Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode (Watching)
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
ہر ایک زی روح دوسرے مواقع کا مستحق ہے،
لیکن ایسا کرنا کتنا تکلیف دہ ہوتاہے جب آپ جانتے ہوں کہ آپ کو کسی کی محبت بار بار اپنی آہٹ سنانے ، احساس دلائے اور تڑپ محسوس کرانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور آپ اس مقدس محبت کو محسوس کر کہ بھی اس شخص کی تڑپ اور شدت کے باوجود بھی نظر انداز کرنا ایسا ہے جیسے جانتے بوجھتے خدا کی دی ہوئی خوشیوں کو ٹھکرانا وہ بھی ایک ایسے فرد کیلئے جس کو صرف آپ نے چا ہو اور بڑی بے لوث محبت کی ہو ۔۔۔۔۔
لیکن سب بیکار گر جب محبت ہی یکطرفہ ٹھہرے۔۔۔!
“ہر وہ شخص جو ضرورتوں کے وقت کسی پل بھی محبت کو قربان کردے وہ چاہت دینا تو دور کی بات آپکو تحفظ بھی در حقیقت نہیں دے سکتا ۔۔۔”
اپنے احمق دل کو سمجھا بجھا کر ہمیں ایک نئی زندگی کی شروعات کرنی چاہئے کیونکہ اللہ رب العزت کی دی گئی نعمتوں سے منہ موڑ کر اپنی من مانی کرنا دنیا اور آخرت دونوں میں ہی ماسوائے رسوائی کے کچھ بھی نہیں۔۔۔۔
آپ گر جو اب بھی کسی پہ اپنی بے لوث محبت لٹا دینے کے بعد فریب کھا کر بھی چاہے جانے کے انتظار کی پلصراط پہ چلکر انتظار کا تویل سگر راہ داری عبور کرنے کی تگ و دو میں ہے تو یقین جانیئے ناممکن ہونے کا انتظار کرنا کم عقلی ہے ۔
وہ ٹوٹ گئی تھی اور وہ افسردہ تھا ..!
ماضی میں قسمت نے ان دونوں کو کت پتلی کی مانند نچایا تھا ۔
ایک یکطرفہ محبت کے ہاتھوں مجبور اپنا دل کسی کے قدموں تلے بے دردی سے کچلا پڑا اپنے لٹ پٹنے پر بین کر رہا تھا تھا اور دوسرے کا کوئی اشارہ نہیں تھا وہ اس محبت کے پیچھے بھاگ رہا تھا جو پہلے ہی کسی اور کو اپنا من مان کر سب کچھ لٹائے ہار کر بری طرح مات کھائے بیٹھی اپنی کوک میں پلنے والی نئی زندگی کیلئے خوشیوں کا سامان تک نہیں کر پارہی تھی ۔لیکن کوئی تھا جو اس سے اس قدر بے مایا محبت کرتا تھا کہ اس سے جڑی اسکی زندگی کیلئے بھی حراساں تھا ۔
_____________________________________________
سارے راستے بھر زینی کچھ نہیں بولی تھی آج ان دونوں کا نکاح ہوا تھا لیکن زینی دلہن کے روپ میں احتشام کے پہلو میں بیٹھی اس نئے اور پیارے رشتے میں بندھنے کے باوجود چپ چپ تھی یا شاید اپنے ۴ ماہ کے بیٹے صفیان کو مس کر رہی تھی جو کہ خالہ کے پاس تھااور ان سے زینی سے زیادہ انسیت رکھنے لگا تھا وجہ احتشام اور اسکی امی(خالا)کا زینی اور صفیان پر بےلوث محبت نچھاور کرنا تھا …
” زینی تم اب زینش احتشام بن چکی ، تمہارے لبوں پر سےکبھی مسکراہٹ نہیں سمٹنی چاہئے !! اس کو تم میرا حکم سمجھو یا مان سے کہی بات لیکن اب سے تم میری پابند ہو . . ۔۔۔۔۔”
“تمہاری آنکھوں میں آج سے بلکہ ابھی اسی وقت سے صرف طمانیت کا احساس جھلکنا چاہئے۔۔۔۔۔”
وہ ابھی باہر گاڑی سے جھانکتےبھاگتے دوڑتے مناظر دیکھنے غرق تھی یا شاید احتشام سے گریزاں تھی ، نئے بنے رشتے سے احتشام سے اسکو جھجک سی محسوس ہورہی تھی لیکن احتشام کے گھمبیر اور حد درجہ سنجیدہ لہجے میں کہی بات پہ خود کو اسکی طرف رخ پھیرنے سے خودکو نہیں روک سکی …
احتشام جانتا تھا کہ اس کی سخت لہجے میں کی گئی باتوں نے زینی تکلیف دی بہت مگر زینی کو مکمل اپنی طرف راغب کرخوشیوں بھری نئی زندگی کی طرف لانے کیلئے احتشام کا کچھ روب دار رویہ اختیار کرنابہت ضروری تھا کیونکہ زینی جس فیس سے گزرہی تھی وہ ان حالات میں خود کو بس کی خود ازیتی کے خول میں لپیٹتی چلی جارہی تھی …
اسے زینی کو پریشان دیکھ کر برا لگا لیکن ابھی نرمی برتنے کا مطلب تھا کہ کچھ لمحوں قبل کہی باتکا اثر زائل کرنا۔اوروہ یہ ہر گز نہیں چاہتا تھا ، بس ادی لئے وہ بغیر مزیدکچھ بھی کہے مسرور سا گاڑی چلانے میں خود کومصروف ظاہرکرتا رہا ۔ تھوڑی ہی دیر میں ..وہ گھر پہنچ گئے …
احتشام کار سے اتر کر آیا دوسری طرف.. اس نے دروازہ کھولا اور زینی کو باہر ہاتھ بڑھا کر سہارا دیکر گاڑی سے اتارا زینی کا مخروطی ہاتھ اب بھی گاڑی سے اتر جانے کے بعد احتشام کے ہاتھ میں ہی تھا جبکہ زینی اس پر تو جیسے احتشام کے بدلے بدلے لب و لہجے کے باعث شدید گھبراہٹ نے اپنا حصار تنگ کر ڈالا تھا …
خالہ نے بڑھ کر سن دونوں کا استقبال کیا تھا اور ننھے صفیان کو دیکھتے ہی احتشام نے بے قرار ہوکر بے ساختہ اپنے بازووں میں ماں سے لیکر بھرا تھا اور سینے لگا کر اسکی حرارت کو اپنے دل کی دھڑکن سے محسوس کرتا چند لمحوں کیلئے ہی سہی مگر وہ سب دکھ اور تلخیاں بھلا چکا تھا۔زینی نے یہ منظر بہت محبت سے دیکھا ایسے جیسے ان حسین لمحات کو اپنی نگاہوں میں قید کرنا چاہ رہی تھی عمر بھر کیلئے۔۔۔۔
“لاو اسکو مجھے دیدو تم لوگ آرام کرو تھک گئے ہوگے “۔
خالہ نے آگے بڑھ کر صفیان کو لینا چاہا لیکن احتشام نے اس سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے ماں کو نرمی سے انکار کر دیا۔
” یہ میری سانسیں ہے ، اسکے وجود سے تو میری تھکان اتر تی ہے اورآج تو میرے لئے بہت بڑا دن ہے جب صفیان اپنی ماما سمیت میرے کمرے سوئےگا کیونکہ آج۔سے پہلے کبھی صفیان آپکی اور اپنی ماما کی غیر موجودگی میں رات میں میرے پاس نہیں سویا اور اگر میں ذبر دستی سلا بھی لیتا ہوں تو محترم تھوڑی دیر بعد راہ فرار کے طور پر مجھسے غداری کرکے بھوک کے بہانے سے اپنی ماما کے پاس دادو کے زریعے پہنچ جاتے تھے اپنی۔۔۔۔”
احتشام نروٹھے پن سے ننھے صفیان سے ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے واقعی وہ اسکی ناراضگی اور چھڑ چھاڑ کو انجوائے کر رہا ہو۔
احتشام کے اس پیارے انداز پر خالا سمیت زینی بھی مسکرادی۔
_______________________________________________
احتشام نے بیڈروم میں آکر دروازہ بند کیا ہی تھا جب پہلی نظر صفیان پر پڑی جو بیڈ کے بیچ و بیچ ایساسورہا تھا جیسے زینی کا باڈی گارڈ ہو۔صفیان کے ایسے سوئے ہوئے انداز پراحتشام کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ بکھر گئی ،
ادھر ادھر جائزہ لینے کے بعد اسکو اندازہ ہوچکا تھا زینی ڈریسنگ میں جاگھسی تھی ۔اسکی جھجک اور بوکھلاہٹ دیکھ کر بے ساختہ اسکا دل کیا کہ وہ زینی کو اپنے سینے سینے سے لگاکر بس پود خود سے خود تک محدود کر دے ۔
شرم و حیاء کے سب ہی پردے گراڈالے لیکن ۔۔۔۔
” یار صفی !! تو ایسے پڑا ہے بیڈ کے بیچ و بیچ جیسے میں تیری اس نک چڑھی ماما کو سونے نہ دینے کی رات بھر قسم کھا کر کمرے۔میں آیا ہوں ۔۔۔۔۔”
” لگتا ہے تو بڑا ہوکر پاکستان کی مارخور فوج میں بھرتی ہوگا اور بارڈر پہ ایساہی بیچ و بیچ جم کے موجود رہیگا کہ تیری زمین پر کوئی پنجھا بھی مارنے کی جرعت نا کرسکے ۔”
وہ بڑے مزے سے صفیان کے برابر میں نیم دراز ہوا اسکی ننھی ننھی انگلیوں سے کھیلنے میں مگن ہوچکا تھا جب زینی کے ڈریدنگ روم سے باہر آنے کے بعد اسکی آہٹ پر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔
ذینی پزل سی کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی تھی ۔نازک انگیاں مڑوڑتی ، لبوں کو دانتوں تلے کچلتی وہ شدید زہنی ابتری کا شکار لگ رہی تھی۔
وہ اس کو چند سیکنڈ بغور دیکھتا اور پھر بیڈ سے اٹھ کر گھمبیر چال چلتا زینی کےعین سامنے جاکر تھم گیا۔
“زندگی کی قسم زینی !!میری زندگی تم سے ہے”
وہ اسکے مرمری ہاتھوں کو تھام کر اسکی نگاہوں میں دیکھتے ہوئے ایک جزب کے عالم میں کہے رہا تھآ لیکن زینی وہ حق دق سی رہے گئی ایساہی محبت تو اس نے حمزہ سے کی تھی لیکن حمزہ نے ہمیشہ سردمہری ہی دکھائی ، محبت کا جواب محبت سے دینا تو دور کی بات اس نے تو مروتاً بھی دو بول محبت کے کبھی نا کہے تھے اور سامنے موجود شخص اسکی محبت ، کسی مقدس موتی کی مانند اپنے کھرے جزبات کی گواہ تھی۔
اب وہ وقت آچکا تھا جب زینی کو اپنے تلخ ماضی کو ہمیشہ کیلئے چیپٹر کلوز کر آگے بڑھنا تھا۔
محبت کا جواب مکمل خلوص سے دینا تھا ۔
وہ اسے اپنے حصار میں لیکرمزید کچھ کہے زینی کی خاموشی کو محسوس کر کے چپ چاپ خود سے لگائے بیڈ پہ اسکا تکھیہ سرہانے سے ٹکا کر زینی کو بٹھا کر اسکے لئے گلاس میں سائیڈ ٹیبل پر رکھی پانی کی باتل سے پانی انڈیل کر گلاس زینی کے لبوں سے لگا گیا ۔وہ جانتا تھا کہ یہ وقت اسکی محبت کیلئے بے حد کڑا ہے۔۔۔۔!!!
“آزمائش اور اسکے بعد راحت ۔۔۔۔۔۔۔۔بس تھوڑا تحمل۔۔۔۔”
وہ اسکے مقابل بیٹھ گیا اور گہری نگاہوں سے بس زینی کے چہرے کو تکے گیا جیسے آج اسکیلئے ایسا کرنا شرعی و قانونی دونوں لحاظ سے حلال ہوچکا تھا۔زینی بہت کچھ سوچے بیٹھی تھی احتشام سے کہدینے کو مگر اس وقت خود پہ منجمند اسکی نگاہوں سے پزل ہوکرایک لفظ بھی کہنے کی اس میں ہمت نا رہی تھی۔
“ذینی تم اپنے آپ کو اور اپنے دل و دماغ کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرو آرام کرو … مت پریشان ہو مجھ سے میری موجودگی سے خوفزدہ بلکل مت ہو ۔۔۔۔ “
“میری محبت تمہارے وجود پہ حکمرانی کرنا نہیں ہے اور ناہی میں تمہاری خود سپردگی کے بغیر ایسا کر سکتا ہوں یہ میری مردانگی کی شان کے خلاف ہے”
” میری زندگی کی اولین خواہش ہے اک بس کہ تم بھی کبھی مجھے محبت کی چھائوں پہ اپنی پناہ دو اور میری محبت کا جواب محبت سے نا سہی مگر چاہت سے ہی دے دو۔۔۔۔”
ذینی ساکت سی احتشام کے کہے میں کھو کر رہے گئی تھی سامنے بیٹھا شخص اسکو اپنا آپ کی دکھاتا لگا بلکل ایساہی شدت تو تھی اسکی محبت میں حمزہ کیلئے ۔۔۔
” احتشام ۔۔۔”
وہ نگاہیں جھکائے سرگوشیانہ انداز میں گویا ہوئی۔
” جی جان احتشام ۔۔۔۔! کہو میں ہم تن گوش ہوں میری اینجل۔۔۔۔”
“مجھے آج پتا چلا ہے کہ کسی کو چاہے جانا اور کسی کا خوف چاہنا کیا ہوتا ۔۔۔۔”
” بلاشبہ اپنے آپ کو چاہے جانے کا احساس ہی ایسا ہے کہ معمولی انسان بھی مغرور ہوجاتا ہے۔۔۔۔”
” ہاں مگر ہمیں ہر حال میں خدا کا زکر کرتے رہنا چاہئے شکر ادا کرتے رہنا چاہئے !! مغروریت میرے رب کو پسند نہیں زینی۔۔۔۔”
” چلو اب تم سوجائو شاباش ۔۔۔”
“تمہیں آرام کی ضرورت ہے”
احتشام اسکے اوپر کمفرٹر پھیلا کر صفیان کو بوسا دیکر ایک مطمعین نظر زینی پر ڈال کر پلٹنے کو تھا۔جب زینی نے اسکے ہاتھ کو بڑھ کر تھاما تھا ۔احتشام زیر لب مسکرادیا بغیر رخ موڑے وہ زینی کے پاکیزہ لمس سے خود کو سیراب کر رہا تھا۔
” مجھے آپکی ضرورت ہے۔۔۔۔”
“مجھے آپکی محبت کی چاہ ہے ۔۔۔۔۔۔ میں خود کو چاہے جانے کا احساس محسوس کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
” میں محبت کیلئے ترس گئی ہوں آپکی محبت میں خود کو پور پور بھگا کر روح کو پرسکون کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
ذینی نے محبت کی وا ہوئی بانہوں کو تھام کر نئی زندگی کی شروعات میں پہل کر ڈالی تھی۔
________________________________________________
ختم شد
