Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 1)

197.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 1)

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz

وہ مسلسل آدھے گھنٹے سے لاونج کا چکر کاٹ رہی تھی۔سادہ سی پیلے رنگ کی قمیض پر سفید شلوار اور سفید رنگ کے ہی ڈوپٹے کو شانوں پر پھیلائے دوپٹے کے پلو کو دونوں ہاتھوں میں مڑوڑتے ہوئے وہ شدید پریشان لگ رہی تھی۔صوفے پر بیٹھے چار نفوس اُسے دائیں بائیں چکر لگاتے ہوئے دیکھ رہے تھے جن میں سے نور اور ہانیہ کو تو کںٔی بار جمائ آچکی تھی پر آغاجان اور ہادی تھوڑے پُر جوش نظر آرہے تھے آخر کو بہت کم مواقع ایسے دیکھنے کو ملتے تھے جب مشال ایجاز حیدر سے التمش زمان حیدر کی کلاس لگتی تھی۔۔۔حالانکہ ان لوگوں کو اچھے سے پتہ تھا کہ یہ کلاس صرف دو منٹ تک ہی لگنی تھی کیونکہ مشال جتنی جلدی التمش پر غصہ ہوتی تھی اتنی ہی جلدی التمش اُسے اپنی باتوں میں الجھا کر ہمدردیاں بٹورتا ہوا نظر آتا تھا۔

بس بہت ہوا۔۔

اچانک مشال کے کہنے پر وہ لوگ چونک گئے جو اب پلو چھوڑے غصے سے گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

آج انہیں نہیں بخشیں گے ہم،ڈھاںٔی بج چکے ہیں پر ان کا کچھ اتا پتا نہیں۔ارے ہم پوچھتے ہیں کہ جس ٹائم آدھا شہر سو رہا ہوتا ہے اس وقت یہ باہر کرتے کیا ہیں آخر۔۔

مشال نے ان چاروں کی طرف دیکھ کر غصے سے کہا

باقی کے آدھے شہر کے ساتھ جاگتے ہونگے۔۔نور نے جماںٔی روکتے ہوئے کہا

نور کی بات پر مشال نے اسے گھورا

فلحال ہمیں لگتا ہے کہ آپ دونوں کو اب جاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔روم میں جاکر سو جائیں دونوں۔۔۔

مشال نے ہانیہ اور نور کو اسطرح جماںٔی لیتے دیکھ کہا۔اسکی بات پر دونوں کی نیند چھومنتر ہوگںٔی جبکہ آغاجان نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔

نہیں نہیں! ایسا سین روز تھوڑی نہ دیکھنے کو ملتا ہے۔نور نے جلدی سے کہا

اور مشال آپی آپ پلیز اس بار بھائی کو ٹھیک سے ڈانٹنا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر بار کی طرح آج پھر آپ انکی باتوں میں آجاؤ۔۔ہانیہ نے مشال کو وارن کیا

ارے!!!ہم کیوں آئیں گے انکی باتوں میں۔۔ہم کیا بچے ہیں جو وہ ہمیں بے وقوف بنالیں گے۔آج نہ انکی کلاس لی ہم نے۔۔کس قدر تایاابو ان کی طرف سے پریشان رہتے ہیں کہ 25 سال کے ہوگئے پر ابھی تک FSC ان کا کلیئر نہیں ہوا تین سال سے فیل ہوتے آرہے ہیں پر شرم تو جیسے چھوکر نہیں گزری۔۔۔

مشال کی ہر بار دہرائی تقریر پر ہانیہ جو اونگھنے لگی تھی دروازے کی طرف نظر پڑنے پر اچانک سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔جہاں التمش آہستگی سے دروازہ لاک کر کے اوپر جارہا تھا پر ہانیہ کے دیکھ لینے پر اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔

تامی بھائی،،

ہانیہ کے بآواز کہنے پر مشال نے پلٹ کر دیکھا اور التمش نے جلدی سے انگلی نیچے کی۔اب وہ مشال کو مصنوعی مسکراہٹ لیے دیکھ رہا تھا جو اسے کڑے تیوروں سے گھوررہی تھی۔۔

باقی کے نفوس بھی سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔۔۔

کدھر تھےآپ؟

مشال نے اسے دیکھ کر پوچھا جو بلو جینز اور ٹی شرٹ کے اوپر سفید شرٹ پہنے(جس کے سارے بٹنز کھلے ہوئے تھے)بقول مشال کے آوارہ حلیے میں کھڑا تھا۔

پارٹی میں ہی گںٔے ہونگے اور کدھر جائیں گے۔۔ہادی کے کہنے پر التمش نے اسے گھورا

انھیں گھورنا بند کریں اور ہمیں بتائیں آخر مسئلہ کیا ہے آپکے ساتھ کدھر تھے آپ۔۔۔کچھ ہوش ہے پیپر سر پر ہیں پر فکر ہی نہیں آپکو۔۔۔تایا ابو کتنے پریشان رہتے ہیں لیکن موصوف کو پارٹی سے فرصت ملے تب ہوش آئے۔۔۔۔۔۔

مشال اسے کھری کھری سنانے لگی جبکہ وہ مشال کے پیچھے ان چاروں کو دیکھ رہا تھا جو اسکی حالت پر بے آواز ہنس رہے تھے۔۔

مشی تو میری بات تو سُن پہلے۔۔التمش نے ان چاروں کو گھورتے ہوئے کہا

ہاں!کہیٔے سن رہے ہیں ہم۔۔

مشال نے دونوں بازوں فولڈ کرتے ہوئے کہا

وہ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دوست کا ایکسڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ڈاکٹرز نے بچنے کے چانسس کم بتائے تھے۔۔۔بہت مشکل سے اسکی جان بچ پائی ہے۔۔۔ابھی وہی سے آرہا ہوں

التمش جلدی سے جو منہ میں آیا بولتا گیا جبکہ آخری جملہ بولتے ہوئے اس نے لہجے میں اداسی گھولی۔۔۔

یہ ٹانگ ٹوٹنے پر کون مرنے لگتا ہے۔۔

ہادی نے تھوڑی ھتیلی پر ٹکاتے ہوئے پوچھا

ٹانگ ٹوٹنے پر کوئی مرے نہ مرے منہ ٹوٹنے پر”کوئی” ضرور مرے گا۔۔التمش نے دانت کچکچاتے ہوئے ہادی کو وارن کیا

نام کیا ہے آپکے دوست کا؟مشال نے سنجیدگی سے پوچھا

نام۔۔۔۔ہاں سعد۔مشال کے نام پوچھنے پر وہ بوکھلایا تھاپھر جلدی سے کہا

بیٹا سعد نام کے تو کسی دوست کا آج تک آپ نے کوئی ذکر نہیں کیا۔۔آغاجان نے بھی پتّا پھینکا

التمش نے پہلے تو آغاجان کو خفگی سے دیکھا پھر کچھ یاد آنے پر مسکراتے ہوئے کہا

ارے آغاجان آپکو یاد نہیں بتایا تو تھا میں نے آپ کو وہی سعد جسکے دادا راتوں کو چھپ چھپ کر فریج سے مٹھائیاں کھاتے تھے اور ایک دن اسنے انھیں رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔۔۔

التمش کے کہنے پر آغاجان بوکھلاگئے۔۔۔۔۔سمجھ گئے کہ ان کے بھی راز اس سے پوشیدہ نہیں ہیں اس لیے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا

ہاں!ہاں! یاد آگیا۔۔۔۔

اچھا چھوڑے سب باتیں۔۔۔آپ بتائیں طبیعیت کیسی ہے اب آپکے دوست کی۔۔

مشال نے ہمدردی سے التمش سے پوچھا

لے! مجھے تو پہلے ہی سے پتا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے۔۔۔ہانیہ نے اپنا ماتھا پیٹا

ہاں نہ! یہ تامی بھاںٔی ھمیشہ اپنی جھوٹی کہانیوں سے مشال آپی کو بے وقوف بناتے ہیں اور ہماری صدا سے بھولی آپی انکی باتوں میں آ بھی جاتی ہیں۔۔نور نے خفگی سے کہا

بہتر ہے طبیعت اسکی۔۔۔التمش نے جواب دیا

اچھا چلیں اب سو جائیں۔۔آپ لوگ بھی۔۔۔۔اس سے پہلے بی جان،تایا ابو وغیرہ اٹھ جائیں

مشال یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی

التمش کے چہرے پر مایوسی کی جگہ اب دل جلادینے والی مسکراہٹ نے لے لی۔۔۔وہ ان چاروں کو دیکھنے لگا جو منہ بنائے اسے دیکھ رہے تھے۔

تو۔۔۔۔کیا سوچا تھاآپ لوگوں نے۔۔۔ڈانٹ پڑیگی میری مشال سے۔۔۔۔پھر لڑائی ہوگی ہماری۔۔۔چہ چہ چہ۔۔۔۔پلین چوپٹ ہوگیا نہ

اس نے ہنستے ہوئے ان لوگوں کو سے کہا

بیٹا کب تک اسے الّو بناؤ گے تم۔۔۔۔ایک نہ ایک دن تو پھنسو گے نہ۔۔آغاجان نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا

ہاں اور پھر ہم لوگ آپ دونوں کی لڑائی دیکھیں گے۔۔

ہانیہ نے آغاجان کی تائید کی

ہنہہ۔۔۔مشی اور میری لڑائی کروانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے میرے دوستوں۔۔۔

التمش نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا پھر اوپر اپنے روم کی طرف چلا گیا

وہ لوگ بھی منہ بناتے ہوئے سونے چلے گئے جانتے تھے التمش نے صحیح کہا ہے ۔۔کیوں کہ مشال اور التمش کی انوکھی گہری دوستی کی مثال پورے خاندان میں مشہور تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التمش!

وہ سونے کی تیاری کر رہا تھا جب مشال ڈور ناک کر کے اندر آئی۔۔۔۔اسکے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا۔۔۔

مشی یار آج نہیں۔۔التمش نے دودھ کو دیکھ کر برا منہ بنایا

شرافت سے پیئے ہم کوئی نخرے نہیں سنیں گے۔۔

مشال نے آنکھ دکھاتے ہوئے کہا

یار کہہ رہا ہوں نہ کہ نہیں پینا۔۔۔۔دل نہیں کررہا تبھی منا کررہا ہوں۔۔اس نے چڑ کر کہا

مشال کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر واپس پلٹ کر جانے لگی

اچھا رُک!!

التمش نےاسکے سامنے آکر دودھ کا گلاس اس سے لیا پھر ایک ہی گھونٹ میں دودھ پی کر گلاس اسے دیا جو منہ بنائے کھڑی تھی

ایسی چڑیلوں والی شکل مت بنایا کر اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔مسکراتی رہا کر۔۔

التمش کے کہنے پر مشال نے مسکراکر اسے دیکھا پھر جانے کے لیے مڑی جبکہ التمش نے مسکراتے ہوئے اپنی دوست کی پشت کو دیکھا جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🙂😇🙂۔۔۔۔۔۔۔۔🙂😇🙂۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🙂😇🙂۔۔۔۔۔۔

حیدر صاحب اور آمنہ بیگم کی دو ہی اولادیں تھیں،بڑے بیٹے زمان حیدر اور چھوٹے بیٹے ایجاز حیدر۔۔آمنہ بیگم کی تربیت سے دونوں ہی فرمانبردار اور نیک سیرت نکلے تھے۔۔زمان حیدر کی شادی آمنہ بیگم نے اپنی بہن کی بیٹی عالیہ سے کروائی تھی جبکہ ایجاز حیدر نے پسند کی شادی ریحانہ سے کی تھی۔۔دونوں دیورانی جیٹھانی میں بہنوں جیسی محبت تھی۔۔ زمان حیدر کی تین اولادیں تھیں،سب سے بڑا التمش اس سے چھوٹا ہادی اور پھر ہانیہ جبکہ ایجاز حیدر کی دو بیٹیاں تھیں مشال اور نور۔۔سب ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔۔۔

پر ایک دن آفس سے آتے ہوئے ایجاز حیدر کا ایکسڈنٹ ہوگیا تھا اور سہی وقت پر ہوسپٹل نہ پہنچنے پر وہ خالقِ حقیقی سے جاملے۔۔یہ غم حیدر ولا پر کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹا تھا۔۔ریحانہ بیگم محبوب شوہر کی جدائی پر ہمہ وقت روتی تھیں۔۔نور کو 3 سال کی ہونے کے باعث اتنی سمجھ نہ تھی جبکہ 5 سالہ مشال اپنے عزیز باپ کے مرنے پر چپ چپ سی رہنے لگی تھی۔۔۔ایسے وقت میں 10 سالہ التمش نے اسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔۔۔پہلے تو مشال اس سے چڑتی تھی پھر التمش کو اسطرح ہر وقت اپنے آگے پیچھے دیکھ کر اسنے التمش کو ہی اپنا ہم راز بنا لیا۔۔۔

پھر التمش نے اسے اپنی ذات میں اس قدر الجھا دیا کہ مشال کو اسکے علاوہ کسی کا ہوش ہی نہ رہتا۔۔۔جوانی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انکی دوستی گہری ہوتی گئی۔۔

عالیہ بیگم سے زیادہ مشال کو التمش کا خیال رہتا۔۔۔التمش نے کیا کھایا کیا نہیں کھایا۔۔۔۔التمش کو کیا پسند ہے کیا نہیں پسند۔۔۔غرض اسکی زندگی کا آدھا محور التمش پر تھا۔۔۔اور دوسری طرف سب کو خوش کرنے اور ہنسانے والا التمش مشال کے معاملے میں کافی ٹچی تھا۔۔۔مشال کبھی روۓ نہ کبھی اداس نہ ہو۔۔۔وہ مشال کو خوش دیکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔۔۔

انکی اس انوکھی دوستی کی مثال پورے خاندان میں مشہور تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔

صبح سب تیار ہوکر ڈایئنگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔جب التمش جمائ لیتے ہوئے ہمیشہ کی طرح دیر سے آیا۔۔۔اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔۔

تامی بھاںٔی کیا ہوگیا ہم لوگ پہلے ہی لیٹ ہورہے ہیں اور آپ اب آںٔے ہیں ناشتہ کرنے۔۔۔

نور نے جلدی جلدی توس کھاتے ہوئے کہا

ہاں تو میں کونسا تم لوگوں کو لے کر جاؤں گا۔۔۔ہادی کے ساتھ چلی جانا دونو میں مشی کو لے کر آجاؤنگا۔۔۔

ہاں تو ہم لوگوں کو بھی کوئی شوق نہیں ہے آپکے ساتھ جانے کا۔۔ہانیہ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا

کوئی آگے پیچھے نہیں جاںٔے گا۔۔۔سب ساتھ جائیں گے۔۔۔

ابھی التمش کچھ بولتا کہ مشال نے کچن سے التمش کا ناشتہ لاتے ہوئے کہا

سب نے مل کر ناشتہ کیا پھر نوجوان پارٹی (التمش،مشال،ہادی،نور اور ہانیہ) یونی کے لیے نکل پڑے۔۔۔جاتے ہوئے بھی التمش کی ہانیہ،نور اور ہادی کے ساتھ نوک جھونک جاری تھی جسے دیکھ کر آمنہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اپنے بچوں کی داںٔمی خوشیوں کی دُعا مانگی۔۔۔۔

مگر کہتے ہیں نا کہ کچھ دعائیں قبول نہیں ہوتیں اسی طرح عنقریب ایک بہت بڑا طوفان اس ہنستے کھیلتے گھرانے کا منتظر تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😐😐😐😐۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😐😐😐😐۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔