Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 19)

696.9K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 19)

Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz

ہادی جو رات کو دیر سے گھر آیا تھا اب کوریڈور سے گزرتے ہوئے اپنے روم میں جاہی رہا تھا کہ نور کے روم سے کچھ گرنے کی آواز آنے پر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔

اس ٹائم یہ کیسی آواز آرہی ہے اسکے روم سے۔۔۔

وہ حیرت سے سوچنے لگا پھر نور کے روم کے باہر کھڑا ہوکر آہستگی سے نوک کرنے لگا مگر کوئی رسپانس نہ ملنے پر اس نے تھوڑا زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔۔

نور۔۔۔

اس نے آواز دی پھر بھی خاموشی رہی۔

اب کے ہادی کو تشویش ہوئی اس نے کچھ سوچتے ہوئے ناب گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔اندر کا منظر دیکھ کر اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔نور نیچے ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی ہوئی تھی۔۔۔ہادی تیزی سے اسکی طرف گیا۔۔۔

نور۔۔۔نور۔۔اٹھو۔۔

وہ نور کا گال تھپتھپاتے ہوئے اسے پکارنے لگا۔۔۔اسکا سرخ و سفید چہرہ بلکل زرد پڑگیا تھا۔۔۔

ہادی نے پریشانی سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔۔سامنے سلیپنگ پلز کی خالی شیشی دیکھ وہ پھر بے یقینی سے نور کو دیکھنے لگا۔

کہیں نور نے۔۔۔۔پر کیوں۔۔

کسی خطرناک خدشے کے پیشِ نظر ہادی نے نور کی ناک کے آگے انگلی سے چیک کیا۔۔۔دھیمی۔۔۔بلکل دھیمی سانس چل رہی تھی۔۔۔

بس پھر۔۔۔ہادی نے بنا کچھ وقت ضائع کیے نور کو گود میں بھرا اور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔

ریحانہ بیگم اور بی جان جو ہادی کے دروازہ زور سے پیٹنے پر اپنے کمرے سے نکلیں تھیں۔۔۔ہادی کو یوں نور کو گود میں لیے تیزی سے باہر کی طرف لے جاتے دیکھ حیرت سے اسکی طرف لپکیں۔۔۔

کیا ہوا ہے ہادی نور کو۔۔۔اور یہ ایسے کہاں لے جارہے ہو تم اسے۔۔۔

بی جان نے تشویش سے پوچھا جبکہ ریحانہ بیگم نور کے زرد رنگ چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے آگے بڑھیں

نور۔۔۔میرا بچہ۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔

انہوں نے اسکے زرد چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روہانسی آواز میں ہادی سے پوچھا

بی جان۔۔نور بے حوش ہوگئی ہے۔۔۔اسے ہوسپٹل لے کر جارہا ہوں۔۔۔ابھی ٹائم نہیں ہے تفصیل بتانے کا۔۔۔

بول کر ہادی باہر کی طرف جانے لگا تو ریحانہ بیگم رونے لگیں۔۔۔

رکو بیٹا ہم بھی چلتے ہیں۔۔۔

بی جان نے جلدی سے کہا تو ریحانہ بیگم نے بھی ان سے اتفاق کیا اور ہادی کے ساتھ چل دیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے اسے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا۔آغاجان اور عالیہ بیگم کو ہادی نے ہوسپٹل پہنچ کر کال کر دی تھی۔۔۔جس کی وجہ سے وہ لوگ بھی ابھی یہیں پر موجود تھے۔عالیہ بیگم التمش کو بتانا چاہتی تھیں مگر آغاجان نے انہیں ابھی منع کردیا تھا۔

بھابھی میری بچی کو کیا ہوگیا ہے۔۔۔شام تک تو بلکل ٹھیک تھی۔۔

ریحانہ بیگم روتے ہوئے بار بار عالیہ بیگم سے ایک ہی سوال پوچھ رہیں تھیں۔۔۔عالیہ بیگم انہیں تو تسلیاں دے دہی تھیں مگر خود بھی وہ پریشان تھیں۔۔۔وہ بھلے ان کی بھتیجی تھی مگر انہیں تو بیٹیوں جیسی عزیز تھی۔۔

ہانیہ کونے میں کھڑی رورہی تھی تو ہادی اسکے پاس جاکر اسے گلے لگاگیا۔۔۔تبھی تھیٹر روم کھلا۔۔۔ہادی فوراً ڈاکٹر کے پاس لپکا اور ڈاکٹر کے بتانے پر وہ حق دق سا رہ گیا کہ نور نے سوسائیڈ اٹیمپ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔ابھی تو اسکا معدہ واش کردیا گیا تھا جسکی وجہ سے اب وہ خطرے سے باہر تھی پر ڈسچارج صبح کرنے کا کہا گیا تھا۔۔۔

آغاجان کے پوچھنے پر اس نے کچھ سوچ کر ان لوگوں کو یہ بول کر تسلی دے دی کہ نور کو فوڈ پوائزن ہوا تھا مگر اب وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔یہ سن کر ریحانہ بیگم سمیت سبھی کی جان میں جان آئی۔۔۔رات کو وہاں رکنے کے لیے ہادی نے ہامی بھری وہ سب کو تسلی دے کر گھر بھیجنا چاہتا تھا مگر ریحانہ بیگم نے صاف منع کردیا وہ بضد تھیں۔۔ہوسپٹل میں رکنے کے لیے تبھی مجبوراً ہادی اور انہیں چھوڑ کر باقی سب گھر چلے گئے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات بھر وہ سویا نہیں تھا اور ابھی صبح وہ خاموشی سے مشال کے برابر میں ایک کوہنی کے بل لیٹے اسے تک رہا تھا۔۔۔وہ اسکی گہری نظروں سے بے خبر نیند کی وادیوں میں تھی۔۔۔۔مسلسل بنا پلک جھپکائے دیکھتے رہنے سے اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔۔۔۔مگر اس نے پلک نہیں جھپکائیں بس یونہی اسے تکتا رہا۔۔۔۔۔کتنی اہمیت تھی اسکی زندگی میں اس لڑکی کی۔۔۔بچپن سے لے کر اب تک وہ اسکی فرسٹ پرییورٹی رہی تھی۔۔۔دوستی سے لے کر محبت تک کا سفر اس نے کب طے کیا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔شاید وہ اس سے بچپن سے ہی محبت کرتا تھا۔۔۔پر پاس رہنے پر اسے اتنا احساس نہیں ہوتا تھا اسکا۔۔۔لیکن جب مشال کی منگنی ہوئی۔۔۔ہاں اسی دن۔۔۔اس ہی دن تو التمش زمان کو یہ احساس ہوا تھا کہ وہ مشال کا دوسروں کے بارے میں سوچنا تک برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔وہ صرف اسکی تھی۔۔۔۔صرف اسکی۔۔۔

التمش کی گہری نظریں مسلسل اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔۔اس نے یونہی آہستگی سے ہاتھ اٹھا کر چھوٹی انگلی سے مشال کی ساکت گھنیری پلکوں کو چھوا۔۔۔پھر تھوڑا سا نیچے ہاتھ کر کہ اسکے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلایا۔۔۔اسے مشال کے سرخ و سفید گال شروع سے بہت پسند تھے۔۔۔تبھی وہ اکثرو بیشتر اسکے گال کھینچتا جس پر مشال چڑ جاتی۔۔۔۔یہ سوچتے سوچتے اسکی نظر مشال کے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر پڑی تو اسے آج اپنی پسند تھوڑی غلط لگی۔۔۔مشال کے بھرے بھرے لبوں کا جوڑ اسکے گال سے بھی زیادہ حسین تھا۔۔۔وہ مشال کے نچلے ہونٹ کو اپنی انگلی سے سہلاتے ہوئے انکی نرمی محسوس کرنے لگا۔۔۔نگاہ تھوڑی اور بھٹکی تو سیدھا اسکی گردن سے تھوڑا نیچے ابھری ہوئی بیوٹی بون پر ٹکی۔۔۔اب کے وہ اپنا ہاتھ نرمی سے ان پر پھیر رہا تھا۔۔۔

وہ کتنی حسین اور نازک تھی بلکل کسی موم کی گڑیا کی طرح مگر کون جانے اندر سے یہ معصوم لڑکی کس قدر سنگ دل نکلی تھی۔۔۔صرف ایک غلط فہمی میں اس نے بچپن سے لے کر اب تک کی ساری دوستی ختم کر کے رکھ دی تھی۔۔۔بنا کچھ سوچے سمجھے التمش کو بھری محفل میں ذلیل کردیا تھا اس نے۔۔۔یہ سوچ آتے ہی التمش جھٹکے سے اسکے پاس سے اٹھا۔۔۔

کچھ دیر والی تپش بھری نظریں بدل چکی تھیں۔۔۔اب وہ ناگواری سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسکی زندگی عذاب کرکے کیسے وہ سکون سے سوسکتی تھی۔۔۔۔۔التمش نے ہاتھ بڑھا کر اسے جھنجھوڑ دیا۔۔۔وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھی۔۔۔پھر خمار زدہ آنکھوں سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔مگر اسے اتنے قریب بیٹھے دیکھ مشال بوکھلاتے ہوئے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔نظر اٹھا کر ٹائم دیکھا تو سات بج رہے تھے۔۔۔اسنے پھر التمش کو دیکھا۔۔۔کچھ بحث بےکار ہی تھی اسی لیے خاموشی سے واشروم میں چلی گئی۔۔۔تبھی التمش کا فون رنگ کرنے لگا۔۔۔

عالیہ بیگم نے اسے نور کی طبیعت کا بتایا جسے سن کر وہ تھوڑا پریشان ہوا پر انہوں نے اسے تسلی دی کہ خطرے کی کوئی بات نہیں جس پر وہ مطمئن ہوا اور انہیں ابھی آنے کا بتاکر کال رکھ دی۔۔۔

کچھ دیر بعد مشال نہا کر نکلی تو التمش اسے اگنور کرتا ہوا فریش ہونے چلا گیا۔۔۔وہ بال سلجھا کر کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ التمش کا فون پھر رنگ ہوا۔۔۔ہادی کی کال تھی۔۔۔

ہیلو۔۔

اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا

ہاں۔۔۔مشال بھائی کو بول دینا کہ نور کو ڈسچارج کروا کر ہم لوگ گھر لے جارہے ہیں تو بھائی گھر پر ہی آجائیں۔۔۔اوکے۔۔

ہادی کی بات پر مشال کو حیرت کا جھٹکا لگا

کیا مطلب ہادی نور کو ڈسچارج۔۔۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔

اس نے گھبراکر جلدی سے پوچھا تو ہادی نے اسے بھی نور کی بے ہوشی کا بتایا جس پر مشال کی آنکھیں بے ساختہ بھر آئیں۔۔۔مگر ہادی نے اسے فوراً تسلی دی۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے فون رکھ کر پریشانی سے روم میں چکر لگانے لگی۔۔۔آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے اسکے۔۔۔نور کے بارے میں سن کر وہ بہت بری طرح گھبرائی تھی۔۔۔کاش ابھی وہ اسکے پاس ہوتی۔۔۔

تبھی التمش واشروم سے باہر نکلا مشال جو لپک کر اسکے پاس پہنچی تھی۔۔۔اسے بنا شرٹ کے دیکھ کر گھبراکر نظریں جھکاگئی۔۔۔جبکہ التمش اسکا گریز سمجھ کر سر جھٹکتا ہوا وارڈروب سے شرٹ نکال کر پہننے لگا۔

آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں۔۔۔

اسکی بھرائی ہوئی آواز پر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جس آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھیں۔۔۔

کس بارے میں۔۔

واشروم سے نکلتے ہوئے وہ مشال کے ہاتھ میں اپنا فون دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ پھر گھر سے کسی کی کال آئی ہوگی مگر پھر بھی جانتے بوجھتے وہ انجان بنا۔

نور کے بارے میں۔۔۔آپ کو پتا ہے کل رات۔۔۔۔اسے فوڈ پوائزن ہوگیا تھا۔۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے اسے ہوش آیا ہے اور ہادی لوگ اسے گھر لے کر جارہے ہیں۔۔۔۔اور ہمیں کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔

ایسا کریں آپ جلدی سے تیار ہو جائیں پھر ہمیں لے کر چلیں نور کے پاس۔۔۔

مشال نے سب کچھ بتا کر آخر میں آنسو پونچھتے ہوئے جلدی سے کہا

تمہیں کس نے کہا کہ میں تمہیں لے کر جارہا ہوں۔۔

التمش نے بالوں پر برش کرتے ہوئے پوچھا اسکی بات پر مشال ٹھٹھکی۔

کیا مطلب۔۔آپ ہمیں لے کر۔۔۔ہم بھی جائیں گے۔۔

مشال نے بوکھلا کر کہا یہ وہ کیا کہہ رہا تھا آخر نور اسکی بہن تھی۔۔۔

تم نہیں جاؤ گی۔۔۔۔نور اب بلکل ٹھیک ہے۔۔۔امی نے بتایا ہے مجھے۔۔۔تو زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔گھر پر رہو۔۔

وہ اپنی آستین فولڈ کرتے ہوئے بے نیازی سے بولتے ہوئے روم سے نکلنے لگا

وہ ابھی ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ کل وہ ہوسپٹل میں ایڈمٹ تھی۔۔۔۔۔ہمیں اس سے ملنا ہے ابھی۔۔۔۔بہن ہے وہ ہماری۔۔۔آخر کیوں کررہے ہیں آپ ہمارے ساتھ ایسا۔۔۔

چیختے چیختے مشال کا گلا رندھ گیا۔آنسو متواتر سرخ عارضوں پر پھسل رہے تھے۔

اپنی آواز نیچے رکھو۔۔۔بہرہ نہیں ہوں میں۔۔۔

التمش کو اسکا اونچا بولنا تپا رہا تھا

بہرے نہیں ہیں۔۔۔پھر بھی ہماری باتوں کو نظر انداز کررہے ہیں آپ۔۔۔

مشال نے اسکے سامنے آکر روتے ہوئے کہا

نظر انداز نہیں کررہا سوئیٹی۔۔۔بس اب میری نظر میں تمہاری باتوں کی ویلیو نہیں رہی۔۔۔

التمش سرد لہجے میں کہتا نکلنے لگا تبھی مشال نے غصے میں اسکے مضبوط کندھے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر التمش کو جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔۔۔

آخر چاہتے کیا ہیں آپ ہم سے۔۔۔دودن سے آپکی بے رخی برداشت کررہے ہیں ہم۔۔۔معافی مانگ تو رہے ہیں نا۔۔۔پھر کیوں اتنا اگنور کررہے ہیں ہمیں۔۔۔ہم سے یہ رشتہ بناکر بھی آپکے دل کو ٹھنڈک نہیں پڑی جو اب اسطرح اگنور کر کے ہمیں تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔

اسکے لہجے میں سرکشی دیکھ التمش کا دماغ ہی گھوم گیا۔۔۔اس نے پھر مشال کو تھپڑ مارا۔۔۔اور اسکے سنبھلنے سے قبل ہی غصے میں مشال کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر دیوار سے لگا گیا۔۔

ایک تھپڑ ہی سے مشال کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔غصہ سارا اڑن چھو ہوگیا۔۔۔وہ خوف سے آنکھیں پھیلائے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جسکی لہو رنگ آنکھیں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔۔۔۔

تکلیف۔۔۔تکلیف کیا ہوتی ہے یہ تمہیں پتا ہے مشال۔۔۔۔تمہاری ایک غلط فہمی نے مجھے معاشرے میں بدنام کر کے رکھ دیا۔۔۔اور بابا۔۔بابا کس حال کو پہنچ گئے۔۔۔اس سب کے بعد بھی تم کہتی ہو کہ معافی مانگ تو رہی ہوں۔۔۔تم نے جو کیا ہے۔۔۔اسکی معافی ہوتی ہی نہیں ہے مشال۔۔۔اسکی تو سزا ہوتی ہے وہ بھی عبرتناک۔۔۔

التمش نے پھنکارتے ہوئے کہا۔۔۔اسکی باتوں سے مشال شرمندگی سے خود کو زمین میں گڑتا محسوس کررہی تھی۔۔۔اسکی ہچکیاں کمرے میں گونجنے لگی۔

آپ بھلے ہمیں عبرتناک سزا دیں۔۔۔بھلے ہمیں معاف نہ کریں۔۔پر ابھی پلیز۔۔۔ہمیں نور سے ملوانے لے چلیں۔۔۔آآ۔۔آپ جو بولیں گے ہم وہ کریں گے پر۔۔۔ابھی پلیز ہمیں بھی لے چلیں۔۔

اس نے روتے ہوئے التمش سے التجاء کی جس پر التمش کے چہرے پر استہزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

جو کہونگا وہ کروگی۔۔۔

اسکے لبوں پر نظریں جمائے التمش نے معنیٰ خیزی سے پوچھا

اسکا اچانک بدلا لہجہ مشال کا خون سُکھا گیا۔۔وہ اسکی گہری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔مگر التمش اسکے بوکھلانے کو اگنور کرتا ہوا آہستگی سے اسکے کٹاؤ دار لبوں پر جھکنے لگا۔۔۔۔مشال نے اسکے ارادے کو بھانپتے ہوئے اپنا منہ پھیر لیا۔۔۔وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی۔۔مگر التمش کے مضبوط ہاتھوں میں مقید اپنے نازک ہاتھوں کو دیکھ وہ بے بسی سے رودی۔۔۔تبھی مشال کو اپنی گردن پر اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔

وہ تڑپ کر اپنے ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔۔مگر التمش نے اور مضبوطی سے انہیں تھام لیا۔۔۔اور مشال کی صراحی دار گردن پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔

اس نے اچانک مشال کا ایک ہاتھ چھوڑا اور اسکی تھوڑی تھام کر اسکا آنسوؤں سے بھیگا سرخ چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔مشال حد درجہ خوفزدہ ہوگئی تھی اسکی خمارزدہ آنکھوں سے۔۔۔

اسکے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہی وہ مشال کے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر جُھک گیا۔۔۔

مشال کے پورے وجود میں جیسے ایک برقی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔دھڑکنیں سست روی سے چلنے لگیں۔۔۔۔۔جبکہ دماغ بلکل ماؤف ہونے لگا تھا اسکا۔۔۔وہ اپنے ایک آزاد ہاتھ سے اسے دور ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔مگر اسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بنا وہ مشال کی کمر پر بازو حائل کرتے ہوئے اسے اور قریب کر گیا اور دیوانہ وار اس پر جُھکا رہا۔۔۔

ایک نشہ سا تھا مشال میں جو التمش کو مد ہوش کیے جارہا تھا۔۔اسکی شدتوں پر ضبط سے مشال نے اسکی شرٹ کا کالر دبوچ لیا۔۔۔

اپنی بوجھل ہوتی آنکھوں کو ہونٹوں پر ہوتی تکلیف سے مشال نے جھٹکے سے کھولا۔۔۔۔وہ تڑپ کر التمش کو دھکا دینے لگی۔۔۔۔جو کسی چٹان کی طرح اس پر حاوی تھا۔۔۔۔بڑھتے ہوئے درد سے مشال نے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔تبھی وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا دور ہوا۔۔۔

پھر دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں گھسا کر دلچسپی سے مشال کو دیکھنے لگا جو اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو متواتر کرنے کی کوششیں کررہی تھی۔۔۔اسکا سرخ چہرہ مزید ٹماٹر ہوگیا۔۔۔دھڑکنیں حد درجہ بڑھی ہوئی تھیں۔۔۔۔

کچھ دیر بعد تھوڑا سنبھلنے پر اسے لبوں پر شدید جلن محسوس ہوئی۔۔۔انگلی سے چھو کر اسنے دیکھا تو خون نکل رہا تھا۔۔۔خون دیکھ کر وہ وحشت سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔۔اسکے لبوں پر بھی مشال کا خون لگا تھا جسے وہ طنزیہ مسکراہٹ سمیت مٹا گیا۔۔۔مشال بھبھک کر روتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی۔۔۔کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی اسے۔۔۔اس لیے بے بسی سے سر جھکائے آنسو بہانے لگی۔

جب نہیں لے جارہا تھا تو ضد کررہی تھی۔۔۔اب تو میری بات مان چکی ہو تو پھر نخرے کیوں۔۔۔کار میں بیٹھا ہوں چلنا ہے تو دو منٹ میں آؤ۔۔

سرد لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا تھوڑی دیر بعد مشال بھی اٹھی اور بے دردی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل پر گئی۔۔۔اور ڈارک پنک کلر کی لپسٹک اٹھا کر اپنے لبوں پر لگی چوٹ کو چھپانے کے لیے لگانے لگی۔۔پھر چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔۔

اسکے کار میں بیٹھنے پر التمش نے ایک نظر اسکو دیکھا جو چہرہ جھکائے بیٹھی تھی۔۔آنکھوں سے مسلسل نکلتے آنسو اسکا چہرہ بھگورہے تھے۔۔۔غصے میں مشال کا چہرہ ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اس نے اپنی طرف کیا۔

کیا جتانا چاہتی ہو تم وہاں جاکر سب کو۔۔۔کہ بہت ظلم کیا ہے میں نے تم پر۔۔۔۔۔اگر اب ایک بھی آنسو تمہاری ان آنکھوں سے نکلا تو یقین کرو یہی پر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔۔پھر جاری رکھنا اپنا رونے کا شغل۔۔۔

اسکی انگلیوں کی پکڑ سے مشال کو اپنا جبڑہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔اس نے تکلیف کی شدت سے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تو التمش اسے چھوڑتا ہوا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب سے ہوش میں آئی تھی صرف یہی سوچ رہی تھی کہ آخر وہ بچی کیسے اور کیوں۔۔۔اسکے سوسائیڈ اٹیمپ کو فوڈ پوائزن کا نام دینے پر وہ کافی شاکڈ ہوئی تھی۔۔۔اب تک تو وہ ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہوگی۔۔مگر سب کا رویہ اپنے ساتھ اتنا اچھا دیکھ کر بھی وہ حیران تھی۔۔۔تو کیا ان لوگوں نے ابھی تک وہ ویڈیو نہیں دیکھی لیکن اگر بعد میں دیکھ لی تو۔۔۔۔یہ سوچ اسکا دماغ سن کررہی تھی۔۔۔ریحانہ بیگم،بی جان اور عالیہ بیگم اسے مسلسل ہدایات دے رہی تھی جبکہ ہانیہ اور آغاجان اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بات کررہے تھے۔۔۔۔

ہادی کونے میں کھڑا کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ نور نے آخر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کیوں کی۔۔ایسی بھی کیا بات تھی جس نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

تبھی التمش اور مشال نور کے روم میں انٹر ہوئے۔۔۔مشال کے سلام کرنے پر سوائے ہادی اور نور کے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔۔پہلے التمش کی بے رخی اب سب کا یہ رویہ اسے اندر سے ماررہا تھا۔۔۔خاموشی سے آنسو پیتے ہوئے وہ نور کے پاس آکر بیٹھ گئی تو التمش اور ہادی کے علاؤہ ایک ایک کر کے سب روم سے نکل گئے۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد التمش بھی نور سے طبیعت کا پوچھ کر اور چند باتیں کر کے باہر نکل گیا۔

نور مشال سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر اسکے گال پر انگلیوں کے نشان نے نور کی زبان ہی بند کروادی۔۔۔وہ اذیت سے مشال کو دیکھنے لگی پھر اسکو گلے لگا کر روپڑی۔۔۔۔۔جانتی تھی کہ اسکی بہن کو کس طرح گمراہ کیا گیا تھا۔۔۔نور نے نفرت سے وجدان کے بارے میں سوچا۔۔۔۔

مشال کو تو جیسے کوئی اپنا سہارا مل گیا تھا۔۔۔اسکا بھی ضبط ٹوٹا تھا۔۔۔۔

ہادی خاموشی سے ان دونوں کو روتے دیکھ رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ نور کی ویڈیو اپلوڈ کرنا چاہتا تھا مگر ہر دفعہ کی طرح پھر مشال کی سوچ نے اسے یہ کرنے سے روک دیا۔۔۔۔اگر وہ یہ ویڈیو اپلوڈ کرتا تو نور کے ساتھ ساتھ حیدر ولا کے ہر فرد کی بدنامی ہوتی۔۔۔۔تو ضرور مشال کو بھی تکلیف ہوتی اور وجدان علی ہر کسی کو اذیت دے سکتا تھا پر مشال ایجاز کو نہیں۔۔۔۔مشال کی سوچ پر اس نے وہ ویڈیو ہی ڈیلیٹ کردی۔۔۔پھر موبائل پٹخ کر اپنا سر تھام گیا۔۔۔اسکی آنکھوں میں بار بار التمش کی طنزیہ مسکراہٹ اور مشال کو زبردستی کار میں بٹھانے کا منظر گھوم رہا تھا۔۔۔۔منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔۔۔۔پھر صبح حیدر ولا جانے کا ارادہ کر کے سونے چلا گیا۔۔۔

اور ابھی۔۔۔۔وہ حیدر ولا کے باہر کھڑا تھا۔۔۔اس محل نما گھر کو ایک نظر دیکھ کر وہ اندر داخل ہوا۔۔۔سامنے ہی اسے وہ دکھا جسکی وجدان ابھی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کررہا تھا۔۔۔۔

ارے وجدان بیٹا۔۔۔آؤ اندر۔۔۔

آغاجان کے کہنے پر وہ التمش کو گھورتا ہوا لاؤنج پر رکھے صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔۔اسکی حالت سمجھتے ہوئے التمش نے چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ سجالی۔۔

وہ سنجیدگی سے آغاجان سے باتیں کرنے لگا پر بیچ میں التمش کسی نہ کسی بات پر اسے ٹوک دیتا۔۔۔جس پر وہ ضبط سے اپنے لب بھینچ لیتا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی دیر تک نور سے بات کرنے کے بعد وہ اٹھی اور ریحانہ بیگم سے ملنے کے لیے روم سے نکل گئی۔۔۔اسکے جانے کے بعد نور جو اب تھوڑی دیر سونا چاہتی تھی۔۔۔ہادی کو مسلسل ایک جگہ کھڑا دیکھ چونکی۔۔۔پھر آہستہ آواز میں کہنے لگی

مجھے سونا ہے۔۔۔

اسکی آواز پر ہادی اپنی سوچ سے نکلتا ہوا نور کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

میں کچھ سوچ رہا ہوں۔۔

اسکے بیمار سے چہرے کو دیکھ ہادی نے سنجیدگی سے کہا

کیا۔۔۔

اس نے سوالیہ نظروں سے ہادی کو دیکھا

یہی کہ اگر تم سلیپنگ پلز کی شیشی میں بچی دو پلز بھی گھونٹ لیتی تب شاید بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا۔۔۔۔ہے نا۔۔پر افسوس۔۔۔بچ گئی آخر۔۔

اس نے رسانیت سے کہا پر اسکی بات پر نور کا چہرہ بلکل سفید پڑ گیا۔۔۔وہ گھبراتے ہوئے گیٹ کی طرف دیکھنے لگی پھر ہادی اٹھ کر ہادی کے پاس آئی۔

یہ کیا فضول بات کہہ رہے ہو تم۔۔۔۔دیکھو نکلو میرے روم سے ابھی۔۔۔جاؤ مجھے آرام کرنا ہے۔۔۔

وہ بوکھلاکر کہتے ہوئے ہادی کو روم سے نکالنے لگی تو ہادی نے اسے کندھوں سے تھام لیا۔

بات مت بدلو نور۔۔۔بتاؤ کیوں کھائی تھی تم نے سلیپنگ پلز۔۔۔

ہادی نے تھوڑا سختی سے پوچھا تو نور نے دھندلائی نظروں سے اسے دیکھا

بے ساختہ ہادی کو اس چھوٹی سی لڑکی پر ترس آیا۔۔۔جو پتہ نہیں کتنا درد سب سے چھپائے اپنے اندر رکھی تھی۔۔۔

بولو نا نور۔۔۔کس بات نے تمہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔۔۔

اس نے ہاتھوں کا پیالہ بنا کر نور کا چہرہ تھاما اور نرمی سے اس سے پھر پوچھنے لگا تو نور اذیت سے آنکھیں موندے رونے لگی۔

تم مجھے دوست سمجھ کر بتادو۔۔۔آئی پرومس مجھ سے جو ہوسکا میں وہ کرونگا تمہارے لیے۔۔۔

اپنی کشادہ پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکائے وہ ہلکی آواز میں اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔وہ چاہتا تھا کہ نور اس سے اپنی تکلیف اپنا درد شئیر کرے۔۔۔پتا نہیں کیوں وہ اسے اذیت میں نہیں دیکھ پارہا تھا۔

نور نے آہستگی سے اپنی بند آنکھیں کھولیں۔۔۔۔مگر اپنے بلکل نزدیک اسے وجدان کا چہرہ نظر آیا۔۔۔۔جو خباثت سے ہنستے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اس نے چیختے ہوئے ہادی کو دکھا دے کر خود سے دور کیا۔۔۔

ہادی نے نور سے اس رئیکشن کی توقع نہیں کی تھی تبھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

نور کیا ہو۔۔۔

دور رہو مجھ سے۔۔۔اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی چین نہیں ملا جو اب پھر آگئے۔۔

وہ نور کے پاس آرہا تھا لیکن نور نے اسکی بات کاٹتے ہوئے غصے سے بول کر دو قدم پیچھے لیے

نور چلا کیوں رہی ہو۔۔کیا کیا ہے میں نے۔۔۔

اسے نور کا اچانک بدلا ہوا لہجہ عجیب لگا تبھی وہ حیرت سے پوچھنے لگا

جاؤ یہاں سے۔۔۔جاؤ ورنہ میں چیخ کر سب کو سب کچھ بتادونگی۔۔۔جاؤ

وہ اس طرح چیخ کر اپنے بال نوچتے ہوئے ہادی کو کوئی پاگل ہی لگی۔۔۔

اوکے اوکے۔۔۔ریلیکس۔۔۔نور دیکھو میں جارہا ہوں۔۔۔۔پلیز خود کو مارو نہیں۔۔۔میں جارہا ہوں۔۔

وہ دونوں ہاتھ صلح جو انداز میں اٹھاتے ہوئے نرمی سے کہنے لگا پھر نور کے اور کچھ کہنے سے پہلے آہستگی سے روم سے نکل گیا۔۔

پھر سیدھا اپنے روم میں آیا۔۔۔نور کا یہ لہجہ اور رویہ اسے الجھا رہا تھا۔۔۔

اسکے جانے کے بعد نور روتے ہوئے گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنا سر پکڑ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشال کے نیچے آنے پر وجدان کھڑا ہوگیا۔۔۔جب سے چہرے پر چھائی سنجیدگی ہلکی مسکراہٹ میں ڈھلی تھی۔۔۔اسکا مشال کو دیکھ کر مسکرانا التمش کو تپا گیا۔۔۔۔آغاجان مشال کو نیچے آتا دیکھ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔

مشال۔۔۔

وجدان کی پکار پر مشال نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا اسے دیکھ کر مشال کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔اس انسان کی وجہ وہ سب کی نظروں سے گِر گئی تھی۔۔۔۔اسے شدید غصہ آیا وجدان پر۔۔۔

دوسری طرف التمش اسکی نم آنکھوں کا کچھ اور مطلب سمجھتے ہوئے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا اور اسکے پاس پہنچ کر مشال کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہاں سے لے گیا۔۔۔

وجدان نے خار بھری نظروں سے التمش کو دیکھا مشال پر اس طرح التمش کا روعب جمانا اسکا خون کھولا رہا تھا مگر چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔

بات سنو۔۔۔ابھی میں آفس جارہا ہوں۔۔۔اور واپسی پر تمہیں یہاں سے پِک کرلونگا۔۔۔تو ان کچھ گھنٹوں تک تم نور کے روم میں رہو۔۔۔اگر وہ وجدان تمہارے آس پاس بھی دکھا نا مجھے۔۔۔تو یقین کرو بہت برا حشر کروں گا تمہارا۔۔

کونے میں لاکر التمش نے اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے ہوئے غرّاکر کہا پھر جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ گرتے گرتے بچی۔

اسکی بات پر مشال بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔

آپ۔۔۔ہم۔۔۔پر۔۔شک کررہے۔۔۔ہیں۔۔

وہ سسکی تھی التمش کی بے یقینی پر۔۔۔لیکن اسکے رونے کو نظر انداز کرتا ہوا وہ اسے گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

وجدان اسے باہر جاتا دیکھ مشال کے پاس آیا مگر التمش کی دھمکی کے پیشِ نظر وہ جلدی سے رخ پھیر کر دوسری طرف چلی گئی۔۔وجدان انجان نہ تھا جو اسکے گھبرانے کو نوٹس نہ لیتا۔۔۔سمجھ گیا تھا ضرور التمش نے ہی کچھ کہا ہوگا۔۔وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے بی جان کے کمرے میں چلاگیا۔۔

مشال خود میں ہمت مجمع کر کے زمان صاحب کے کمرے میں گئی۔۔۔۔انہیں اس حالت میں دیکھ کر اسے پھر شرمندگی نے آلیا۔۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔

عالیہ بیگم کی چنگھاڑ پر وہ پلٹی تھی

تائی امی۔۔

وہ روتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی

شرم نہیں آرہی تمہیں۔۔۔یا مرچکی ہے تمہاری شرم کہیں۔۔۔اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کیسے دھڑلے سے یہاں کھڑی ہو۔۔۔نکلو میرے کمرے سے۔۔۔

وہ غصے میں کہتے ہوئے اسے روم سے نکالنے لگیں۔۔۔

تائی امی۔۔۔۔ہم سچ میں بہت شرمندہ ہیں۔۔۔پلیز ہمیں معاف کردیں۔۔۔

وہ روتے ہوئے عالیہ بیگم سے منت کرنے لگی مگر انہوں نے ان سنا کرتے ہوئے اسے زبردستی روم سے نکال دیا۔

مشال نے بھیگی آنکھوں سے عالیہ بیگم کو دروازہ بند کرتے دیکھا پھر نظر موڑ کر دیکھا تو سامنے ریحانہ بیگم تحقیر سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔

امی۔۔

وہ سسکی پر ریحانہ بیگم خاموشی سے کچن میں چلی گئیں وہ انکے پیچھے جانے لگی۔

امی۔۔پلیز آپ تو ایسا نہ کریں۔۔۔ہم سے نہیں برداشت ہورہا آپ لوگوں کا یہ رویہ۔۔۔پلیز معاف کردیں ہمیں۔۔۔

وہ انکا ہاتھ تھامتے ہوئے روکر کہنے لگی مگر ریحانہ بیگم نے اس سے ہاتھ چھڑواکر ایک تھپڑ اسکے گال پر مارا۔

ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔۔۔۔اور خبر دار جو آئندہ مجھے امی کہا تو۔۔۔ویسے کس برداشت کی بات کررہی ہو تم۔۔۔۔۔برداشت تو اس لڑکے نے کیا ہے۔۔۔۔تمہارے اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود اس نے تم سے نکاح کیا۔۔ورنہ تم نے جو حرکت کی تھی نا۔۔اسکے بعد وجدان تو کیا کوئی تم سے شادی نہ کرتا۔۔۔کسی پر بلاجواز تہمت لگا کر تم چاہتی ہو کہ ہم سب یہ تمہاری غلط فہمی سمجھ کر معاف کردیں تو یہ تمہاری خوش فہمی ہے۔۔۔۔

وہ کلپی تھیں اسکے گال پر انگلیوں کے نشان دیکھ کر مگر اسکی حرکت یاد آنے پر اسے ٹھیک ٹھاک سنا کر چلی گئیں۔۔۔۔جبکہ مشال چہرے پر ہاتھ رکھے چپ چاپ انہیں جاتا دیکھنے لگی۔۔۔الفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے اسکے پاس۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس میں کام کرتے ہوئے اسکا ذہن مسلسل مشال کی طرف لگا تھا۔۔۔وجدان کو دیکھ کر اسکی آنکھیں نم ہونا التمش کا میٹر ہائی کرگیا تھا۔۔۔پیشانی مسلتے ہوئے وہ خود پر قابو پانے لگا۔۔۔تبھی آفس کا گیٹ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔۔۔آنے والے کو دیکھ کر التمش نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں۔۔۔

تامی۔۔۔ایک کال بھی ریسیو نہیں کررہے ہو۔۔۔کیا اتنی بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے کہ اتنا اگنور کررہے ہو مجھے تم۔۔

نیہا نے اسکے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا

سوری نیہا۔۔۔۔میں بزی تھا دراصل اس لیے تمہاری کال ریسیو کرنا بھول گیا اینڈ سوری اگین۔۔میں تمہیں اپنے نکاح میں انوائیٹ کرنا بھی بھول گیا۔۔۔

اسکے افسوس سے کہنے پر نیہا نے بے یقینی سے التمش کو دیکھا۔۔۔کچھ دیر بعد وہ بولنے کے لائق ہوئی تو کہنے لگی

یہ۔۔۔کیا مذاق ہے تامی۔۔۔تم یہ کیا۔۔۔تمہارا نکاح۔۔کس کے ساتھ۔۔۔

وہ دھڑکتے دل سے التمش سے پوچھنے لگی۔۔الفاظ ساتھ دینے سے انکاری تھے۔۔۔کوشش کے باوجود وہ ہکلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

ارے وجدان نے تمہیں نہیں بتایا۔۔۔مشال سے ہوا ہے میرا نکاح اور وہ بھی پرسوں رات کو۔۔۔

وہ فرینکلی اسے بتانے لگا جبکہ نیہا جیسے زلزلوں کے زد میں تھی۔۔۔اسکا دماغ جیسے کام کرنا بند کررہا تھا۔

یو۔۔۔تامی۔۔۔آئی ہیٹ یو۔۔۔دکھا دی نا تم نے اپنی اصلیت۔۔۔آخر کر ہی لی نا تم نے اس مشال سے شادی۔۔۔میں کتنا پیار کرتی تھی تم سے اور تم۔۔۔تم نے ایک مرتبہ بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی تامی۔۔۔آئی رئیلی ہیٹ یو۔۔۔

وہ آپے سے باہر ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرڈالے۔۔۔۔چیختے ہوئے اس نے پیپر ویٹ اٹھا نیچے پھینکا پھر کلستے ہوئے التمش کو دیکھنے لگی جو راکنگ چئیر پر دائیں بائیں گھومتے ہوئے تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

ہوگیا۔۔۔اب عزت سے جانا پسند کروگی یہاں سے یا دھکا دے کر نکلواوں۔۔۔

اس کا حقارت آمیز لہجہ نیہا کو تذلیل کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار گیا۔۔۔وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔

التمش کے آفس سے نکل کر اس نے ٹیکسی روکی اور خاموشی سے اس پر بیٹھ گئی۔۔۔اپنے گزارے ہوئے ماہ و سال اسکے ذہن میں گھومنے لگے۔۔۔کیا تھی وہ لڑکی۔۔۔ریشم بائی کے کوٹھے کی ایک وحشیہ۔۔۔جس نے اپنی آزادی کا مطالبہ کر کے ریشم بائی سے ایک ڈیل کی تھی۔۔پچھلے تین سال سے وہ یہ کام کررہی تھی۔۔۔ہر امیر زادے کو بے وقوف بناکر اس سے پیسے لُوٹ کر بھاگ جانا اور جتنا پروفٹ ہوتا اسکا ہالف وہ ریشم بائی کو بھجواتی۔۔۔وجدان سے اسکی ملاقات ایک امیر لڑکے کو لوٹتے ہوئے ہوئی تھی۔۔۔وہ اس لڑکے کا دوست تھا۔۔۔ان دنوں ہاسٹل میں رہتا تھا اور نوکری کی تلاش میں تھا۔۔۔نیہا کی آفر پر اس نے اسکے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہ لوگ اس کام میں کامیابی حاصل کرتے گئے۔۔۔نیہا کے برخلاف وجدان ہر لڑکی کو بہلا پھسلا کر کوٹھے میں لاتا اور ریشم بائی سے بھاری رقم لے کر انہیں وہاں بیچ دیتا۔۔۔تبھی ایک دن ٹریفک سگنل میں نیہا کی نظر التمش پر پڑی اسکی کار دیکھ کر وہ اسے کوئی رئیس زادہ لگا۔۔۔وجدان سے اسکی ڈیٹیل نکلوانے پر اسکا شک یقین میں بدل گیا۔۔۔۔اس نے التمش کو ٹریپ کرنا شروع کیا اور یونیورسٹی میں اس سے ٹکرانے کا بہانہ کیا۔۔۔التمش کے ساتھ رہ کر اسے یہ تو یقین ہوگیا کہ وہ انسان اپنی ایک کزن کو لے کر حد درجہ پزیسیو ہے پر نیہا نے اسکا بھی انتظام کیا تھا اور وجدان کو مشال کے پیچھے لگادیا۔۔۔

وہ تو التمش کو بھی دوسرے لڑکوں کی طرح لوٹنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر اسکی پرسنیلٹی سے معیوب ہوکر وہ اسکی محبت میں کب گرفتار ہوئی یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔مگر اب۔۔۔

سوچتے سوچتے اسکی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔اس نے بےدردی سے اپنے گال رگڑے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیہا کو نکالنے کے بعد اس نے جلدی جلدی آفس کا سامان سمیٹا۔جب وہ نکل رہا تھا تو وجدان گھر پر ہی تھا یہ سوچ اسکا سردرد کرنے لگی۔۔۔اس سے اور برداشت نہ ہوا تو مینیجر کو باقی کا کام سمجھا کر وہ کوٹ اٹھاتا ہوا آفس سے نکل گیا۔۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اسنے کار روڈ پر نکالی۔۔۔اب اسکا رخ حیدر ولا کی طرف تھا۔

دوپہر سے وہ نور کے روم میں تھی۔۔۔ہادی اور نور کے علاوہ کسی نے اس سے بات کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔۔۔ہانیہ کا بھی باقی سب کی طرح روکھا رویہ تھا اسکے ساتھ۔۔کچھ ہی گھنٹوں میں اسے اپنا آپ فالتو محسوس ہونے لگا۔۔۔نور کے سونے کے بعد وہ آمنہ بیگم کے روم میں گئی۔۔۔وجدان ابھی تک وہیں بیٹھا تھا۔۔۔مشال آہستگی سے آمنہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

آمنہ بیگم اس لڑکی سے کہیں کہ یہاں سے چلی جائے۔۔۔

آغاجان کی آواز پر اسے پھر رونا آنے لگا۔

آغاجان پلیز۔۔

مشال۔۔۔آپ جس سے ملنے آئی ہیں اسی کے روم میں رہیں تو بہتر ہے۔۔۔التمش آئے گا تو آپ کو بتادیا جائے گا۔۔۔فلحال یہاں سے اٹھیں آپ۔۔۔

مشال روہانسی آواز میں بولنے لگی مگر آمنہ بیگم کے کہنے پر وہ آنسو پیتے ہوئے اٹھ گئی۔۔۔کس قدر تحقیر آمیز لہجے اور جملے سن رہی تھی وہ صبح سے۔۔۔۔جب سے سوکھی آنکھیں پھر بھیگنے لگیں۔۔۔

جب سے خاموش بیٹھا وجدان ابھی کچھ بولتا کہ اسکی نظر گیٹ سے اندر آتے التمش پر پڑی۔۔۔۔کمینگی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔۔۔وہ اسکی موجودگی سے بظاہر انجان بن کر اٹھا اور مشال کو کندھے سے تھام کر اسکا رخ مکمل آغاجان اور بی جان کی طرف کیا۔

بی جان۔۔۔آغاجان اسطرح تو نہ کریں آپ لوگ مشال کے ساتھ۔۔۔اتنی بے رخی نہ برتیں۔۔۔یہ بےچاری معافی مانگ تو رہی ہے نا آپ لوگوں سے۔۔۔

وجدان کی پکڑ پر مشال اس سے دور ہونے لگی مگر اسکی گرفت مضبوط تھی۔۔۔آمنہ بیگم اور حیدر صاحب کا لحاظ کرتے ہوئے وہ مجبوراً خاموش تھی۔۔۔

پیچھے التمش خون آلود نظروں سے وجدان کا ہاتھ مشال کے کندھے پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔مطلب اسکی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی مشال کی نظروں میں۔۔۔۔التمش کو لگا اسکے وارن کرنے کے باوجود بھی وہ صبح سے وجدان کے ساتھ تھی۔۔۔

وہ تیز قدم اٹھاتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا اور وجدان کا ہاتھ اسکے کندھے پر سے جھٹکتے ہوئے مشال کو بازو سے پکڑ کر باہر لانے لگا۔۔

باہر لاکر وہ پٹخنے کے انداز میں اسے کار میں بٹھاتا ہوا دوسری طرف آکر بیٹھا۔۔۔ایک آخری نظر اس نے مین گیٹ پر ڈالی جہاں وجدان مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکی رگیں تن گئیں۔۔۔۔۔۔گاڑی سٹارٹ کرکے وہ زن سے بھگا لے گیا۔۔۔

جبکہ مشال اسکے غصے سے بے خبر اپنے ساتھ سب کے رویے کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔اسٹیئرنگ پر التمش کے ہاتھ کی گرفت حد سے زیادہ سخت تھی۔۔۔۔آنکھیں جیسے لہو ٹپکارہی تھیں۔۔۔اپنی بات کی نفی دیکھ وہ مشال کو سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔اس نے بھنچے ہوئے جبڑوں سمیت گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔مشال سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاکر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔۔اس بات سے بے خبر کہ جلد ایک اور اذیت سے اسکا سامنا ہونے والا ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔