Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz Readelle 50372 Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 4)
Rate this Novel
Humnawa Tu Humraaz Mera (Epiosde 4)
Humnawa Tu Humraaz Mera By Nishal Aziz
رات کا کیا پلین ہے؟
صبح التمش اپنے دونوں دوست بلال اور سفیان کے ساتھ یونیورسٹی کے بیک سائیڈ ایریا میں جہاں بہت کم سٹوڈنٹس آتے تھے،بیٹھا سیگریٹ پی رہا تھا۔۔۔۔جب سفیان نے پوچھا
پلین کا کیا ہے بس چلتے ہیں آج رات کلب میں رنگینیاں دیکھنے۔۔۔۔۔کیوں تامی؟
بلال نے بے ڈھنگے پن سے ہنستے ہوئے التمش سے تائید چاہی۔
پہلی بات مجھے کوئی شوق نہیں ہے رنگینیاں دیکھنے کا۔۔۔۔۔یہ سب تم دونوں کو ہی مبارک۔۔۔۔اور دوسری بات ایگزیمز قریب ہیں مجھے پڑھائی کرنی ہے۔۔۔اس لیے میں نہیں جارہا۔
التمش نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا
اسے بلال اور سفیان کی یہ عادت بہت زہر لگتی تھی۔۔۔کہ دونوں کلب میں لڑکیوں کو بہت بری طرح سے تاڑتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔التمش کو افسوس ہوتا تھا ان دونوں سے دوستی کرنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ جب ان لوگوں سے دوستی نہیں تھی تو وہ کافی اچھا پڑھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔پر تین سال پہلے ان دونوں نمونوں نے اس سے دوستی کے بعد اسے بھی اپنی طرح کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب خود اسکا بھی پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا۔
شروع میں تو دونوں کافی ضد کر کے اسے کلب لے جاتے مگر آہستہ آہستہ یہ اسکی عادت بن گئی۔۔۔۔کلب جاکر بلال اور سفیان تو ڈرنک کر کے لڑکیوں کو ڈانس کرتا دیکھتے مگر التمش کو ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔۔وہ کلب جاکر صرف سگریٹ پیتا تھا۔۔۔۔یہ بھی انہی دونوں کی عنایت تھی۔۔۔۔۔۔۔زبردستی اسے سموک کرا کرا کے اسکا عادی بنا دیا۔۔۔۔۔۔البتہ ڈرنک التمش نے کبھی نہیں کی اور لڑکیوں میں اسے شروع سے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔
ابے۔۔۔تجھے کب سے شوق چڑھ گیا پڑھائی کا؟
بلال نے حیرت سے پوچھا
شوق شروع سے تھا پر جب سے تم کمینوں سے واسطہ پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔دل اچاٹ ہوگیا پڑھائی سے۔۔۔۔۔لیکن اب میں نے سوچ لیا ہے کہ اس سال پاس ہوکر جان چھڑالونگا۔۔۔۔
تو تجھے لگتا ہے کہ تین سال نہیں پڑھنے کے بعد اب اگر تُو پڑھا تو پاس ہوجاںٔے گا۔
سفیان نے ہنستے ہوئے جیسے اسکا مزاق اڑایا
بیٹا تُو بس دیکھتا جا۔۔۔
التمش نے منہ سے دھواں چھوڑتے ہوئے کہا
ارے مشال تم۔۔
بلال کے کہنے پر التمش نے پھرتی سے سگریٹ نیچے پھینکی اور پیروں سے مسلتا ہوا مُڑا۔
سوری مشی میں پہلی مرتبہ سموک۔۔۔۔۔۔۔
اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔وہاں کوئی نہیں تھا۔
التمش نے پلٹ کر بلال کو دیکھا جو پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس رہا تھا۔۔۔
بلال اور سفیان کو معلوم تھا کہ التمش کے سگریٹ پینے کی عادت کا اسکے گھر والوں کو نہیں پتا تھا۔۔۔۔اور التمش کو پرواہ بھی نہ ہوتی اگر بات مشال کی نہ ہوتی۔۔۔۔کیونکہ مشال کو سگریٹ پینے والوں سے سخت نفرت تھی۔۔۔۔وہ اکثر التمش اور ہادی کو ایسی چیزوں کے نقصان پر لیکچر دیتی تھی۔۔۔۔۔اسی لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ مشال کو پتا لگے کہ اسکا خود کا دوست اس چیز کا عادی ہے۔۔۔۔۔
سالے۔۔۔۔تجھے بخشونگا نہیں۔۔
التمش یہ کہتے ہوئے بلال کی طرف بڑھا۔۔۔۔جبکہ بلال اسے اپنی طرف آتا دیکھ ہنسی روکتا ہوا بھاگا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور دس منٹ سے کینٹین میں بیٹھی ہانیہ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔تبھی اسکی نظر کورنر والی ٹیبل پر پڑی جہاں ہادی ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا۔۔۔۔
پہلے تو اسے حیرت ہوئی۔۔۔۔پھر اچانک اسکی آنکھوں میں شرارت چمکی۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے موبائل نکالا اور اسکی تصویر کھینچ لی۔۔۔۔۔پھر کچھ سوچ کر اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔
اوںٔے کدھر گُم ہو؟
ہانیہ نے اسکے چہرے کے آگے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا
وہ دیکھ اپنے بھائی کے کارنامے۔۔۔
نور نے ہانیہ کی توجہ ہادی کی طرف دلائی
ارے واہ۔۔۔۔میرا بھائی بڑا ہوگیا ہے۔۔۔۔خیر یہ چھوڑ۔۔۔۔۔وہ دیکھ وہ لڑکا کتنا ہینڈسم ہے نااا۔۔۔۔
نور کی توقع کے بر عکس ہانیہ ہادی کو اس لڑکی کے ساتھ دیکھ کر خوش ہوگئی پھر چئیر پر بیٹھتے ہوئے اچانک نور کی توجہ سائیڈ والی ٹیبل کی طرف دلائی جہاں ایک لڑکا کال پر کسی سے بات کررہا تھا۔۔۔۔۔
جس حسرت سے ہانیہ اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی نور نے تاسف سے ہانیہ کو دیکھا۔۔
مطلب بھائی تو ہے ہی چھچھورا۔۔۔۔بہن ڈبل چھچھوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش جلدی میں کوریڈور سے گزرتے ہوئے مشال کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جارہا تھا کہ اسکی کسی سے ٹکر ہوگئی۔۔۔جس سے مقابل کی چیزیں نیچے گرگئیں۔اس لڑکی نے چونک کر التمش کو دیکھا کیونکہ اس بار التمش چیزیں اٹھانے کے بجائے سنجیدگی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔نیہا نے خود ہی چیزیں اٹھائیں۔
یہ ایک حسین اتفاق ہے۔۔۔
نیہا کے کہنے پر التمش نے غور سے اسے دیکھا۔۔۔۔پنک شرٹ اور جینز میں کھڑی وہ لڑکی اسے زیادہ اچھی نہیں لگی تو بری بھی نہیں لگی۔
مگر میں اسے اتفاق نہیں سمجھتا۔۔۔
التمش نے رسانیت سے کہا
مطلب؟
نیہا نے اچھنبے سے پوچھا
دو بار جان بوجھ کر ٹکرانا اتفاق تو نہیں ہوتا۔۔۔
التمش نے جتنی آسانی سے کہا نیہا کو اندازہ ہوگیا کہ وہ جتنا بے نیاز بنتا ہے اتنا ہے نہیں،حالانکہ پچھلی بار جب وہ ٹکراںٔے تھے تو اس وقت وہ جلدی میں تھا،مگر پھر بھی نیہا کا جان بوجھ کر ٹکرانا نوٹ کر گیا۔۔۔۔یقیناً وہ ایک شاطر انسان تھا۔
Hi I am Neha…..you?
نیہا نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا
Altamash Zaman…
التمش نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
Can I get your number?
نیہا نے مسکراتے ہوئے پوچھا
اسکے اسطرح بےباکی سے کہنے پر التمش چونکا
Why?
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
ایکچولی میں اس یونی میں نیو ٹرانسفر ہوئی ہوں پاپا کے بزنس کی وجہ سے اور میرا کوئی دوست بھی نہیں جو مجھے گائیڈ کرے۔۔۔۔سو پلیز۔۔۔
نیہا کے التجائیاء کہنے پر التمش مسکرادیا
فون دو۔۔
اسنے مسکراتے ہوئے کہا
شیور۔۔۔یہ لیں۔۔
نیہا کے فون سے التمش نے اپنے نمبر پر بیل دی۔۔۔۔پھر نیہا مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
اسکے جانے کے بعد التمش آہستگی سے بڑبڑایا۔۔
نیہا!!!
پھر اگلے ہی پل کچھ یاد آنے پر جھٹکے سے ٹائم دیکھا۔۔۔
مشی کی کلاس آف ہوگئی ہوگی۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے مشال کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بھاگا۔۔۔۔یہ جانے بغیر کے دو آنکھوں نے حسد سے اسکی بڑبڑاہٹ سن کر اسکی پشت کو دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں نور اپنا کوئی اسائنمنٹ بنارہی تھی جب ہادی اسکے روم میں آیا۔۔
اے ٹڈی!مجھے یہ سوال سمجھادو۔
اسکے ٹڈی کہنے پر نور نے تیوریاں چڑھا کر اسے دیکھا پھر کہا
میں نہیں سمجھا رہی تمہیں کوئی سوال۔۔۔۔۔جاکر آوارہ گردیاں کرو۔۔۔۔
میں نے کونسی آوارہ گردی کی ٹڈی؟
ہادی نے حیرت سے پوچھا
زیادہ بنو مت۔۔۔۔۔وہ لڑکی کون تھی؟۔۔جسکے ساتھ تم کینٹین میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔
نور نے ایک آبرو اٹھا کر پوچھا
اوو۔۔۔وہ تو ٹینا ہے میری دوست پر تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔ایک منٹ کہیں تم جیلس تو نہیں ہورہی۔
ہادی نے شرارت سے پوچھا
جلے میری جوتی۔۔۔۔میں صرف اس لیے پوچھ رہی ہوں تا کہ تاںٔی امی کو بتا سکوں کہ پیپرز ہونے والے ہیں پر جناب کی حرکتیں دیکھو۔۔۔۔ڈیٹ مارتے پھر رہے ہیں۔۔۔نہ میں نے تاںٔی امی کو بول کر آج تمھارا ٹینا مینا شینا کا بھوت اتارا۔۔
نور نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے دھمکایا۔۔۔
جس پر ہادی ہنسا
اور تمہیں لگتا ہے کہ امی تمہاری بات پر یقین کرلینگی۔۔
ہادی نے اسے چڑایا
میری بات پر کوئی یقین کرے نہ کرے۔۔۔۔اس پر ضرور کرے گا
نور نے کہتے ہوئے فون اٹھایا اور ہادی کو اسکی تصویر دکھائی جو اسنے کینٹین میں کھینچی تھی۔۔۔پھر جلدی سے باہر کی طرف بھاگی۔
جبکہ ہادی وہ تصویر دیکھ کر بوکھلاتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا۔
نور،رُک جاو۔۔۔۔یار پلیز مت کرو ایسے۔۔
لاؤنج میں پہنچ کر ہادی نے متانت سے کہا
کیوں نہ کرو ایسے۔۔ابھی تاںٔی امی کو تمہاری کرتوتیں دکھاونگی۔۔۔بہت بول رہے تھے نہ کہ کوںٔی یقین نہیں کرے گا ۔
نور نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور عالیہ بیگم کے روم کی طرف جانے لگی
نور۔۔پلیز یار۔۔۔اچھا سنو تم جو بولوگی وہ کرونگا۔۔۔پلیییز
اب ہادی منّت پر اتر آیا۔۔۔کیونکہ اسے پتا تھا سامنے کھڑی وہ چھوٹے قد کی بلا اسے ڈانٹ پڑوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نکنے نہیں دیتی۔۔
اسکے منت سے کہنے پر نور رک گئی
چلو نہیں دکھاونگی۔۔۔۔۔لیکن ایک شرط پر
نور نے کچھ سوچ کر کہا
کیسی شرط؟
اسنے حیرت سے پوچھا
مجھے اور ہانیہ کو آئسکریم کھلانے کے کر چلو۔۔
نور کی شرط پر ہادی کا دل چاہا اسکا منہ توڑدے کیونکہ ابھی اسکا کوئی موڈ نہیں تھا باہر جانے کا۔۔
کل چلیں گے۔۔پکا
ہادی نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا
اوکے میں یہ تاںٔی امی کو دکھادیتی ہوں۔۔
نور مڑ کر جانے لگی
ارے میں تو مزاق کررہا تھا۔۔۔چلو چلتے ہیں۔۔
ہادی نے بوکھلا کر کہا
میں ہانیہ کو لے کر آتی ہوں۔
نور نے خوش ہوکر کہا
پہلے یہ تو ڈیلیٹ کردو۔۔
ہادی نے موبائل کی طرف اشارہ کر کے کہا
نو۔۔۔پہلے آئسکریم۔۔۔پھر پکچر ڈیلیٹ
نور اسے زبان دکھاتے ہوئے ہانیہ کو بلانے چلی گئی
جبکہ ہادی کو شدید غصہ آیا۔۔۔۔اسے اپنی اس کزن سے بچپن سے چڑ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
