Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12

“”کیا فضول ٹین ایجر والی ہرکتیں کرتے پھر رہے ہو حزیفہ تم۔ ۔۔۔،”
“کیوں بار بار بھول رہے ہو کہ یہ شادی جسٹ آ کانٹریکٹ میرج ہے “
اسکا دل چاہا کہ وہ ہسپتال کے بیڈ پہ لیٹی صلہ کے پاس جاکہ لیٹ جائے ۔
پھر یکدم حزیفہ نے خود کو ڈپٹا مگر دل تھا کہ غستاخی پہ آمادہ ہوچلا تھا۔ اب حزیفہ کی کہاں سن لینی تھی اس نے۔ ۔۔۔
وہ یکدم ٹرانس کی سی کیفیت میں کرسی سے اٹھا تھا اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کہ اپنی خواہش پر لبیک کہتاصلہ کے پاس جگہ بنا کے سنگل بیڈ پہ ہی اس کے پاس دراز ہو گیا ۔
” تم کیا کوئی صلہ؟ ؟”
“کوئی خاص احساس جو دل میں میرے بہت پیارے پیارے اچھوتے خیالات کو بیدار کرتا ہے یا پھر میرے ذہن و وجود کے لئے راحت و اطمینان ؟؟؟”
“میں نہیں جانتا تم میرے لئے کیا ہو اور اس مختصر سے عرصے میں تم نے مجھے اپنا اسیرکیسے بنا لیا ہے ؟؟”
“نہیں تم نے مجھے اپنا اسیر نہیں بنایا ہے بلکہ تمہاری معصومیت ، و آنکھوں کی حیاء نے مجھے بے سکون کرڈالا ہے۔ ۔۔۔۔۔”
“میں اپنا ہو کے بھی اپنا نہیں رہا ہوں تم مجھے میرے حواصوں پرطاری ہوتی محسوس ہونے لگی ہو”۔۔
” کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ تم جیسی لڑکی ہی شاید میرا آئیڈل تھی جو مجھے مل گیا ہے”۔۔
‘میری تکمیل تم ہو نہیں میری تلاش ہو شاید ۔۔!!!!!’
“میرے دل اور دماغ اب میرے ہوکر بھی قابو میں ہی نہیں رہے۔
“اب ہوش رہا ہے تو بس اتنا کہ اب تمہارے بن میرے لئے زندگی کی تمام روشن شمعیں گل ہے ۔۔”
“عورت کی حیاء اور اسکی شوخی سمیت اسکے پور پور پہ اسکے محرم کا حق ہوتا ہے !!! اور تم نے اپنی آنکھوں سمیت اپنے وجود کو ڈھانپے رکھا صرف اور صرف اپنے شوہر کیلئے ، یہ اک پاکیزہ عورت کا اپنے مزاجی خدا کیلئے لئے سب سے خوبصورت تحفہ ہوتا ہے “۔۔
“مجھے فخر ہے اپنے آئیڈل سمیت تمہارے عزیم ماں باپ پہ جنہوں نے تمہاری بہت اعلٰی طربیعت کی اور اب تمہاری یہ طربیعت نسل در نسل منتقل ہوگی جیسے تمہاری ماں نے تم میں منتقل کی بلکل ویسے ہی تم اپنی اولاد کو بھی انہی سنہری اصولوں کی بنیاد پہ پروان چڑھاوگی ۔۔۔۔۔۔”
“میرے لئے صلہ تم جیسی پیاری لڑکی سے اب دستبردار ہونا ناممکنات میں سے ہے “
“تم جیسی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جو اپنے گھروں کو جنت کا گہوارہ بناتی ہے اور میں ہیرے کو اپنے ہاتھوں سے کوئلہ نہیں کرسکتا اب تو تم ہی میری نسل کی امین بنو گی “۔۔۔۔
رہی میری اور تمہاری عمر کا فرق تو وہ اب میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا نرد کو عورت سے اتنا بڑا ضرور ہونا چاہئے کہ وہ اسکو سنبھال سکے ، تحفظ فراہم کرسکے ۔۔۔”
وہ صلح کے شانے پہ سر رکھ کے اپنے دوسرےہاتھ کو صلہ کے سینے پہ رکھے بےخیالی میں اد کے گلے میں موجود چین کو اپنی انگلی کی پوروں پہ لپیٹ رہا تھا۔
رات کا آخری پہر شروع ہوچکا تھا مگر حزیفہ مستقل بس اس متائے جان کے وجود سے خود کو گرمائش پہنچارہا تھا۔ ۔ ۔۔
دل بار بار چیخ چیخ کر اپنے جائز حق کا احساس کروانے پہ بضد تھا بہت کچھ کر گزرنے کا کہے رہاتھا لیکن پھر صلہ کی بے ہوشی کا خیال کر کے وہ خود کو سرزنش کر جاتا ۔۔
” تمہارے نو خیز سراپہ سے اپنے وجود کو زرخیز کرنا ، تمہاری بیحوشی سے فائدہ اٹھانا میری سرشست میں نہیں ہے ۔۔”
“اب جبکہ تم میری ہی ہو !!”
“میں نے تمہارے تمام جملہ حقوق اپنے نام بھی لکھ والئے ہیں مگر پھر بھی جب تک تمہاری مرضی اور دلی خواہش نہیں ہوگی میں تم سے یہ رشتہ استوار نہیں کر سکتا لیکن اگر کبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاؤ تو میری جان بندہُ بشر ہوں !! ” ۔۔۔
“تم مجھ سے اب میری زندگی میں تو دستبردارنہیں ہوسکتی ہو مجھ سے “
‘ہاں مگر ۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کسی کو اپنا نام کرلینا ہی کافی نہیں ہوتا اصل کامیابی تو دلوں پر فتح حاصل کرنے سے ملا کرتی ہے ۔”
اور صلہ اب تم دیکھنا ایک دن تمہارے دل و دماغ پر صرف اور صرف میری ملکیت ہوگی ۔۔۔۔۔۔!!
” انشاءاللہ ۔۔۔”
🌹🌹🌹
زینش ، حمزہ کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی کئی دفعہ دستک دے چکی تھی لیکن اندر سے دروازہ چاک ہو کہ نہیں دے رہا تھا ۔۔
مگر نہ جانے کیوں زینی کو آج وہ کمرہ بہت پرایا پرایا سا لگ رہا تھا ورنہ ہمیشہ وہ بےدھڑک حمزہ کے کمرے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بڑی دیدہ دلیری سےداخل ہو جایا کرتی تھی ۔لیکن آج کچھ ایسا ضرور تھا جو اس کو ایسا کرنے سے بعض رکھ رہا تھا ۔۔
کمرے میں موجود شخص اور وہ کمرہ آج دونوں ہی اسکو پہلی دفع اسکو خود کیلئے بہت اجنبی اجنبی اجنبی سے لگے تھے ۔۔
ہمت کرکے آخرکار اس نے دروازے پہ اک آخری دستک ہلکے سے دے ڈالی مگر دستک دینے کے بعد بھی جب دروازہ کھلنے کے چانسس نہ تھے تب وہ بجھی بجھی سی مردہ قدموں سے واپس پلٹنے کو تھی۔۔۔
جب اچنک سے بند دروازہ تھوڑا سا چاک ہو چلا تھا مگرزینی کے لئے بند دروازہ کے وا ہونے کے بعد سامنے کا منظر ایسا تھا کہ وہ ساکت و صامت اپنی جگہ پر سن سی کھڑی رہ گئی ۔۔
زینش کو لگا تھا کہ حمزہ کے کمرے کے دروازے کے بیچوں بیچ اس کی قبر کھود ڈالی ہو کسی نے۔
حریم نے دروازے پہ بار بار ہوتی دستک کی وجہ سے جلدی سے غسل لیکر دروازہ کھولا تھا حمزہ کی نیند خراب ہوجانے کی وجہ سے بھی وہ فکرمند تھی
جبکہ زینی وہ تو بس ورطہ حیرت میں گرفتار حریم کا دھلا دھلایا نکھرا نکھرا سراپہ دیکھ رہی تھی ۔۔
محرم سے ملنے کا روپ ہی ایسا چڑھا تھا حریم پر کہ کوئی نابینا بھی حریم کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی مسحورکن خوشبو سے وہ پوشیدہ بھید پالیتا جو حریم چھپانے کی ذہنی سے ناکام کوشش میں مصروف نظر آرہی تھی ۔۔
زینش کو دروازہ کے بالکل سامنے کھڑا دیکھ کر حریم کے چہرے پر خوف و تاریکی سی چھا گئی۔
“ایسا تو ہرگز بھی اس نے نہیں چاہا تھا میں نے” ۔۔
اب جیسے مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہونا تھا اس کے لیے حریم نے اپنے دل میں اس سوچ کے آتے ہی واضح بہت سا بوجھ پڑتا محسوس کیا ۔۔
ذینی نے ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر کمرے کا بھڑا ہوا دروازہ پوری قوت سے دھکیلا تھا اسکے پورے وجود میں آگ سی بھرگئی تھی اورکمرے کےاندر کا منظر دیکھنے کے بعد تو جیسے زینی کا دل اسکے سینے سے نکل کر قدموں میں آ کر ڈھیر ہو گیا تھا۔۔
دل بے چارہ بے موت مارا گیا تھا ۔۔
عین سامنے جہازی سائز پر وہ اوندھا لیٹا بےبخبر پڑا سو رہا تھا بغیر کسی شرٹ کے سوئے حمزہ کے کشادہ پشت پہ جابجا ننھی ننھی سی خرونشیں پڑی ہوئی تھی جو اس بات کا بولتا ثبوت تھیں کہ وہ گزری شب اپنے خالص جذبات اور اپنے لمپس کی بقرش حریم پہ نچھاور کر چکا ہے اور جو شفاف جذبات اس نے ذہنی کے لیے رکھے تھے وہ اب ملاوٹ سے لبریز ہو چکے ہیں ۔۔۔
اس پہ تضاد ہلکے ہرے رنگ کی بیڈ شیڈ کا شکن آلود ہونا، فرش پر پڑا بےترتیب دوپٹہ اور سوفے پہ بے ترتیب کپڑے حریم کے کپڑے! !
سب کچھ ہی تو بالکل صاف تھا آئینے کی مانند ۔۔۔۔
اب تو کوئی شک و شبہہ باقی رہا ہی نہیں تھا۔ ۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
“ذہنی آپ غلط سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو آپ سوچ رہی ہیں ۔۔”
حریم نے اپنی سی کوشش کی زینی کو سمجھانے کی لیکن زینش ابھی کچھ سمجھنے کے لئے بلکل تیار نا تھی۔
“شٹ اپ !!!”
“تم مت بولنا میرے آگے تم ہی تو سارے فساد کی جڑ ہو” ۔۔۔
ذینی نے حریم کو بری سے جھڑک ڈالا۔
“اور تم نہیں دوگی کوئی جواب مجھے تم نے تو میٹھی بن کے میرے حق پہ ہی ڈاکا ڈالا ہے دیکھنا اگر میں آباد نہیں ہوسکی تو تم بھی آباد نہیں ہوگی اور یہ شخص میرا جواب دہ ہے تم نہیں سمجھی ۔۔۔!!!”
“اس کی وکالت مت کرو میرے سامنے یہ تم سے پہلے میرا شوہر اور میں اسکی بیوی ہو “۔۔۔
وہ زینی تھی اپنے تمام حساب کتاب سامنے سوئے تم شخص سے لینا جانتی تھی۔
حریم سے اس کو پہلے کسی قسم کا گلا نہ تھا جب اپنا ہی محبوب بے وفا ثابت ہوا ہو تو پھر پرائے سے کیا شکوہ ؟؟لیکن آج حریم پہ چڑھا روپ دیکھ کر وہ حریم کو غازب تصور کر رہی تھی۔۔
“ذینش اس وقت یہ بھول تھی کہ یہ تعلق تو بنتا ہی مرد کی مرضی سے ہے!! عورت تو جیسے کوئی کھلونا ہوتی ہے جس کی زندگی کبھی بھی اس کی اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے بننے کے باوجود بھی اسکی حسب منشاء بسر نہیں ہوتی بلکہ اس سے جڑے رشتے تمام تر زندگی اس عورت پر حکمرانی کرتے چلے جاتے ہیں اپنا حق سمجھ کے۔ “
ہریم گم سم سی آنسو پیتی خاموشی سے اپنے اوپر زینی کے الزامات برداشت کر رہی تھی ۔زینی کے سخت لہجے میں اس کو واضح وارننگ کا اندازہ ہو چکا تھا جو اس کے دل کو سہما کہ رکھ گیا تھا ۔۔
ہمذہ زینی کے چنگھاڑنے پر یکدم نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ چکا تھا اور حواس باختہ سا کبھی حریم کو تو کبھی ذہنی کو دیکھ رہا تھا صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتے ہی وہ جیسے چھلانگ لگا کے بستر سے اٹھ کر زینی تک آیا تھا۔
ذینی ۔۔تم۔ ۔۔؟؟؟؟
وہ ششدر ہی تو رہے گیا تھا زینی کو اسوقت اپنے کمرے موجود پاکہ۔
” معاف کر دیا تھا میں نے تمہیں ایک دفعہ پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکرلیکن بہت بڑی غلطی کر بیٹھی تھی میں جو تم جیسے شخص پہ ایک دفعہ پھر اندھا اعتماد کرنے چلی تھی!! “
“جو خود تو آئی تھی ساتھ ہی اپنی مخلص محبت کو بھی دل کے تھال میں سجا کر لے آئی اور بیچاری میری محبت تم جیسے بے وفا شخص کے سامنے ذلیل ہو کے رہ گئی ہے ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ۔۔”
زینی نے بری طرح حمزہ پہ حملہ کیا تھا اسکے کشادہ شانے پہ غصے میں مکوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔ ۔
💞💞💞
ان دونوں کو اس طرح مدمقابل دیکھ کے حریم کو اپنی موجودگی بہت غیر مناسب سی محسوس ہوئی ۔وہ وہاں سے خاموشی سے اپنا من من بھر کا وجود لیے کمرے سے جا چکی تھی ۔۔
حریم کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ اس وقت صرف خیر کی دعا مانگ رہی تھی اپنے لیے حمزہ کے لئے اور خاص طور پر ذہنی کے لیے ۔۔
💞💞💞💞
“ذینی میں بہت اذیت میں تھا مجھے سہارے کی ضرورت تھی یہ سب بس اسی لیے ہوگیا ۔۔”
وہ بغیر کسی جھوٹ کا سہارا لیے اپنی بات کہہ گیا۔ جھوٹ بول کے وہ مزید زیمی کی نظروں میں گرنا نہیں چاہتا تھا۔
” اور جس اذیت سے میں مسلسل گزر رہی ہوں اس اذیت کا کیا؟؟؟؟؟”
“جواب دو؟ ۔؟۔”
“مجھے بھی تو سہارے کی ضرورت تھی!!!! “
“لیکن نہیں میں تو سنف نازک ہوں جو تمہاری طرح اپنا غم غلط نہیں کرسکتی ۔۔۔۔۔۔”
“صرف تم ہی مظلوم ہو نا میں تو جیسے بیت بڑی مجرم ہوں؟؟؟”
“ہے نا ایسا ہی؟ ؟؟”
“ٹھیک کہا نا میں نے؟ ؟؟؟؟؟”
وہ تو جیسے پھٹ پڑی تھی شرم و حیا کہیں بہت دور جا سوئی تھی اور شاید نہیں یقینا وہ حق بجانب بھی تھی ۔۔
“ایک عورت خود پہ تمام ستم ہنسی خوشی سہہ سکتی ہے مگر اپنے حق میں شراکت نہیں برداشت کر سکتی حمزہ۔۔۔ “
” میں بھی تو ایک مرد ہوں یار!! تمہارے رویے نے مجھے بھی بہت تھکا ڈالا ہے۔۔۔”
وہ نڈھال۔ سے انداز میں کہتا اسکو اپنے سینے میں پناہ دینے لگا تھا مگر زینی نے یکایک اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کےاسکو زور سے پرے دھکیلا اور پوری قوت سے غرائی۔ ۔
“اور میں ایک صنف نازک ہونے کے باوجود تمہارے لگائے گئے جھوٹے الزامات کے نشتر پوتی طرح اپنے اندر پیوست ہونے کے باوجود بھی جھیل گئی۔۔۔”
” تمہیں معاف کرکے نئی زندگی کی شروعات کرنے آئیں تھی تمہاری دہلیز پر مگر تماری دہلیز نے ہی مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو تم کیا مجھے اپنے دل میں اب جگہ دوگے ۔۔؟؟؟”
“مجھے بھی موقع دو صفائی میں بولنے کا زینی پلیزززز “۔۔۔
ھمزہ نے زینی کا دل صاف کرنا چاہا۔ ۔
” موقع ہی تو دینے آئی تھی مگر قسمت دیکھو میری مجھے ہی آخری وارننگ مل گئی۔ ۔۔۔”
“یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے تم سے شدید نفرت ہوگئی ہے!!”
میرے نزدیک یہ سب بچکانہ باتیں ہیں جس سے محبت کی جاتی ہے اس سے نفرت تو شاید مرتے وقت تک بھی نہیں کی جاتی مگر بس مجھے افسوس ہے کہ تم بہت بے وفا نکلے ۔۔۔””””
“ذینی مجھے تمہارے ساتھ ایک نئی شروعات کرنی ہے پلیز اب یہ ناراضگی ختم کرو۔ ۔۔۔۔”
“میں تو بہت خوشی سے اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے آئی تھی ۔۔”
مگر۔۔۔۔۔۔!!
” میں نہیں جانتی تھی کہ میں موت کی طرف اپنا قدم بڑھا چکی ہوں۔۔۔”
وہ ہزیانی انداز میں کبھی روتی تو کبھی تالی مار کر زور زور سے ہنسنے لگتی زینی کے اس رویے نے حمزہ شدید ندامت کے گہرے۔ سمندر میں جا پھینکا تھا۔
” ہاں تو اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ذینی !!! “
“میں ہوں تمہارے ساتھ !!!”
“میں سب کچھ پہلے جیسا کر دونگا خدا کی قسم بس ایک دفع آزمالو مجھے ۔۔۔۔۔”
وہ دلبرداشتہ سا زینی کو ایک دفع پھر شانوں سے تھام چکا تھا۔
” اب تو بس یہ دیکھنا کہ جسم سے روح فناء ہونے کے بعد کتنے دن گنے پڑینگے جسم کو کفن میں لپٹ کر قبر میں اترنے تک” ۔۔
زینی ایک دفع پھر بے آواز رورہی تھی اور ابکی دفع ایسی شدت سے روئی کہ حمزہ کی بھی آنکھیں نمی سے بھر گئیں۔
“کس قسم کی باتیں کر رہی ہو تم ؟؟؟؟”
“شروعات کرنے کے لئے ابھی بھی وقت باقی ہےزینی کچھ بھی نہیں بگڑا ابھی ۔۔”
“نہیں نہیں حمزہ!! شروعات تو آپ کل رات ھی کر چکے ہیں اپنی نئی زندگی کی ۔۔۔”
“مبارک ہو آپ کو اپنی نئی نویلی دلہن سمیت خوش آئندہ زندگی بہت بہت ۔۔”
“چلتی ہوں بہت دیر آپ کا وقت برباد کیا یہ وقت بھی آپ کو اپنی بیوی کے ساتھ اس کی پناہوں میں گزارنا چاہئے تھا۔ ۔۔۔۔۔”
“بیوی تو تم بھی ہو میری زینی ۔۔۔۔”
“میں آپ کی پہلی بیوی ہوں!!”
” اور آپ نے میرے حق میں دوسرے کو شریک کر لیا ہے جو مجھے بالکل گوارا نہیں ہے ۔۔۔”
“اسلئے اب زندگی میں کبھی دبارہ اس رشتے کا حوالہ مجھے مت دی جئے گا ۔۔۔۔”
” زینی تمہارے مان لینے یا جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدل سکتی “۔۔
” مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میری بیوی مجھ سے ناراض رہے”
“بند کرو حمزہ اب یہ اپنی فضول باتیں تمہارا اصل
کیا ہے یہ بہت واضح سامنے آچکا ہے میرے!!!”۔
ا”ب کوئی پردہ باقی نہیں رہاسچ و جھوٹ کے درمیاں ۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ حمزہ کے کمرے سے نکلتی چلی گئی مگر ۔۔۔۔۔
قدرت کے فیصلوں کو بھلا کبھی کسی نے بدلا ہے ؟؟؟
💞💞💞
وہ صلح کو لے کر ہسپتال سے گھر آ گیا تھا ذینی نے صلہ کا ہر ممکن طریقے سے خیال رکھنے کی کوشش کی تھی اپنے تمام تر دکھوں کو نظرانداز کیے وہ بس صلہ کی تیمارداری میں لگی رہی تھی۔
خود پہ ہوئی واردات کا کسی طرح سے حزیفہ سے ذکر بھی نہ کر سکتی تھی۔
اور جاکر شکایت کرتی بھی تو کیا بتاتی ؟؟؟
یہ کہتی کہ اس روز جب وہ حمزہ کے بیڈ روم سے نکلی تھی تو حمزہ نے واپس اس کا ہاتھ تھام کر اس کو خود سے قریب کر ڈالا تھا ۔۔!!
اتنا قریب کہ اپنا حق تک وصولنے میں وقت نہیں لیا تھا۔ ۔۔۔
دھڑکنوں کو اس کی قید کرلیا تھا اپنے مضبوط بازوئو ں میں کہ دم گھٹنے لگا تھا اسکا۔ ۔
لبوں پر لب رکھ کے ان کی آزادی سلب کر ڈالی تھی۔۔
یا پھر یہ کہتی کہ حمزہ نے اس کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے اس کے جسم پہ جابجا اپنے لبوں سے پھوار برسا ئی تھ ۔۔
یا پھر یہ بتا تی کہ وہ ایک لوٹی پٹی سہاگن بن چکی ہے !!!۔۔
اسکے نام نہاد شوہر نے اسکے ساتھ تعلق قائم کرلیا ہے ۔۔۔۔
لیکن نہیں جب لبوں پہ قفل جڑھ جائے تو آواز خودبخود حلق میں دفن ہوجاتی ہے ۔ایسا ہی زینی کے ساتھ ہوا تھا ۔
پچھلے دو دنوں سے وہ بس خود کو اپنے کمرے تک محدود کر چکی تھی ۔۔
جب کہ حمزہ وہ تو جیسے اپنی شرمندگی اور زینی کے سامنے شدید نادم ہونے کا اپنے ایک ایک لمس کی حدت سے احساس دلاتا رہا تھا اسکو۔
حمزہ کے ہر ہر عمل سے زینی کہ روح پہ آئے زخموں کا مداوا کرنے کی کوشش کو وہ بخوبی محسوس کر سکتی تھی ۔
حمزہ اپنے پر حدت وجود کو زینی کے وجود میں منتقل کرتے وقت بھی بس بارہا اس بات کا احساس دلاتا رہا تھا کہ وہ اسکی کل متاع حیات ہے۔
وہ ذینی کو کچھ اس طرح سے خود میں سموگیا تھا جیسے وہ کوئی بہت نازک سی گڑیا ہو ۔جس کے ٹوٹنے کے ڈر سے وہ شدید خوفزدہ رہا تھا ۔
مگر ذہنی وہ تو جیسے روح تک کھوکھلی ہوچکی تھی اتنی محبت و توجہ حاصل کرنے کے باوجود اس کا وجود کو دل بلکل بنجر تھا ۔
اور بےشک بنجر زمین پر کبھی زرخیزی نہیں ہوا کرتی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *