Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13
طبیعت کیسی ہے اب تمہاری؟ ؟؟”
وہ ذینی کے صلہ کوسوپ پلانے کے بعد بیڈ روم میں آیا تھا۔
صلہ آنکھیں بند کئے بستر پہ نیم دراز تھی مگر حزیفہ کو دوسری طرف تکیہ کا سہارا لیتا بیٹھا دیکھ صلہ یکدم حواس باختہ سی ہوکےیکدم سیدھی ہو بیٹھی اور چہرے پہ آئی نمی کی پرواہ کئے بغیر اپنا دوپٹہ ادھر ادھر تلاش کرنے لگی ۔۔
“کیا ہوا کچھ چاہیے تھا؟؟؟”
ھزیفہ جانتے بوجھتے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ سمیٹ کر بولا تھا ۔صلح کی اڑی اڑی رنگت اور ماتھے پہ چمکتے موتی اسکو شرارت پر اکسا رہے تھے ۔۔
دوسری طرف صلہ کے لئے سب سے بڑی مشکل ہی یہ تھی کہ وہ اس وقت اپنے کپڑوں میں موجود ہونے کے بجائے ذینی کے کپڑوں میں موجود تھی حزیفہ کے کمرے میں۔ اس پر ستم یہ کہ زینی کا لباس صلہ کے کافی زیادہ کھلا اور گلہ بھی گہرا تھا۔ جوکہ صلہ کو مزید بوکھلاہٹ پیدا کرنے کس سبب بن رہا تھا۔
ذینی کا سراپہ بھرا بھرا سا تھا جبکہ صلہ ذینی کے مقابلے میں قدمیں کچھ چھوٹی اور کافی حد تک کمزور بھی تھی ۔۔۔
“پلیز زینی آپی کو بھلا دیں ۔۔”
وہ اپنی نازک انگلیاں مڑوڑتی جھکی جھکی پلکوں کی چلمن کو جھپکتے ہوئے منمنائی۔اور حزیفہ وہ تو صلہ کی اس ادا پہ سینے میں موجود دل کو بڑی مشکل سے قابو میں کر سکا تھا جوکہ جانی براوو کے دل کی طرح سینے سے نکل صلہ کی گود میں ڈھیر ہونے کیلئے مچل مچل جارہا تھا۔
“کیوں کیا ہوا ذینی کی کیا ضرورت ہے جب زینی کا بھائی موجود ہے ؟؟؟”
“مجھے بتا دو میں تمہاری مدد کر دیتا ہوں۔۔۔!!”
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ حددرجہ سنجیدگی سے گویا ہوا جب کہ آنکھوں میں شرارت واضح رقصاں تھی لہجے کے مقابلے میں ۔
“وہ میری پرسنل چیز نہیں مل رہی ہے۔ ۔۔”
ہر براہٹ میں لبوں سے بے ساختہ غلط ہی پھسل چکا تھا ۔دماغ کی سلیٹ پہ اب تک حزیفہ کا نکاح والے روز والا روپ خوف کی صورت میں نقش ہو چکا تھا صلہ کہ۔۔۔
“مجھ میں اور تم میں اب کیا پرسنل؟؟؟”
ھزیفہ کے اتنا کہنے پہ صلہ کی آنکھیں پوری طرح وا ہوئی تھی حیرت کی زیادتی سے ۔۔
” میرا مطلب ہے مجھے بتا دو میں تمہاری وہ بہت ہی پرسنل چیز ارینج کر دیتا ہوں ۔۔”
حذیفہ کی رگ ظرافت اپنے عروج پر تھی وہ بندہ جو دنیا کے سامنے اینگری ینگ مین کے نام۔ سے جانا جاتا تھا اگر کوئی اسکو صلہ کے ساتھ بات کرتے دوران دیکھ لیتا تو یقیناً عالم غشی میں جا پہنچتا یا پھر چکر کھا جاتا۔
۔۔
” ٹھرکی بیحودہ انسان !! “
“پتا نہیں کیا کیا باتیں کرر ہے ہیں مجھ سے”
وہ بڑابڑائی کم عمر ضرور تھی مگر نادان ہر گز نہیں تھی کچھ حقائق سے ناواقف تھی مگر مکمل لاعلم بھی نہ تھی ۔
حزیفہ کے زومعنی جملے کافی حد تک سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی اور حیران بھی تھی شدید کہ جو شخص پہلی ملاقات میں کچھ تھا دوسری میں کچھ اور تیسری میں بلکل ہی مختلف !!
ایسے شخص کے کونسے چہرے پہ اسکو ایمان لانا تھا۔
صلہ حزیفہ کی حرکات سے مکمل زچ ہوچکی تھی۔
“شکریہ لٹل گرل ۔۔۔”
وہ اسکے گال کو تھپک کر کہتا مزید شوخ ہوا جبکہ صلہ اس کے شکریہ کہنے اور گال پہ بکھرے لمس کی حدت محسوس کرتی پہ شاکڈ سی رہ گئی۔
صلہ کی زیرلب کہی بات وہ بخوبی نہ صرف سن چکا تھا بلکہ اخلاق کے تمام تقاضے بھی پورے کرتے ہوئے جواب دیتا بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے پورے کر رہا تھا ۔۔
صلہ یکدم حزیفہ کی باتوں اور بولتی۔ آنکھوں سے گھبرا کر ہمت کرکہ بیڈ سے اتر نے کو تھی جب حز یفہ کے ہاتھ میں اس کی مریخمری کہلائی پکڑی جا چکی تھی ۔۔
“سر آپ پلیز اس قسم کی باتیں نہ کریں تو بہتر ہوگا ۔۔”
وہ خود اعتمادی پیدا کرتی نحیف سی آواز میں گویا ہوئی ۔ حزیفہ کے ہاتھ پکڑنے پہ جیسے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا تھا اسکے ۔۔
“میں سمجھا نہیں کس قسم کی باتیں؟؟؟”
” ذرا ڈیفائن کر دو تاکہ میں آئندہ اس قسم کی باتیں کرنے میں احتیاط برت سکوں۔۔۔”
حزیفہ نے دل میں سوچا کہ میں اتنا چھچورا کیسے ہوگیا ہوں صلہ کے سامنے ۔۔
“سر آپ شاید کچھ بھول رہے ہیں”۔
وہ اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتی ایک۔ ایک۔ لفظ چبا چبا کر گویا ہوئی۔
” کیا بھول رہا ہوں ؟؟؟؟”
“میں تو کچھ نہیں بھول رہا !!”
“ویسے اگر تم کچھ بھول رہی ہو تو میں تمہیں بتادیتا ہوں کہ تم اب میری بیوی ہو ۔۔۔”
“تمہاری تمام پرسنل ضروریات کا خیال رکھنا اب مجھ پہ فرض ہے ۔۔۔”
وہ اس کے لفظوں کو اچک گیا تھا۔ بڑی بے باک نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا جبکہ صلہ خوامخواہ اپنی شرٹ کا گلا بار بار برابر کرنے لگی اور یہی وہ لمحہ تھا جب حذیفہ کی نظر اس کی سراحی دار گردن پہ بھٹک کر رہ گئی ۔۔۔
وہ اس کے لفظوں کو اچک گیا تھا۔ بڑی بے باک نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا جبکہ صلہ خوامخواہ اپنی شرٹ کا گلا بار بار برابر کرنے لگی اور یہی وہ لمحہ تھا جب حذیفہ کی نظر اس کی سراحی دار گردن پہ بھٹک کر رہ گئی ۔۔۔
“کیا ہوا آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے ؟؟”
صلہ حزیفہ کی بھٹکتی ہوئی نظروں سے خائف ہوکر اپنی کلائی چھڑوانے کی ہرممکن کوشش کر رہی تھی۔۔
“بس تمہیں دیکھ کر تھوڑی سی شرارت کرنے کا دل کر رہا ہے”
نظریں ہنوز حزیفہ کی صلہ کے سراپہ میں الجھی اسکو بے ایمانی پہ اکسارہی تھیں اور وہ بار بار ڈھڑکنوں میں مچلتے شریر دل کو سرزنش کر رہا تھا۔
میں کیا کوئی کارٹون ہوں !! جو مجھے دیکھ کرسر آپکا شرارت کرنے کا دل کر رہا ہے ؟؟؟؟؟
صلہ کا دماغ بھک سے اڑا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی جادو کی چھڑی سے یا تو خود حزیفہ کے سامنے سے غائب ہوجائے یا اسکو کہیں چلتا کردے ۔مگر دو نوں ہی صورتوں پہ عمل پیرا ہونا ناممکنات میں سے تھا صلہ کیلئے۔
“نہیں تم تو جادو گرنی ہو جس کی جادو کی چھڑی کہیں کھوگئی ہے اور اب تم اسکو میرے بیڈروم میں ڈھونڈنے کیلئے اتری ہو فلک سے ۔۔۔۔”
دو بدو جواب حاضر تھا۔۔۔اور صلہ وہ تو جیسےدھک سے رہے گئی سامنے موجود بندہ کیسے اسکی سوچوں تک رسائی حاصل کر رہا تھا ؟؟؟؟
یہ صلہ کی سمجھ سے پیدل تھا۔
“یا بلکہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تمہیں زمین پہ اتارا گیا ہو میرے لئے ؟؟؟؟”
صلہ کے چہرے کے ہونق تاثرات ہی کچھ ایسے تھے کہ وہ ایک فع پھر پٹری سے اترا تھا۔دل تو کر رہا تھا کہ ایک ہلکا سا جھٹکا دیکر اسکو خود پہ ہی گرا ڈالے ہائے مگر گر جو وہ اپنی معصوم سی خواہش پہ عمل دردآمد کر دیتا تو سامنے موجود ہستی اسکے وجیہہ چہرے کا حال بگاڑدیتی کسی جنگلی بلی کی طرح اتنا تو حزیفہ کو اندازہ تھا کہ وہ کس قدر ” خرانٹ ” فطرت کی مالک ہے۔۔۔۔
” انسان کتا پالے بلی پالے مگر غلط فہمی نا پالے “
وہ دانت پیس کے کہتی اب جھک کہ آخری ہربہ استعمال کر نے لگی تھی۔۔۔جس پہ لمحوں میں بغیر وقت برباد کئے وہ برق رفتاری کا مظاہرہ کرتی حزیفہ کے ہاتھ میں اپنے دانت گڑھا چکی تھی۔۔۔
“اففف ۔۔۔۔۔کتا یا بلی پالنے کی نوبت تو تب آئیگی نا جب تمہیں پال۔پوس کے بڑا کردونگا۔۔۔۔”
صلہ اپنا ہاتھ چھڑواکر ٹیرس میں جا چکی تھی اور وہ بیچارہ اپنے ہاتھ پہ جمائے گئے دانتوں کے نشانات پہ ہی غورفکر کرتا رہے گیا تھا۔
بھائی مجھے آپ سے اہم بات کرنا تھی اگر آپ فری ہیں تو میں کہوں؟؟؟
حزیفہ کبیر کو ناشتہ کروارہا تھا جب زینی اپنا اور اسکا ناشتہ بنا کہ کھانے کی ٹیبل پہ چنتے ہوئے دھیمے لہجے میں گوئی ہوئی تھی۔ صلہ ابھی جاگی نہ تھی یا شاید اس کی دوائوں میں نیند تھی اسلئے حزیفہ نے اسکو جگانے سے گریز کیا۔
“میری گڑیا اگر دنیا کا اہم کام بھی میں کر رہا ہونگا تب بھی اگر میری بہن مجھے پکارے گی تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دوڑا چلا آونگا۔”
“اب جلدی سے کہو کیا کہنا ہے ؟؟؟؟؟”
حزیفہ نے محبت سے زینی کے سر پہ ہمیشہ کی طرح بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اسکے سر پہ دست شفقت بلند کرتے ہوئے کہا۔یہ انداز زینی سے اسکا ہمیشہ سے ہی رہا تھا اسکی نظر میں زینی اب بھی وہی معصوم گڑیا تھی جو ہمیشہ حزیفہ کے پاس مشکل وقت میں منہ بسورتی آیا کرتی تھی۔
“بھائی مجھے آپ اسپیشلائزیشن کیلئے ابراڈ بھیج دیں “
یہ وہی جانتی تھی کہ کتنی مشکل سے کہے پائی تھی یہ جملا ورنہ اسکو تو اپنے ملک کو چھوڑ کر جانے سے ہی شدیس چڑ تھی۔
زینی یہ تم کہہ رہی ہو؟؟؟
تمہیں تو پاکستان میں رہے کر ہی یہاں پر اسپیشلائزیشن کرنا تھی؟؟؟؟
حزیفہ حیران تھا
“جی بھائی بس اب میرا دل اٹھ گیا ہے ہر ایک چیز سے !! ‘
ذینی کا لہجہ بھرا گیا۔
” تم حالات سے فرار مانگ کر غلطی کر رہی ہو !! مت چھوڑو اپنی جگہ زینی اسطرح تو تم اس لڑکی کیلئے کھلا میدان چھوڑ رہی ہو ۔”
“وہ تمہاری محبت قابض ہوجائیگی حق جمالیگی اپنا ۔گڑیا حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے اور پھر جس زینی کو میں جانتا ہوں وہ تو ہر اچھے برے وقت کو اپنے مطابق چلانا جانتی ہے ۔۔۔”
حزیفہ نے نرمی سے زینی کو سمجھا یا اور ساتھ ہی کبیر کے منہ میں آخری نوالا بھی ڈالا۔
“بھائی!! کس حق کیلئے لڑوں ؟؟؟
وہ حق جس پہ میرا حق تھا یا وہ جس کو حمزہ پہلے ہی حریم کی جھولی میں پھولوں کی طرح ڈالا چکا ہے؟؟؟؟
یا پھر وہ حق جو مجھے ملاوٹ کے بعد خیرات کی صورت میں ملا ہے؟؟؟؟؟”
وہ ڈھکے چھپے لفظوں خود پہ گزری تمام تر واردات کہے گئی تھی ۔
“تمہارا مطلب!!”
حزیفہ ششدر سا زینی کو بری طرح بلکتا دیکھ کر بات کی ” اصل ” گہرائی تک پہنچکا تھا۔اور پھر زینی کا اثبات میں سر ہلانا اسکے بد ترین شک کو حقیقت کا عملی جامہ پہنا گیا۔
“بھائی بس اب میری ہمت جواب دے گئی ہے اس سے زیادہ مجھ میں سہنے کی ہمت نہیں ہے ۔میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے زندگی خود پہ تنگ ہوتی محسوس ہورہی ہے ۔۔۔مجھے لگ رہا ہے اسطرح میں گھٹ گھٹ کے ختم ہوجاونگی بھائی پلیز مجھے یہاں سے اس ماحول سے آزادی چاہئے “
وہ بری طرح سسک رہی تھی اور حزیفہ کو جیسے گہری چپ نے آلیا تھا۔
“آپ مجھےمیری خالہ جانی کے پاس بھیج دیں پلیز “
ذینی سب کچھ پہکے ہی طے کر چکی تھی ۔
“لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تمہاری امی کی تو جوئی بہن ہی نہیں تھی زینی”
” بھائی آپ ٹھیک کہے رہے ہیں مگر امی کی ایک پھپی زاد بہن تھیں جو اکثر پاکستان آکر ہمارے گھر ضرور آیا کرتی تھیں نصرت خالا”
“نسرت ۔۔۔نسرت۔۔۔۔۔۔ہاں نصرت آنٹی وہی نا جن کا بیٹا احتشام بہت شرارتی ہوا کرتا تھا اور اسکے آتے ہی میں اپنا کمرہ لاک کردیتا تھا؟؟؟”
ھزیفہ نے زہن پہ زور ڈالا اور پھر بہت تیزی سے آسکو یاد آیا تھا کہ ممانی کی ایک کزن آتی تھیں جو ممانی کو بے حد عزیز تھیں اور بلاشبہ ممانی انکو بھی بہت پیاری تھیں۔
ممانی کے انتقال کے وقت بھی وہ اتنی دور سے غم سے نڈھال دوڑی چلی آئیں تھی پاکستان۔
“جی بھائی آپ نے ٹھیک پہچانا”
“آپ پلیز میرے تمام ڈاکومینٹس تیار کروائیں مجھے جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہے۔۔”
“اور بھائی میری ایک آخری بات مان لیں حمزہ کو میرے جانے کے بعد پتا چلے کہ۔میں جاچکی ہوں اس ملک سے بہت دور اور شاید اسکی زندگی سے بھی۔”
“ٹھیک ہے میں کرواتا ہوں تمام ڈاکومینٹس وغیرہ جمع ۔”
“مگر تم واپس تو آوگی نا ؟؟؟”
حزیفہ کو خوف سا تھا کہ نجانے وہ آئے گی بھی یا نہی؟؟
” ہاں میں آونگی مگر فیصلہ کے اختیار آج کی طرح اس وقت بھی آکو میرے اختیار میں دینا ہوگا۔۔۔”
وہ بہت تلخ ہورہی تھی۔
جبکہ حزیفہ ساکت۔۔
“مجھےمیری غلطیوں کا احساس ہے زینی !! خدارا مجھے معافی دے دو “
“میں تمہارے قدموں میں تمام جہانوں کی خوشیاں ڈھیر کردونگا!!”
” آخری کوتاھی سمجھ کر ہی مجھے معاف کر دو!”
زینی کے ملک سے باہر اسپیشلائزیشن کیلئے جانے کا سن کر حمزہ زینی کے بیڈروم میں آیا تھا۔حزیفہ نے تمام کام اتنی جلدی کروائے تھے محض چند ہی دنوں میں آناً فاناً زینش کاانگلینڈ کا ویزا لگ کر آگیا تھا حزیفہ نے زینی کے والد کا بینک اسٹیٹمنٹ ہی اتنا اسٹرانگ شو کیا تھا اور پھر جب خدا نے ہی قسمت میں زینی کے سفر مقرر کردیا تھا تو کوئی چاہ کر بھی اسکو نہیں روک سکتا تھا البتہ حمزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور رات کے تین بجے کی۔زینی کی فلائٹ !!
حزیفہ سے وہ بہت الجھا تھا کہ کیوں اس نے زینی کے اسقدر خاموشی سے تمام۔ڈاکومینٹس تیار کروائے اور اسکو بتایا تک نہیں !! اور اب جب اسکو اتنی بڑی بات حزیفہ نے بتائی تو وہ بھی محض زینی کے جانے سے چند گھنٹے قبل رات کے کھانے کے بعد ۔۔
حمزہ کی چیخ و پکار کو زرا برابر بھی خاطر میں لائے بغیر حزیفہ نے بڑے سخت الفاظ میں حمزہ کی طبعیت ہرن کی تھی بس چند الفاظ پہ مبنی یہ بات کہہ کر کہ :
“ذینی تمہاری بیوی ہے لیکن تم نے اپنی من مانی کرکہ اسکے دل میں نفرت خود پیدا کی ہے !! اب تم اگر چاہتے ہو کہ زینی تمہارے لئے کچھ بہتر سوچ سکے تو اسکو وقت دو ۔وہ کچھ عرصے کیلئے ہی سہی اس. ازیت سے باہر نکل کر بہتر فیصلہ کیگی “
“دوسری صورت میں اگر تم نے اپنے نام نہا شوہر ہونے کا روب ڈالا تو زینش پہ !! تم میرا آخری دیدار نہیں کرسکوگے “
“امید کرتا ہوں میری بات تمہارے زہن میں بیٹھ چکی ہوگی!! اور میں اپنی زبان کا کتنا پکا ہوں یہ تم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔”
” تم میرے بھائی ہو تو زینی میرے لئے میری اولاد ہے !! میں بھائی سے تو منہ موڑ سکتا ہوں ایک وقت کو لیکن اپنی اولاد سے نہیں سمجھے تم؟؟””
حزیفہ کا خشمگین و زہر انڈیلتا لہجا ایسا تھا کہ حمزہ بغیر کچھ کہے اپنی نشست سے اٹھ گیا تھا اور سیدھا زینی کے جمرے میں بغیر کسی قسم کی دستک دئے داخل ہوا تھا۔
زینی اپنی پیکنگ میں مصروف تھی ۔حمزہ کے اسطرح اپنے بیڈروم میں آجانے پر صرف ایک نظر اسکو دیکھ کر واپس اپنے کام میں جت گئی لیکن اس ایک نظر نے حمزہ کی روح تک کو جھنجوڈ ڈالا تھا اسقدر نفرت تھی زینی آنکھوں میں حمزہ کیلئے کہ چہرہ تو چہرہ نگاہیں بھی نفرت جھلکارہی تھیں۔
“ھمزہ میں نے بھی غلطی کی تھی مجھے معافی کردو تم بھی “۔
زینی کے تاثرات پتھریلے تھے جبکہ لہجہ حد درجہ سرد مہری سے پر تھا۔
“کیا غلطی ؟تم کیوں ایسا کہہ رہی ہوزینی؟؟”
“تم سے محبت کی !! یہی میری سب سے عظیم غلطی ہے جس کا خمیازہ میں بھگت رہی ہو “
ذینی کی کہی بات حمزہ کی سانس رک سی گئی تھی وہ دم بخود رہے گیا۔
“ذین۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔زے۔۔۔۔۔نی۔۔۔”
لبوں سے سرگوشی میں ٹوٹے بکھرے لفظوں میں زینی کا نام ادا ہوا تھا دل تھا کہ اسکا بس اب بند ہوا جاتا کہ تب بند ہوا جاتا۔
“ہاں حمزہ تمہاری جان کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تم سے محبت کرنا بہت بڑی نادانی تھی میری “۔
” زینی میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں تمہارے بغیر نہیں رہے سکتا مر جاونگا!! اتنی لاتعلقی مت دکھا ئو ، نہیں سہہ پارہا میں بے رخی”۔۔
” حمزہ کیا ہے یہ میں تمہیں بتاتی ہوں ، لاتعلق ہوتا میں نے تمہیں دیکھا ہے ، بڑی ہی آسانی سے تم نے مجھے جان سے انجان بناڈالا۔۔”
“زینی تنظزیہ انداز میں کہتی اپنے تمام تر کپڑے سوٹ کیس میں رکھتی جارہی تھی اور حمزہ کے آج سب سوالات کا جواب بھی خندہ پیشانی سے دے رہی تھی اسکے باوجود کہ وہ پل پل اندر سے مر رہی تھی ان لمحات میں مگر وہ چاہ کر بھی اپنے آنسوں کو نہیں روک سکی تھی۔
ٹپ ٹپ آنسوں سوٹ کیس پہ نیچے گررہے تھے جو حمزہ کو سیدھا اپنی روح پہ گرتے محسوس ہورہے تھے۔
“میں نے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لئے بہت کچھ کیا ، لیکن تم نے میرا دل توڑا ، میرا محبت پر سے اعتماد توڑ ڈالا۔”
” بھروسہ کسے کہتے ہیں ؟؟”
” میں آج اس لفظ کے معنی بھول چکی ہوں کیونکہ تمنے مجھے شک کی نظر سے دیکھا ، یہی نہیں تم نے مجھےبےپناہ رلایا “
” بہت تکلیف دی ہے مجھے تم نے مگر یاد رکھنا تم۔ایک دفع میری روح تک تو پہنچ کر دکھاو اب !! جسم تک رسائی حاصل کرنا تو بہت معمولی بات ہے”
” اورہاں آخری بات تم نے مجھ سے کبھی محبت نہیں کی “
یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور حمزہ اس کے اسطرح بے رخی برتنے پہ گھٹنوں کے بل گرنے کے سے انداز میں زمیں پہ بیٹھتا چلا گیا۔
“میں آج اپنی زندگی سے زینی کی محبت کھو بیٹھا ہوں”
زینی نے آج حمزہ کو بہت تلخ حقیقت سے روشناس کروایا تھا۔
جاری ہے
