Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 13)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 13)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
وجدان کو دیکھ کر مشال نے التمش سے اپنا ہاتھ زبردستی چھڑوایا۔۔۔پھر وجدان کے پاس جانے لگی۔۔
معاف کردے مشی۔۔۔۔دوست ہوں تیرا۔۔۔
التمش کے التجائیاء الفاظ پر مشال نے رک کر اسے دیکھا
کونسا دوست۔۔۔ہم نہیں مانتے آپکو اپنا دوست۔۔۔
مشال روکھے لہجے میں کہہ کر چلی گئی۔۔
التمش کا چہرہ بجھ گیا۔۔۔تبھی سفیان نے اعلانیہ انداز میں کہا
یار تامی آج برتھڈے ہے تیری۔۔۔تو کچھ یونیق کرنا۔۔۔ایسا کر ہماری ہونے والی بھابھی کے لیے کوئی سونگ گا۔۔۔
سفیان نے نیہا کی طرف اشارہ کر کے کہا تو نیہا خوشی سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔سفیان کی بات پر سب نے پرجوش ہوکر تالیاں بجائیں۔۔۔
کیوں نہیں۔۔۔
التمش نے کہتے ساتھ اپنے قدم سٹیج کی طرف بڑھائے۔۔۔اور ریک سے مائک اٹھایا۔۔۔اس نے سب کو ایک نظر دیکھا جو منتظر نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔پھر مشال کو دیکھا جو بظاہر وجدان سے باتوں میں مگن تھی۔۔۔مگر دھیان اسکا بھی التمش کی طرف تھا۔۔
ہال کی لائٹ کچھ مدھم کردی گئی۔۔۔اور دھیمی آواز میں سُر بجنے لگے۔۔۔
تُو جو روٹھا۔۔۔۔تو کون ہنسے گا،
تُو جو چُھوٹا۔۔۔۔تو کون رہے گا،
تُو چُپ ہے تو۔۔۔۔یہ ڈر لگتا ہے،
اپنا مجھ کو۔۔۔۔اب کون کہےگا،
تُو ہی وجہ۔۔۔۔تیرے بنا،
بےوجہ۔۔۔بےکار ہوں میں،
“تیرا یار ہوں میں”
۔۔
“تیرا یار ہوں میں”
التمش کے گانے پر جہاں سب حیران ہوئے وہیں نیہا سمجھ گئی کہ یہ سونگ التمش کس پر گارہا ہے۔۔۔اس نے حسد بھری نظروں سے مشال کو دیکھا جو آنکھوں میں نمی لیے حیرت سے التمش کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اوو جاتے نہیں کہیں رشتے پُرانے،
کسی نئے کے۔۔۔۔۔آجانے سے،
جاتا ہوں میں۔۔۔تو مجھے تُو جانے دے،
کیوں پریشان ہے۔۔۔۔میرے جانے سے،
ٹوٹا ہے تو۔۔۔۔۔جُڑا ہے کیوں،
میری طرف تُو۔۔۔مڑا ہے کیوں،
حق نہیں تُو یہ کہے کہ،
یار اب ہم نہ رہے،
ایک تیری۔۔۔یاری کاہی۔۔۔
ساتوں جنم۔۔۔حقدار ہوں میں۔۔۔
“تیرا یار ہوں میں”
۔
“تیرا یار ہوں میں”
۔
“تیرا یار ہوں میں”
التمش گاتے ہوئے سٹیج سے اترتا ہوا مشال کے پاس آیا۔۔۔پھر آہستگی سے ایک ہاتھ سے دائیں کان کی لُو پکڑ کر مشال سے کہا
معاف کردے مشی۔۔۔نہیں رہا جارہا تجھ سے بات کیے بنا۔۔۔
التمش نے منت سے کہا تو مشال نے کچھ دیر یونہی اسے دیکھا پھر آنسو پوچھ کر اسکا ہاتھ کان پر سے ہٹایا اور مسکرانے لگی۔۔۔اسے مسکراتا دیکھ التمش کو یوں لگا جیسے اسے ساری خوشیاں ایک ساتھ دے دی گئیں ہوں۔۔۔
ہمیں غرور ہے آپکی دوستی پر التمش۔۔۔
مشال نے مسکراتے ہوئے التمش سے کہا تو حیدر ولا کے مکین نے انکی صلح دیکھتے ہوئے خوشی سے تالیاں بجائیں۔۔
جبکہ وجدان نے ناگواری سے یہ منظر دیکھا۔۔۔کتنی مشکل سے تو دونوں میں ناراضگی ہوئی تھی۔۔۔۔اب پھر صلح ہوتے دیکھ اسکا خون جل رہا تھا۔۔۔۔۔وہ غصے میں وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
دوسری طرف حسد اور غصے کی زیادتی سے نیہا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔جنہیں وہ بے دردی سے رگڑتے ہوئے واشروم کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
واش بیسن پر آکر اس نے دو تین چھینٹے پانی کے اپنے چہرے پر مارے۔۔۔۔
پھر اپنے چہرے کو وہاں پر نسب آئینے میں دیکھا
بہت ہوا مشال ایجاز۔۔۔بہت برداشت کرلی تم دونوں کی دوستی۔۔۔۔۔اب دیکھنا نیہا میر کیا کرتی ہے۔۔۔لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کی معاشرے میں تب تک عزت ہوتی ہے،جب تک وہ اپنی عزت بچا کر رکھتی ہیں۔۔۔۔نہ تمہاری عزت کے پر خچے اڑائے میں نے۔۔۔۔پھر دیکھتی ہوں کہاں گیا التمش اور اسکی دوستی۔۔۔۔بہت مانتا ہے نا التمش تمہیں۔۔۔ایک دفعہ داغدار ہوجاؤ تم۔۔۔پھر نظر بھی نہیں ڈالے گا تم پر۔۔۔
اس نے تلخی سے خود کو دیکھتے ہوئے کہا
بہت غرور ہے نا تمہیں مشال۔۔۔اس التمش کی دوستی پر۔۔۔اب تم دیکھتے جاؤ۔۔۔ایسا پھوٹ ڈالوں گا دونوں کی دوستی میں کہ ایک دوسرے کی شکلوں سے بھی نفرت کرو گے تم دونوں۔۔۔۔۔
وہ کار ڈرائیور کرتا ہوا مسلسل تلخی سے سوچ رہا تھا تبھی اسکے دماغ میں پارٹی میں نیہا سے ہوئی بات آئی،جس میں وہ اسے نور کو شک ہونے پر ذلیل کررہی تھی۔۔۔
پہلے اس چھوٹی بکری کا کچھ انتظام کرنا پڑے گا۔۔۔اس سے پہلے یہ کسی کے سامنے بھی منہ کھولے۔۔۔۔اسکا منہ بند کرنا پڑے گا۔۔۔
نور کے بارے میں سوچتے ہی وجدان کی آنکھوں میں اسکا نازک سراپا گھوم گیا۔۔۔۔ایک کمینگی سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی آج شام تیار ہو جانا۔۔۔
التمش نے مشال کے روم میں آکر کہا
پر کیوں؟
مشال نے حیرت سے پوچھا
آج نیہا نے مجھے اپنے فام ہاؤس میں پارٹی دی ہے۔۔۔کہہ رہی تھی۔۔برتھڈے بھول گئی تھی۔۔۔اسی لیے۔۔۔اور اس نے تجھے بھی انوائیٹ کیا ہے سو تیار رہنا۔۔۔۔اور میرے لیے کوئی کیجول ڈریس بھی نکال دینا۔۔۔۔میں آفس سے آکر چینج کرونگا۔۔۔
التمش کے بولنے پر مشال نے اثبات میں سر ہلایا
اسکی برتھڈے کو گزرے ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔۔۔تبھی کیفے پر نیہا نے کوفی پیتے ہوئے التمش کو اپنے فام ہاؤس پر انوائیٹ کیا۔۔پہلے تو التمش نے آفس کے کام کی وجہ سے منع کردیا۔۔۔مگر اس کے ضد کرنے پر مان گیا۔۔۔تو نیہا نے مشال کو بھی ساتھ لانے کا کہا
نور اپنے روم میں بیٹھی کوئی ناول پڑھ رہی تھی جب نیہا کی کال اسکے نمبر پر آئی۔
ہیلو بھابھی۔۔
نور نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
ہیلو نور۔۔۔کیا کررہی ہو؟
نیہا نے میٹھے لہجے میں پوچھا
کچھ نہیں بھابھی۔۔
نور ایکچولی میں نے تمہیں ایک کام سے کال کی تھی۔۔۔
نیہا نے کہنے پر نور نے ناول سائیڈ پر رکھا
جی بولیں بھابھی۔۔۔
نور تمہیں وجدان کے خلاف کوئی ثبوت چاہئیے نا۔۔
نیہا نے نرمی سے پوچھا
جی بھابھی۔۔
نور نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا
تو مجھے اسکے خلاف ایک کلو ملا ہے۔۔۔وہ ابھی کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔میں نے چھپ کر اسکی باتیں سنی۔۔۔۔۔وہ اب سے آدھے گھنٹے بعد کسی کو ماؤنٹ ہوٹل کے روم نمبر سیون میں بلارہا تھا۔۔۔
میں تمہیں یہ بات صرف اس لیے بتارہی ہوں کہ۔۔۔۔شاید وہاں جاکر تمہیں کوئی ثبوت مل جائے اسکے خلاف۔۔۔اگر تم ابھی وہاں جاسکتی ہو تو چلی جاؤ۔۔۔
نیہا نے رازدارانہ انداز میں نور کو بتایا تو نور نے بوکھلا کر ٹائم دیکھا۔۔۔رات کے نو بج رہے تھے۔۔
بھابھی اس وقت میں کیسے کہیں جاسکتی ہوں۔۔
نور نے پریشانی سے کہا
نور۔۔۔چندا میں خود چلی جاتی پر آج میں نے التمش کو فام ہاؤس پر برتھڈے ٹریٹ دی ہے۔۔۔میرا وہاں ہونا ضروری ہے۔۔۔اب یہ تم پر ہے نور۔۔۔۔کیونکہ مشال کی پوری لائف کا سوال ہے۔۔۔۔
نیہا نے اسے جزبز کا شکار چھوڑ کر کال کاٹ دی۔
نور نے کنفیوز ہوتے ہوئے ٹائم دیکھا پھر سوچا جائے یا نہیں۔۔تبھی نیہا کے الفاظ اسکے ذہن میں گھومے
مشال آپی کی لائف کا سوال ہے۔۔۔
اس نے خود سے کہا
اتنی رات کو امی اکیلے جانے بھی نہیں دینگی۔۔۔کیا بہانہ بناؤں۔۔۔
وہ ٹینشن سے سوچنے لگی۔
پھر کچھ سوچ کر اپنا یونی بیگ اٹھا کر باہر آئی۔۔۔
لاؤنج میں ریحانہ بیگم،عالیہ بیگم اور بی جان بیٹھیں تھیں،التمش اور مشال ان سے مل کر نکل ہی رہے تھے۔۔
لڑکی تم کدھر چلیں اتنی رات کو؟
آمنہ بیگم نے اسے بیگ سمیت دیکھا تو پوچھا انکے بولنے پر ریحانہ بیگم اور عالیہ بیگم نے نور کو دیکھا تو التمش مشال بھی اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
بی جان۔۔۔وہ ایک دوست کے گھر جارہی ہوں۔۔۔آج رات گروپ اسٹڈی کرنے۔۔
نور نے ہچکچاتے ہوئے کہا
مشال کا ائیر کمپلیٹ ہونے کے بعد سے تو یونی کی شکل بھی نہیں دیکھی تم نے اور اب گروپ اسٹڈی کرنی ہے۔۔۔۔دوستوں کے گھر جاکر۔۔۔وہ بھی اتنی رات کو۔۔
ریحانہ بیگم نے اسے ڈپٹا
امی جانے دیں پلیز۔۔
نور نے منت سے کہا
پاگل ہوئی ہو لڑکی۔۔۔۔اتنی رات کو جاؤگی۔۔۔وہ بھی اکیلے۔۔۔نہیں۔۔۔۔ایسا کرو ابھی چھوڑدو۔۔۔صبح چلی جانا۔۔
آمنہ بیگم کو بھی اسکا رات کو جانا مناسب نہ لگا انکی بات پر نور روہانسی ہوگئی۔
ارے یار۔۔۔آپ لوگ اس بے چاری کو رلارہے ہیں۔۔۔۔ایسا کرتے ہیں۔۔۔نور تم ہمارے ساتھ چلو۔۔۔تمہاری فرینڈ کے گھر تمہیں ڈراپ کرکے میں اور مشی پارٹی میں چلے جائیں گے اور آتے ہوئے تمہیں پِک کر لیں گے۔۔۔
التمش نے رسانیت سے حل بتایا جس پر سب متفق ہوئے پر نور بوکھلاگئی۔۔۔
نہیں تامی بھائی۔۔۔دراصل وہ۔۔۔ہاں۔۔۔میری فرینڈ مجھے سٹاپ سے پک کرے گی۔۔۔تو یہاں سے سٹاپ زیادہ دور نہیں۔۔۔میں پیدل چلی جاؤں گی۔۔۔
نور نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
التمش صحیح کہہ رہے ہیں نور۔۔۔
مشال بولنے لگی ہی تھی کہ التمش کے فون پر نیہا کی کال آگئی۔
ہاں بولو،
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
تامی کہاں ہوں۔۔۔۔سب ویٹ کررہے ہیں تم لوگوں کا۔۔۔
نیہا کے کہنے پر التمش نے اسے جلدی آنے کا کہہ کر فون رکھا
بھائی۔۔دیکھیں آپ لوگ بھی لیٹ ہورہے ہیں۔۔میری وجہ سے
۔۔میں کہہ رہی ہوں نا کہ میں پیدل چلی جاؤں گی۔۔۔آپ لوگ ٹینشن مت لیں۔۔۔
نور نے پھر کہا تو التمش سوچ میں پڑ گیا تبھی اسکی نظر سب سے لاتعلق ہو کر اوپر جاتے ہوئے ہادی پر پڑی
اوئے سُن۔۔۔
التمش کے پکارنے پر ہادی نے رک کر منہ بگاڑا،ساری باتیں سن تو چکا تھا وہ۔۔۔اب جانتا تھا وہ کیا بولنے والا ہے۔۔
ہادی۔۔۔
التمش نے پھر پکارا
بھئی۔۔۔کیا ہے بھائی۔۔۔اب یہ مت کہنا کہ میں جاؤں اسے چھوڑنے۔۔۔
ہادی نے مڑ کر چڑتے ہوئے کہا
تُو ہی جائے گا اسے چھوڑنے اور منہ مت بگاڑ۔۔۔گدھا لگ رہا ہے۔۔۔صرف اسٹاپ تک چھوڑدے۔۔۔۔وہاں سے اسکی فرینڈ پک کر لے گی۔۔۔
التمش کے کہنے پر ہادی نے کھاجانے والی نظروں سے نور کو دیکھا
اور ہاں جب تک نور کی فرینڈ نہ آجائے۔۔۔واپس مت آنا۔۔۔رات ہورہی ہے،اکیلے ڈرے گی۔۔
التمش نے سنجیدگی سے کہا پھر نور کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے ہادی کے ساتھ بھیجا پھر خود مشال کو لے کر نکل گیا۔
تمہارے ساتھ مسںٔلہ کیا ہے۔۔۔اس وقت کونسی دوست کے گھر جاکر پڑھائی ہوتی ہے۔۔۔اور دوست بھی پتا نہیں کیسی ہے کہ اب تک نہیں آئی۔۔۔۔
ہادی نے جھنجھلا کر نور کو کہا
وہ لوگ دس منٹ سے سٹاپ پر ہادی کی کار میں بیٹھے تھے پر نور کی کوئی فرینڈ اب تک وہاں نہیں آئی تھی۔
تو میں نے تمہیں کہا ہے کہ یہاں پر میرے ساتھ اسکا ویٹ کرو۔۔۔
نور نے بھی چڑتے ہوئے کہا
میں تو تامی بھائی کی وجہ سے تمہارے ساتھ ویٹ کررہا تھا۔۔۔پر اب تم نے خود کہہ دیا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔اب ایسا کرو اترو میری کار سے۔۔۔اور اکیلے ویٹ کرو اپنی فرینڈ کا۔۔۔۔۔مجھے اب گھر جاکر آرام کرنا ہے۔۔۔
ہادی کو جیسے موقع مل گیا اس سے جان چھڑانے کا
اسکی بات پر نور نے افسوس سے اسے دیکھا کہاں التمش اتنا کئیرنگ اور کہاں یہ۔۔۔۔
نور اسکی کار سے اتری پھر سوچا کیوں نا ہادی کو سب بتاکر اسکے ساتھ ہی چلے وہ مڑی ہی تھی واپس کار کی طرف کہ ہادی فوراً کار بھگا لے گیا۔۔۔نور نے خود سے دور جاتی اسکی کار کو ایک نظر دیکھا پھر سر جھٹک کر نیہا کے بتائے گئے ہوٹل میں گئی۔۔۔
وہاں جاکر ریسیپشن پر اس نے روم نمبر سیون پتا کیا۔۔۔۔۔یہ سب کرتے اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔۔۔۔کچھ بہت غلط۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹی میں پہنچ کر التمش کو نیہا پر شدید غصہ آیا اور مشال سے شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔۔کیونکہ وہاں سب ہی لبرل تھے۔۔۔لڑکیوں نے کافی باریک کپڑے پہنے تھے۔۔۔۔جس سے انکا آدھا جسم جھلک رہا تھا۔۔۔۔نیہا نے بھی کچھ اسی طرح کی ڈریسنگ کی تھی۔۔۔۔اسکے برعکس مشال نے لمبی کامدار قمیض پر ہلکے نیلے رنگ کا دوپٹہ شانوں پر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔وہ وہاں کی باقی لڑکیوں سے کافی مختلف نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔وہاں ہر طرح کی خراب مشروبات کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔مشال کو یہ سب بہت برا اور عجیب لگ رہا تھا۔۔۔۔مگر التمش کی وجہ سے وہ خاموش تھی۔
سب نے التمش کو وش کیا جس پر وہ سنجیدگی سے جواب دیتا رہا۔۔۔۔وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے التمش مشال کو ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر گھوم رہا تھا۔۔۔
نیہا نے اسکی حرکت نوٹ کی تو اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔
تبھی ایک لڑکی جو مشال کے ساتھ کھڑی تھی۔۔اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹا اور مشال کے کپڑوں کو داغدار کرگیا۔۔
آئی ایم سو سوری۔۔۔۔پتا نہیں کیسے گرگیا میرے ہاتھوں سے۔۔۔سو سوری۔۔
اس نے مشال سے عاجزی سے کہا تو مشال نے اسے ٹال کر واشروم کا راستہ پوچھا تو وہ اسے اوپر جانے کا اشارہ کرنے لگی۔
مشی رک میں بھی چلتا ہوں۔۔
التمش اس کے ساتھ جانے لگا
کم آن تامی وہ بچی تھوڑی نہ ہے جو ہر جگہ ساتھ ساتھ جارہے ہو۔۔۔۔مشال وہ اوپر روم ہے۔۔۔۔وہیں پر واشروم میں جاکر واش کرلو۔۔۔
نیہا نے التمش کو بول کر مشال سے مسکراکر کہا تو مشال اوپر روم میں چلی گئی۔۔۔
اسکے جانے کے بعد اس لڑکی نے نیہا کو خوشی سے آنکھ ماری پھر نیہا کے دوستوں نے التمش کو اپنی باتوں میں الجھانا شروع کیا تو نیہا نے تین لڑکوں کو اشارہ کیا۔۔اسکا اشارہ سمجھ کر وہ لوگ خباثت سے ہنستے ہوئے اس روم میں جانے لگے جہاں تھوڑی دیر پہلے مشال گئی تھی۔۔۔
کیا ہوا ریحانہ۔۔۔اب تک یہاں بیٹھی ہو۔۔۔
عالیہ بیگم اپنے کمرے میں جارہی تھیں کہ ان کی نظر لاؤنج میں بیٹھی ریحانہ بیگم پر گئی تو انہوں نے انکے پاس آکر پوچھا
پتا نہیں بھابھی۔۔۔۔دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔مشال کی تو اتنی فکر نہیں ہورہی۔۔۔۔کیونکہ اسکے ساتھ تامی ہے۔۔۔پر نور اکیلی گئی ہے۔۔۔عجیب واہمے ستارہے ہیں مجھے۔۔۔
ریحانہ بیگم نے اپنی پریشانی بیان کی۔
اوہو ریحانہ۔۔۔اتنا مت سوچا کرو۔۔۔بچی ہے پڑھنے گئی ہے دوست کے گھر۔۔۔آجائے گی۔۔۔۔تم پریشان مت ہو ورنہ پھر بی پی بڑھ جائے گا تمہارا۔۔۔
عالیہ بیگم نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا
بھابھی نور فون بھی تو لے کر نہیں گئی نا۔۔۔۔ورنہ کال کر کے تسلی کر لیتی۔۔۔۔عجیب لاپرواہ لڑکی ہے۔۔۔
انہوں نے پھر پریشانی سے کہا
کچھ نہیں ہوتا اسے۔۔۔۔فلحال تم اپنا بی پی بڑھانا بند کرو اور جاؤ۔۔۔روم میں جاکر سو۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔آجائے گی۔۔۔
عالیہ بیگم نے انہیں تسلی دی پھر زبردستی انہیں روم میں بھیجا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال واشروم سے کپڑے صاف کر کے نکلی تو دنگ رہ گئی۔۔۔سامنے تین لڑکے روم لوک کیے اس پر نظریں جمائے کھڑے تھے۔۔۔۔انہیں دیکھ کر مشال کو عجیب محسوس ہوا۔۔۔
وہ ان لوگوں کو اگنور کرتی باہر جانے لگی۔۔۔تبھی ایک لڑکے نے اسکی سرخ و سفید کلائی پکڑی۔۔
یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔چھوڑیے ہمارا ہاتھ۔۔۔
مشال کی جان ہوا ہوگئی اسکی حرکت پر اس نے بوکھلاتے ہوئے کہا
ارے جانِ من چھوڑنے کے لیے تھوڑی نا پکڑا ہے۔۔۔
اس لڑکے نے لوفرانہ انداز میں کہا پھر مشال کی نازک کلائی کو جھٹکتے ہوئے اسے بیچ میں کھڑا کیا۔۔
کیا کررہے ہیں آپ لوگ۔۔۔دیکھیے۔۔۔ہمیں جانے دیجیے۔۔۔پلیز۔۔
اب مشال کو ان تینوں سے وحشت ہونے لگی اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔۔۔۔اس نے روہانسی ہوکر کہا
تمہیں جانے دیا تو ہمارا کیا ہوگا۔۔۔کیوٹی پائی
اس لڑکے نے کہتے ساتھ مشال کو دھکا دیا اور اسکا ڈوپٹہ گلے سے اتار دیا
مشال کے منہ سے زور دار چیخ نکلی مگر باہر بیک پر تیز آواز میں میوزک لگنے کی وجہ سے اسکی آواز باہر تک نہ پہنچ سکی۔۔
آپ۔۔۔لوگوں کو اللہ کا واسطہ۔۔۔ہمیں جانے دیں۔۔۔
مشال نے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا اور جس لڑکے کے ہاتھ میں اسکا دوپٹہ تھا اس سے اپنا دوپٹہ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے وہ دوپٹہ دوسرے لڑکے کی طرف اچھال دیا۔۔۔
بے بی۔۔۔یہاں سے لے لو۔۔
دوسرے لڑکے نے اسکے دوپٹے کو ہاتھوں میں لپیٹتے ہوئے ہنس کر کہا تو مشال اور زوروں سے رونے لگی۔۔۔
اس سے پہلے وہ دوپٹہ لینے کے لیے پھر اپنا ہاتھ بڑھاتی،ان میں سے ایک لڑکے نے اسے بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔مشال چیخ کر روتے ہوئے پیچھے سرکنے لگی مگر ایک لڑکے نے پھرتی سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے لگائے تو دوسرے نے اسکے پیروں کو دبوچا۔۔۔۔جبکہ تیسرا لڑکا اس پر جھکنے لگا۔۔۔۔مشال کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی۔۔۔اسنے شدت سے روتے ہوئے اس وقت اپنے لیے موت مانگی۔۔۔۔تبھی روم کا دروازہ دھاڑ کی آواز سے کھلا۔۔۔۔اور جو لڑکا اس پر جھکنے لگا تھا بوکھلا کر پیچھے ہٹا۔۔۔
التمش نیہا سے بات کرتے ہوئے بار بار اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔مشال کو گئے ہوئے ٹائم ہوگیا تھا اور وہ اب تک نیچے نہیں آئی تھی۔۔۔اسے ٹینشن ہونے لگی۔۔۔نیہا مستقل اسے باتوں میں لگانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔مگر اب التمش کو گڑبڑ محسوس ہوئی۔۔۔اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا۔۔۔۔بس اب یہیں تک اس کی برداشت تھی۔۔۔وہ اچانک سے اپنے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھانے لگا۔۔۔نیہا اسے یوں اچانک اوپر جاتا دیکھ بوکھلا کر اسے پکارتے ہوئے اسکے پیچھے جانے لگی۔۔
مگر التمش اسکے پکارنے کو نظر انداز کرتا ہوا اوپر تیزی سے گیا۔۔۔اسکا دل گھبرا رہا تھا۔۔۔جس روم میں مشال گئی تھی اس روم کے گیٹ پر وہ پہنچا ہی تھا کہ اسے مشال کے چیخنے کی آواز آئی۔۔۔اس نے جلدی سے ناب گھمایا پر دروازہ لوک دیکھ کر اسکا صبر جواب دے گیا۔۔۔۔اس نے زور سے لات ماری تو دھاڑ سے گیٹ کھلا۔۔
اندر کا منظر دیکھ کر التمش کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔اسکی آنکھوں میں سرخائی اتر گئی۔۔۔۔ایک لڑکے نے مشال کے ہاتھ کو جبکہ دوسرے نے اسکے پیر کو جکڑا ہوا تھا۔۔۔تیسرا لڑکا جو اس پر جھکنے لگا تھا التمش کو دیکھ کر بوکھلاتے ہوئے پیچھے ہٹا۔۔۔۔التمش سرخ آنکھوں سمیت ان کی طرف بڑھا اور مکوں لاتوں اور گھونسوں سے ان کی درگت بنانے لگا۔۔۔۔جبکہ نیہا بوکھلاتے ہوئے التمش کو رکنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
ایک لڑکے نے التمش کو پیچھے سے پکڑا تو التمش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کیا پھر اسی ہاتھ کو مروڑ کر سائیڈ ٹیبل پر سے لیمپ اٹھا کر اسکے سر پر مارا۔۔۔وہ لڑکا بلبلا اٹھا اٹھا۔۔۔پھر التمش نے اسی لیمپ کی تار سے دوسرے لڑکے کی گردن لپیٹی اور زور لگا کر تار کو کھینچا،اس پر جیسے جنون سوار ہوگیا تھا۔۔۔۔تکلیف کی شدت سے وہ لڑکا تڑپنے لگا۔
تامی سٹاپ اٹ!
نیہا نے التمش کا ہاتھ تار پر سے ہٹانے کی کوشش کی تو التمش نے شعلہ برساتے نظروں سے نیہا کو دیکھا وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی تو التمش اس لڑکے کو جھٹکے سے چھوڑتا ہوا تیسرے لڑکے کو پکڑنے لگا جو روم سے باہر بھاگ رہا تھا۔اسکا سر التمش نے دیوار سے مارا تو وہ کراہتے ہوئے نیچے گرا۔۔۔پھر بھی التمش کا دل نہ بھرا تو اس نے پانی سے بھرا جگ اٹھا کر اسکے سر پر توڑ دیا۔۔۔اسکے سر سے تیزی سے خون نکلنے لگا۔
وہ تینوں نیچے پڑے کراہ رہے تھے۔۔۔کہ التمش کی مشال پر پڑی جو بیڈ پر بیٹھی دونوں بازوں سے خود کو لپیٹ کر ہچکیوں سے رورہی تھی۔۔التمش نے اسکا دوپٹہ اٹھایا اور اسکے پاس آکر اسے اوڑھایا پھر اچانک اسے اپنے گلے لگا گیا۔۔۔مشال اس سے لپٹ کر اور رونے لگی۔۔۔جبکہ التمش نے ایک ہاتھ اسکے بالوں پر رکھ کر اور دوسرے ہاتھ سے اسکی نازک کمر تھام کر اسے خود سے اسطرح بھینچ لیا۔۔۔جیسے ڈر ہو کہ کوئی مشال کو اس سے چھین کر نہ لے جائے۔۔
یہ منظر نیہا کے لیے نہایت نفرت انگیز تھا۔۔۔۔اسکا چہرہ حسد سے سرخ ہوگیا۔۔۔۔۔اس نے بے بسی سے اپنی مٹھیاں بھینچی۔۔۔اور روم سے باہر چلی گئی۔۔۔
مشال روتے روتے بے ہوش ہوگئی تو التمش نے گھبرا کر اسکا گال تھپتھپایا مگر اس کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔۔۔التمش اسے گود میں اٹھاتا ہوا دوسرے روم میں لے آیا اور وہاں بیڈ پر لٹا کر اسکا ہاتھ سہلانے لگا۔۔۔
پھر پانی کے کچھ چھینٹے اسکے چہرے پر مارے تو وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھی پھر آس پاس دیکھنے لگی کہ اسکی التمش پر نظر پڑی۔۔۔وہ پھر سے رونے لگی۔۔
مشی۔۔۔۔بس۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔۔بلکل ٹھیک ہے تو۔۔۔ہاں۔۔
التمش نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھامتے ہوئے کہا تو مشال نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
نہیں۔۔۔الت۔۔۔مش۔۔۔وہ۔۔۔ان لوگوں نے ہمیں یہاں چھوا۔۔۔ہمارا دوپٹہ کھینچا۔۔۔ہمیں بیڈ پر۔۔
وہ روتے ہوئے رک رک کر بتانے لگی تو التمش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
ششش۔۔۔کہا نا کچھ نہیں ہوا تیرے ساتھ۔۔۔
اسکا رونا التمش کو اذیت میں مبتلا کررہا تھا تبھی اس نے سنجیدگی سے کہا تو مشال روتے ہوئے جھٹکے سے اسکے گلے لگ گئی۔۔۔اسکی حرکت پر التمش کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔الگ ہی فیلینگس ہورہی تھیں التمش کی اس وقت۔۔۔۔اس نے آہستگی سے مشال کے گرد بازو حمائل کردیے۔۔۔اور اسکی پشت کو نرمی سے تھپکا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روم نمبر سیون پر پہنچ کر نور جزبز کا شکار تھی کہ اندر جائے یا نہیں۔۔۔پھر ہمت کر کے آہستگی سے ناب گھماتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔۔۔
یہاں پر تو کوئی نہیں ہے۔۔۔کہیں میں غلط پتے پر تو نہیں آگئی۔۔۔
نور نے خالی کمرے کو دیکھ کر حیرت کے عالم میں خود سے کہا
نہیں سوئیٹی۔۔۔۔تم بلکل صحیح پتے پر آئی ہو۔۔
وجدان کی آواز پر نور نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا سامنے ہی وہ چہرے پر کمینگی مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھ کر نور کے چہرے پر سے ہوائیاں اڑ گئیں۔۔
کیا ہوا لٹل گرل۔۔۔کس لیے آئی تھی یہاں پر۔۔۔۔کوئی کام تھا۔۔
وجدان نے انجان بنتے ہوئے نور سے پوچھا تو وہ بوکھلاتے ہوئے باہر نکلنے لگی۔۔مگر وجدان دروازہ لوک کرتے ہوئے اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
نور کا رنگ زرد پڑگیا۔۔۔وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔
مجھے جانا ہے یہاں سے۔۔
نور نے نگاہ پھیرتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا
میں نے پوچھا۔۔۔کیوں آئی ہو یہاں۔۔
اسکے اگنور کرنے پر وجدان اسکی طرف بڑھتے ہوئے سختی سے پوچھنے لگا
آپ کی اصلیت جاننے۔۔۔کہ آپ جو دکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہے بھی کہ نہیں۔۔
اسکی حوس بھری نظروں سے نور کانپی تھی مگر پھر دلیر بنتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔جبکہ وجدان اسکی دلیری پر تلملاتا ہوا اسکی طرف بڑھا اور اسکے ہاتھوں کو پکڑتا ہوا اسے دیوار سے لگا گیا۔
بہت شوق ہے نا تمہیں میری اصلیت جاننے کا۔۔۔تو سنو میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔میں تمہارے اس تامی بھائی اور مشال آپی کی لائف زہر سے بھی کڑوی بنانا چاہتا ہوں۔۔۔
وجدان نے زہر خندہ لہجے میں کہا اسکے لہجے میں اتنی نفرت نور کو چونکا گئی اسنے وجدان کو دھکا دے کر خود سے دور کیا
ذلیل انسان۔۔مجھے پہلے ہی شک تھا تم پر۔۔۔اب دیکھو میں کیا کرتی ہوں۔۔۔میں تامی بھائی کو سب بتاؤں گی پھر دیکھنا وہ تمھارا کیا حشر کرینگے۔۔۔
نور نے اسے دھمکایا جس پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
سوئیٹ ہارٹ پہلے تم اپنے حشر کی پرواہ کرو۔۔۔
کہتے ساتھ وجدان نے نور کی نازک کمر کو اپنے بازو میں دبوچا اور اسے قریب کرتے ہوئے اسکے لبوں پر جُھکا۔۔۔۔
نور کی آنکھ پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔وہ انسان کس حد تک گرا ہوا تھا۔۔۔۔اس نے تڑپ کر وجدان کی پشت پر مکے برسائے مگر وہ یونہی جھکا رہا
پھر جھٹکے سے اسے چھوڑا تو نور گرتے گرتے بچی۔۔
بے شرم انسان۔۔۔۔کتنے نیچ ہو تم۔۔۔
نور نے رو کر چیختے ہوئے کہا پھر وجدان کو نوچنے لگی مگر وجدان نے اسے پھر اپنے قریب کیا۔
چھوڑو مجھے چھوڑو۔۔۔
نور نے چیختے ہوئے وجدان کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی
کیسے چھوڑ دوں سوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔بہت دن سے نظر تھی۔۔۔آخر کا ہاتھ آہی گئی۔۔۔
وجدان نے اسکے دونوں ہاتھ کو قابو کیا۔۔۔پھر اسکا دوپٹہ گلے سے اتار کر دور پھینکا۔۔۔نور کو لگا اب وہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔۔۔
اس نے وجدان کی گردن پر اپنے ناخن گاڑ دیے۔۔۔۔جس سے وجدان کی گرفت تھوڑی ڈھیلی ہوئی۔۔۔۔موقع غنیمت سمجھ کر نور نے اسے دھکا دیا۔۔۔اور دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔۔مگر سیکنڈ کے دوسرے حصوں میں وجدان نے اسکا نازک بازو پکڑا۔۔۔اور اسے بیڈ پر پٹخا۔۔۔
وجدان بھائی پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔مجھے چھوڑ۔۔۔دیں۔۔
نور نے پیچھے سرکتے ہوئے وجدان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
نہ۔۔۔نہ۔۔۔لٹل گرل۔۔۔میں نے بہت بار وارننگ دی تھی تمہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔مگر نہیں۔۔۔تمہیں تو شوق چڑھا تھا نا میری جاسوسی کا۔۔۔۔اب کرو جاسوسی۔۔۔کرو۔۔۔
وجدان نے کہتے ساتھ ہی نور کے پیر کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔پھر اسکے کندھے پر سے قمیض پھاڑدی۔۔۔۔نور کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔
نہیںیں۔۔۔۔پلیز۔۔۔میں آئیندہ ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔آپ جو بولیں گے وہ کروں گی۔۔۔۔پر پلیز مجھے چھوڑ دیں۔۔
نور نے بلکتے ہوئے کہا اسے اس وقت صرف اپنی عزت بچانی تھی جو اسے اس انسان نما حیوان کے ہاتھوں جاتی ہوئی لگ رہی تھی۔۔
سوئیٹ ہارٹ میں تمہیں کچھ کرنے لائق چھوڑونگا تو تم کچھ کروگی نا۔۔۔
وجدان نے خباثت سے ہنستے ہوئے کہا پھر اسکی گردن پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔اسکے لمس سے نور تڑپ اٹھی۔۔۔اسکے حواس معطل ہونے لگے۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتی کہ وجدان کی آنکھوں میں مشال کا معصوم چہرہ گھوم گیا۔۔۔۔وہ جھٹکے سے نور سے دور ہوتے ہوئے اٹھا۔
پھر کچھ دیر یونہی خاموشی سے کھڑا رہا۔۔۔۔اسکی کچھ عجیب فیل ہورہا تھا۔۔۔
یہ کیا ہورہا ہے مجھے؟
اس نے حیرت کے عالم میں خود سے کہا
ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ سب پہلی دفعہ کر رہا ہو۔۔۔وہ تو عادی تھا ان سب کا۔۔
وجدان غلط نہیں ہیں۔۔۔۔بس ان سے کچھ چیزیں ایسی ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں غلط ہوجاتے ہیں۔۔۔
اسکے ذہن میں مشال کے پر یقین الفاظ گونجے۔
وہ بھروسہ کرتی ہے مجھ پر۔۔۔میں اسکی بہن کے ساتھ کیسے۔۔۔
وجدان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بول رہا ہے۔۔
مجھے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔
اس نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا مگر وہ بے وقوف نہ تھا جو اسے ایسے ہی چھوڑ دیتا۔۔۔۔نور کا منہ بند کروانے کے لیے اسے کچھ تو کرنا ہی تھا۔۔۔
تبھی اسکے شیطانی دماغ میں ایک ترکیب آئی۔
اس نے ایک نظر نور کو دیکھا جو بیڈ پر گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے ہلکی آواز میں کچھ بڑبڑارہی تھی۔۔۔
اسنے جھک کر اسکے دوسرے کندھے پر سے بھی قمیض پھاڑی پھر اسکے دونوں ہاتھ پھیلائے۔۔
اب اسنے جیب سے اپنا موبائل نکالا اور کیمرہ آن کیا۔۔
اور نور کی مکمل ویڈیو بنانے لگا۔۔۔وہ چاہتے ہوئے بھی اسے نہیں روک پارہی تھی۔۔۔ہاتھ پاؤں جیسے مفلوج ہوچکے تھے۔۔۔بس خاموشی سے اپنی عزت کو لٹتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ویڈیو بنانے کے بعد اس نے فون جیب میں رکھا پھر نور کو بالوں سے دبوچ کر اسکا سر اپنی طرف کیا۔۔۔نور آدھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
لٹل گرل۔۔۔تم پر ترس کھاکر تمہیں بخش رہا ہوں۔۔۔مگر یاد رکھنا۔۔۔ان حسین پلوں کو میں نے اپنے موبائل میں قید کرلیا ہے۔۔۔۔تو سوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔کسی کے سامنے بھی منہ کھولنے سے پہلے اتنا سوچ لینا کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی ویڈیو اپلوڈ ہونے میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں۔۔۔۔
اسکی بات پر نور کی آنکھوں سے آنسو روانی میں بہنے لگے۔۔۔
اگر چاہتی ہو کہ تمہاری عزت کا تماشا نہ بنے۔۔۔سو بی کئیر فل۔۔۔
وجدان کہتے ساتھ پھر اسکے لبوں پر جھکا مگر اس بار نور بغیر مزاحمت کیے یوں ہی خاموش رہی جیسے بے جان ہوگئی ہو۔۔۔۔۔
وجدان نے پھر سے اسے بیڈ پر دھکا دیا اور ایک کمینگی مسکراہٹ اس پر اچھالتا ہوا وہاں سے چل دیا۔۔۔۔
نور کے ہونٹوں کے کناروں پر سے لکیر کی صورت میں خون نکلا اس نے اذیت سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔بہن کی زندگی بچانے کے چکر میں وہ اپنی ہی عزت گنوا چکی تھی۔۔۔۔۔وہ پچھتارہی تھی۔۔۔کاش کہ وہ اکیلے نہ آتی۔۔۔۔کاش۔۔۔
عزت لٹ جانے کا احساس بہت تکلیف دہ تھا۔۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا۔۔۔وہ صحیح سے رو بھی نہیں پارہی تھی۔۔۔لبوں پر جیسے کفل لگ گیا ہو۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
