Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 24)

197.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 24)

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz

آج ولیمہ تھا پر آفس میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ لیٹ ہورہا تھا۔۔۔۔اس نے ٹائم دیکھا رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔۔۔التمش جلدی جلدی کام نپٹانے لگا۔۔۔۔کچھ دیر بعد اپنا کام ختم کر کے وہ باقی کام مینیجر کو بتاکر آفس سے نکلا۔۔۔

فلیٹ میں پہنچ کر وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوا تو مشال کو دیکھ کر جھنجھنا سا گیا۔۔۔۔بلیک کلر کی ساڑھی میں ہلکے میک پر ریڈ لپسٹک لگائے،بالوں کو کرل کیے وہ مکمل تیار کھڑی تھی۔۔۔۔چہرے پر صاف گھبراہٹ واضح تھی جو اسکی خوبصورتی کو اور بڑھاگئی تھی۔۔۔۔۔التمش چند پل مبہوت سا اسے دیکھے گیا۔۔۔

آپ۔۔۔کے۔۔کپڑے نکال دیے ہیں۔۔۔ہم نے۔۔۔

مشال نے اسکی نظروں سے پزل ہوتے ہوئے اٹک کر کہا وہ ڈر بھی رہی تھی التمش کے غصے سے پر اسکے آنے سے پہلے اسی لیے تیار ہوگئی تھی تاکہ التمش اسے ساتھ لے جائے۔۔۔

اسکی آواز پر التمش ہوش میں آیا پھر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا

اتنا تیار کس خوشی میں ہوئی ہو۔۔۔

اسنے تھوڑا سختی سے پوچھا تو مشال اور کنفیوز ہوئی

ہم بھی جائیں گے۔۔۔

مشال نے لہجے کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کی

کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی۔۔۔چینج کرو فوراً۔۔

اس کا دوآتشہ روپ التمش کو بہکا رہا تھا تھا اسی لیے بمشکل اس پر سے نگاہ پھیر کر التمش نے سنجیدگی سے کہا پھر واشروم میں چلا گیا۔۔۔

مشال کو رونا آنے لگا پر اس نے ٹھان لی تھی کہ آج جاکر رہے گی۔۔۔تبھی بیڈ پر بیٹھ کر التمش کے تیار ہونے تک کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد نہاکر نکلنے پر وہ ایک بھی نگاہِ غلط اس پر ڈالے بغیر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ وائٹ شرٹ پر بلیک کوٹ پینٹ پہنے باہر نکلا پھر ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہوکر بال بنانے لگا۔۔۔خود پر پرفیوم چھڑک کر وہ واچ پہنتے ہوئے باہر نکلنے لگا تو مشال بھی جلدی سے اٹھ کر اسکے پیچھے جانے لگی۔۔

گیٹ پر پہنچ کر التمش اچانک رکا تو بےدھیانی میں چلتی مشال اس سے ٹکرائی پھر جلد ہی سنبھل کر سیدھی کھڑی ہوئی۔۔۔۔

کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔۔۔

التمش نے ناگواری سے اسے دیکھ کر پوچھا تو مشال نے بمشکل اپنے ڈر پر کنٹرول کیا

تماشہ۔۔۔ہم نہیں آپ بنارہے ہیں۔۔۔

مشال نے نظریں جھکائے کہا تو التمش نے لب بھینچ لیے

کیا تماشہ بنا رہا ہوں میں۔۔

اس نے سختی سے پوچھا

ہمیں نہیں پتا۔۔۔بس ہمیں لے کر چلیں۔۔۔ہمیں بھی جانا ہے۔۔۔

اب کی بار مشال نے ضدی لہجے میں کہا اور باہر نکلنے لگی تو التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔

مشال ابھی غصہ مت دلاؤ۔۔۔تمہارے وہاں نہیں جانے سے ویسے بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اسی لیے نہ ہی جاؤ تو بہتر ہے۔۔۔

التمش کے الفاظ اسکے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہوئے تھے مگر جانتی تھی وہ سچ ہی کہہ رہا تھا کل سوائے نور اور ہادی کے کس نے اس سے بات کی تھی۔۔۔

ہم وہاں نور کے لیے جارہے ہیں۔۔۔

اس نے نم آواز میں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ التمش سے چھڑوایا اور پھر باہر جانے لگی۔۔

کیا مصیبت ہے۔۔۔کہہ دیا نا کہ نہیں جاؤ گی۔۔۔

التمش نے پھر اسکے بازو کو پکڑ کر غصے میں کہا

اور ہم نے بھی کہہ دیا نا کہ جائیں گے ہم۔۔۔

اب کی بار مشال نے چیخ کر کہا

مشال جو بات کہوں سمجھ جایا کرو۔۔۔کسی وجہ سے ہی منع کررہا ہوں۔۔۔

التمش نے تحمل سے اسے سمجھایا

ہمیں کچھ نہیں سننا۔۔۔ہمیں بس جانا ہے۔۔۔التمش کوئی غیر نہیں ہے وہ بہن ہے ہماری۔۔۔

اس نے پھر چلاتے ہوئے خودسری سے کہا تو التمش کا پارہ چڑھ گیا وہ مشال کو بازو سے پکڑے تقریباً گھسیٹ کر کمرے لےکر آیا۔۔۔

اب یہیں پر رہو۔۔۔اب اگر تمہارے منہ سے زرا بھی آواز نکلی تو حشر برا کر کے رکھ دونگا تمہارا۔۔۔نہیں جاؤ گی مطلب نہیں۔۔۔

اسنے مشال کا بازو جھٹک کر چھوڑا پھر آنکھ دکھاتے ہوئے اسے کہہ کر جانے لگا تبھی مشال غصے میں اسکے سامنے آئی۔

ہم جاکر رہیں گے آج۔۔۔

اسنے اپنے آنسو بےدردی سے پوچھ کر سختی سے کہا

التمش نے ڈریسنگ کی دراز سے چھوٹا چاقو نکالا پھر اچانک اسے کمر سے جکڑ کر اپنے قریب کیا۔

میں بھی دیکھتا ہوں سوئیٹی۔۔۔کیسے جاتی ہو تم آج۔۔۔

اس نے تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ مشال کا رنگ اُڑا تھا اسکے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر

التمش۔۔۔چھوڑیں ہمیں۔۔۔

اس نے چاقو کو دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں ڈرتے ہوئے کہا

کیوں سوئیٹی۔۔۔ابھی تو بہت غصہ آرہا تھا تمہیں۔۔۔بہت ضد دکھا رہی تھی کہ جاؤ گی۔۔۔اب کیا ہوا۔۔۔یہ چہرے پر بارہ کیوں بج گئے تمہارے۔۔

اس نے چاقو مشال کی آنکھوں کے سامنے گھوماتے ہوئے مصنوعی فکرمندی سے پوچھا

جائیں گے تو ضرور ہم۔۔۔

وہ روتے ہوئے زور سے چیخی تھی

اوکے۔۔۔چلی جانا پر پہلے۔۔۔

بولتے ہوئے وہ رکا اور چاقو کو اسکی پشت پر لے جاکر بلاؤزکی ایک بندھی ڈور پر رکھ کر جھٹکے سے اسے کاٹ دیا۔۔۔مشال رونا چھوڑ کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی مگر التمش نے جب چاقو دوسری ڈور پر رکھا تو وہ تڑپ کر اس سے دور ہونے لگی۔۔

التمش۔۔۔پلیز۔۔۔

اس نے بلکتے ہوئے التمش سے فریاد کری مگر وہ دوسری ڈور کو بھی کاٹنے لگا۔۔۔عین وقت پر اسکی باہوں میں مچلتی مشال نے زور سے اسے دھکا دیا تو ڈور کو کاٹتا چاقو اسکی پشت پر لگا تھا۔۔۔مشال کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی۔۔۔وہ گری تھی نیچے۔۔التمش جو اسکے دھکا دینے پر غصے میں اسکی طرف بڑھنے لگا تھا۔۔۔مشال کی پشت پر لگے کٹ کے نشان پر سے خون نکلتا دیکھ رک گیا۔۔۔

کچھ پل اسے یونہی روتا دیکھ کر التمش اسے وہیں چھوڑ کر چلاگیا۔۔۔وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔پشت پر ہوتی جلن پر بھی اسے اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنا التمش کے رویے سے ہوئی تھی۔۔۔وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بلند آواز میں رو رہی تھی۔۔۔کیوں وہ ہمیشہ صرف اپنی من مانی کرتا تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔

صبح سے اسکا سامنا نہیں ہوا تھا ہادی سے ابھی وہ دونوں ہال میں سٹیج پر بیٹھے تھے تبھی نور نے آہستہ آواز میں اس سے کہا

اسکے بولنے پر ہادی نے نور کو دیکھا سلور کلر کی میکسی پر مہارت سے کیے گئے میک میں وہ اسے بہت حسین لگی۔۔

سوری فار واٹ۔۔۔

ہادی نے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا

وہ۔۔۔۔کل۔۔رات۔۔

نور ہچکچائی تھی۔۔۔پھر چپ ہوگئی۔۔۔اسے ندامت ہوئی تھی اپنی حرکت پر

پر مجھے تو برا نہیں لگا۔۔۔بلکہ مزہ آیا کل رات۔۔۔سوئمنگ ایریا کی بینچ پر سوکر۔۔۔

ہادی خود شرمندہ تھا اپنی بےساختگی پر۔۔۔۔اسی لیے مذاقاً کہنے لگا۔۔۔

نور نے التمش کو دیکھا تو نااُمید سی ہوئی۔۔۔مطلب وہ مشال کو نہیں لے کر آیا تھا۔۔۔

آج کے فنکشن میں وہ بہت مصروف رہا تھا۔۔۔بڑے بھائی ہونے کی وجہ سے اس نے سبھی کام اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے۔۔۔فنکشن ختم ہونے پر عالیہ بیگم نے اسے بہت روکا مگر سبھی کے جانے کے بعد باقی کا کام ختم کرکے اس نے رکنے سے انکار کیا اور کل آنے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بھی اسکی توقع کے مطابق وہ چینج کر کے سادہ سے حلیے میں بیٹھی تھی۔۔۔۔ہادی کا منہ بنا اسے دیکھ کر

یار مطلب شوہر کی کوئی امپورٹنس ہی نہیں تمہاری نظروں میں۔۔۔پھر چینج کرلیا۔۔۔ابھی تو میں نے نظر بھر کر دیکھنا تھا۔۔۔

اس نے تھوڑا ناراض لہجہ بنا کر کہا تو نور نظریں جھکا گئی۔۔۔

ارے مذاق کررہا ہوں۔۔۔رو مت جانا۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے جلدی سے کہا مبادا وہ روہی نہ دے کل کی طرح

ہادی مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نور نے سنجیدگی سے کہا

ہاں بولو۔۔

ہادی اسکے پاس آکر بیڈ پر بیٹھا تو نور تھوڑا جھجھکی مگر اسکے ہاتھ تھامنے پر نور کو تھوڑی ڈھارس ملی

ہادی۔۔۔سب آپی کو غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔وہ غلط نہیں ہیں۔۔۔۔تمہیں تو پتا ہے نا۔۔۔آپی شروع سے ہی بھولی ہیں۔۔۔اور جلد ہی ہر کسی کی باتوں میں آجاتی ہیں۔۔۔

وہ بولتے بولتے رکی

جانتا ہوں۔۔۔

اس نے نرمی سے کہا

تو ہادی اسی طرح آپی بس اسکی باتوں میں آگئیں تھیں۔۔۔ ورنہ وہ کبھی تامی بھائی پر ایسا الزام نہیں لگاسکتی تھیں۔۔۔یہ سب اسی کا پلین تھا۔۔۔

نور نم آنکھوں سے کہنے لگی تو ہادی نے اسکا آنسو گرنے سے پہلے اپنے پوروں میں چُن لیے

کس کا پلین تھا؟

اسنے نور کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوئے پوچھا

اس۔۔۔وج۔۔۔وجدان کا۔۔۔

وہ ہکلاگئی تھی۔۔۔چند لمحے چپ رہنے پر ہادی نے پھر پوچھا

اگر تمہیں یہ بات پتا تھی تو تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔

اسکے پوچھنے پر نور گھبرائی

وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔اس نے۔۔۔وہ۔۔میرے ساتھ

ہادی نے جاننے کی کوشش کی تھی مگر نور کا کپکپاتا لہجہ دیکھ کر وہ بے اختیار اسے سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا نور۔۔۔

اسکی پشت سہلاتے ہوئے ہادی نے نرم لہجے میں کہا جبکہ نور اسکے سینے میں منہ چھپائے رودی۔۔۔۔اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی مشال کی تکلیف۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ رات دیر سے گھر پر آیا آج کے فنکشن میں وہ تھوڑا تھک گیا تھا۔۔۔اور آتے ہی سونے کا ارادہ کررہا تھا مگر روم میں آکر اسنے دیکھا۔۔۔وہ اسی حلیے میں بیڈ سے ٹیک لگائے سورہی تھی۔۔۔۔یقیناً وہ روتے ہوئے سوگئی تھی۔۔۔التمش نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا پھر آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اسکے قریب گیا اور اسکا معصوم چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔۔سرخ گالوں پر سوکھے آنسوؤں کے نشان دیکھ کر اسے دکھ ہوا پر جلد ہی اپنے خول پر آتے ہوئے وہ مڑا اور سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ٹیوب اٹھا کر اسکے پاس آیا تھا۔۔۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التمش نے مشال کی ساڑھی کا پلو اسکی پشت پر سے ہلکا سا سرکایا پھر ٹیوب کھول کر اسکی پشت پر لگے کٹ پر نرمی سے لگانے لگا۔۔۔

اپنی پشت پر ہوتی جلن پر کچی نیند سے اسکی آنکھیں کھلیں۔۔۔مشال نے مڑکر ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔التمش کو بیٹھا دیکھ کر اس نے جھٹکے سے ٹائم دیکھا۔۔۔۔رات تین بج رہے تھے۔۔۔۔اس کے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔۔۔۔نئے سرے سے سینے میں درد ہوا تھا۔۔۔۔۔وہ غصے میں التمش کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کھڑی ہوئی۔۔۔۔

آخر کر ہی لی نا اپنی۔۔۔۔

مشال نے تکلیف دہ لہجے میں کہا تو التمش کھڑا ہوا

اس نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے مشال کو دیکھا بھوری آنکھیں رو رو کر مکمل سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اتنی دیر میں اس پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔پر کیا کرتا۔۔۔اسے لے کر جا بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔کیونکہ اگر وہ اسے لے کر جاتا تو ضرور وہاں پر کوئی مشال کو اتنی ویلیو نہ دیتا۔۔۔

لو یہ لگالو۔۔۔

التمش نے اسکے زخم کی طرف اشارہ کر کے اسے ٹیوب پکڑاتے ہوئے کہا

مشال نے اس سے ٹیوب لے کر دور پھینک دیا

نہیں لگانا ہمیں یہ۔۔۔۔۔اب کیوں اتنی پرواہ کررہے ہیں ہماری۔۔۔۔آپ جانتے تھے ہمیں تکلیف ہوگی پر پھر بھی ہمیں اکیلے چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔۔ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کہ ہم پر کیا گزرے گی۔۔۔

اس نے بھرائی ہوئی آواز میں چلا کر کہا پھر دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاکر رونے لگی۔۔

التمش نے خود میں ابلتے غصے پر قابو پاتے ہوئے وہ ٹیوب اٹھائی۔۔۔۔پھر آہستگی سے مشال کا نازک ہاتھ اسکے سرخ ہوتے چہرے پر سے ہٹاکر تھاما ور اسے موڑ کر ٹیوب لگانا چاہا

ہم نے کہا دور رہیں ہم سے۔۔۔

مشال اسے دھکا دیتے ہوئے پھر چیخی

اب کی بار التمش کا دماغ گھوم گیا اس نے مشال کی نازک کمر کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر اسے خود سے قریب کیا

آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔تمیز سے بات کررہا ہوں تو اکڑ دکھا رہی ہو۔۔۔۔مت بھولو۔۔۔کچھ ہی پل لگیں گے مجھے۔۔۔۔تمہاری یہ اکڑ نکالنے میں۔۔۔

اسکی کمر پر گرفت سخت کرتے ہوئے التمش نے غصے میں کہا۔۔۔جبکہ نظر اسکے سرخ ہونٹوں پر تھی۔

وہ بہک رہا تھا اسکے خوبصورت چہرے سے۔۔۔۔آج وہ خود کو کمزور ہوتا محسوس کررہا تھا اس نازک حسینہ کے سامنے۔۔۔

اور کر بھی کیا سکتے ہیں آپ۔۔۔۔ماریں گے ماریے۔۔۔۔قید تو پہلے ہی کر رکھا ہے آپ نے ہمیں یہاں۔۔۔اب پل پل تڑپانے سے بہتر ہے کہ ایک ہی دفعہ مار ڈالیں ہمیں۔۔۔

اسکی کافی سے بھی زیادہ سخت ہوتی گرفت میں مچلتے ہوئے مشال نے ہذیانی انداز میں چلاکر کہا۔۔۔انداز میں سرکشی تھی۔۔۔جبکہ اسکا معصوم چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔

آخر کب تک برداشت کرتی وہ اسکی بے رخی۔۔۔۔تھک چکی تھی وہ اب۔۔۔۔

سوچ رہا ہوا آج تمہاری یہ ضد اور اکڑ نکال ہی دوں۔۔۔تب شاید تھوڑا سدھر جاؤ تم۔۔۔

اسکے لہجے پر ناگواری ظاہر کرتے ہوئے التمش نے کہا اور اسکے نازک وجود کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر پٹخا پھر اپنی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔

مشال کی روح فنا ہونے لگی اسکی بات پر۔۔۔۔وہ پھٹی آنکھوں سے التمش کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھی۔۔۔

نہی۔۔۔۔نہیں۔۔۔الت۔۔۔التمش۔۔۔یہ آپ۔۔۔کیا۔۔۔

وہ اٹک اٹک کر کہتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے مشال آہستہ آہستہ پیچھے سرکنے لگی۔

التمش کے چہرے پر خطرناک تاثرات دیکھ اسکا خوبصورت چہرہ لٹھے کے مانند سفید پڑ گیا۔۔

بہت ہوگئے تمہارے نخرے۔۔۔طریقے سے بات کر رہا تھا تو دھکے دینے لگی ہو۔۔۔۔سمجھ کیا رکھا ہے مجھے۔۔۔۔

اس پر جھکتے ہوئے التمش نے پیشانی میں لاتعداد شکنیں لیے کہا تو مشال کا چہرہ اور زرد پڑگیا۔

س۔۔سوری۔۔۔التمش۔۔۔پلیز۔۔سور۔۔۔

وہ ہکلاتے ہوئے کہہ کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے دور کرنے لگی مگر اگلے ہی پل مشال بدک کر دور ہوئی التمش نے اپنی شرٹ کے سارے بٹن کھول دیے تھے مشال اسکے چوڑے سینے کو دیکھ کر شرم سے نگاہ پھیر گئی۔۔۔۔وہ غائب ہو جانا چاہتی تھی اسکے سامنے سے۔۔۔اسی لیے اٹھ کر برابر سے نکلنے لگی پر التمش نے اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسے واپس بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔۔اور جھک کر اسکے آنسوؤں سے بھیگے گال پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔مشال تڑپ کر رونے لگی۔۔۔۔اسکی ہر پل مضبوط ہوتی گرفت سے نکلنا اسکے لیے ناممکن تھا۔۔۔۔اسی لیے وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔جبکہ وہ اسکے رونے کو نظر انداز کرتا ہوا اسکے گردن سے نیچے ابھری بیوٹی بون کو چومنے لگا۔۔۔

التمش۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں کریں۔۔پلی۔۔۔

مشال کو اسکا ہر لمس تڑپا رہا تھا۔۔۔تبھی وہ چیخنے لگی مگر اسکے باقی کے لفظوں کو التمش نے اس پر جھکتے ہوئے منہ میں بند کردیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے مشال کے لبوں کو آزاد کیا تو وہ اپنی سانس بحال کرنے لگی۔۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔لیکن وہ بے نیاز سا اس کو اپنی باہوں میں لے کر اپنی تھکن اس پر اتار رہا تھا۔۔۔جبکہ مشال کچھ ہی دیر میں نڈھال سی ہوگئی تھی۔۔۔۔جب اسکا سانس اکھڑنے لگا تو بمشکل اسکی گرفت سے اپنا آپ چھڑواکر وہ اٹھی اور گیٹ کی طرف بھاگنے لگی۔۔۔التمش اپنی شرٹ اتارتے ہوئے اسکے پیچھے گیا اور اسکے ناب گھمانے سے پہلے ہی اسنے نے مشال کو پیچھے سے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھالیا۔۔۔۔

التمش۔۔۔۔نہیں۔۔ہمارا۔۔۔دم گھٹ۔۔

وہ اسکے بازوؤں میں نڈھال لہجے میں بولنے لگی۔۔۔الفاظ اسکے منہ سے ادا نہیں ہوپارہے تھے۔۔۔سانس لینا مشکل ہورہا تھا

التمش نے اسے واپس بیڈ پر لاکر لٹایا تو مشال نے ادھ کھلی آنکھوں سے اسے پھر سے خود پر جھکتے دیکھ کمزور سی کوشش کے تحت اسکے کندھے پر اپنا نازک ہاتھ رکھ کر دور کرنے لگی۔۔۔اس میں اور ہمت نہیں رہی تھی اسے دور کرنے کی۔۔۔التمش نے کندھے پر سے اسکا ہاتھ ہٹا کر اسکی مخروطی انگلیوں کو چوم لیا۔۔۔۔پھر اسکے ہاتھ کو بیڈ سے لگا کر اسکی ساڑھی کا پلو ہٹایا تو مشال لاچاری سے گردن موڑ کر سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔وہ ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی مگر آج التمش کے عمل پر وہ خود کو ٹوٹتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

اسکی کوئی مزاحمت کام نہیں آئی۔۔۔وہ بے خودی میں اس پر اپنی شدتیں لٹانے لگاتھا۔۔۔۔۔التمش کی حد سے زیادہ بڑھتی شدتوں کو برداشت کرتے کرتے آخر کار مشال ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔