Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 32)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 32)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
بیٹھیے ادھر۔۔۔
حیدر صاحب نے عالیہ بیگم کو اپنے روم میں بلایا تھا۔۔۔ان کے آنے پر حیدر صاحب نے کہا
دیکھیے عالیہ۔۔۔ہم جانتے ہیں آپ ابھی بہت دکھی ہیں۔۔۔جہاں آپ نے اپنا شوہر کھویا وہیں ہم نے ہمارا بیٹا اور التمش،ہادی اور ہانیہ نے اپنا باپ کھویا ہے۔۔۔دکھ سبھی کو برابر ہوا ہے لیکن۔۔۔
حیدر صاحب نے ٹہر ٹہر کر بولنا شروع کیا۔۔۔پھر کچھ دیر کے لیے رُکے۔۔۔عالیہ بیگم کی آنکھوں میں پھر نمی اتر آئی۔
لیکن عالیہ ان سب میں مشال کا کہاں قصور ہے؟
حیدر صاحب کے پوچھنے پر عالیہ بیگم نے تڑپ کر انہیں دیکھا
ابو۔۔۔اس لڑکی کا قصور کہیں نہیں دِکھا آپ لوگوں کو۔۔۔اسکی وجہ سے ہی تو یہ سب ہوا ہے۔۔۔نہ وہ اس دن تامی پر الزام لگاتی۔۔۔نہ زمان کو ہارٹ اٹیک ہوتا اور نہ آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑتا۔۔۔
بولتے ہوئے انکی آواز بلند ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری ہوگئی۔۔حیدر صاحب چند پل کے لیے خاموش رہے پھر کہا
صرف وہ ہی تو نہیں تھی التمش پر الزام لگانے والی۔۔۔اگر اس نے التمش پر بھروسہ نہیں کیا تھا تو ہم سب نے بھی تو وہیں کیا۔۔۔۔التمش نے اس دن کہا بھی تھا کہ ایک مرتبہ اسکی بات سنی جائے مگر ہم سب نے مل کر اسے ذلیل کیا تھا۔۔۔تو اس سب میں اکیلی مشال ہی تو ذمہ دار نہیں ہے۔۔۔اگر ایسا ہے تو پھر آپ یہ بھی کہہ دیں کہ ہم بھی اتنے ہی شریک ہیں اس جرم میں۔۔
انکی تفصیلی گفتگو پر عالیہ بیگم نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں ابو۔۔۔آپ کیسے۔۔
کیونکہ ہم بھی تو اتنا ہی غلط سمجھ رہے تھے التمش کو۔۔۔
عالیہ بیگم کی بات کاٹ کر انہوں نے کہا
عالیہ۔۔۔بیٹا غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے۔۔۔مشال سے بھی ہوگئی۔۔۔شروع میں ہم بھی اسکی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے۔۔۔پر اب آپ خود بتائیں۔۔۔اتنی سزا کافی نہیں ہے کیا انکے لیے۔۔۔کہ تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔۔۔اور وہ ہم سب سے دور اس فلیٹ میں رہتی ہیں۔۔۔بیچ میں ایک دوبار آنا ہوتا تھا تو اس میں بھی ہم سب ان سے غیروں کی طرح بات کرتے۔۔۔
انکی چپ پر حیدر صاحب نے انہیں سمجھایا
پر ابو۔۔۔میی مجبور ہوں۔۔۔میرا دل صاف ہی نہیں ہورہا۔۔اس لڑکی کی طرف سے۔۔
انہوں نے ہلکی آواز میں احتجاجاً کہا
یہ وہی لڑکی ہے جسے آپ کبھی اپنی بیٹی مانتی تھیں۔۔۔بیٹا میں یہ نہیں کہتا کہ ابھی معاف کردیں۔۔۔میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح اپنا دل تھوڑا بڑا کرلیں۔۔۔اسے اجازت دیدے اس گھر میں آنے کی۔۔۔اب تو اس گھر کی خاموشی سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔۔۔پہلے جو حیدر ولا ہنسی شور اور قہقہوں سے گونجتا تھا۔۔۔اب ہر پل اس میں سوگ کا عالم ہوتا ہے۔۔۔عالیہ کم سے کم اپنی بی جان کو دیکھ لیں۔۔۔
انکے دھیمے لہجے میں سمجھانے پر عالیہ بیگم نے آمنہ بیگم کو دیکھا جو بیڈ پر آنکھیں موندیں لیٹی تھی۔۔۔بیٹے کی موت نے انکی حالت کیا کر کے رکھ دی تھی۔
میں کوشش کروں گی۔۔
کافی دیر بعد انہوں نے آنسو پوچھتے ہوئے نرمی سے کہا تو حیدر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس میں بیٹھا وہ راکنگ چئیر پر گھومتے ہوئے مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔آفس کے لیے نکلنے سے پہلے اس نے آغاجان کو کہا تھا مشال کے سلسلے میں عالیہ بیگم سے بات کرنے۔۔۔وہ اُمید کررہا تھا کہ سب ٹھیک ہی ہوا ہو۔۔۔اور عالیہ بیگم سمجھ جائیں۔۔۔
کچھ خبر سنی بھائی۔۔
ہادی اسکے آفس میں داخل ہوتے ہوئے بولا تو وہ اپنی سوچ سے نکلتا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
کیا۔۔۔
اس نے ایک آئبرو اٹھا کر پوچھا
وجدان جیل سے بھاگ گیا ہے۔۔
اسکی بات پر التمش کی پیشانی پر بل پڑے
کیسے؟
اس نے اچھنبے سے پوچھا
کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔سننے میں آیا ہے۔۔۔کوئی روز اس سے ملنے آتا تھا۔۔۔پھر اچانک ایک رات وہ جیل سے غائب ہوگیا۔۔۔
اس نے کندھے اچکاکر کہا جس پر التمش نے لب بھینچ لیے
کمینہ۔۔۔
ہلکی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ پیپرویٹ ہاتھ میں گھمانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سویر التمش کے اٹھنے پر ہی اس کی آنکھ کُھل گئی تھی۔۔۔اسکے جانے کے بعد گھر کا کام کرتے ہوئے بھی اسکی پوری سوچ کا محور وہ ستمگر ہی تھا۔۔۔پہلے اسکو سوچتے ہی مشال کی روح کانپتی تھی پر اب پتا نہیں اسکا خیال جب سے دماغ میں تھا تب سے ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر سجی تھی۔۔۔وہ بہت مِس کررہی تھی اسے۔۔۔عجیب ہی دل کا حال ہورہا تھا۔۔جب وہ قریب ہوتا تو مشال کی جان پر بن آتی۔۔۔۔اس وقت وہ اسکے سامنے سے غائب ہونے کی کوشش کرتی۔۔۔۔پر جب وہ دور ہوتا تو مشال کا دل بےچین ہوجاتا۔۔۔اپنے دلی جذبات سے وہ واقف تو تھی کہ وہ۔۔۔
“مشال ایجاز۔۔۔۔التمش زمان حیدر کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے”۔۔۔۔
پر یہ اعتراف اسکے لیے سوہانِ روح تھا۔۔۔تبھی وہ کہنے سے ڈرتی تھی۔۔۔۔پر دل کا کیا کرتی جو اس ستمگر کے لیے بےکیف رہنے لگا تھا۔۔۔اور ابھی بھی وہیں ہوا۔۔۔شام کے چھے بج رہے تھے۔۔۔اور وہ دعا کررہی تھی کہ جلدی سے التمش آجائے۔۔۔تبھی اسے لاؤنج میں قدموں کی چاپ کی آواز آئی۔۔۔اسکی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ دعا اتنی جلدی قبول ہوگئی۔۔۔۔وہ مسکراکر بھاگتے ہوئے روم سے نکلی مگر لاؤنج میں کسی کو نہ پاکر اسکی مسکراہٹ تھمی تھی۔۔۔اچانک دماغ میں کل کا واقعہ گھوما تو دل بری طرح گھبرایا۔۔۔تبھی اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسکے بلکل پیچھے کھڑا ہے۔۔۔۔مشال نے آہستہ سے گردن گھوما کر دیکھا۔۔۔بھوری آنکھیں خوف سے پھیلی تھیں۔۔۔
وجدان۔۔
کٹاؤ دار لب پھڑپھڑائے تھے۔
اوہ میری جان۔۔۔۔میں جانتا تھا کہ تم مجھے نہیں بھول سکتی۔۔۔
وہ کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا
آپ یہاں پر کیسے آئے؟
مشال کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔جہاں تک اسے معلوم تھا کہ فلیٹ کی چابی صرف التمش کے پاس ہوتی ہے اور ابھی فلیٹ لوک تھا تو وہ کیسے اندر آسکتا تھا۔
تم کتنی بھولی ہو مشال۔۔۔اتنا بھی نہیں پتا کہ اس دور میں لوک کھولنے کے ہزار طریقے ہیں پھر بھی انجان بن رہی ہو تم۔۔۔سو بیڈ۔۔۔
وہ فرینکلی بولتا ہوا اسکے گرد چکر لگانے لگا جبکہ مشال کے ذہن میں پچھلے دو دن سے ہوتا واقعہ گردش کرنے لگا۔
مطلب آپ دو دن سے یہاں پر۔۔۔
آف کورس یار۔۔۔۔چلو تھوڑی سمجھدار تو ہوگئی ہو۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا تو مشال چند پل کے لیے بےیقین سی کھڑی رہی
کتنے بےشرم انسان ہیں آپ۔۔۔کسی کے گھر میں یوں بلا اجازت آنے کا کیا جواز بنتا ہے آپکا۔۔
وہ غصے میں چیخی تو وجدان نے اپنے کان سہلائے
کتنا چیختی ہو۔۔۔۔سوئیٹ ہارٹ میں کسی دوسرے کے گھر پر تھوڑی آیا ہوں جو شرم محسوس ہوگی۔۔۔میں تو اپنی محبت سے ملنے آیا ہوں۔۔۔
وہ بےباکی سے بولنے لگا۔۔۔جس پر مشال حیرت سے اس انسان کو دیکھنے لگی۔جو کبھی اسے بہت شریف لگتا تھا پر اب اس میں پہلے جیسے کوئی آثار نہ تھے۔۔۔
دیکھیے ہم سے اب آپکا کوئی تعلق نہیں ہے تو پہلی فرصت میں آپ یہاں سے نکلیے ورنہ ہم ابھی التمش کو کال کردیں گے۔۔۔
اسکے دھمکانے پر وجدان نے بےساختہ قہقہہ لگایا
نہ۔۔نہ۔۔میری جان۔۔۔یہ غلطی کبھی مت کرنا۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ الٹا تم پر ہی شک کرے کہ میں تمہارے ساتھ اکیلے فلیٹ میں کیا کررہا ہوں۔۔۔یو نو لائک ٹیپیکل ہسبنڈز۔۔۔کیونکہ التمش کی ٹچی نیچر کو میں اتنا تو جان گیا ہوں۔۔۔
وہ کہتے ہوئے خباثت سے ہنسا تھا مشال کے خوف سے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر
اسکی بات پر مشال کے ذہن میں وہ رات آئی جب صرف وجدان کے ساتھ کھڑے رہنے پر التمش نے سگریٹ سے کندھا داغ کر کیا حشر کیا تھا اسکا۔۔۔اس واقعہ کو سوچتے ہی مشال کانپ کررہ گئی۔
چلو ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔آؤں گا پھر کبھی تم سے ملنے۔۔۔بائے سوئیٹ ہارٹ۔۔۔
مشال کی بھوری آنکھوں میں سوچ کی پرچھائی دیکھ وہ لوفرانہ لہجے میں کہنے لگا پھر اسکے ساکت وجود کو وہیں چھوڑ کر فلیٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو وہ فلیٹ پر پہنچا۔۔۔ابھی لفٹ میں وہ اپنے فلور کے نمبر پر کِلک کرنے ہی لگا تھا کہ سامنے سے ایک عورت آتے ہوئے لفٹ میں داخل ہوگئی۔۔۔وہ بھاری بھرکم عورت بار بار اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔پھر کچھ دیر بعد بولی
آپ کا اور میرا فلور ایک ہی ہے۔۔۔
اسکے مسکراکر کہنے پر التمش بھی ہلکا سا مسکرادیا پھر آگے منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔
آپ اپنی بیوی کے ساتھ کافی ٹائم سے یہاں پر رہتے ہو نا۔۔
اسنے پھر پوچھا تو التمش نے اثبات میں سر ہلایا
آپ اور آپکی بیوی کے علاؤہ اور کوئی تو نہیں رہتا نا،آپ کے فلیٹ میں؟
اس کے دوبارہ پوچھنے پر التمش کو حیرت ہوئی۔وہ کیوں اتنے سوال کررہی تھی۔
نہیں۔۔
اس نے مختصر جواب دیا تبھی لفٹ فلور پر آکر رکی۔۔وہ باہر نکل کر اپنے گیٹ پر جانے لگا تبھی اس عورت نے پھر اسے آواز دی۔۔۔جس پر وہ آنکھیں کوفت سے بند کرتا ہوا پلٹا
ایک بات بتانی تھی دراصل آپ کو۔۔۔وہ کیا ہے نا۔۔۔میں پچھلے کچھ دن سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے فلیٹ سے نکلنے کے بعد کوئی لڑکا آتا ہے آپ کے پیچھے یہاں۔۔۔پھر قریباً ایک گھنٹے کے بعد چلا جاتا ہے۔۔۔اس لڑکے کو کبھی میں نے آپکے ساتھ یونہی دیکھا نہیں۔۔۔اسی لیے آپ کو بتانا ضروری سمجھا۔۔۔
اس عورت نے رازدارانہ انداز میں اپنی طرف سے کچھ باتیں ملا کر التمش کو بتایا۔۔۔اسکی بات سُن کر وہ حیرت کا شکار ہوا۔۔۔پر چہرے کے تاثرات نارمل ہی رکھے۔۔۔کافی دیر تک تو التمش خاموش رہا پھر کہا
ایکچولی میری وائف کا بھائی ہے وہ۔۔۔اکثر میں نہیں ہوتا تو میری وائف کچھ بھی سامان منگوانے کے لیے اسے بلالیتی ہے۔۔۔اب سگا بھائی ہے تو اندر تو بلائیں گی ہی وہ۔۔۔تو اسی لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ ہی دوسروں کے گھروں کے معاملے میں دخل اندازہ کرنے کی۔۔۔
وہ سرد لہجے میں بولتا ہوا گیٹ کھول کر اندر گیا۔۔۔اور اس عورت کے منہ پر دروازہ زور سے بند کردیا
ہائے ہائے۔۔۔بولو تو بھلا۔۔۔بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں۔۔
اسکے انداز پر وہ نخوست سے کہتے ہوئے اپنے گیٹ پر چلی گئی
اس عورت کو تو التمش نے جواب دے دیا تھا پر اب اسکے ذہن میں الجھن نے گھر کرلیا۔۔۔کون آتا ہوگا اسکی غیر موجودگی میں۔۔۔اس نے مشال سے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔۔
کھانے کھاتے ہوئے اس نے نوٹ کیا مشال کا موڈ تھوڑا آف ہے تبھی اس نے مشال کا ہاتھ تھاما۔۔۔جس پر وہ التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔
کیا ہوا۔۔
اس نے نرم لہجے میں پوچھا
کچ۔۔کچھ نہیں۔۔
وہ جلدی سے کنفیوز ہوتے ہوئے کہنے لگی
تم ٹھیک ہو۔۔۔
ہمم۔۔
اسکے پوچھنے پر مشال نے زبردستی چہرے پر مسکان سجاتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا پر التمش کی زیرک نظروں سے اسکی آنکھوں میں لہراتا خوف نہ چھپ سکا۔۔۔مگر اسنے زیادہ زور نہ دیا اور خاموش ہوگیا
کھانا کھا کر وہ روم میں بیٹھا مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔تبھی مشال فارغ ہوکر روم میں آئی۔۔۔وہ ڈریسنگ روم میں جانے لگی۔۔۔لیکن التمش نے اسے اپنے پاس بلالیا۔۔۔مشال کے سامنے بیٹھنے پر التمش نے اسے پکڑ کر اپنے قریب کیا پھر موڑ کر اسکی پشت کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھالیا۔۔۔
وہ شرم سے نظریں جھکاگئی۔۔۔لیکن اگلے ہی پل التمش نے اسکے کندھے پر اپنی تھوڑی رکھتے ہوئے پوچھا
آج کوئی آیا تھا کیا؟
وہ سوال تھا یا کیا۔۔مشال کے رونگٹے کھڑے ہوگئے وجدان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا تو جان نکلنے لگی اسکی۔۔۔
مشال۔۔۔
اسے سوچ میں گُم محسوس کر کے التمش نے اسے پکارا۔۔۔مشال کا دل کیا اسے سب بتادے۔۔۔پر اچانک وجدان کی بات یاد آئی۔۔۔کہیں سچ میں التمش یہ بات سُن کر اسے مارے نہ۔۔۔آنکھوں میں ایک بار پھر وحشت چھائی
کوئی آیا تھا کیا آج۔۔
اس نے پھر پوچھا تو مشال چونکی
نہ۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں تو۔۔کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔۔
وہ ہونٹ پر زبان پھیرتے ہوئے ہکلاکر کہنے لگی تبھی التمش نے جھٹکے سے اسکا رُخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔مشال خوفزدہ نظروں سے اسکے وجاہت سے بھر پور سنجیدہ چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔لیکن اگلے ہی پل وہ مسکرایا
پاگل تو اس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے؟
وہ ہنسنے لگا اسے یوں سٹیچو بیٹھا دیکھ کر تو مشال کو تسلی ہوئی کہ اسے شک نہیں ہوا۔۔۔
ڈرپوک۔۔۔
التمش ہنستے ہوئے بول کر اسکے نرم گالوں پر باری باری بوسہ دینے لگا
التمش۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں۔۔
اسکی گستاخیاں اور بڑھتی دیکھ مشال نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔پہلے ہی وجدان کی وجہ سے سر میں درد تھا۔۔
اے۔۔۔کیا مطلب نہیں۔۔۔جب سے چھوڑرہا ہوں اب نہیں۔۔۔
وہ مصنوعی روعب سے بولا تو مشال کا منہ بنا ابھی وہ کچھ بولتی کے التمش نے اس پر جھکتے ہوئے مشال کا منہ بند کروادیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحانہ۔۔۔
ریحانہ بیگم لاؤنج میں بیٹھیں تھی تبھی عالیہ بیگم انہیں پکارتے ہوئے انکے پاس آکر بیٹھیں۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔پریشان ہو۔۔۔
انکا مرجھایا چہرہ دیکھ عالیہ بیگم نے نرمی سے پوچھا تو وہ خاموشی سے انہیں دیکھنے لگیں
کچھ نہیں بھابھی۔۔۔
وہ آسودگی سے مسکرادیں،اپنا دکھ انہیں کیا بتاتیں کہ ابھی مشال کی یاد ستارہی ہے انہیں۔۔۔
میں تم سے کچھ پوچھنے آئی تھی۔۔۔
عالیہ بیگم نے انکا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا
جی بھابھی بولیں۔۔۔
پرسوں چلو گی میرے ساتھ۔۔۔
انہوں نے دھیمی آواز میں پوچھا
کہاں۔۔۔
ریحانہ بیگم کے پوچھنے پر وہ چند پل چپ رہیں پھر بولیں
مشال کو لینے۔۔۔
ریحانہ بیگم کی آنکھیں پھیلیں تھیں انکی بات پر۔۔۔کچھ دیر بعد وہ سنبھلی تو خوشگوار حیرت سے عالیہ بیگم کو دیکھنے لگیں۔۔۔جو مسکراتے ہوئے انکے ایکسپریشن دیکھ رہی تھیں۔۔۔
بھابھی۔۔۔میں۔۔
انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولیں۔۔۔تبھی خوشی سے وہ عالیہ بیگم کے گلے لگ گئیں۔۔۔تو وہ بھی آسودگی سے مسکرادیں۔۔۔انہیں صحیح لگی تھی حیدر صاحب کی بات۔۔۔معاف بھلے ابھی نہ کریں پر تھوڑا بہت دل بڑا کر کے مشال کو یہاں لاتو سکتیں تھیں وہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
