Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 17)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 17)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
دیکھ بھئی نیہا۔۔۔تُو نے جتنا کہا ہم نے اس سے بڑھ کر ایکٹنگ کی پر پھر بھی تیرا پلین فلاپ ہوگیا۔۔۔تو اس میں ہمارا کیا قصور۔۔۔ہمیں تو بھئی پیسے چاہیے۔۔وہ ہمیں دے دے ورنہ میں ریشم بائی سے تیری شکایت کردونگی۔۔
انیلہ نے نیہا سے کہا تو فیاض بھی منہ میں پان ڈال کر اسکی تائید میں سر ہلانے لگا۔
تم دونوں کے پیسے میں بھجوادونگی۔۔پر ابھی میرا پہلے ہی سے دماغ خراب ہے۔۔۔تو دفعہ ہو میرے گھر سے۔۔
نیہا نے چیخ کر کہا تو دونوں نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی
وہ غصے میں اوپر جانے لگی تبھی وجدان اسکے گھر میں انٹر ہوا۔
اب تم کیا کرنے آئے ہو یہاں۔۔۔
نیہا نے اسے دیکھ کر ناگواری سے پوچھا
داد وصول کرنے آیا ہوں تم سے۔۔۔تو بتاؤ کیسا لگا میرا پلین۔۔
وجدان نے کمینگی سے ہنستے ہوئے کہا تو نیہا اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی مگر اچانک ٹھٹھکی۔
ایک منٹ۔۔۔کیسا پلین۔۔۔کہیں تمہارا اشارہ کل کی طرف تو نہیں۔۔
نیہا نے شکی لہجے میں پوچھا تو اسنے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
یو ڈیمِڈ۔۔۔
مطلب کل تم نے التمش کو پھنسایا تھا۔۔۔
نیہا نے تقریباً چیختے ہوئے کہا تو وجدان کا قہقہہ بلند ہوا
کافی سمجھدار ہو ڈارلنگ۔۔
صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے کہا۔۔
تو یہ تھا تمہارا پلین۔۔۔تم سٹھیا گئے ہو کیا۔۔۔اس سے ہمیں کیا فایدہ ہوا الٹا میرا نقصان ہوگیا۔۔۔نہ میری تامی سے شادی ہو پائی نہ میں پیسے لُوٹ سکی۔۔
نیہا نے اسکے سر پر کھڑے ہوکر غصے میں کہا جبکہ وجدان اسکے سٹھیا گئے کہنے پر تپتا ہوا اٹھا اور نیہا کا ہاتھ مڑوڑ کر اسکا رخ پلٹا پھر اسکے کندھے پر اپنی تھوڑی ٹکائی۔
ڈارلنگ میں کوئی ریشم بائی کے کوٹھے کا ملازم نہیں جسے تم جب چاہے ذلیل کردو۔۔۔اور ویسے بھی تم نے کہا تھا کہ بس کسی بھی طرح ان دونوں کی دوستی ختم کرنی ہے۔۔۔جو کہ میں نے کردی اب جہاں تک التمش کو پھسانے کی بات ہے تو تم نے تو کہا تھا کہ تم اسکو دوسرے لوگوں کی طرح لوُٹو گی نہیں کیونکہ تمہیں اس سے محبت ہوگئی ہے تو سوئیٹ ہارٹ یہ تمہاری محبت تھی۔۔۔جو محبوب پر زرا سے الزام لگنے پر ختم ہوگئی۔۔۔اگر محبت ہوتی نا تمہیں تو تم بھروسہ کرتی التمش پر۔۔۔اور ہاں شادی تم نے التمش سے نہیں کی پر میں تو کرونگا نا مشال سے تو پیسوں کی ٹینشن مت لینا وہ میں اس سے شادی کے بعد ارینج کر کے دے دونگا۔۔۔
یہ کہہ کر وجدان نے جھٹکے سے اسکو چھوڑا پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔جبکہ نیہا کو شدید پچھتاوے نے آگھیرا۔۔
کل اسکے پاس اچھا موقع تھا التمش کو سپورٹ کر کے اسکی نظروں میں اچھی بننے کا پر افسوس وہ یہ موقع گنوا چکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش ساکت سا بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔خاموش تو وہ باہر سے دِکھ رہا تھا۔۔۔کیونکہ اسکے اندر ایک حشر برپا تھا۔۔۔ایک طوفان سا آیا تھا جیسے اس پر۔۔۔جو اسکے وجود کو اپنے لپیڈ میں لے چکا تھا۔۔۔۔۔اور سب کچھ ختم کرچکا تھا۔۔۔۔۔
کوٹھے میں جاکر وہاں کی وحشیاوں سے اپنی راتیں رنگین کرتے ہیں۔۔۔۔گِھن آرہی ہے ہمیں آپکو اپنا دوست کہتے ہوئے۔۔۔۔
مشال کے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ۔۔۔۔۔جو اسکے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا۔۔۔
اتنی بے اعتباری اپنے پر۔۔۔۔۔اس قدر یقین کسی غیر پر۔۔۔۔
اسے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا
اگر آج کوئی”التمش زمان حیدر”سے پوچھتا کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کس سے ہے۔۔۔۔تو وہ بلا جھجھک کہہ دیتا کہ وہ فرد کوئی اور نہیں بلکہ “مشال ایجاز” تھی۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر آہستگی سے اپنے گال کو چھوا پھر آنکھوں کے سامنے لاکر ہاتھ کو دیکھا۔۔۔کالک کا رنگ دیکھ کر اسکی سرخ آنکھیں اور لہو رنگ ہوگئیں۔۔۔تذلیل کے احساس سے اسکا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔
I….hate….you…..Mishaal Aijaaz Haider…
I’ll destroy your life…
ٹہر ٹہر کے کس قدر تحقیر اور نفرت سے التمش نے یہ الفاظ ادا کیے۔۔۔جبکہ اسکی آنکھوں میں ایک الگ ہی شولے جل رہے تھے۔۔۔۔نفرت اور انتقام کی آگ میں جیسے وہ سب کچھ ختم کرنے کے درپے تھا۔۔
تبھی شور کی آواز پر وہ جھٹکے سے اٹھا۔۔۔۔نیچے آکر دیکھا تو عالیہ بیگم اور بی جان کلپ کر رورہی تھیں جبکہ ریحانہ بیگم اپنے آنسو روکتے ہوئے ان دونوں کو سنبھال رہیں تھیں۔۔۔آغاجان نااُمید سے آکر صوفے پر ڈھے گئے اور زمان صاحب کو سٹریچر پر لایا جارہا تھا۔۔ہادی خود پر ضبط کیے ان لوگوں کو زمان صاحب کے روم میں لے جارہا تھا۔۔۔
ہادی کیا ہوا ہے؟
التمش پوچھ تو ہادی سے رہا تھا پر نظریں اسکی زمان صاحب پر تھیں۔۔
اسے کچھ انہونی کا احساس ہوا۔
بھائی بابا کو۔۔۔۔پیرالائس اٹیک ہوا ہے۔۔۔ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ وہ اب۔۔۔۔اب کبھی چل اور بول نہیں پائیں گے۔۔صرف۔۔۔سن سکتے ہیں۔۔۔
ہادی نے نم آنکھوں کو جھپک کر خود پر بمشکل قابو پاتے ہوئے بھاری آواز میں کہا جبکہ التمش پر یہ بات پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔
وہ سکتے کی حالت میں زمان صاحب کو دیکھ رہا تھا پھر دھیمے قدم اٹھاتا ہوا انکے قریب گیا۔۔۔اسکا یہ رعب دار شخصیت رکھنے والا باپ ایک ہی دن میں کس قدر بیمار اور بوڑھا لگ رہا تھا۔۔وہ گھٹنوں کے بل انکے پاس بیٹھ کر انکا ہاتھ تھام گیا۔۔۔
بابا۔۔
اس نے بے بسی سے پکارا
دور ہٹ جاؤ تم میرے بیٹے سے۔۔۔
آغاجان کی گرج دار آواز پر التمش نے پلٹ کر دیکھا سامنے وہ آنکھوں میں غضب لیے اسے گھور رہے تھے۔۔۔
وہ زمان صاحب کا ہاتھ چھوڑ کر آہستہ سے کھڑا ہوگیا۔۔
کیوں التمش کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔دیکھو تمہاری وجہ سے آج تمہارے باپ کی کیا حالت ہوگئی۔۔۔
عالیہ بیگم نے روتے ہوئے اسکا گریبان پکڑ کر کہا
آج وہ خود کو بہت بے بس محسوس کررہا تھا۔۔۔کیسے یقین دلاتا سب کو کہ وہ غلط نہیں ہے۔۔۔
بڑے صاحب باہر پولیس آئی ہے۔۔
ابھی وہ کچھ بولتا ہی کہ نسرین نے آکر آغاجان سے کہا سبھی پولیس کا سن کر گھبرا کر التمش کو دیکھنے لگے تو کیا بات یہاں تک پہنچ گئی۔۔
ہم آتے ہیں۔۔۔
آغاجان نے ضبط سے کہا پھر کچھ دیر بعد سبھی آغاجان کے پیچھے باہر نکل آئے۔۔التمش بھی بھاری قدم اٹھاتا ہوا باہر آیا تو کچھ حیران ہوا۔۔۔۔سامنے پولیس کے یونیفارم میں اسکے دوست اکرم کے انکل ہی تھے۔۔
جی بتائیے۔۔۔کیسے آنا ہوا۔۔
آغاجان نے سنجیدگی سے پوچھا
حیدر صاحب آپکے بیٹے زمان صاحب شہر کے کافی نامور بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ کافی شریف انسان ہیں۔۔۔انکی شرافت کی وجہ سے ہی ہم آپ کی اور آپکے گھر والوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔۔لیکن آج ہم آپ کے پوتے کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں۔۔۔
انکے کہنے پر آغاجان نے ایک نظر التمش کو دیکھا پھر کہا
آگے بولیے۔۔
حیدر صاحب آپ کے پوتے التمش نے کافی بڑا کام کیا ہے۔۔۔انہوں نے ہمیں کل رات کال کر کے ایک جگہ کا پتہ دیا۔۔۔اور وہ جگہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک کوٹھا تھا جو کہ ریشم بائی نامی ایک عورت چلاتی ہے۔۔۔۔کل التمش کی کال پر ہم جب وہاں گئے تو دیکھا کہ وہاں کئی سفید پوش گھرانے کی لڑکیوں کو اغواء کر کے رکھا گیا ہے۔۔۔اور انہیں اچھی قیمت لگا کر بیچ دیا جاتا ہے۔۔۔
کل آپکے پوتے کی وجہ سے کئی شریف گھروں کی لڑکیاں بازیاب ہوئیں ہیں وہاں سے۔۔۔۔اسی لیے ہم آپکے پوتے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
انہوں نے مسکراکر تفصیل سے بتایا تو سب بے یقینی سے التمش کو دیکھنے لگے۔۔جس کا چہرہ بے تاثر تھا۔۔۔جبکہ مشال کے دل پر دھکا سا لگا تھا۔۔۔وہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔تو کیا اس نے غلط دیکھا تھا یا جو دیکھا اسکو غلط سمجھا۔۔۔
تھینک یو التمش زمان۔۔۔اگر آپ جیسے لوگ اس ملک میں ہوں تو بہت سی لڑکیاں عزت کی زندگی گزار سکتی ہیں۔۔۔
وہ التمش کو ایپریشئیٹ کر کے چلے گئے تو التمش بھی بنا کچھ کہے گھر سے نکل گیا۔۔۔
لاؤنج میں ہو کا عالم تھا۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا تھا ان لوگوں سے۔۔۔کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔سب کو جیسے سکتہ لگ گیا ہو۔۔۔
تبھی لاونج میں ایک آواز گونجی
چٹاخ!!
ریحانہ بیگم نے مشال کے منہ پر تھپڑ رسید کیا
بنا کچھ سوچے سمجھے اس لڑکے پر سب کے سامنے الزام لگادیا کہ وہ بدکردار ہے۔۔۔ایک دفعہ بھی اس سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تم نے۔۔
ریحانہ بیگم نے اسے جھنجھوڑ کر غصے سے کہا پر مشال صرف چپ چاپ آنسو بہارہی تھی۔۔۔بولنے کے لیے اسکے پاس الفاظ ہی نہیں بچے تھے۔۔۔
ام۔۔امی۔۔ہمیں لگا۔۔
مت کہو مجھے امی۔۔۔۔وہ بولتا رہ گیا کہ مشی غلط سمجھ رہی ہے۔۔۔بات سن لو پہلے پر نہیں۔۔۔الزام پر الزام لگائے جارہی تھی اس پر۔۔۔۔تمہاری ایک غلط فہمی سے وہ کل سے لے کر اب تک کتنا ذلیل ہوا ہے سب سے۔۔۔
ریحانہ بیگم نے غصے میں اسے دوسرا تھپڑ مارا تو ہادی بیچ میں آگیا۔۔۔
چاچی پلیز۔۔۔ریلیکس۔۔۔غلطی اگر مشال کی ہے تو ہم سب کی بھی ہے۔۔۔آخر سب نے ہی بھائی کو غلط سمجھا تھا۔۔۔تو ڈانٹ صرف مشال کو ہی کیوں لگ رہی ہے۔۔۔
ہادی نے سب کو دیکھ کر کہا جبکہ مشال چہرے پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
کیونکہ یہ اسی کا پھیلایا ہوا فساد تھا۔۔۔ریحانہ اسکو بولو اپنے کمرے میں جائے ورنہ مجھ سے کچھ ہو بیٹھے گا۔۔۔میں اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
عالیہ بیگم نے تلخی سے کہا
تائی امی۔۔۔سور۔۔
چپ رہو بلکل۔۔۔تمہارے سوری بولنے سے سب صحیح نہیں ہو جائے گا۔۔۔تمہاری تو غلط فہمی ختم ہوگئی۔۔۔۔نقصان میرا ہوا ہے۔۔۔میرا بیٹا بدنام ہوا۔۔۔میرے شوہر کو پیرالائسز ہوگیا۔۔۔دیکھو مشال اپنے کمرے میں جاؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
مشال نے روتے ہوئے بولنا چاہا مگر عالیہ بیگم نے اسکی بات کاٹ کر غصے میں کہا
بی جان یقین کریں ہم سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔ہمیں لگا کہ التمش کسی۔۔
اپنی زبان سے نام مت لیجیے ہمارے پوتے کا۔۔۔
عالیہ بیگم کی بات پر مشال نے آمنہ بیگم کے پاس آکر کہا پر انہوں نے بھی اسے جھڑک دیا۔
مشال پلیز اپنے روم میں جاؤ ابھی۔۔
ہادی نے سب کے غصے کو مد نظر رکھتے ہوئے مشال کو کہا تو وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی۔۔
یہ کیا کر بیٹھی تھی وہ۔۔۔۔التمش نے کتنی بار کہا کہ اسکو وضاحت دینے دی جائے مگر اس نے اسے کوئی موقع ہی نہیں دیا۔۔۔جو انسان ہر مشکل وقت میں اسکے کام آتا تھا۔۔۔کل کس طرح مشال نے اسے تنہا کردیا تھا۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھی مسلسل رورہی تھی۔۔۔پچھتاوا تھا کہ کم ہی نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات دیر سے وہ گھر لوٹا۔۔۔اسکا رخ زمان صاحب کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔کمرے میں جاکر وہ انکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر اسکی آنکھیں دھندلائیں مگر آنسو اسنے اپنے اندر اتار لیے۔۔۔تبھی عالیہ بیگم جو روم سے باہر تھیں۔۔اندر آکر التمش پر انکی نظر پڑی تو بے ساختہ انکے آنسو نکل گئے۔۔۔
تامی۔۔۔
انہوں نے آہستگی سے پکارا
انکی آواز سن کر التمش کھڑا ہوا اور روم سے جانے لگا مگر انہوں نے اسے کندھے سے تھام لیا
تامی۔۔۔بیٹا ہمیں معاف کردو۔۔ہم لوگوں کو نہیں۔۔
پلیز امی۔۔۔اس وقت آپ لوگ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے۔۔۔اب میں آپ لوگوں کی نہیں سننا چاہتا۔۔۔جتنا بھروسہ دکھایا ہے آپ لوگوں نے مجھ پر۔۔۔اتنا ہی کافی ہے میرے لیے۔۔۔اب یہ معافی کی فارمیلٹی پوری نہ کریں۔۔۔
انہوں نے بولنا شروع کیا مگر التمش نے انہیں ٹوک کر کہا پھر روم سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
مشال بیڈ پر لیٹی کل رات کے بارے میں سوچ کر رورہی تھی۔۔۔۔کیسے اس نے التمش کو ذلیل کر کے رکھ دیا۔۔۔۔ایک دفعہ بھی اس نے التمش سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔۔۔اس نے تکلیف سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔وہ معافی مانگنا چاہتی تھی التمش سے۔۔۔۔پر سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔۔۔مگر اتنا تو اسے یقین تھا کہ التمش اسے ضرور معاف کردے گا۔۔۔
تبھی اسکے نمبر پر وجدان کی کال آئی۔۔
ہیلو مشال۔۔۔میں نے ابھی نیوز میں دیکھا التمش کے بارے میں۔۔۔۔آئی ایم ایکسٹریملی سوری مشال۔۔۔۔میری وجہ سے تمہیں وہ غلط لگا اور تم نے اس پر۔۔۔۔بٹ مشال تم فکر مت کرو میں التمش کو سب بتاؤں گا کہ میری وجہ سے تمہیں غلط فہمی ہوئی تھی اور اس سے معافی بھی مانگوں گا۔۔۔
وجدان نے شرمندہ ہونے کی بھر پور ایکٹنگ کی
آپ کے معافی مانگنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا۔۔۔آپ کو پتا ہے ہم نے التمش کو کتنا غلط سمجھا۔۔۔۔سب نے التمش کو کتنا برا بھلا کہا اور تایا ابو یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے جس وجہ سے انہیں پیرلائیسز اٹیک ہوگیا۔۔۔اور یہ سب صرف ہماری وجہ سے ہوا۔۔۔ہم نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ التمش کے خلاف آپ نے پھر ہم سے کچھ غلط کہا تو ہم یہ رشتہ ختم کردیں گے۔۔۔۔۔اور اب وجدان نہ تو ہمیں آپ سے بات کرنی ہے اور نہ تو آپ سے شادی۔۔۔اسی لیے خدا حافظ۔۔۔
مشال نے غصے سے اس پر بھڑاس نکال کر فون رکھا اور تکیے پر منہ چھپا کر پھر سے روپڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر اسکے نمبر پر نیہا کی کال آئی مگر اس نے رسپانس نہیں دیا۔۔۔جانتا تھا اب سب کی طرح وہ بھی معافی مانگنے کا ڈرامہ کرے گی۔۔۔
آفس جانے کی لیے تیار ہو کر وہ نیچے آیا تو اسے آغاجان کے ساتھ لاونج میں وجدان بیٹھا نظر آیا۔۔۔اسکی باتوں سے التمش کو اندازہ ہورہا تھا کہ وہ آغاجان سے کسی چیز کی اجازت لے رہا تھا۔۔۔وہ اگنور کرتا ہوا باہر نکلنے لگا۔۔۔تبھی وجدان نے اسے پکارا۔۔
جو ہوا ٹھیک نہیں ہوا۔۔بلاوجہ تم پر اتنا بڑا الزام لگا اور تم سب میں بدنام ہوگئے۔۔۔انکل کے بارے میں سن کر بھی بہت افسوس ہوا۔۔
وجدان افسوس سے کہہ رہا تھا جبکہ التمش بے تاثر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ وجدان کی ایکٹنگ سمجھ رہا تھا۔۔۔
ہوگیا۔۔
وجدان کی بات ختم کرنے پر اس نے سرد لہجے میں پوچھا
نہیں۔۔۔ایک لاسٹ بات بھی رہ گئی۔۔۔وہ ایکچولی میں نے آغاجان سے انکل آنٹی کے رویے کی معافی مانگی ہے اور ان سے اجازت لی ہے کہ اتنا سب کچھ ہوگیا تو زمان انکل کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے اب مشال سے میرا سادگی سے نکاح ہی کردیا جائے۔۔۔اور تمہیں یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آغاجان مان گئے ہیں۔۔۔ساتھ تمہیں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مشال سے میرا نکاح کل ہی ہے۔۔۔۔پھر رخصتی بعد میں آغاجان کی مرضی سے ہوگی۔۔۔ٹھیک کیا نا میں۔۔۔
وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اسے سب بتا رہا تھا۔۔۔
التمش نے ایک نظر اسکے پیچھے آغاجان،بی جان اور ریحانہ بیگم کو دیکھا جو اس سے شرمندہ نظر آرہے تھے۔۔۔ پھر خاموشی سے آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔میک اپ کی مہارت سے اسکا معصوم چہرہ بہت حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔مگر اسکے چہرے پر زرا بھی خوشی کی رمق نہ تھی۔۔۔
بلکہ اسکا دماغ جیسے ماؤف ہوگیا تھا۔۔۔۔وہ ابھی بھی سکتے کے عالم میں تھی۔۔۔۔جبکہ ذہن میں اسکے شام کا واقعہ گردش کرنے لگا۔۔۔
التمش آفس سے گھر آیا تو آغاجان نے اس سے اپنے اور سب کے رویے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔۔۔التمش نے ان سب کی معافی کے بدلے ایک انوکھی شرط ان لوگوں کے سامنے رکھی۔۔۔
میں مشال سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ابھی اسی وقت۔۔۔
اس نے سپاٹ لہجے میں کہا
یہ تم کیا کہہ رہے ہو التمش۔۔۔۔جانتے ہو وہ وجدان کی امانت ہے۔۔۔
آغاجان نے اعتراض کیا
مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کی معافی ایکسیکپٹ کرلوں تو ابھی میری شرط پوری کریں۔۔۔
اس نے رسانیت سے کہا
کبھی بھی نہیں۔۔۔۔میں اس لڑکی کی شادی تم سے کبھی ہونے نہیں دونگی تامی۔۔۔۔جس کی وجہ سے تم اتنا ذلیل ہوئے ہو۔۔۔
عالیہ بیگم نے غصے میں کہا
تو پھر بھول جائیں کہ۔۔۔۔التمش زمان آپ لوگوں کو معاف کردے گا۔۔۔
وہ بول کر اوپر جانے لگا تبھی بی جان کی آواز پر اسکے قدم رکے۔
التمش۔۔۔۔آپکی شرط ہمیں قبول ہے۔۔۔
بی جان نے سنجیدگی سے کہا انہیں تو پہلے ہی نیہا اور وجدان سمیت اسکے گھر والے برے لگتے تھے۔۔۔مگر وہ التمش کی وجہ سے خاموش تھیں۔۔پر اب تو اس نے خود کہا ہے۔۔۔
امی کیسی بات کررہی ہیں آپ۔۔۔۔میں کبھی اپنے بیٹے کا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہونے دونگی۔۔۔
عالیہ بیگم نے چیخ کر کہا جبکہ انکی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو آگئے۔۔۔
عالیہ آپ ہمارے سامنے کب سے زبان چلانے لگیں۔۔۔
بی جان نے سختی سے کہا تو عالیہ بیگم بے بسی سے رودیں۔۔۔
پھر التمش نے اسی وقت سفیان کو کال کی اور قاضی کو لانے کہا
ریحانہ بیگم کو بھی التمش کے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہوا۔۔۔۔مشال کو جب یہ بات پتا چلی تو اسکو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ابھی تو وہ التمش سے معافی مانگنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔پر یہاں کچھ اور ہی ہو رہا تھا۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے بہت واویلا کیا مگر کسی نے اسکی ایک نہ سنی۔۔۔ریحانہ بیگم نے بیوٹیشن کو گھر بلوا لیا۔۔۔اور مشال کو اسکی بارات کا لہنگا پہنا کر تیار کروا دیا۔۔۔
ابھی وہ ایک ہی شاک سے نہیں نکلی تھی کہ التمش نے دوسری فرمائش اسی وقت رخصتی کی بھی کردی۔۔۔اس بات پر بی جان کو بھی اعتراض ہوا۔۔۔مگر وہ التمش ہی کیا جو کسی کی سن لے۔۔۔ان سب سے کوئی خوش ہو نہ ہو مگر نور بہت خوش تھی۔۔۔آخر اسکی بہن ایک محفوظ ہاتھ میں گئی تھی۔۔۔
اب وہ التمش کے روم میں بیٹھی سب سوچ رہی تھی۔۔۔رو رو کر اسکی آنکھ سُوج گئی تھی۔۔۔رات کے ساڑھے تین بج چکے تھے۔۔۔مگر التمش ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔۔اسے پوچھنا تھا التمش سے کہ آخر ایسا کیوں کیا تھا اسنے۔۔۔۔کیوں ان دونوں کی دوستی خراب کردی تھی اس رشتے سے۔۔۔۔اس نے اٹھ کر سب جیولریز اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی پھر آخر میں چوڑیاں اتارنے لگی تبھی دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔۔۔
اسے دیکھ کر مشال کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔بھلے وہ اسکا پرانا دوست تھا پر رشتہ نیا تھا۔۔۔۔جسکی وجہ سے وہ جھجھک رہی تھی۔۔۔پھر خود کو سنبھالتے ہوئے مشال اسکے سامنے آئی جو اسکی موجودگی سے بے نیاز بنتے ہوئے کوٹ صوفے پر پھینک کر کیز اور والٹ ڈریسنگ پر رکھ چکا تھا۔۔۔
التمش۔۔
مشال نے آہستگی سے پکارا تو وہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
پھر اس نے نیچے سے اوپر تک مشال کو ایک نظر دیکھا۔۔۔۔کتنا دیوانہ تھا وہ اس لڑکی کا۔۔ کتنا پچھتایا تھا وہ اپنے فیصلے پر۔۔کتنی دعائیں کرتا تھا وہ کہ کسی بھی طریقے سے یہ لڑکی اسکی ہوجائے اور اب جب وہ اسکی ہوگئی تھی تب التمش زمان کے دل میں اسکے لیے کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔۔۔وہ خوبصورت احساس جو مشال کو دیکھ کر اسکے دل میں آتے تھے۔۔۔وہ جیسے مرچکے تھے۔۔۔
اسکی سرد نظریں مشال کو اپنے جسم میں گھستی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔اس نے تھوک نگلا۔۔۔پھر کہا
ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے یہ سب کیوں کیا۔۔۔
اس نے پریشانی سے نظریں جھکا کر آہستہ آواز میں پوچھا
مگر اچانک مشال کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔التمش کا ہاتھ اٹھا تھا اور اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔وہ نیچے گری تھی۔۔۔جبکہ دماغ اور کان جیسے سن ہوگئے تھے اسکے۔۔۔۔
تبھی التمش نے اسے بازو سے دبوچتے ہوئے اٹھایا
ابھی بھی کچھ بتانا رہ گیا ہے۔۔۔کہ کیوں کیا میں نے یہ سب۔۔۔ہاں۔۔۔
التمش شعلہ برساتی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے غرّایا جبکہ مشال بے یقینی سے اسکے نقش دیکھ رہی تھی۔۔۔یہ وہ التمش تو نہ تھا جسے وہ اپنا دوست مانتی تھی۔۔۔یہ تو کوئی اور ہی تھا۔۔۔جس کی آنکھوں میں اسے اجنبیت،نفرت اور حیوانیت دکھی تھی۔۔۔وہ اس قدر سکتے میں تھی کہ اپنے بازو میں التمش کی دھنستی انگلیاں بھی اسے محسوس نہیں ہورہی تھیں۔۔۔
بولو۔۔۔
اسکے چپ رہنے پر التمش دھاڑا اور جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔تبھی مشال ہوش میں آئی۔۔۔اس نے بر وقت خود کو گرنے سے بچایا۔۔
ال۔۔الت۔۔مش۔۔
ٹوٹ پھوٹ کر اسکے منہ سے نام نکلا التمش کے اس روپ نے مشال کو کپکپانے پر مجبور کردیا۔
ہمیں۔۔۔معاف۔۔
چپ بلکل چپ۔۔
اسنے رک رک کر بولنا چاہا مگر التمش اسکی بات کاٹ کر غصے میں غرایا تبھی اسکی نظر مشال کے پیچھے اپنے روم کی قد آور کھڑکی پر پڑی جو کہ کھلی ہوئی تھی۔۔۔۔اسکے چہرے پر استہزیہ مسکان پھیل گئی۔۔۔۔
وہ مشال کی طرف آہستگی سے قدم بڑھانے لگا جبکہ مشال اسے اپنی طرف آتا دیکھ لرزتے ہوئے پیچھے ہونے لگی۔۔۔التمش کی آنکھوں کے سرد پن سے اسے پہلی مرتبہ بہت خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔
مشال ڈر کر پیچھے ہٹتے ہوئے بے دھیانی میں کھڑکی کے باہر قدم رکھ بیٹھی۔۔
آآآآ۔۔۔
وہ گرنے ہی لگی تھی کہ التمش نے بروقت اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔مشال کے منہ سے زوردار چیخ نکلی۔
التمش پلیز۔۔۔پلیز ہمارا ہاتھ مت چھوڑیے گا۔۔۔
وہ نیچے دیکھتے ہوئے رو کر کہنے لگی
کیوں سوئیٹ ہارٹ۔۔۔تم نے بھی تو مشکل وقت میں میرا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔اب میں کیوں نہ چھوڑوں۔۔۔
التمش نے تمسخرزدہ لہجے میں کہا تو مشال نے شدید حیرت سے اسے دیکھا تو کیا اسے اب زرا بھی پرواہ نہیں تھی مشال کی۔۔۔
التمش۔۔۔دیکھ۔۔دیکھیے۔۔۔ہم آپ سے معافی مانگ۔۔۔مانگتے ہیں۔۔۔ہم مانتے ہیں ہماری غلطی تھی۔۔۔پر ابھی پلیز۔۔۔۔ہمیں مت چھوڑیے۔۔۔
اس نے ایک نظر نیچے دیکھا پھر ہڑبڑاتے ہوئے جلدی سے کپکپاتے لہجے میں التمش سے کہا
مشال ایجاز حیدر۔۔۔۔تم شاید بھول رہی ہو۔۔۔تم نے مجھ پر تہمت لگائی تھی۔۔۔اور تہمت لگانا غلطی نہیں گناہ ہوتا ہے۔۔۔
اور ویسے بھی معافی غلطیوں کی دی جاتی ہے۔۔۔گناہوں کی تو سزا ہوتی ہے۔۔۔
کہتے ساتھ التمش نے اسکا ہاتھ چھوڑا۔۔۔۔مشال کی زوردار چیخ فضا میں بلند ہوئی۔۔۔۔جبکہ التمش پینٹ کی جیب میں ہاتھ پھنسائے اسے گرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔چہرے پر تمسخر اڑاتی مسکراہٹ زخمی مسکراہٹ میں بدل گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
