Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 27)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 27)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
رات کو صوفے پر بیٹھا وہ خاموشی سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جو سلیپنگ پِل کے زیرِ اثر ابھی تک سورہی تھی۔۔۔۔آج کانچ سے جس بری طرح اسکے پیر پر کٹ لگا تھا۔۔۔۔اگر وہ لنچ پر نہ آتا تو یقیناً مشال اسی طرح بیٹھے رہتی۔۔۔۔بے ساختہ اسے شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔۔۔وہ ایسا تو نہ تھا۔۔۔۔اتنا ظالم۔۔۔پہلے تو وہ مشال کو زرا سی کھروچ بھی آنے نہ دیتا تھا پر اب۔۔۔۔
شام کو وہ سفیان سے ملا تھا تبھی اس نے التمش کو اپنی بھابھی کا بتایا جو اسکے بھائی سے صرف زیادہ بحث ہونے کی وجہ سے لڑ کر میکے چلی گئی تھی اور اب طلاق کا مطالبہ کرنے لگی تھی۔۔۔تب اسکے ذہن میں اچانک مشال کا خیال آیا تھا۔۔۔۔وہ تو اسکی دی ہوئی ہر اذیت برداشت کرتی تھی۔۔۔۔پر بھی آگے سے کچھ نہیں بولتی۔۔۔۔
کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور بیڈ پر مشال کے برابر میں ہی آکر بیٹھ گیا۔۔۔اسکا بکھرا حلیہ دیکھ کر التمش کے گلے میں گلٹ سی ابھری۔۔۔۔وہ لڑکی سادگی میں بھی کتنی پرکشش اور زندگی سے بھرپور لگتی تھی۔۔۔۔اور اب اسکا کیا حشر کر کے رکھ دیا تھا التمش نے۔۔۔۔چہرے پر انگلیوں کے نشانات پر آہستگی سے اس نے ہاتھ پھیرا۔۔۔پھر ہونٹ کے سُجے ہوئے کنارے پر انگوٹھے سے سہلایا۔۔۔وہ لڑکی زرا سی تکلیف میں رونے والی اب اسکی دی ہوئی اتنی اذیتیں چپ چاپ برداشت کرتی تھی۔۔۔وہ تو اسکے لیے کوئی ایسا لڑکا ڈھونڈنا چاہتا تھا جو اسے ہمیشہ خوش رکھے پر اب اس نے خود کیا کِیا تھا مشال کے ساتھ۔۔۔۔التمش نے دکھ سے اپنی آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔۔
اس نے آہستہ سے جھک کر مشال کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔۔پھر اپنی کشادہ پیشانی اس سے ٹکاتے ہوئے التمش نے آنکھیں موند لیں۔
سوری۔۔۔
اسکے لب پھڑپھڑائے تھے تبھی اپنے اوپر وزن محسوس کر کے مشال نے کسمسا کر آنکھیں کھولی۔۔۔التمش کو خود کے اتنے نزدیک پا کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔عالمِ حیرت میں کھلی اسکی بھوری آنکھوں کو دیکھ بے ساختہ التمش نے نگاہ پھیری تھی۔۔۔
درد کیسا ہے اب؟
اس کے نرمی سے پوچھنے پر ایک اور جھٹکا لگا تھا مشال کو۔۔۔پھر جلد ہی سنبھل کر اس نے کہا
ٹھیک۔۔ہے۔۔
وہ کہہ کر اٹھنے لگی تبھی التمش نے کندھوں سے پکڑ کر اسے واپس بیٹھا دیا۔۔۔مشال ڈری تھی۔۔۔کیا پھر کوئی تکلیف دے گا وہ اسے۔۔
ابھی چلو نہیں۔۔۔تکلیف ہوگی۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہا تو مشال نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا
ہماری تکلیف کی کب سے پرواہ ہونے لگی آپ کو۔۔۔
اسکی نم آواز پر التمش نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔
بیٹھو میں۔۔۔۔کھانا لے کر آتا ہوں۔۔۔
وہ بول کر روم سے نکل گیا۔۔۔مشال نے تاسف سے اسکی پشت کو دیکھا۔۔جانتی تھی۔۔۔یہ سب کچھ دیر کے لیے ہے۔۔۔۔کیونکہ اپنے پرانے ٹون میں آنے میں وہ زرا دیر نہیں لگاتا تھا۔
کھانا اس نے باہر سے آرڈر کیا تھا۔۔۔۔اپنا اور مشال کا کھانا وہ بیڈ پر ہی لے آیا۔۔۔۔دونوں ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔۔۔بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صرف وہ کھا رہا تھا کیونکہ مشال حیرت سے اسکو خاموشی سے کھاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وہ اب تک چپ کیوں تھا۔۔۔۔کھانے کے درمیان التمش نے اچانک نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ بوکھلا کر جلدی سے کھانے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے۔۔۔۔تجھ سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔
حولدار کی سخت آواز پر وجدان نے مندی آنکھیں کھولیں
یہ صبح سویر کون تنگ کرنے آیا ہے۔۔۔
اس نے چِڑ کر سوچا پر سامنے آبایا پہنے کسی لڑکی کو آتا دیکھ اسے شدید حیرت ہوئی
کون؟
جب وہ یونہی خاموش رہی تو وجدان نے جھنجھلا کر پوچھا تبھی اس نے زرا سا نقاب ہٹایا
تم۔۔۔تم یہاں کیوں آئی ہو؟
نیہا کو دیکھ کر وجدان نے تلخی سے پوچھا
تمہاری مدد کرنے۔۔۔
اس نے مسکرتے ہوئے کہا تو وجدان نے آنکھ گھومائیں
تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔۔دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔
وجدان کے لہجے پر نیہا کی مسکراہٹ غائب ہوئی
زیادہ اکڑ مت دکھاؤ۔۔۔بھولو مت کہ میں ہی ایک ذریعہ ہوں جسکی وجہ سے تم یہاں سے آزاد ہوسکتے ہو۔۔۔
اس نے تپ کر کہا تو وجدان ہنسا
تم اور مجھے آزاد کرواؤ گی۔۔۔ویسے اسکے پیچھے بھی کوئی مطلب ہی ہوگا تمہارا۔۔۔
وجدان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا
ہاں بلکل۔۔۔تم جانتے ہو صرف ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے اب میرا۔۔۔۔مشال کی موت۔۔۔
نیہا کے رسانیت سے کہنے پر وجدان کے جبڑے بھنچے
اپنا منہ بند رکھو۔۔۔۔مشال کو زرا بھی تکلیف دی نا تو بخشوں گا نہیں تمہیں۔۔۔
وہ سرخ آنکھوں سمیت غرایا تھا
تو پھر نکل کر خود ہی کچھ ایسا کرو کہ تامی اسے چھوڑ دے۔۔۔۔کیونکہ مجھے کچھ بھی کر کے بس تامی چاہیئے۔۔۔۔
نیہا نے تلخی سے کہا
فلحال تم کچھ بھی کر کے مجھے پہلے اس جگہ سے نکالو۔۔۔
وجدان نے کوفت سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا
ہمم۔۔۔کرتی ہوں کچھ۔۔۔
نیہا بول کر چلی گئی۔۔۔جبکہ وجدان کا دماغ کوئی شیطانی منصوبہ سوچ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور۔۔
ریحانہ بیگم کے ساتھ نور بیٹھی سبزیاں کاٹ رہی تھی تبھی انہوں نے آہستگی سے اسے پکارا
جی امی۔۔
اس نے مصروف انداز میں کہا
تم اور ہادی پرسوں مشال سے ملنے گئے تھے نا۔۔
ان کے پوچھنے پر نور کا ہاتھ رکا تھا۔۔۔اس نے اپنی ماں کو دیکھا جن کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔۔۔
آپ کو کیسے پتا۔۔۔
انکو دیکھتے ہوئے نور نے پوچھا
مجھے لگا۔۔۔اب بتاؤ کہ گئے تھے نا تم دونوں۔۔۔
اب کے وہ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوئیں تھیں
جی۔۔
اس نے مختصر سا جواب دیا
کیسی ہے وہ۔۔۔
انہوں نے کچن کے داخلی حصے پر ایک نظر ڈال کر پوچھا
زندہ ہیں۔۔
اسکے ٹھنڈے لہجے پر وہ اور پریشان ہوئیں
کیا مطلب۔۔۔نور بتاؤ نا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔۔
انہوں نے ٹینشن سے پوچھا تو نور چند پل خاموش رہی پھر کہنے لگی
مجھے لگا تھا کہ آپ لوگ بھلے مشال آپی کی غلطی پر انہیں معاف نہیں کریں پر تامی بھائی ضرور انہیں جلد معاف کردیں گے اور آپی کو خوش رکھیں گے۔۔۔۔پر وہاں تو میری توقع کے برعکس ہی تھا۔۔۔۔امی۔۔۔۔تامی بھائی آپی کے ساتھ بلکل اچھا سلوک نہیں کرتے۔۔۔۔وہ رورہی تھیں۔۔۔۔انہوں نے مجھے تو کچھ نہیں بتایا پر انکے چہرے پر رقم تکلیف بتاتی ہے کہ وہ تامی بھائی کے ساتھ بلکل خوش نہیں ہیں۔۔۔۔
نور کا لہجہ بھیگا تھا جس پر ریحانہ بیگم تڑپ کر رہ گئیں۔۔۔کب تک اپنا دل پتھر بنا کر رکھتی۔۔۔روز تو انہیں وہ یاد آتی تھی پر عالیہ بیگم اور بی جان کی ناراضگی کے ڈر سے وہ چپ رہتی۔۔۔۔پر کہیں انہیں دل میں یہ بھی تسلی رہتی کہ وہ التمش کے ساتھ خوش ہی ہوگی۔۔۔۔آخر کو وہ اسکے بچپن کا دوست ہے۔۔۔لیکن ابھی نور کے زبانی سب سن کر انکا ضبط ٹوٹا تھا۔۔۔وہ ملنا چاہتی تھیں مشال سے پر مجبوراً چپ رہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح پیروں پر اٹھتی شدید تکلیف سے اسکی آنکھیں کھلیں تھیں۔۔۔سامنے التمش بیٹھا اسکے پیروں پر لگی بینڈج چینج کررہا تھا۔۔۔مشال نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔کیوں وہ ایسے کررہا تھا۔۔۔
لیٹی رہو۔۔۔
اسکے اٹھنے پر التمش نے کہا پھر بینڈج باندھنے لگا
مشال کو لگا وہ پاگل ہو جائے گی۔۔۔۔جب التمش نے اسے خود ناشتہ کروایا۔۔۔وہ بے یقینی کی کیفیت میں اسکے حرکات دیکھ رہی تھی۔۔۔۔آج وہ آفس بھی نہیں گیا۔۔۔ماسی کو دیکھ مشال کو ڈبل حیرت ہوئی۔۔۔۔گھر کی صفائی کرکے جب ماسی چلی گئی تب التمش نے کچن کا رخ کیا۔۔۔
ہم کر لیں گے۔۔۔
وہ کچن میں آستین فولڈ کرکے سبزیاں نکالنے لگا تھا جب مشال لڑکھڑا کر چلتے ہوئے اسکے پیچھے آئی تھی۔۔۔اسکے ہاتھ میں سبزیاں دیکھ مشال نے جلدی سے کہا
تمہیں میں نے بلایا ہے کیا۔۔۔
اسے دیکھ کر التمش نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا اور اسے گود میں بھر کر کمرے میں لے آیا۔
خبردار جو اٹھی یہاں سے۔۔۔
مشال کو بیڈ پر بیٹھا کر اس نے سختی سے کہا تو بےساختہ مشال نظر جھکا گئی۔۔۔
اسے وارن کر کے وہ واپس کچن میں آیا اور فون نکال کر سب سے پہلے اس نے یوٹیوب پر پاستہ کی ریسپی نکالی پھر اسکو دیکھ کر کام کرنے لگا۔۔۔۔سبزیاں جیسی تیسی کاٹ کر التمش نے چڑھائیں پھر پاستے کا پیکٹ نکالا۔۔۔۔۔پاستہ کا پانی بوائل کرنے کے لیے اس نے چولہے پر رکھا ہی تھا تبھی اسکا فون رنگ کرنے لگا۔۔۔۔
ہیلو۔۔
ہادی کا نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی
بھائی میں ارشد کو فلیٹ پر بھیج رہا ہوں آپ اسے آج کی ڈیل کی فائل دے دیں۔۔۔
ہادی کو اسنے صبح ہی اپنے آفس نہ آنے کا بتادیا تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
کہہ کر التمش نے فون رکھا پھر روم میں گیا اور وارڈروب کی دراز میں فائنل ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔مطلوبہ فائنل ملنے پر وہ مڑا پر مشال کو بیڈ سے کھڑے ہونے کی کوشش کرتا دیکھ اسکے پاس آیا۔۔
تمہیں منع کیا ہے نا میں نے اٹھنے سے۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہا تو مشال نے بے چارگی سے پانی کے خالی جگ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔اسکی بات سمجھ کر التمش نے گہرا سانس لیا پھر جگ اٹھاکر روم سے چل دیا۔۔۔کچھ دیر بعد جگ میں پانی بھرے وہ روم میں داخل ہوا اور گلاس میں پانی نکال کر مشال کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
اسکا یہ اچھا رویہ مشال کو عجیب لگا۔۔۔۔وہ بارہا دل میں ڈر لیے بیٹھی تھی کیونکہ ہمیشہ اچھے رویے کے فوراً بعد وہ اپنی ٹون میں آتا۔۔۔۔یہی سوچتے ہوئے وہ پانی پی رہی تھی تبھی اچانک اسے پھانس لگا۔۔۔۔گلاس دور کر کے وہ زور سے کھانسنے لگی۔۔۔۔التمش جو اسے پانی پیتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔مشال کو کھانستا دیکھ اسکی پِیٹ تھپکنے لگا۔۔۔۔
لڑکی آرام سے پینا چاہیے تھا۔۔۔
کھانستے کھانستے اسکی آنکھیں سرخ ہوگئیں تو التمش نے تشویش سے کہا مشال نے نم پلکیں اٹھاکر اسے دیکھا
اتنی پرواہ مت کریں۔۔۔
اسکی بھرائی آواز پر التمش نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔اسکی بھوری آنکھوں میں اذیت دیکھ التمش کو تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔۔سرخ آنکھوں میں عجیب سا طلسم تھا جو اسے اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔۔۔جبکہ مشال اسے مسلسل اپنی طرف تکتا پاکر نگاہ پھیر گئی۔۔۔۔تبھی کچھ جلنے کی بدبو پر التمش کے دماغ میں جھماکا ہوا۔۔۔۔وہ بھاگتا ہوا کچن میں گیا۔۔۔
پانی ابل ابل کر کم ہوچکا تھا۔۔۔جبکہ سبزیاں جل کر پتیلے سے چپک چکی تھی۔۔۔التمش نے جلدی سے چولہا بند کر کے گرم پتیلے کو اٹھایا۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے جلدی سے اسے چھوڑا۔۔۔۔
شِٹ۔۔
اپنے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر اس کے منہ سے نکلا۔۔۔معاً اسکے ذہن میں وہ رات آئی جب وہ سگریٹ سے مشال کے کندھے پر داغ رہا تھا۔۔۔۔جلنے سے اسے تھوڑی تکلیف ہوئی تھی ہاتھ پر۔۔۔۔۔تو اس رات مشال پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی اسے نئے سرے سے شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔۔بیل کی آواز پر وہ سر جھٹکتے ہوئے گیا۔۔۔ارشد کو فائل دے کر وہ پھر پاستہ بنانے لگا۔۔۔شام تک اس کا کام ختم ہوا۔۔۔۔
مت کھاؤ۔۔۔
ایک سپون کھاتے ہی اسے نمک بہت تیز لگا تبھی اسنے مشال کو کہا جو رغبت سے پاستہ کھا رہی تھی۔۔۔
اسکے بولنے پر مشال نے اسے دیکھا۔۔۔
تم کیسے کھارہی ہو۔۔۔۔نمک بہت تیز ہے اس میں۔۔۔بلکل اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔یہ چھوڑو میں باہر سے آرڈر کردیتا ہوں۔۔۔
اسے سبکی ہوئی تھی تبھی جلدی سے اسکے پاس سے پلیٹ اٹھاتے ہوئے التمش نے کہا
نہیں۔۔۔ٹھیک ہے التمش۔۔۔اچھا ہے۔۔
مشال نے بوکھلا کر جلدی سے کہا
ارے نہیں۔۔۔بلکل اچھا نہیں ہے۔۔۔
وہ کہتے ہوئے پلیٹس اٹھا کر لے گیا۔۔۔۔اسکا نرم لہجہ اور رویہ مشال کو بارہا پرانہ التمش یاد دلا گیا۔۔۔۔
آخر کیوں وہ اچانک اسکے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگا تھا۔۔۔۔کل ہی تو وہ اس سے نفرت کا اظہار کررہا تھا۔۔۔۔اسکا سردرد کرنے لگا۔۔۔بے اختیار مشال اپنا سر تھام گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
