Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 34)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 34)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
ریحانہ تم نے ہادی کو بول دیا تھا نا کہ آج جلدی آجائے۔۔۔
عالیہ بیگم نے ریحانہ بیگم سے ناشتہ بناتے ہوئے پوچھا
جی بھابھی۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگیں
ہمم۔۔بہت خوش ہو؟
انہوں نے ریحانہ بیگم کے چہرے پر مسلسل مسکراہٹ دیکھ کر پوچھا
جی بلکل بھابھی۔۔۔اتنے مہینے بعد اپنی بیٹی سے مِلوں گی۔۔۔میں بہت زیادہ خوش ہوں بھابھی۔۔۔
وہ کِھلتے ہوئے چہرے کے ساتھ انہیں بتارہی تھیں۔۔۔تبھی ہانیہ کچن میں انٹر ہوئی
امی ناشتہ۔۔۔
اس نے جمائی روکتے ہوئے کہا پھر ریحانہ بیگم کو دیکھا
چاچی بڑی خوش لگ رہی ہیں۔۔کوئی خاص وجہ۔۔
اس نے بھی عالیہ بیگم والا سوال کیا
ہاں۔۔۔آج ہم سب کہیں جارہے ہیں۔۔
انکی جگہ عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
کہاں امی۔۔۔
وہ متجسس ہوئی۔۔۔عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھا جو اتنے مہینوں بعد اب تھوڑا بہت بات کرنے اور ہنسنے مسکرانے لگی تھی۔۔۔ورنہ زمان صاحب کی ڈیتھ کے بعد وہ بلکل خاموش ہوگئی تھی۔۔
مشال کو لینے۔۔۔
انکی بات پر ہانیہ کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔۔اس نے ریحانہ بیگم کو دیکھا جو اسی طرح مسکراتے ہوئے کام کررہی تھیں۔۔۔پھر بنا کچھ کہے کچن سے نکل گئی۔۔۔عالیہ بیگم نے اسکی یہ حرکت نوٹ کی پر چپ رہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا۔۔۔
صبح سے مشال کا مرجھایا چہرہ دیکھ التمش نے ناشتے کے بعد اس سے پوچھا
کچھ نہیں بس دل عجیب ہورہا ہے۔۔۔
اس نے اُداسی سے کہا
اگر طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تو میں نہیں جاتا آج آفس۔۔۔
التمش نے اسکی فکر سے کہا لیکن مشال نے نفی میں گردن ہلائی
آپ چلیں جائیں۔۔ہم ٹھیک ہو جائیں گے تھوڑی دیر میں۔۔۔
وہ پھیکا سا مسکراتے ہوئے کہنے لگی تو التمش نے چند پل اسے خاموش نظروں سے دیکھا پھر کہا
کوئی بات ہے مشال۔۔۔
اسکے سنجیدگی سے پوچھنے پر مشال کے ذہن میں وجدان کا مکروہ چہرہ آیا
مشال۔۔۔
اسے سوچ میں گم دیکھ التمش نے اسے پکارا تو وہ چونکی
نہیں۔۔۔کوئی بات نہیں ہے۔۔۔
اس نے جلدی سے کہا دل میں ڈر ابھی بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ وجدان کا سُن کر التمش کہیں اپنے اسی بھیانک روپ میں نہ آجائے
چلو پھر مجھے جلدی سے سمائل دو۔۔۔تاکہ آفس میں پورا دن میرا موڈ اچھا رہے۔۔۔
اس نے مشال کا چہرہ تھامتے ہوئے آبرو اچکاکر کہا جس پر مشال زبردستی مسکرادی۔وہ کچھ دیر اسکی زبردستی کی مسکان دیکھا گیا۔۔۔پھر اسکی پیشانی چوم کر اس سے دور ہوا۔۔۔
التمش۔۔۔
دروازے کے پاس پہنچنے پر مشال نے اچانک اسے پکارا
جس پر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی اسکے سامنے آئی پھر اسکی آنکھوں میں خاموشی سے اپنی بھوری آنکھیں ڈالے دیکھنے لگی۔
ہم نے اتنے گہرے رشتے کے باوجود بھی آپ پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔۔۔اسی لیے یہ پوچھنا شاید بہت چھوٹا لگے پر ہم پھر بھی آپ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ۔۔۔
وہ بولتے بولتے رکی۔۔دل گھبرانے لگا تھا۔۔۔ہاتھ خودبخود کپکپائے تھے۔
التمش نے اسکے کپکپاتے برف کے مانند ٹھنڈے ہاتھوں کو تھاما اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
بولو۔۔۔
اسکے حوصلہ دینے پر مشال نے خود کی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ لائف میں کبھی ایسا موقع آئے جب۔۔۔۔جب آپ کو ہمارے خلاف کوئی بات پتا لگے۔۔۔پر ہم بے قصور ہوں تو۔۔۔۔تو کیا آپ ہم پر بھروسہ کریں گے۔۔۔
وہ آنکھوں میں آس لیے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔دل کی رفتار حد درجہ تیز تھی۔۔۔وہ سانس روکے اسکے جواب کی منتظر تھی جو پُرسوچ نظروں سے اسکی آنکھوں میں پتا نہیں کیا تلاش کررہا تھا۔۔۔
میں خود سے زیادہ تم پر بھروسہ کرتا ہوں مشی۔۔۔
اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتا وہ بولا تو مشال کی آنکھیں بھیگیں
ہم پر بھروسہ برقرار رکھیے گا التمش۔۔۔ہم بہت محبت کرتے ہیں آپ سے۔۔۔
بولتے ہوئے وہ اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔پتا نہیں کیوں اسکا لہجہ بھیگا تھا۔۔۔جبکہ التمش۔۔۔۔وہ تو اسکے اعتراف پر ہی کِھل گیا تھا۔۔۔اس نے مشال کو خود سے الگ کر کے سامنے کیا
مشی۔۔۔تم۔۔۔تم سچ میں۔۔۔
اسکے منہ میں الفاظ باقی نہیں تھے اپنی خوشی بیان کرنے کو۔۔۔دوسری طرف مشال اسکے مسکراتے چہرے کو اپنی نظروں میں اتار رہی تھی۔۔۔صبح سے ایک الگ ہی ڈر اور تکلیف نے اسکے دل میں گھر کیا ہوا تھا۔
تو آج میری مشی نے مجھ سے محبت کا اعتراف کیا ہے تو اس خوشی میں۔۔۔میں آج آفس سے جلدی آؤں گا پھر ہم پورا ٹائم باہر انجوائے کریں گے۔۔۔اوکے۔۔
اس نے محبت سے بول کر مشال سے تائید کی تو وہ نم آنکھوں سمیت ہلکا سا مسکرادی۔
یہ تم رویا مت کرو زرا زرا سی بات پر۔۔۔
وہ خفگی سے بولتا ہوا اسکے آنسو اپنے پوروں میں چننے لگا۔۔۔پھر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔دل تو اسکا بھی نہیں کررہا تھا آج آفس جانے کا۔۔۔پر کام بہت تھا اسی لیے وہ مجبور تھا۔۔۔
اسکے بالوں پر لب رکھ کر التمش نے ایک الوداعی نظر اس پر ڈالی پھر مسکراتے ہوئے مڑ کر باہر چلا گیا۔۔۔اسکے جاتے ہی مشال کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔وہ روہانسی ہوئی۔۔آخر کیوں دل اتنا کرلا رہا تھا آج۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے اچھا فیصلہ کیا۔۔
عالیہ بیگم بی جان کے پاس بیٹھیں تھیں۔۔۔تبھی انہوں نے نرمی سے کہا
انکی بات پر عالیہ بیگم ہلکا سا مسکرائیں
امی۔۔۔ابو صحیح کہہ رہے تھے۔۔۔میں بڑی ہوں اگر میں ہی ضد کیے بیٹھے رہوں گی تو یوں ہمارا گھر کبھی ایک نہیں ہو سکے گا۔۔۔۔اور ویسے بھی اتنی نااتفاقیوں کے بعد حیدر ولا کی ہر دیوار اب پرانی خوشیوں کا تقاضہ کرتی ہے۔۔۔
انہوں نے رسانیت سے اپنی بات کہی جس پر بی جان جو بیڈ پر لیٹی تھی مطمئن ہوکر آنکھیں موند گئیں۔
شام میں ہادی آیا تو سبھی گھر والے افراتفری میں نکلنے کے لیے تیار ہونے لگے۔۔۔۔عالیہ بیگم آغاجان اور بی جان کو مشال کو لانے کا بتاکر ابھی انکے کمرے سے نکلی ہی تھیں کہ ہانیہ انکے راستے پر آئی۔۔۔انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
وہ کچھ دیر تک کھڑی ہونٹ چباتی رہی پھر کہا
میں بھی چلوں امی مشال آپی کو لینے؟
اسکے سوال پر عالیہ بیگم ہنس دی
یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔چلو۔۔
انہوں نے ہنستے ہوئے اسکا کندھا تھپکا تو وہ مسکراتے ہوئے انکے ساتھ چل دی۔
ہمیں جانا کہاں ہے؟
ہادی نے کار میں بیٹھ کر بیک ویو مرر پر عالیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ارے بھائی آپ کو نہیں پتا۔۔۔
ہانیہ جو اسکے برابر میں بیٹھی تھی حیرت سے پوچھنے لگی
نہیں تو۔۔۔چاچی نے بس کہا تھا کہ آج سب کو کہیں جانا ہے۔۔۔
وہ کندھے اچکا کر بتانے لگا
بھائی ہم لوگ مشال آپی کو لینے جارہے ہیں۔۔۔
اس نے پرجوش ہوکر بتایا جبکہ ہادی بےیقینی میں مکمل پیچھے مڑ کر عالیہ بیگم،ریحانہ بیگم اور آخر میں نور کو دیکھنے لگا۔۔۔جو مسکراہٹ چھپائے اسکے ایکسپریشن انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
امی۔۔۔سیریسلی۔۔۔
وہ خوشگوار حیرت کے عالم میں عالیہ بیگم سے پوچھا تھا جس پر انہوں نے مسکراکر ہلکے سے ہاں میں سر ہلایا
ہادی نے چہرہ بگاڑ کر سر کھجایا۔۔
مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا لیڈیز۔۔۔خود ہی آپ لوگ سب کچھ پلین کر کے بیٹھیں تھیں۔۔
وہ نور کو گھورتے ہوئے بولا تھا صاف اشارہ تھا کہ بعد میں بخشے گا نہیں
میں تامی بھائی کو بتادوں۔۔۔
کار سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے التمش کا نمبر ڈائل کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا اس نے جلدی تیار کرلیا تھا اور اب کچن میں کھڑی وہ برتن دھورہی تھی۔۔۔تبھی ڈور بیل بجی۔۔۔مشال ہاتھ دھوکر گیٹ پر گئی۔۔۔اسے خوشی ہوئی کہ التمش اپنے کہے کے مطابق جلد آگیا پر وہ بیل کیوں بجا رہا تھا۔۔۔اپنی سوچ جھٹک کر لبوں پر خوبصورت مسکان سجائے اس نے گیٹ کھولا پر اسکی یہ مسکراہٹ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر پل میں رخصت ہوئی جو اپنی مخصوص کمینگی انداز میں سمائل کر کے اسکے خوف سے سرد پڑتے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اندر نہیں بلاؤ گی۔۔۔میری جان۔۔
وہ بولتے ہوئے خود ہی اندر داخل ہوا،اسکے مضبوط کندھا جب مشال کے نازک کندھے سے ٹکرایا تو وہ بدک کر دوقدم پیچھے ہٹی۔
سکتے کے عالم سے نکلتے ہوئے مشال جلدی سے اسکے پیچھے گئی جو اب سکون سے لاؤنج پر رکھے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔۔
وہ آنکھیں پھیلائے اس سے پوچھ رہی تھی۔دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
یار چائے پانی کا پوچھنے کے بجائے تم یہ سوال کر رہی ہو۔۔۔سو بیڈ مائے سوئیٹ ہارٹ۔۔۔اور ویسے بھی اب میں کتنی مرتبہ یہ بات ریپیٹ کروں کہ اپنی جان سے ملنے آتا ہوں میں۔۔۔
وہ یہ بات بول کر خباثت سے ہنسنے لگا
اپنی چِیپ زبان بند رکھیے۔۔۔اور نکلیے یہاں سے ورنہ اب ہم سچ میں التمش کو کال کرنے لگے ہیں۔۔۔
اس بار غصے میں مشال نے بولتے ساتھ اپنا فون اٹھایا تبھی وجدان نے اسکے ہاتھ سے فون چھین کر زور سے دیوار پر مارا۔۔۔مشال کا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا وہ منہ کھولے دور نیچے گِرے اپنے فون کو دیکھ رہی تھی۔
تم سمجھتی کیا ہو خود کو مشال۔۔۔کیا ہے اس التمش میں جو مجھ میں نہیں ہے۔۔۔جان میں محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔
وجدان نے تلخی سے کہتے ہوئے آخر میں لاچاری سے کہا پھر آرام سے اسکا بازو تھامنے لگا تبھی مشال نے دھکا دے کر اسے خود سے دور کیا
التمش کی پیر کی دھول بھی نہیں ہے آپ سُنا آپ نے اب جائیے یہاں سے۔۔۔۔فوراً نکلیے۔۔۔وجدان آپ ہماری جان کیوں نہیں چھوڑتے۔۔۔
بولتے بولتے مشال کی آواز بلند ہوئی،آنکھیں بھل بھل آنسوؤں سے بھریں۔۔جبکہ وجدان نے دُکھ سے اسکی طرف دیکھا کتنا گِرا ہوا سمجھنے لگی تھی وہ اسے،اسکا خون جلا تھا التمش زمان پر جس نے اسکی محبت،اسکی مشال باآسانی اپنی ملکیت میں کرلی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مشال سے کہا تھا کہ وہ جلدی آجائے گا گھر۔۔۔پر ہادی کے جلد چلے جانے پر اسے رکنا پڑا آفس میں،جب سے وہ مصروف سا کام نپٹا رہا تھا۔۔۔کوشش یہی تھی کہ جلدی کام ختم کر کے گھر جائے۔۔۔تبھی اسکا فون رنگ ہوا۔
بول ہادی۔۔۔
نام پڑھ کر اس نے کان سے فون لگاتے ہوئے مصروف انداز میں کہا
بھائی گیس کریں ہم ابھی کہاں جارہے ہیں۔۔۔
ہادی نے اسے پہلے ہی بتادیا تھا کہ ریحانہ بیگم اور باقی گھر والوں کو لے کر اسے کہیں جانا ہے پر اب اسکی پرجوش آواز پر التمش کو حیرت ہوئی
کہاں۔۔
آپ خود گیس کریں۔۔
اسنے بےتاب انداز میں کہا
ہادی بتانا ہے تو بتا ورنہ کام بہت ہے ابھی تنگ مت کر۔۔۔
وہ چڑا تھا اسکے نہ بتانے پر
اوکے اوکے۔۔۔تو سنو ہم ابھی۔۔۔مشال کو لینے جارہے ہیں۔۔۔
وہ ڈرائیو کرتے ہوئے پرجوش لہجے میں بولا عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم بھی مسکرائی تھیں ہادی کو دیکھ کر
واٹ۔۔۔
التمش آئبرو بھینچ کر تقریباً چلایا
یس۔۔۔امی کے کہنے پر ہم سب ابھی فلیٹ پر ہی جارہے ہیں۔۔۔
وہ محظوظ ہوکر بولا
آئی کانٹ بیلیوو یار۔۔۔کمینے یہ سب کب ہوا۔۔۔
اسے عالیہ بیگم کے اچانک فیصلے پر حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی
بس ہوگیا۔۔۔اب آپ جلدی بتاؤ۔۔آپ آرہے ہو۔۔۔کیونکہ ہم لوگ تقریباً پہنچ ہی گئے ہیں۔۔
اس نے کار کو سیدھی طرف موڑتے ہوئے کہا
تو تُو نے مجھے بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔اچانک اب بتارہا ہے۔۔۔ میں کوشش کرتا ہوں جلدی آنے کی۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔دل ابھی بھی بےیقین تھا کہ اب سب ٹھیک ہونے والا تھا
مجھے خود ابھی بتایا۔۔ورنہ یہ لیڈیز اپنے ہی آپ میں پتا نہیں کیا کیا پلین بناتے رہتی ہیں۔۔۔
وہ بیک ویو مرر سے ان لوگوں کو دیکھ کر بولا تو التمش ہنسا
فون رکھ کر وہ جلدی جلدی کام ختم کرنے لگا۔۔۔باقی کام مینیجر کو سمجھا کر وہ کچھ ہی دیر میں آفس سے نکلا تھا۔۔۔وہ خوش تھا کہ مشال کا کیا ایکسپریشن ہوگا سب کو ایک ساتھ دیکھ کر لیکن اندر ہی اسکی چھٹی حِس کچھ غلط ہونے کا احساس دلارہی تھی۔۔۔جس کو اس نے فلحال اگنور کیا اور تیز قدم اٹھاتا ہوا کار کی طرف گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سنتے کیوں نہیں۔۔۔ہم کہہ رہے ہیں نا کہ جائیے یہاں سے۔۔۔
اسکے ڈھیٹ کی طرح ایک ہی جگہ پر کھڑے رہنے پر اب مشال نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔۔دل عجیب انداز میں گھبرایا تھا۔۔۔ڈر تھا کہ التمش نہ آجائے
میں نہیں جاؤں گا جب تک تم مجھ سے محبت کا اعتراف نہیں کرتی۔۔۔
وہ ضدی لہجے میں بول کر واپس صوفے پر بیٹھ گیا
مشال نے بےبسی سے اپنے ہاتھ بھینچے
دیکھیے وجدان۔۔۔ہم شادی شدہ ہیں۔۔۔یوں ہماری زندگی خراب مت کریں۔۔۔۔آپ سمجھتے کیوں نہیں ہم محبت کرتے ہیں التمش سے۔۔۔
وہ چیخی تھی بےبسی سے۔۔۔وجدان نے خون آلود نظروں سے اسے گھورا
تبھی ڈور بیل بجی۔۔۔۔مشال کی جان ہوا ہوئی یہ آواز سُن کر۔۔۔اس نے ایک نظر گیٹ کو دیکھ کر وجدان کو دیکھا جس کے چہرے پر اب زہریلی مسکراہٹ تھی۔
چلو دیکھتے ہیں۔۔۔یہ ہمیں ڈسٹرب کرنے کون تشریف لے آیا۔۔۔
وہ اسے یونہی کھڑا چھوڑ کر اٹھا اور گیٹ کی طرف بڑھا
نہیں وجدان پلیز ایسا مت کریں۔۔۔آپ پلیز کہیں اور سے چلیں جائیں۔۔۔پلیز۔۔۔ہمارے ساتھ ایسا نہ کریں۔۔
وہ بھاگ کر اسکے سامنے آئی اور روتے ہوئے اس سے بولنے لگی
میری جان ریلیکس۔۔۔کچھ نہیں ہوگا ڈرو مت۔۔
وہ بول کر اسکا کندھا تھامنے کے لیے ہاتھ ہی بڑھا رہا تھا کہ مشال روتے ہوئے جلدی سے چند قدم پیچھے ہوگئی۔۔۔ہوا میں رکا اپنا ہاتھ دیکھ کر وجدان نے لب بھینچے پھر اسکے سائیڈ سے نکلتا ہوا فوراً گیٹ کھول گیا۔
مشال نے گھبرتے ہوئے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔گیٹ پر عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم سمیت نور،ہانیہ اور ہادی کو کھڑے دیکھ اسکا حلق خشک ہوگیا۔۔۔۔جبکہ وہ لوگ خود بھی بےیقین کھڑے کبھی وجدان تو کبھی اسکے پیچھے زرد رنگت میں کھڑی مشال کو دیکھ رہے تھے۔
امی۔۔
اسکے لب پھڑپھڑائے وجدان خود بھی حیران تھا۔۔۔۔اسے التمش کے آنے کی اُمید تھی۔۔۔پھر جلد ہی سنبھل کر اسنے سب کو مخاطب کیا۔
ارے میرے ہونے والے سسرالی۔۔۔آئیے آئیے اندر آئیں۔۔۔مشال تم مجھے سرپرائز دینا چاہ رہی تھی نا۔۔۔تبھی بتایا نہیں پر کوئی نہیں۔۔۔مجھے اچھا لگا سب کو یہاں دیکھ کر۔۔۔
وہ سب کو بولتے ہوئے آخر میں نور کو دیکھا جو اسکے دیکھتے ہی نامحسوس انداز میں ہادی کے پیچھے ہوگئی
تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔
ہادی نے تنے ہوئے جبڑوں سمیت اس سے پوچھا جس پر اس نے کندھے اچکاتے ہوئے مشال کو دیکھا
سوئیٹ ہارٹ تم نے ان لوگوں کو بتایا نہیں کہ میں روز آتا ہوں تم سے ملنے۔۔۔
اس نے پلٹ کر فرینک ہوتے ہوئے مشال سے پوچھا جس کا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔جھوٹ۔۔۔
الفاظ ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔اسکے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہا تھا اتنے میں عالیہ بیگم چند قدم اٹھا کر اندر اسکے پاس آئیں۔۔۔۔انکی آنکھوں میں غضب دیکھ مشال نے کچھ بولنا چاہا مگر اگلے ہی لمحے انکا زور دار تھپڑ اسکی زبان گنگ کراگیا۔۔۔آنسو لڑھک کر تیزی سے گال پر پھسلنے لگے تھے۔۔۔جبکہ اسکی ساکت نظر نیچے جھکی تھی۔۔۔
میرے بیٹے پر بدکاری کا الزام لگایا تھا تم نے۔۔۔خود کتنی پاک ہو۔۔۔شرم نہیں آتی شوہر کے پِیٹ پیچھے اپنے عاشقوں کو بلاتے ہوئے۔۔۔
انکے الفاظ مشال کو سینے میں تیر کی طرح چبھے تھے۔۔۔ریحانہ بیگم جو اتنی آس سے آئیں تھیں انکا بھی سر مشال کی وجہ سے جھک گیا۔
امی ضروری نہیں کہ مشال غلط ہے۔۔۔آپ ایک دفعہ سُن تو لیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔۔۔
ہادی نے ایک نظر وجدان کو گھورتے ہوئے کہا
وہ کچھ نہیں بولے گی۔۔۔اب آخر کار سچ ہی پکڑایا ہے۔۔۔
وجدان کے کہنے پر ہادی غصے میں اسکی طرف بڑھا
کمینے تجھے تو پہلے جیل میں بھیجنا ہے۔۔۔وہاں سے بھاگ کر تُو یہاں فساد برپا کررہا ہے۔۔۔
جیل کا سُن کر وجدان کی سٹی ہی گُم ہوئی تھی۔۔۔وہ ہادی کے قریب آنے پر اسے دھکا دے کر باہر کی طرف بھاگا۔
اوئے رُک۔۔۔
ہادی فون جیب سے نکالتا ہوا تیزی سےاسکے پیچھے گیا۔
امی ہادی صحیح کہہ رہا ہے ایک مرتبہ آپی سے پوچھ تو لیں۔۔۔
نور نے تکلیف سے بولا
اپنا منہ بند رکھو نور۔۔۔۔ہر دفعہ حمایت کرنے سے یہ صحیح نہیں ہوجائے گی۔۔۔سب جانتے ہیں کہ یہ وجدان کو پسند کرنے لگی تھی۔۔۔اور اب شادی کہ بعد یہ میرے بیٹے کو دھوکا دے رہی ہے۔۔۔۔بےشرمی کی انتہا ہے۔۔۔
عالیہ بیگم نے نور کو جھڑکتے ہوئے حقارت سے کہا
تائی امی۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔ہم نے ایسا۔۔۔ایسا۔۔۔
مشال۔۔۔
اس نے ہکلا کر بولنا چاہا تبھی ریحانہ بیگم چیخی
وجدان اس سے پہلے آیا تھا؟
انہوں نے تحمل سے اسکے سامنے آتے ہوئے پوچھا
امی وہ۔۔۔جھوٹ۔۔۔
مشال روتے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی
وہ اس سے پہلے آیا تھا مشال؟
اب کی بار انکی آواز تیز ہوئی تو مشال نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا
امی آئے تھے وہ لیکن ہمیں ڈرانے۔۔۔۔آپ تو سمجھیں پلیز وہ جھوٹ کہہ رہے تھے۔۔۔
کوئی کثر رہ گئی ہے مجھے بدنام کرنے کی جو اب بھی زبان بند نہیں رکھ رہی ہو۔۔۔
بھرائی ہوئی آواز میں اس نے بولنا شروع کیا پر انہوں نے اسکی بات کاٹتے ہوئے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔
امی۔۔۔ہم غلط نہیں۔۔ہیں۔۔
وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔آنسوؤں سے گال تر ہورہے تھے
سچ کہہ رہی ہو۔۔۔تم غلط نہیں ہو۔۔۔تم تو غلط ہو ہی نہیں سکتی غلطی تو میری ہے جو تم جیسی لڑکی کو میں نے پیدا کیا۔۔۔
انکے جذبات سے عاری جملے پر مشال کے آنسو رکے تھے۔۔۔وہ ساکت نظروں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔آج اسے شدت سے احساس ہوا تھا کہ اس روز التمش پر کیا گزری ہوگی جب کچھ غلط نہ کرنے پر بھی اپنے ہی اسکے خلاف ہوگئے تھے۔۔۔۔درد اتنا تھا کہ دل پھٹنے کو ہوا۔۔۔اس نے خواہش کی کہ زمین پھٹے اور ابھی وہ اندر دھنس جائے۔
لڑکی۔۔۔۔تم اس لائق ہی نہیں ہو کہ میرے بیٹے کے ساتھ رہ سکو۔۔۔۔نکلو ابھی یہاں سے اس سے پہلے التمش آئے اور تمہاری ان کرتوت کا پتا لگنے کے بعد اسکا دل دکھے۔۔۔نکلو فوراً۔۔۔۔
عالیہ بیگم نے غصے سے کہتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر باہر دھکا دیا۔۔۔۔بمشکل مشال نے خود کو گرنے سے بچایا
آپی۔۔۔
نور آگے بڑھی تھی پر عالیہ بیگم کے بیچ میں آنے پر وہ بےبسی سے مشال کو دیکھنے لگی جو کسی مجسمے کی طرح گیٹ سے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔اسکا دماغ خالی ہوچکا۔۔۔۔تھک گئی تھی وہ سب کو وضاحت دیتے دیتے کہ وہ غلط نہیں پھر بھی سب کا یہ رویہ۔۔۔۔اندر سے بہت بری طرح وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی پر چہرہ اسکا بلکل سپاٹ ہوچکا تھا۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ ابھی التمش بھی آکر یہ سب دیکھنے کے بعد اسی کو الزام دے گا۔۔۔۔اسی لیے اپنے گال بےدردی سے رگڑتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر سب پر ڈالی پھر لفٹ کی طرف چلی گئی۔۔
دوسری طرف التمش خوشی میں نیچے لفٹ چھوڑ کر سیڑھیوں سے بھاگتا ہوا اپنے فلور پر آیا تھا۔۔۔۔پر گیٹ کھلا دیکھ کر وہ تھوڑا حیران ہوا اندر آنے پر اسنے دیکھا عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم لاؤنج کے صوفے پر بیٹھیں تھیں۔۔۔جبکہ نور اور ہانیہ گیٹ کے داخلی حصے کے تھوڑا آگے کھڑی آنسو بہارہی تھیں۔۔۔اور مشال۔۔۔۔وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔جیسا اس نے ماحول سوچا تھا سب کچھ اسکے بلکل الٹ تھا۔۔
امی۔۔۔
اس نے اچھنبے سے ان سب کو دیکھتے ہوئے عالیہ بیگم کو پکارا۔۔۔اسے دیکھ کر وہ اٹھ کر التمش کے پاس آئیں اور روتے ہوئے اسے گلے سے لگا گئیں۔۔
امی کیا ہوا ہے۔۔۔اور مشال کہاں ہے؟
انکا مسلسل رونا دیکھ کر وہ انہیں دور کرتا ہوا پریشانی سے پوچھنے لگا ساتھ ہی ہر طرف نظر دوڑائی اس دشمنِ جاں کو ڈھونڈنے کے لیے
تامی۔۔۔بیٹا وہ۔۔۔وہ بدکردار لڑکی تمہیں دھوکہ دے رہی تھی۔۔۔
عالیہ بیگم نے اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا اور اپنے آنسو پونچھے۔۔۔انکی بات التمش کے سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا
کون۔۔۔کون دھوکہ دے رہی تھی مجھے۔۔۔امی بتائیں نا کیا ہوا ہے؟
وہ ارریٹیٹ ہونے لگا تھا ایک تو پہلے ہی وہ دشمنِ جاں کہیں نظر نہیں آرہی تھی اوپر سے عالیہ بیگم کی بےتکی باتیں اسکا دماغ گھوما رہی تھیں
بتائیں بھی یار۔۔۔
اسکے بلند آواز میں بولنے پر ریحانہ بیگم نے اسے شروع سے اب تک وجدان کی بات اور عالیہ بیگم کا مشال کو نکالنا۔۔۔یہ سب اسے بتایا۔۔۔۔جس پر التمش کو دھچکا لگا تھا۔۔۔
وہ ساکت کھڑا ریحانہ بیگم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
بیٹا میں تم سے شرمندہ ہوں۔۔۔نہیں جانتی تھی کہ وہ اس حد تک گری ہوئی ہوگی۔۔۔وجدان نے جب اسکے بارے میں یہ سب بتایا تو میرا دل زمین میں گڑنے کا کِیا
وہ بھرائی ہوئی آواز میں اس سے بول رہی تھیں جو اب تک ساکت نظروں سے انہیں ہی دیکھ رہا تھا کچھ دیر بعد وہ بولنے کے لائق ہوا۔۔۔
اور آپ لوگوں نے اس وجدان کی بات پر یقین کرلیا۔۔۔
اسکی بوجھل آواز تھی یا کیا عالیہ بیگم نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا یہی عالم نور اور ہانیہ کا تھا
بیٹا وہ لڑکی تمہیں دھوکا۔۔
میری مشال مجھے دھوکا نہیں دے رہی تھی امی۔۔۔
وہ انکی بات کاٹتے ہوئے دھاڑا تھا غصے میں۔۔۔نور اور ہانیہ بےساختہ سہمی تھیں اسکی آنکھوں میں غضب کا جنون دیکھ کر
کیسے کہہ سکتے ہو تم کہ وہ تمہیں دھوکہ نہیں دے رہی تھی۔۔۔کیا ثبوت ہے تمہارے پاس۔۔
عالیہ بیگم بھی بھڑکیں تھیں اسکا مشال پر یقین دیکھ کر
ثبوت کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔جب میں نے کہہ دیا کہ میری مشال دھوکے باز یا بقول آپ لوگوں کے بدکار ہوہی نہیں سکتی تو بس۔۔۔بات ختم۔۔۔
اسکا کاٹ دار لہجہ ریحانہ بیگم کو بھی چونکا گیا
تو تمہارے کہنے کا مطلب کہ ہم نے جو دیکھا وہ جھوٹ ہوگااور وجدان نے جو کہا۔۔۔
اب کی بار عالیہ بیگم نے تلخی سے پوچھا
پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ شروع سے وجدان آپ کے ساتھ رہا ہے یا مشال۔۔۔۔اور چاچی آپ۔۔۔تف ہے آپ پر کہ اپنی ہی تربیت کو خراب سمجھ بیٹھیں۔۔۔پچھلی بار بھی اتنی بڑی نااتفاقی ہم سب میں اسی لیے ہوئی تھی کہ ہم لوگوں کا اپنوں پر بھوسہ کھوکھلا تھا اور واؤ۔۔۔اس بار بھی وہی ہوا۔۔۔ایک غیر کی بات پر بھروسہ کرلیا آپ لوگوں نے۔۔۔۔اور امی جہاں تک آپ لوگوں کے دیکھنے کی بات ہے تو ضروری نہیں کہ ہر آنکھوں دیکھا سچ ہی ہو۔۔۔کچھ جھوٹ کو سچ کر کے بھی دکھایا جاتا ہے۔۔۔پر اسکا فیصلہ ہم پر ہوتا ہے کہ ہم اسے کِس نظریے سے دیکھیں۔۔۔اپنوں پر بھروسہ کر کے یا غیروں کی باتوں میں آکر۔۔۔
وہ غصے میں ان لوگوں پر بھڑاس نکالنے لگا۔۔۔دل دکھ سے بھرا تھا۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہونے لگا تھا پر اب اچانک یہ سب۔۔۔اسکا شدت سے وجدان کی جان لینے کا دل چاہا
اور مشال۔۔۔
یکایک اسکے دماغ میں جھماکا ہوا۔۔۔وہ کہاں گئی ہوگی۔۔۔سوچ کے ساتھ ساتھ اسکے پیر ہلے اور وہ ان لوگوں کو وہاں شرم سے گِھرا چھوڑ کر فلیٹ سے باہر بھاگا۔۔۔اسکا دل بند ہونے لگا تھا۔۔۔اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔۔یہ سوچ ہی اسکا دماغ خالی کررہی تھی۔۔۔
تیزی سے سیڑھیاں طے کرتے ہوئے وہ نیچے آیا۔۔۔وہ پیدل ہی گئی ہوگی کہیں۔۔۔۔مطلب ابھی زیادہ دور نہیں ہوگی۔۔۔اس نے اندازہ لگایا اور بھاگا تھا۔۔۔۔تھوڑے دور بھاگنے پر ہی وہ اسے دِکھی۔۔۔سنسان روڈ کے بیچوں بیچ سست روی سے چلتی ہوئی
مشال!!
اسکی تیز آواز پر مشال کے قدم رکے تھے۔۔۔اس نے پلٹ کر دیکھا روڈ کے سائیڈ پر وہ کھڑا آنکھوں میں تکلیف لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا مشال کے دیکھنے پر وہ اسکی طرف بڑھا پر مشال کی آواز پر رک گیا
آگے مت آئیے گا التمش۔۔۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی۔۔۔التمش نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا
آپ بھی ہم پر یقین نہیں کریں گے۔۔۔کوئی یقین ہی نہیں کرتا تو۔۔۔چھوڑ دیں ہمارا پیچھا۔۔۔مرجائیں گے یہیں بہتر ہوگا سب کے لیے۔۔۔
اذیت سے بولتے ہوئے اسکی آواز بھرائی
مشال کیا بکواس کررہی ہو ۔۔چپ رہو۔۔۔کوئی نہیں کرتا بھروسہ تو کیا ہوا۔۔۔میں تو کرتا ہوں نا۔۔۔ادھر آؤ فوراً۔۔۔
التمش نے سختی سے اسے ڈپٹتے ہوئے اپنے پاس بلایا جس پر مشال نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
نہیں کرتے آپ ہم پر بھروسہ۔۔۔اگر ہم آگئے تو آپ پھر غصے سے ماریں گے ہمیں۔۔۔پر ہم کیسے سمجھائیں کہ وہ وجدان جھوٹ۔۔۔جھوٹ بول رہے تھے۔۔
وہ ہچکیوں کے بیچ بولی تھی۔۔۔التمش کو اسکا لہجہ اذیت میں مبتلا کررہا تھا
مشی۔۔۔میری جان سوری۔۔۔میں تمہیں مارتا تھا پر اب تو معاف کردو۔۔۔میں کہہ رہا ہوں نا کہ بھروسہ ہے مجھے تم پر پھر کیوں اتنی احساسِ کمتری کا شکار ہورہی ہو۔۔۔
وہ اب نرمی سے اسے سمجھانے لگا
آپ کریں گے ہم پر بھروسہ؟
مشال نے آس سے التمش کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو اس نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا
مشال پلیز۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔
وہ اب التجاء کرنے لگا تھا اس سے۔۔۔مشال نے اسکے لہجے میں اس قدر تکلیف کا انثر محسوس کیا تو بےساختہ اسکا دل مچلا اس ستمگر کے گلے لگنے کو
وہ نمزدہ سی مسکرائی اور آنسوؤں سے بھیگے گال کو رگڑتے ہوئے اسکی طرف بڑھنے لگی۔۔۔دوسری طرف التمش اسے دیکھ اپنے قدم ابھی آگے بڑھا ہی رہا تھا کہ ایک تیز پُرآواز ہوا کان کے پردوں کو تقریباً چیرتے ہوئے اسکے سامنے سے گزری۔۔۔۔التمش کو لگا کسی نے بےدردی سے روح کھینچ کر اسکے جسم سے نکالی ہے۔۔۔
کان کچھ پل کے لیے سُن سے ہوگئے تھے۔۔۔کافی دیر بعد آنکھوں کے سامنے سے مٹی کی دھند ہٹی تھی۔۔۔مگر اب اس جگہ پر مشال ایجاز نہیں تھی۔۔۔جہاں چند لمحے پہلے وہ کھڑی تھی۔۔۔
اس نے دوسری طرف دیکھا۔۔۔سفید رنگ کی گاڑی فُل سپیڈ سے اپنا سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے جارہی تھی۔۔۔مگر شاید التمش کی زندگی کا سفر ختم کرکے۔۔۔
اس نے بوکھلاتے ہوئے پاگلوں کی طرح ہر جگہ نظر دوڑائی۔۔۔۔دور۔۔۔۔بلکل دور مشال کا بےجان خون سے لت پت وجود پڑا تھا۔۔۔۔اس ہولناک منظر نے التمش زمان کا دل چیر کر رکھ دیا۔۔۔آنکھوں میں کچھ دن پہلے والا خواب لہرایا۔۔۔جس میں مشال کا بےجان وجود اس نے دیکھا تھا۔۔۔اس وقت اس نے وہ سوچ بےکار سمجھ کر جھٹک دی تھی پر اب۔۔۔۔
مشال!!!
اسکی دردناک چیخ رات کے سناٹے میں خوفناک انداز میں گونجی تھی۔۔۔وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس جارہا تھا۔۔۔پیروں میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی۔۔۔اپنے اور مشال کے درمیان کا سفر اسے صدیوں کا لگا۔۔۔
قدم بےساختہ لڑکھڑائے تھے اور وہ نیچے گِرا۔۔۔دھندھلی آنکھوں سے اس نے اپنے نیچے مٹی کو دیکھا۔۔۔ایک آنسو لڑھک کر آنکھوں سے گرا۔۔۔اور خشک مٹی میں جذب ہوگیا۔۔۔
وہ ہمت کر کے پھر اٹھا اور مشال تک پہنچا۔۔۔۔اور گرنے کے انداز میں اسکے وجود کے برابر میں بیٹھا۔۔۔التمش نے آہستہ سے اسکے اوندھے وجود کو پلٹا۔۔۔۔خون سے بھرا اسکا چہرہ پہچان میں نہیں آرہا تھا۔۔۔التمش زمان کی سانس رکی تھی۔۔۔اس نے بنا کچھ اور سوچے پھرتی سے مشال کے نازک وجود کو باہوں میں بھرا اور تیزی سے اپنے فلیٹ کی طرف بھاگا۔۔۔کئی غلط سوچیں اسکا دماغ خراب کر رہی تھیں۔۔مگر وہ ان سب کو جھٹکتا ہوا مسلسل چلا جارہا تھا۔۔۔ابھی وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔بےپناہ ضبط کے باوجود بھی اسکے آنکھ سے آنسو لڑھک لڑھک کر گال پر پھسل رہے تھے۔۔۔
فلیٹ کی پارکنگ میں پہنچ کر اس نے مشال کو جلدی سے اپنی کار کی بیک سیٹ پر لیٹایا اور تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا۔۔۔
اسے لگا وہ پھر جیتے جی مرنے والا ہے۔۔۔کار سٹارٹ کر کے اس نے روڈ پر ڈالی۔۔۔سٹئیرنگ پر جمے اسکے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔۔۔دل بار بار ایک ہی بات دہرارہا تھا کہ اگر مشال ایجاز کو کچھ بھی ہوا تو التمش زمان مرجائے گا۔۔۔وہ نہیں جی پائے گا اسکے بِنا۔۔۔فُل سپیڈ میں کار چلاتے ہوئے وہ ہر ایک بار پیچھے مڑ کر مشال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔۔۔
آج ایک بار پھر وہ خود کو یونہی دلاسے دے رہا تھا
اس نے کوئی پانچویں مرتبہ پیچھے مڑکر اس دشمنِ جاں کو دیکھا جسکا ساکت وجود اسکی سانسیں ڈگمگا رہا تھا۔۔۔وہ اسے دیکھ کر واپس سیدھا ہی ہوا تھا کہ سامنے سے وہ ہی سفید کار پھر سپیڈ سے آتے ہوئے التمش کی گاڑی کو ٹکر دیتے ہوئے گزری۔۔۔۔التمش نے سنبھالنے کے غرض سے گاڑی سائیڈ پر ڈالی پر معائے افسوس اسکی کار سیدھا سامنے کھڑے بڑے سے درخت سے زور دار آواز کے ساتھ ٹکرائی۔
التمش کا سر بری طرح سٹیئرنگ سے ٹکرایا۔۔۔آنکھیں دھندلائیں تھیں۔۔۔اور دماغ چکرانے لگا۔۔۔بمشکل اس نے مڑ کر پھر دھندلائی نظروں سے مشال کے وجود کو دیکھا تھا۔
دور کھڑی سفید کار میں سے سائیڈ مرر نیچے ہوا۔۔۔نیہا نے تمسخر اڑاتی نظروں سے التمش کی کار کو دیکھا
چچچہ۔۔۔تامی۔۔۔مجھے ٹھکرایا تھا نا تم نے۔۔۔اب جاؤ اپنی “مشی” کے ساتھ۔۔۔
یہ بات بولتے ہی وہ زور سے ہنسی تھی۔۔۔شیطانی ہنسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
