا۔۔۔۔
جس سوچ کی وجہ سے التمش مشال کو یہاں لانا نہیں چاہ رہا تھا آخر وہیں ہوا۔۔۔۔وہاں پر سوائے ہادی اور نور کے کسی نے مشال سے بات تک کرنا گوارا نہیں کی۔۔۔۔اپنے ساتھ غیروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا دیکھ اسکی بار بار آنکھیں بھرارہیں تھیں۔۔۔مگر اپنے آنسو چھپانے وہ واشروم میں چلی جاتی۔۔۔۔ریحانہ بیگم سے بھی اس نے بہانے سے کوشش کی بات کرنے کی مگر آگے سے کوئی جواب نہ پاکر چپ ہوجاتی۔۔۔سب کا رویہ اسکے ساتھ ایسا دیکھ التمش نے ٹھان لی تھی کہ کل ولیمہ کے فنکشن میں چاہے کچھ بھی ہو وہ اسے نہیں لائے گا۔۔۔۔
سُن۔۔
بارات کا فنکشن ختم ہونے کے بعد چند رشتے داروں کو چھوڑ کر سبھی مہمان ایک ایک کر کے چلے گئے تھے۔۔۔نور کو ہادی کے روم میں بیٹھا دیا گیا۔۔۔مشال ابھی اسی کے ساتھ تھی۔۔۔۔ہادی جو اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا التمش کے بلانے پر اسکے پاس آیا۔۔۔
جی بھائی۔۔۔
تیری بیوی ہے نا اب۔۔۔
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
جی بلکل۔۔۔
ہادی نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
تو اب اسی تک رہنا۔۔۔آئندہ میری بیوی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
التمش نے اسے مشال کو لانے پر چوٹ کی تو ہادی کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
بھائی۔۔۔اب چھوڑو نا یار۔۔۔معاف کردو مشال کو۔۔۔۔گھر میں سب کا اسکے ساتھ روکھا رویہ ہے۔۔۔ایٹ لیسٹ آپ تو ایسا نہ کرو۔۔۔
ہادی نے آرام سے اسے سمجھانا چاہا تو التمش چند پل خاموش رہا
کچھ لوگوں پر یہ گزرتی نہیں ہے اسی لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ معاف کردو۔۔۔انہیں نہیں پتا ہوتا کہ اپنوں کے تکلیف دینے سے دل پر کیا گزرتی ہے۔۔۔اسی لیے تُو مجھے مت سکھا کہ مجھے معاف کردینا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔
التمش بولتا ہوا زمان صاحب کے روم میں چلا گیا جبکہ ہادی کے پاس جیسے کچھ بولنے کو نہیں تھا۔اسی لیے خاموش کھڑا رہا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روم میں داخل ہوا تو چکرا کے رہ گیا۔۔۔کچھ دیر پہلے سجا سجایا کمرہ اب بہت بری طرح بکھرا ہوا تھا اور وہ مزے سے بیڈ پر سورہی تھی۔۔۔ہادی نے اسکے پاس جاکر کمفرٹر ہٹا کر اسے دیکھا۔۔۔۔میک سے پاک چہرہ کے ساتھ وہ چینج کر کے بلکل سادہ سے سوٹ میں بیڈ کے سائیڈ میں کونے میں ہوکر سورہی تھی۔۔۔
اس نے کیا کیا سوچا تھا آج کے لیے مگر سامنے محوئے خواب اسکی بیوی کے درجے پر فائز اس لڑکی نے جیسے اسکے خواب ہی چکنا چور کردیے۔۔۔ہادی نے غصے میں اسے جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔
آآآ۔۔۔
نور ہڑبڑا کر اٹھی مگر سامنے سخت چتونوں سے گھورتے ہادی کو دیکھ کر وہ چڑی
کیا مسئلہ ہے۔۔۔کیوں جگایا مجھے۔۔۔
اس نے غصے سے پوچھا تو ہادی صدمے سے اسے دیکھنے لگا
کیوں جگایا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔سوال تو مجھے پوچھنا چاہیے کہ تم کیوں سوئی۔۔۔زرا شرم نہیں کہ شوہر ابھی روم میں آئے گا تو انتظار کرلوں تھوڑا۔۔۔
اس نے اپنا دکھڑا سنایا تو نور اسے گھور کر رہ گئی
ہاں نہیں ہے شرم مجھ میں اور اب مت اٹھانا مجھے۔۔۔
نور کہہ کر واپس لیٹنے لگی مگر ہادی نے اسکے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر اسے واپس بیٹھایا۔
کیا ہے۔۔۔
اب کے نور نے جھنجھلاکر کہا
ٹڈی تم نے میک اپ کیوں اتارا۔۔۔اتنی مشکل سے تو پارلر والی نے ڈھنگ کی شکل بنائی تھی۔۔۔اب میک اپ اتار دیا تم نے رات کو اگر میں تمہاری چڑیل جیسی شکل دیکھ کر ڈر گیا تو۔۔۔
ہادی نے ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔۔۔جبکہ نور اسکے چڑیل بولنے پر تلملا گئی۔۔۔
اس چڑیل سے تم نے ہی شادی کی ہے میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھ سے شادی کرلو۔۔۔۔
اسے رونا ہی آگیا ہادی کے بولنے پر اسی لیے بھرائی ہوئی آواز میں بول کر وہ کمفرٹر اوڑھ گئی۔۔۔
ارے۔۔۔ٹڈی میں مذاق کررہا تھا۔۔۔
ہادی اسے سائیڈ میں دھکیل کر خود بھی بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔نور اسکے اسطرح خود سے چپک کر لیٹنے پر بوکھلائی۔۔وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ ہادی نے اسکی کمر پر بازو حائل کر کے اسے واپس اپنے ساتھ لیٹا دیا۔۔۔
ہادی۔۔۔کیا کررہے ہو چھوڑو۔۔۔
نور نے ہڑبڑا کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکے نرم وجود سے مدہوش ہوتا ہوا اسکا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگاگیا۔۔۔
نور تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو یار۔۔۔بلکل چھوٹی سی جسٹ لائک لٹل گرل۔۔۔
ہادی نے اسکے چھوٹے قد پر محبت سے کہا۔۔وہ اور بھی سرگوشیاں اسکے کان میں آہستگی سے کررہا تھا مگر نور “لٹل گرل” لفظ پر اٹک گئی۔اسکے ذہن میں بے اختیار وجدان کا چہرہ آیا۔۔
ہادی نے جھک کر نرمی سے اپنے لب نور کی گردن پر رکھ دیے۔۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔دور رہو مجھ سے گھٹیا انسان۔۔
نور چیختے ہوئے اسکی باہوں میں مچلنے لگی تو ہادی جھٹکے سے اٹھتا ہوا اس سے دور ہوا
نور۔۔۔کیا ہوا۔۔
ہادی نے فکرمندی سے اسکا چہرہ تھامنا چاہا مگر نور نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا
کیا کرنا چاہ رہے تھے تم۔۔۔بولو۔۔۔کیا کررہے تھے۔۔۔
وہ غصے سے بپھری تھی اس پر۔۔۔اسے ہادی میں بھی وجدان کی حوس بھری نظریں محسوس ہوئیں تھی۔۔۔
نور۔۔
چپ رہو۔۔۔ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔
ہادی نے اسکے قریب آکر بولنے لگا مگر نور نے چیخ کر اسے دھکا دیا
اوکے۔۔اوکے ریلیکس۔۔۔کچھ نہیں کررہا میں۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔تم سوجاؤ۔۔۔
ہادی نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے آرام سے کہا
روم سے نکلو فوراً۔۔۔
نور نے ناگواری سے کہہ کر اسکی طرف تکیہ پھینکا
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔غصہ مت ہو۔۔۔۔۔میں جارہا ہوں روم سے۔۔۔تم سوجاؤ۔۔۔۔
ہادی نے اسکی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا پھر روم سے نکل گیا۔اسکے جانے کے بعد نور بیڈ پر گرنے کے انداز میں اوندھے منہ لیٹی تھی اور اپنا چہرہ تکیے میں چھپا کر رونے لگی۔۔۔
روم سے باہر آکر وہ سوئمنگ پول کی طرف آیا تھا۔۔۔ہادی کو غصہ آیا اپنی بے اختیاری پر۔۔۔۔
مجھے اتنی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔کیا سوچ رہی ہوگی وہ میرے بارے میں۔۔۔
اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سبکی سے سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
