Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 28)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 28)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
کیا نور۔۔۔یہ تمہاری گیم کھیلنے کی عمر ہے کیا؟
ہادی نے اسے موبائل پر گیم کھیلتا دیکھ چڑ کر کہا اور اسکے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔
کیا ہے۔۔۔دو نا۔۔۔
نور جھنجھلا کر کہتے ہوئے اس سے فون لینے لگی مگر ہادی نے ہاتھ اوپر کر لیا۔۔۔اب کے وہ اچھل کر اسکا ہاتھ نیچے کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
ہاہاہا۔۔۔یونہی تھوڑی نا میں تمہیں ٹڈی کہتا ہوں۔۔۔
ہادی اسکے قد پر چوٹ کرتا ہوا ہنسا تو نور اچھلنا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگی
اے کیا ہوا؟
اسکے مڑکر جانے پر ہادی نے اسے بازو سے پکڑ کر پوچھا
چھوڑو مجھے۔۔۔
نور کی روہانسی آواز پر وہ بوکھلایا
نور تم ناراض ہوگئی۔۔۔ارے میں مذاق کررہا تھا۔۔۔سوری۔۔
نور کا چہرہ تھام کر اس نے پیار سے کہا
تم مجھے بار بار ٹڈی مت کہا کرو۔۔۔
نور نے نروٹھے پن سے کہا
تو کیا کہوں۔۔۔تم بتادو۔۔
اس نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا پھر آہستگی سے اسکے گال پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔نور کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔۔
تم کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہوجاتے ہو۔۔۔
اپنی خفت دور کرنے کے لیے اسنے جلدی سے کہا تو ہادی کے لب مسکرا اٹھے
ظالم لڑکی۔۔۔تم کبھی فری ہونے ہی نہیں دیتی مجھے۔۔۔
اسکے بےچارگی سے بولنے پر نور نے اسے گھورا پھر ایک چپت اسکے بازو پر لگا کر چلی گئی۔۔۔اسکے جانے کے بعد ہادی نے ایک لمبی آہ بھری اور گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو۔۔۔
التمش کے بولنے پر اس نے نظر اٹھا کر دیکھا جو آئی فون کا بوکس اسکی طرف کیے کھڑا تھا۔۔۔مشال نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
تمہارے لیے ہی ہے رکھو۔۔۔
اسکی نظروں کا مطلب سمجھ کر التمش نے کہا
ہمیں۔۔۔ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اس نے آہستہ آواز میں کہا
پر مجھے تو ہے ضرورت۔۔۔۔اگر کبھی آفس میں بیٹھے بیٹھے میرا دل کیا تمہاری آواز سننے کا تو۔۔۔
التمش نے جتنی رسانیت سے کہا مشال نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔وہ بھلا کب سے اسکی آواز سننے کا شوقین ہوگیا۔۔
اسکے خاموش کھڑے رہنے پر التمش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ بوکس اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔
التمش۔۔
اسکے مڑ کر جانے پر مشال نے اسے پکارا
وہ پلٹ کر مشال کو دیکھنے لگا جو کچھ کہنے کے لیے ہمت باندھ رہی تھی۔۔
التمش۔۔۔ہم۔۔۔ہم سمجھ نہیں پارہے یہ سب۔۔۔۔یہ اچانک۔۔۔آپ کا ہم سے ٹھیک ہوجانا۔۔۔اور یہ۔۔۔ہم۔۔نہیں جانتے کہ آپ کیا چاہتے ہیں پر ہم ان سب سے کافی ڈسٹرب ہیں۔۔۔
وہ واقعی پریشان تھی اسکے ہر پل بدلتے روپ سے پر اب اچانک اسکا اچھا سلوک مشال کو عجیب لگنے لگا تھا تبھی اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنی بات کہی
تمہیں اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔بس اتنا جان لو کہ میں اب کوئی ناگواری نہیں چاہتا اس رشتے میں۔۔۔۔
وہ بول کر لیپ ٹاپ اٹھائے لاؤنج میں چلا گیا۔۔۔مشال خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔۔
کافی دنوں سے التمش کا اپنے ساتھ رویہ نرم اور نارمل دیکھ وہ بھی چپ تھی۔۔۔اسے اور کیا چاہیے تھا۔۔۔اتنی تکالیف کے بعد تو اسی میں مشال کو غنیمت لگی کہ وہ کم از کم اسے اب ٹورچر نہیں کرتا۔۔۔۔۔اب پیر کا زخم بھی التمش کے کئیر کی وجہ سے کافی حد تک بہتر ہوچکا تھا۔۔۔۔اسکا اچھا رویہ دیکھ وہ بھی اب التمش سے تھوڑی بہت بات کرنے لگی تھی ورنہ پہلے اسکے ڈر سے وہ صرف اسکی بات پر سر ہلادیا کرتی تھی۔۔۔
آج اتوار تھا۔۔۔کام کرنے میں اسے دیر ہوگئی تھی اسی لیے وہ کام سے فارغ ہوکر ابھی نہاکر نکلی تھی۔۔۔۔اور اب بالوں پر برش کررہی تھی۔۔۔تبھی اچانک اسے اپنی کمر پر مضبوط گرفت محسوس ہوئی۔۔۔مشال نے ہاتھ روک کر ڈریسنگ کے شیشے میں دیکھا۔۔۔التمش اسکے پیچھے کھڑا گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ گھبرائی تھی اسکی بےباک نظروں سے کیونکہ اتنے دنوں سے وہ مشال سے ایک فاصلے کی حد تک دور رہتا تھا۔۔۔۔
مشال نے بوکھلا کر نظر دوسری طرف دوڑائی۔۔۔بیڈ پر اسکا دوپٹہ پڑا تھا۔۔۔۔وہ التمش کا ہاتھ ہٹاکر جلدی سے دوپٹہ لینے بڑھی پر اس نے پھر مشال کی نازک کمر کے گرد اپنا بازو حائل کرلیا اور اسکی پشت کو بلکل اپنے سینے سے لگاگیا۔۔۔
ایک سکون سا اترا تھا اسکے اندر مشال کے نم وجود کو محسوس کر کے۔۔۔۔وہ اسکے کمر تک آتے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا ان میں اپنا چہرہ چھپاگیا۔۔۔۔شیمپو کی بھینی خوشبو نے اسے خوشگوار احساس بخشا تھا۔۔۔۔۔جبکہ مشال کی جان پر بن آئی تھی جب اسے التمش کے لب اپنی گردن پر محسوس ہوئے۔۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح اسکی مضبوط گرفت سے نکلنے کی ناکام کررہی تھی۔۔۔تبھی التمش نے جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔۔وہ سرخ چہرے سمیت بھوری آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی جس کی نظروں کی بےباکی اسے خائف ہونے پر مجبور کررہی تھی۔۔۔تبھی التمش نے اسکے کان کے قریب آکر سرگوشی کی۔
تم بہت حسین ہو۔۔۔اتنی کہ اپنے حسن سے مقابل کو گھائل کر کے رکھ دو۔۔۔
وہ مدہوشی میں کہتے ہوئے اسکے کان کی لُو پر اپنے لب رکھ گیا۔۔۔۔مشال سانس کھینچ کے رہ گئی۔۔۔۔التمش کی قربت آج پہلی مرتبہ اسے تڑپانے کے بجائے ایک خوبصورت احساس بخش رہی تھی جس سے وہ نظریں چرانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔۔
تبھی التمش اسکا چہرہ اپنے ہاتھ میں تھام کر آہستگی سے اس پر جھکنے لگا۔۔۔۔مشال اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں سے گھبراکر منہ پھیر گئی۔۔۔۔ہمت نہیں تھی اسکی اور قربت سہنے کی اسی لیے آہستہ سے پیچھے ہٹنے لگی مگر معائے افسوس سیدھا ڈریسنگ سے ٹکرائی۔۔۔۔
دوسری طرف التمش اور قریب ہوتا ہوا اسکے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر جھکا۔۔۔۔اور ان پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا۔۔۔مشال کی آنکھیں خودبخود بند ہوئیں۔۔۔۔دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد اپنی سانس رکنے پر اس نے مزاحمت کے طور پر التمش کے مضبوط بازوؤں کو اپنے نازک ہاتھوں سے دبوچ کر ان پر اپنے ناخن گاڑدیے۔۔۔جبکہ وہ بازوؤں پر ہوتی چُبھن کو نظر انداز کیے بےخودی میں اس پر اسی طرح جھکا رہا۔۔۔۔کچھ دیر تک کمرے میں معنی خیز خاموشی رہی۔۔۔۔تبھی التمش نے نرمی سے اسکے لبوں کو آزاد کیا۔۔۔۔مشال نڈھال سی ہو کر اسکے کندھے پر سر رکھے گہرے سانس لیتے ہوئے اپنی تیز ہوتی دھڑکنے ہموار کرنے لگی۔۔۔۔اسکی اس معصوم ادا پر التمش مسکرادیا اور اسکے گرد دونوں بازو حائل کرتا ہوا اسکی پشت آہستہ سے سہلانے لگا۔۔۔
کچھ پل بعد وہ سنبھلی تو آہستہ سے التمش سے دور ہوئی۔
ہم۔۔ہم۔۔۔کھانا لگاتے ہیں۔۔۔آپ۔۔کو بھوک لگی ہوگی۔۔
وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی
اسکا سرخ چہرہ اور نظریں چرانا التمش نے دلچسپی سے دیکھا
مجھے بھوک نہیں۔۔۔پیاس لگی ہے۔۔
التمش کے معنیٰ خیزی سے بولنے پر مشال نے بوکھلاتے ہوئے اسے دیکھا پھر گھبرا کر کمرے سے بھاگی۔۔۔
التمش کے قہقہے کی آواز اسے اپنے پیچھے سنائی دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں وہ صوفے کی پشت پر سر ٹکائے لیٹنے کے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔۔جب سے اسکی سوچوں کا محور مشال اور اپنے رشتے پر تھا۔۔۔وہ ختم کرنا چاہتا تھا سب تشنگیاں۔۔۔۔مشال کو اب وہ حیدر ولا کے جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔جانتا تھا عالیہ بیگم سمیت آغاجان اور بی جان کو بھی اعتراض ہوگا اسکے فیصلے پر لیکن اس نے جب سے مشال کو چُھپ چُھپ کر روتا دیکھا تھا تب سے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی کر کے اب اسے ہی سب ٹھیک کرنا ہوگا۔۔۔۔
اسکی سوچ فون کے مسلسل رِنگ ہونے سے ٹوٹی۔۔۔ہادی کی کال تھی۔۔۔
ہیلو۔۔۔
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
بھائی۔۔۔۔بھائی بابا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔۔۔آپ پلیز جلدی سے آجاؤ۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔
ہادی کی بوکھلائی آواز پر التمش جھٹکے سے اٹھا
کیا ہوا ہے ہادی بابا کو۔۔۔بتا جلدی۔۔
پتا نہیں بھائی۔۔۔ہم لوگ بابا کو (۔۔۔۔۔)ہوسپٹل لے کر جارہے ہیں آپ بس جلدی آجاؤ وہیں پر۔۔۔۔
اسکی آواز میں نمی محسوس کر کے التمش کی چھٹی حس کچھ بہت غلط ہونے کا اشارہ دے رہی تھی۔۔۔
التمش۔۔۔کیا ہوا۔۔
مشال کمرے میں داخل ہوئی تو اسے فون کان سے لگائے یونہی کھڑا دیکھ کر پوچھنے لگی
اسکی آواز پر التمش نے اسے دیکھا پھر فون جیب میں رکھتے ہوئے اسے سائیڈ پر ہٹا کر تیزی سے باہر کی طرف گیا۔
التمش۔۔۔التمش۔۔۔رکیں تو۔۔کیا ہوا۔۔
وہ اسکے پیچھے آتے ہوئے پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔۔تبھی وہ اچانک رکا
دعا کرنا سب ٹھیک ہو۔۔۔ورنہ۔۔
وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا بول کر باہر نکل گیا۔۔جبکہ مشال اتنے دنوں بعد پھر اسکی آنکھوں میں وہی حیوانیت دیکھ کر سکتے کے عالم میں کھڑی رہ گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح آپریشن تھیٹر کے باہر اِدھر سے اُدھر چکر لگا رہا تھا۔۔۔۔کسی انہونی کے ہونے کا سوچ کر التمش نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔اسکے ذہن میں بار بار بس ایک ہی سوچ چل رہی تھی کہ اندر موجود انسان کو اگر کچھ بھی ہوا تو وہ مرجائے گا۔۔۔
سب ٹھیک ہوگا۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا ہوگا۔۔۔
وہ خود کو ناکام دلاسے دے رہا تھا۔۔۔۔پتا نہیں کیوں اسے خود کے دلاسے کھوکھلے لگے
دل بری طرح کرلارہا تھا کہ مگر اس نے امید ٹوٹنے نہیں دی۔۔۔وہ دعا کررہا تھا کہ وہ بس ٹھیک ہوجائیں۔۔۔۔کچھ نہ ہو
تبھی تھیٹر روم کھلا اور ڈاکٹر ماسک اتار کر باہر آئے۔۔۔وہ اور ہادی لپکے تھے ڈاکٹر کے پاس۔۔
ڈاکٹر کا نااُمید چہرہ دیکھ کر بھی وہ اس وقت شدت سے چاہ رہا تھا کہ ڈاکٹر یہ بول دے کہ سب ٹھیک ہے۔۔۔
I am sorry….He is expired..
ہادی اور اسکے کندھے کو تھپک کر ڈاکٹر نے ہمدردی سے کہا اور وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔جبکہ التمش کو لگا آج وہ مرگیا۔۔۔۔اسکی آنکھیں ساکت سی ہوگئیں۔۔۔
بابا!!
اسکے لب آہستہ سے ہلے
عالیہ بیگم لڑکھڑا کر بینچ پر بیٹھیں۔۔۔۔۔شوہر کی جدائی جان نکالنے کو تھی۔۔۔۔انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
ہادی ضبط کی حدوں کو چھوتے ہوئے اپنی آنکھیں سختی سے میچ گیا۔۔۔۔۔تکلیف برداشت کے قابل نہیں تھی۔۔۔جان سے پیارا باپ آج زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔
ہانیہ۔۔
نور کی چیخ پر ہادی نے مڑ کر دیکھا
ہانیہ نیچے گری بےہوش پڑی تھی۔۔۔۔۔ہادی بھاگتے ہوئے اسکے پاس گیا۔۔۔۔گال تھپتھپانے پر بھی جب اسے ہوش نہیں آیا تو ہادی نے اسے گود میں اٹھایا۔۔
التمش نے آہستگی سے گردن گھما کر لہو رنگ نظروں سے پیچھے دیکھا۔۔۔۔عالیہ بیگم صدمے سے بینچ پر خاموش بیٹھیں تھیں۔۔۔۔جبکہ ہانیہ کے بےہوش وجود کو ہادی گود میں اٹھائے جلدی سے دوسرے وارڈ میں لے جارہا تھا۔۔۔اسے اپنا گھر۔۔۔۔اپنا شیرازہ آج بکھرتا ہوا لگا۔۔۔سب کچھ جیسے ختم ہوچکا ہو۔۔۔
اسکے ذہن میں اپنے کہے الفاظ گھومے
دعا کرو کہ بابا جلد ٹھیک ہوجائیں۔۔۔کیونکہ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہونگے تب تک میرے ساتھ حیدر ولا کا کوئی فرد بھی تمہیں معاف نہیں کرے گا۔۔۔
مشال۔۔
اس نے پھنکارتے ہوئے اسکا نام لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیٹ کا دروازہ کھول کر وہ ٹرانس کی حالت میں اندر داخل ہوا۔۔۔۔آج اپنے باپ کی میت دیکھ اسکا کلیجہ پھٹنے کو تھا۔۔۔حیدر ولا میں سبھی مکین کا حال بدتر ہورہا تھا۔۔۔کسی کو اپنا ہوش نہ تھا۔۔۔تبھی آغاجان نے خود پر ضبط کیے اس سے مشال کو لانے کا کہا۔۔۔۔اسکا نام سُن کر التمش کے اندر آگ سی جلی تھی۔۔۔
التمش کیا ہوا۔۔۔
مشال جو لاؤنج میں ٹینشن سے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر اسکی طرف لپکی مگر التمش کی قہر بھری نظروں کو دیکھ کر اسکے قدم تھمے تھے۔۔۔دل دھک سے رہ گیا۔۔
الت۔۔۔
چُپ۔۔۔
اسکے پھر پکارنے پر التمش دھاڑا۔۔۔مشال سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
تمہاری ایک غلطی نے آج سب ختم کر کے رکھ دیا۔۔۔سب کچھ۔۔۔
اسکی بلند آواز پورے فلیٹ میں گونج رہی تھی۔۔۔ساتھ ہی مشال کی بھوری آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھریں تھیں۔۔
میرا باپ آج اس دنیا سے چلاگیا۔۔۔۔صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔
اسکی یہ بات مشال کو ساکت کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔وہ بےیقینی سے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
مشال۔۔۔تمہیں آج میں بخشوں گا نہیں۔۔۔
وہ غراتے ہوئے مشال کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے گھسٹتا ہوا روم میں لانے لگا۔۔۔مشال کسی مجسمے کی طرح اسکے ساتھ چلتی چلی گئی۔۔۔۔زمان صاحب کی موت اسکے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔۔۔
اسے ہوش تب آیا جب التمش نے اسے بیڈ پر پٹخا۔۔۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے اسے دروازہ بند کرتا دیکھ رہی تھی پر جب التمش نے مڑ کر اپنی بیلٹ جھٹکے سے کھینچ کر اتاری تب مشال کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔وہ جی جان سے لرز گئی اسکا اگلا عمل سوچ کر۔۔۔۔
نہی۔۔۔نہیں۔۔الت
اسکا چہرہ سفید پڑنے لگا تھا۔۔۔تبھی التمش نے بیلٹ اپنے ہاتھ میں لپیٹ کر زور سے ہاتھ کو بلند کیا۔۔۔مشال نے چیختے ہوئے اپنا ہاتھ منہ کے آگے کرلیا۔۔۔اس کی دلخراش چیخ پورے فلیٹ میں گونجی۔۔۔
کچھ دیر تک خاموشی رہنے پر مشال کو کہیں بھی درد محسوس نہ ہوا تو اس نے کپکپاتے ہوئے اپنا ہاتھ نیچے کیا پر اگلے ہی پل اسے ایک اور حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔
بیلٹ دور پھینکا ہوا تھا اور وہ۔۔۔۔التمش زمان۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا رورہا تھا۔۔۔وہ اتنا مضبوط مرد آج زندگی میں پہلی مرتبہ رورہا تھا۔۔اس طرح ہچکیوں سے روتا وہ مشال کو بہت ہارا ہوا لگا۔۔۔۔مشال آہستہ سے اٹھ کر ہمت کر کے بیڈ سے اتری۔۔۔۔پھر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی۔۔
ال۔۔۔التم۔۔۔التمش۔۔۔
اس نے ہکلاتے ہوئے اسے پکارا۔۔۔ڈر بھی رہی تھی اسکے قریب جانے سے۔۔
تبھی التمش نے جھٹکے سے اسے کھینچ کر اپنے گلے لگالیا۔۔۔وہ سختی سے مشال کو خود میں بھینچے رونے لگا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔بلکل ٹھیک۔۔تھے۔۔۔کل۔۔میں۔۔ان سے مل کر۔۔۔۔آیا تھا۔۔۔پھر کیسے۔۔۔۔کیسے وہ۔۔۔اب اچانک۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ روتے ہوئے اسے بتانے لگا تھا۔۔۔۔مشال نے آنکھیں میچتے ہوئے اسکی گردن کے گرد اپنے بازو باندھے۔۔۔۔الفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے التمش کے پاس۔۔۔وہ بہت بری طرح ٹوٹا تھا آج۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
