Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06

گیٹ کھلا ہوا تھا صلہ خود میں بڑی مشکل سے ہمت پیدا کرتی اندر داخل ہو گئی۔ وہ یہ سب مجبوری کے تحت کر رہی تھی مگر پھر بھی اس کا دل بے چین و نادم تھا ۔
قدم من من بھر کے ہو رہے تھے یہ تجربہ اس کیلئے نیا تھا ۔وہ کیا اس کے علاوہ کوئی بھی لڑکی اس کی جگہ ہوتی تو اتنی ہی بے حوصلہ اور خوفزدہ ہی ہوتی ۔
وہ وہاں موجود سنگل سیٹر صوفے پر ٹک گئی اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔ یہ ایک ا پارٹمنٹ تھا لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کبھی کبھی ہی کوئی شازونادر ہی ادھر آتا ہوگا پورا اپارٹمنٹ گرد و دھول مٹی سے اٹا ہوا اس کی نفیس طبیعت پہ گراں گزر رہاتھا۔
فرنیچر کے نام پہ لاؤنچ میں بس دو ہی صوفی موجود تھے باقی پورا ڈائننگ ایریا خالی تھا ۔لاؤن سے ملحقہ دو دروازے تھے شاید بیڈروم کے تھے لیکن وہ دونوں ہی دروازہ بندتھے جبکہ کچن لاؤنچ میں ہی بنایا گیا تھا۔
ایک سنک اور دو اوپر کی طرف لگے کیبنیٹ پہ مشتمل یہ کچن کسی بھی قسم کے برتن اور چولہے سے بےنیاز اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کا شک سو فیصد درست ہے ۔
یہ اپارٹمنٹ کسی کے مکمل رہائش میں نہ تھا ۔
وہ وہشت زدہ سی اٹھ کھڑی ہوئی لمحے بھر میں اس کی چھٹی کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی ۔
عبایا جھاڑتی وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھنے لگی ۔اسے فلحال یہاں سے جانے میں ہی اپنی عافیت نظر آرہی تھی۔
لیکن جانے کے بعد اسکے ساتھ کیا ہونا تھا یہ سوچ کہ ہی ج وہ پل بھر میں لرز گئی لیکن ادھر رہ کر جو ہوتا اس کے ساتھ یہ سوچ بھی اس کے لئے جسم کی روح فنا کردینے کے مترادف تھی ۔
وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ عبور کرباہر نکلنے کو تھی لیکن ادھر وہ قدم دروازے سے باہر نکالتی ہی جب نہ جانے کہاں سے وہ دروازے کے بیچوں بیچ دیوار بنا حائل ہو چکا تھا ۔سامنے موجود شخص کو دیکھ وہ بے طرح سہمی تھی دو قدم خودبخود پیچھے کھسکے تھے۔
“ارے ارے بیبی ابھی تو آئی ہو اور بغیر مجھے اپنا دیدار کا شرف بخشے کہاں چلیں مائی ڈیر وائف؟؟؟”
” میں تو تمہارے نوخیز حسن سے لطف اندوز ہونے کا پورا پوراحق رکھتا ہے ۔۔”
“پلیز مجھ سے ایسی گفتگو نہ کریں “
“تو پھر کس سے کروں ایسی باتیں ویسے تم میری ہو نا جانیمن تو بیوی سے ہی کرونگا نہ یار باتیں اور؟ ؟؟”
معنی خیزی سے اسکا عبایا میں ڈھانپا ہوا وجود دیکھ کر گمینگی و ڈھٹائی کی تمام حدود کر چکا تھا وہ شخص۔
“میں آپ کی وائف نہیں منکوحہ ہوں”۔
” فلحال!!!!”
” بہتر ہے کہ آپ مجھے وہ تصاویر جلد سے جلد دکھایا دیں جن کا اپنے فون پر ذکر کیا تھا ۔۔”
وہ ہتھیلی پھیلا کر برہمی سے بوی مرد کا یہ کونسا روپ تھا وہ چھوٹی سی لڑکی سہم ہی تو گئی تھی ۔
“میری کمسن کھلتی کلی بھولی بیوی میں قربان جاؤں تمہاری معصومیت پر “۔۔
“آپ کو سمجھ نہیں آرہی مجھ سے دور رہیں اور مجھے وہ تصویریں۔ ۔۔۔۔۔۔”
وہ اسکے ہاتھ اپنے شانوں سے جھٹکتی کچھ اور بھی فاصلے پہ ہوئی تھی۔
“اوہ ہاں وہ تصاویر تم خود ہی دیکھ لو اور یہ بھی دیکھ لینا کہ جو لباس تم نے زیب تن کیا ہے اس میں کوئی کمی بیشی تو نہیں ہے ورنہ بعد میں تمہیں شکوہ ہوگا جب سب کی نظروں سے گزرے گیں وہ پکس”
وہ برے طریقےسےالجھ گئی تھی اس کے سامنے کبھی کسی نے اس طرح کہ غلیظ لہجے میں بات نہ کی تھی باپ نے اس کو سختی سے رکھا تھا۔ ہمیشہ زمانے کی گرم و سرد سے بچانے کی مکمل کوشش کی تھی مگر یہ کیا ہورہا تھا اب اس ساتھ ۔۔!!
“میں نے کہا نہ میں ابھی آپکی وائف نہیں ہوں ۔۔”
نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ بھرا گیا ۔
“چلو مان لیا جانیمن کہ تم میری منکوحہ ہو “
وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہی کہہ رہی تھی ۔جتنی اسکی عمر تھی اس حساب سے تو وہ پھر بھی کافی حدتک سمجھداری سے کام لے رہی تھی۔
“تو کیا منکوحہ کو بیوی بننے میں بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟؟؟؟”
وہ اسکی کم عقلی پہ تمسخرانہ لہجے میں دریافت کر رہا تھا۔
سامنے موجود شخص (جو کہ اس کے شوہر کے رتبے پر فائز تھا )کہ چہرے پہ جھلکتی خباثت کو دیکھ وہ لرز اٹھی تھی۔
وہ چھوٹی ضرورت تھی کم عمر تھی زندگی کی بہت ساری حقیقتوں سے واقف نہ تھی مگر ایک لڑکی ضرور تھی خود پہ پڑھنے والی غلیظ نگاہوں کا مطلب کافی حد تک سمجھ چکی تھی ۔
اس کو دو دن سے ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود یہ یاد نہیں پڑ رھا تھا کہ ان دونوں کے نکاح کے دن لی گئی تصاویر میں سے ایسی کونسی تصاویر ہیں جو اس کے ماں باپ کی عزت پامال کرنے کا باعث بن سکتی تھی ؟؟
زندگی بھی نہ جانے کیسے کیسے امتحان لینے پر بضد تھی اس سے ابھی تین ماہ پہلے ہی تو اس کا نکاح ہوا تھا اور یہ اس کے شوہر سے اس کی پہلی ملاقات تھی ان تین ماہ میں نکاح کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔!!
“مجھے جانا ہے واپس ابھی اور اسی وقت “۔۔
“تم جانا چاہتی ہو تو بے شک جاوں مگر تمہارے گھر پہنچنے سے پہلے تمہارے گھر کے دروازے پہ طلاق نامہ پہنچ چکا ہوگا “۔۔۔
“اور پھر ایک دفعہ یہ تو سوچو کہ تم سمیت تمہارے گھر والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے طلاق یافتہ بیٹی کہلانے کے بعد۔ ۔۔۔۔”
اسکے شخص کے الفاظ تھے یا بم کا گولا وہ سہم چکی تھی۔
“تمہارا دل کا مریض باپ کیا منہ دکھائیگا کسی کو ؟؟؟”
“جب اس چھوٹے سے محلے میں جان پہچان کے لوگوں سے ملے گا اور ارے ہاں آخر میں تمہاری بہن بھی تو ہے وہ شاید اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے ہوسکتا ہے وہ باقی کی زندگی اپنی ماں باپ کی دہلیز پہ ہمیشہ تمہاری وجہ سے لگنے والے ڈھبے کے باعث ایڑیاں رگڑ تی رگڑتی بوڑھی ہو جائے ۔۔”
سمیر سفاکی سے کہتا زبردستی اس کو بازو سے تھام کے اندر واپس لاؤنج میں لے کر آ گیا تھا ایسا لگ رہا تھا اس بیدرد شخص کے اندر دل ہی نہ ہو ۔
ہوشیاری سے اپارٹمنٹ کا دروازہ جو کہ پورا چاک ہوا تھا بوٹ کی نوک سے بند کرنا نہیں بولا تھاوہ ۔۔۔
دوسری طرف وہ تھی جو صرف آج اسی لیے یہاں موجود تھی کہ اس شخص جو کہ اس کے شوہر کے روپ میں بھیڑیا بنا ہوا تھا ۔ اسے دھمکی ہی ایسی دی تھی کہ اس کو آتے ہی بنی ۔
اور اب یہاں آکے وہ سوچ رہی تھی کہ کم ازکم بہن کو تو بتا دیتی کسی کو بغیر بتائے آنے کا نتیجہ اس کو سامنے نظر آرہا تھا ۔۔
(“اگر تم نہیں آئیں مجھ سے ملنے تو تمہارے نکاح والی تصاویر میں کچھ ایسی تصویر میرے پاس موجود ہیں جن میں تمہارے کپڑوں میں کچھ کمی دیکھی ہےمیں نے ۔
اور اگر تم آؤ مجھ سے ملنے تو میں وہ تصاویر تمہارے حوالے کردوں گا اور نہ آنے کی صورت میں یا کسی کو بھی کچھ بھی بتاکہ آنے کی صورت میں اپنے انجام کی تم زمیدار ہوسکتی ہو ۔۔”)
وہ دو دن تک مسلسل خود سے جنگ لڑتی رہی مگر پھر مجبوراً ماں باپ اور خود کے نکاح کو بچانے کے لئے یہاں پہ اس کے گھر یہ سوچ کے آئی کے باقی گھر والے بھی موجود ہوں گے اسکے جو لوگ نکاح کے وقت تھے ماں اور بہن بھائی ۔لیکن یہ اسکی سب سے بڑی غلطی تھی ماں باپ کو لا علم رکھنا ایسے معملات میں انکو نا شامل کرنا سب سے بڑی غلطی تھی اسکی۔
“آپ کے پاس میری جو بھی تصاویر ہے مجھے براہ کرم واپس کردیں اسکے بعد میں یہ رشتہ خود ہی ختم کر دوں گی “۔۔۔۔
“ہاں ضرور ختم کردینا یہ رشتہ مگر اس سے پہلے ایک ضروری کام ہو جائےزرا”
وہ صوفے پر سے دھکا دے کر اس کوزمین پہ گراکہ اسکے اوپر جھکا تھا
یہ ۔۔۔۔؟؟؟
یہ سب کیا ہے ؟؟؟؟؟
وہ بری طرح خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
“کچھ زیادہ نہیں ہے بس۔۔۔۔۔”۔۔
“بسسسس کیاااااا چھوڑو مجھے”
“اب تک تو کوئی تصویر نہیں تھی تمہاری میرے پاس لیکن آج کے دن میں تمہاری اتنی تصویریں بناؤں گا کہ تم دیکھتے نہیں تھکو گی میری کمسن اور معصوم چھوٹی سی پری ۔۔۔”۔۔۔
” مم۔ ۔۔۔۔مطلب کیا آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا ؟؟؟”
“بالکل اس وقت جھوٹ بولا تھا مگر اب سچ کہہ کر اس جھوٹ کو حقیقتکا نام دے تو رہا ہوں ۔”
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں میرے ساتھ ؟!”
“کہا نا بیبی اس وقت تو جھوٹ تھا مگر اب سچ کر کے دکھاؤں گا۔۔۔”
وہ اس کو گرا کے اس کے اوپر جھکا اور عبایا کا اسکارف بے رحمی سے اتار کر صلہ کے ہاتھ کے ایک طرف اچھالا مگر صلہ نے اپنے اسکارف کر خدا کی طرف سے غیبی مدد جانا اور کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین پہ گرا اپنا اسکارف ہاتھ بڑھا کہ سمید کے گرد نامحسوس انداد پہ پشت پہ لیجاکر دوسرے ہاتھ کی مدد سے گلے میں پھندا سا باندھ دیا۔
سمیر اس افتاد کیلئے ہرگز تیار نہ تھا اور لمحوں میں بوکھلا گیا جبکہ صلہ نے اسی کو موقع غنیمت جانا اور ہمت کرکہ اسکارف کو سمیر کی گردن کے گرد دونوں ہاتھوں سے کھینچ کےمزید گرفت دخت کردی اب سمیر باقائدا کھانستے ہو ئے صلہ سے کچھ فاصلے پہ ہوا مگر فلحال اس وقت سمیر کی ہر تدابیر الٹی اسی کے منہ کو آرہی تھی۔
“میں کہتی ہوں مجھے ابھی اور اسی وقت طلاق دو “
“نہیں تو میں تم جیسے دردندے پہ ترس نہیں کھاونگی !!؟ارڈالونگی میں تمہیں سمجھے”
سمیر کو بری طرح دم گھٹنے کے باعث کھانستا دیکھ صلہ کی ہمت کچھ اور بھی بندھی تھی اور وہ اب مکمل خود کو سنبھالتے ہو ئے اٹھ بیٹھی تھی جبکہ سمیر اب بھی زمین پہ نیم دراز کھانستا اپنی غیر ہوتی حالت پہ ماتم تک کرنے کا قابل نہیں رہا تھا ۔۔
“مم۔۔۔ میں تم۔ ۔۔۔تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ ۔۔”
طلاق۔ ۔
طلاق۔ ۔۔۔،
اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب صلہ کو اپنے اندر تک۔ سکون اترتا محسوس ہوا ۔۔
جلدی سے اسکے گلے میں گرا لگائی سخت سی تاکہ وہ باآسانی کھول نہ سکے سور مزید دوتین نل ڈال کر اسکارف میں وہ سمیر کو بری طرح تڑپتہ چھوڑ جلدی سے اپارٹمنٹ سے باہر نکلی تھی جانتی تھی اچھی طرح کہ سمیر کچھ ہی دیر میں گرہیں کھول کر اسکو ڈھونڈتا ہوا باہر آنے والا ہوگا۔
لیکن آج اسکو حجاب کی قدر و قیمت کا صحیح معنوں اندازہ ہوا تھا۔
” میرے خدا تیرا کرم ہوا مجھ پہ جو تونے میرے تن کی زینت سے میری عصمت اور میری عزت محفوظ رکھی”
“بے شک تو بڑا غفور ہے۔ “
❤
“شکر !! “
صلہ نے ماتھے پے آیا پسینہ اپنے کا نپتے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔ دسمبر کی یخ بستہ ٹھنڈ کے باوجود خوف اور مستقل بھاگنے سے اس کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہو چکا تھا۔۔۔
رات کی تاریکی میں اس پیارے سےگھر کی درودیوار اس کو اپنی محفوظ پناہ گاہ محسوس ہوئی ۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے سانس بھی ایسے لےرہی تھی جیسے دیوار بھی باہر موجود پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ شامل ہو اور انکو خبر نہ کردے۔وحشت زدہ سی وہ بار بار پردے کی اوٹ سے باہر جھانک رہی تھی جہاں اب بھی پولیس متلاشی تھی اسکیلئے۔
(سمیر نے اس پہ چوری پلس قاتلانہ حملہ کا الزام لگاکہ پولیس کو ساتھ لیا تھا اور اب وہ اسکو قریب کے ایریاز میں کسی زخمی شیر کی طرح تلاش کر رہا تھا۔
سمیر ایک “خاص بروکر” تھا جوکہ یہ کہہ کر لڑکیوں کے ماں باپ کو سبز باغ دکھا تا کہ وہ شادی کے بعد باہر لیجائے گا۔
جہیز میں کچھ نہیں لیگا حد یہ کہ یہ اک پورا گروہ تھا جو پہلے کسی علاقے میں گھر کرائے پہ لیتا اور پھر کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد لوگوں سے گھل ملنے سے لیکر رشتے طے اور پھر نکاح تک کا کام بڑی سفائی اور پلانگ سے کرتا ۔نکاح کے بعد لڑکیوں کو کسی نہ کسی طرح ملنے بلایا جاتا اور انکی ویڈیوز بنا کر ان معصوم لڑکیوں کو بلیک میلنگ کے زریعے غلط و مکروہ کاموں میں استعمال کیا جاتا مگر اس دفع صلہ نے پانسہ ہی الٹا کردیا تھا۔
خدارا اپنی بچیوں کو باہر کے رشتے کی بنیاد پہ نہ بیاہیں جب تک کہ مکمل ہر طرح سے انویسٹیگیٹ نہ کرلیں !! )۔
چند لمحوں بعد اس کو گھر میں ایک آہٹ سی ہوتی محسوس ہوئی جیسے کوئی دروازہ کھول کے لانچ کے اندر داخل ہوا ہو ۔سراسیمہ ہو کے اس نے ڈرتے ڈرتے ادھر ادھر نظر دوڑائی کچھ ہی فاصلے پہ لیمپ جلتا رکھا دیکھ اسنے اک گہرا سانس لیا اور جھپٹنے کے انداز میں لیمپ اٹھالیا۔ صلہ ایک ہاتھ میں لیمپ مضبوطی سے پکڑ ے مکمل طور پر آلرٹ ہو چکی تھی آنے والے پہ حملہ کرنے کی غرض سے ۔
“اگر تم مجھے نقصان پہنچانا چاہتی ہو اس لیمپ سے یا میرے سر کو زخمی کرنے کا سوچ رہی ہو تو یہ ناممکن ہے “۔
حزیفہ کی اسکی طرف پشت تھی وہ اپنا ہاتھ سے گرا
موبائل اٹھانے کو زمین پہ جھکا تھا جب ‏اسکو موبائل کی اسکرین سے لیمپ کی مدھم روشنی کے باعث “صنف نازک” کا عکس دکھا ئی دیا۔وہ لمحے میں سیدھا ہوا اور اسکو دیوار سے لگاکہ جیسے صلہ کیلئے فرار کی تمام راہیں مسدود کر ڈالیں۔
“مم ۔۔۔۔میں چچ۔۔۔چور نہیں ہو مجھے بس پناہ چاہئے”۔۔۔۔
بے ہنگم سانسیں و لڑکھڑاتا لہجہ اس پہ تضاد پنکھڑی کہ مانند پھڑپڑاتے لب و نشیلی سیاہ آنکھیں جن میں خوف کا طلاطم برپا تھا وہ چھوٹی سی لڑکی کسی کو بھی چار و شانے چت کر نے کیلئے کافی تھی ۔۔۔۔
_____________
“میں چور نہیں ہوں “
گھمبیر لہجے میں دریافت کرتا وہ صلہ کو مزید سہما گیا تھا۔
“اتنی سی عمر میں اتنے بڑے بڑے اسٹنٹس کرنے کی کیا ضرورت ہے”
ھزیفہ پہچان تھا سامنے موجود لڑکی کو !! بے ساختہ یہ جملہ اسکے لبوں سے ادا ہوا تھا۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں میرا یقین کریں میں پھنس جاتی اگر آپکے گھر کی کھڑکی نہ کھلی ہوتی”۔
وہ جان بوجھ کر نظر انداز کر گئی تھی حزیفہ کی کہی دوسری بات کو
“اور اگر میں کہوں کہ تم اک مشکل سے نجات پانے کے چکر میں دوسری کہائی میں گرچکی ہو؟؟؟”
کہتے کے ساتھ ہی حزیفہ نے پیچھے ہٹ کے سوئچ پہ ہاتھ مارکر لائٹ جلائی تھی۔
لیکن اس اگر کے آگےجیسے صلہ کی زبان تالو سے جالگی تھی سامنے موجود شخص کو مکمل اجالے میں دیکھ کہ ااسکی آنکھوں میں بھی بڑی تیزی سے شناسائی ابھری تھی۔
اور اس شناسائی کی منزل تہہ کرنے کے بعد تو جیسے صلہ کا اوپر کا سانس اوپراور نیچے کا نیچے ہی رہے گیا۔
“اب اگر میرا مکمل جائزہ لے ہی چکی ہو تو زرا یہ بھی بتادو اب کس سے بھاگ رہی تھی ؟؟؟”
” کون ہے تمہارے پیچھے ؟؟؟؟”
ھزیفہ کے لہجے میں بے پناہ سختی رچی ہوئی تھی جو چند لمحوں کہ لئے صلہ کو بھی گڑبڑاگئی تھی۔دوسری طرف وہ تھا جو غصے سے بےحال ہونے کو تھا ۔کس حزبہ کے تحت یہ فلحال وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا!!
“مم۔۔۔میں گھر سے نکلی تھی ایک دوست کی طرف جانے کیلئے ۔۔۔۔”
پھر؟؟؟؟
چانچتی ہوئی نگاہوں سے وہ اب بھی صلہ کا جائزہ لے رہا تھا جیسے حقیقت کو ترازو میں تولنا چاہ رہا تھا۔
“بب۔ ۔۔بس اسٹاپ کے ایک لڑکے نے مجھے زبردستی لفٹ آفر کی لیکن میرے انکار کے باوجود وہ نہیں مانا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر ہاتھ بڑھاکے زبردستی میرے ہاتھ کو پکڑ کر اندر بٹھانا چاہ رہا تھا جب میں نے اپنا دوسرا ہاتھ استعمال کرتے ہوئے گاڑی کا دروازہ زور سے اسکے ہاتھ پہ دے مارا ۔
وہ شخص تکلیف سے بلبلا رہا تھا اور میں موقع غنیمت جان کہ وہاں سے بھاگنے لگی مگر مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ مجھ پہ چوری کا الزام لگاکہ پولیس کے ساتھ مجھے فالو کرنے نکل پڑے گا۔ ۔۔۔۔”
آدھا سچ آدھا جھوٹ بولتے بولتے اسکی آنکھوں میں نمی جبکہ آواز میں بھراہٹ پیدا ہوگئی تھی ۔ایک جگہ سے عزت بچا کہ آئی تھی اور دوسری جگہ اسی عصمت کو داغدار ہوجانے کے ڈر سے اصل ھقیقت پہ پردہ دال گئی تھی۔
وہ لوگوں کی زبانیں نہیں بند کرسکتی تھی اور نا ہی حزیفہ کی سوچ پڑھنا صلہ کے اختیار میں تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکی بتائی گئی “کہانی ” پہ حزیفہ کو کتنا یقین آیا تھا لیکن وہ اپنی انا کا جنازہ پھر بھی کسی کے سامنے نہیں نکلنے دینا چاہتی تھی۔ آخر کو خدار ماں کی سمجھدار بیٹی جو ٹھہری۔
“اگر تم سچ کہہ رہی ہو تو تمہیں میں مکمل پروٹیکشن فراہم کرونگا لیکن اگر جو تمہاری اک بات میں بھی غلط بیانی کا مجھے علم ہوا بعد میں تو پھر آگے کے حالات کی تم خود زمیدار ہوگی “
“یاد رہے مجھے سچ کہنے والوں سے محبت جبکہ جھٹ بولنے والوں سے شدید خار آتی ہے”
“مم میں سچ “۔۔
“چنگیز خان نا ہوتو “
وہ بڑبڑا ہی سکتی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔”
خشمگیں گھوری سے نوازہ گیاصلہ پہلو بدل کے رہے گئی اگر آج بری نا پھنسی ہوتی تو سامنے کھڑے شخص کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی مگر ہائےےےےے یہ مجبوری ۔
” کرم نوازی سر آپکی لیکن مجھے اب لگتا ہے کہ باہر میری تلاش ختم ہوچکی ہے اسلئے مجھے اب اجازت دیں”
دانت پیس کے کہتی وہ اب مزید حزیفہ کے گھر “پناہ” لینے کی روادار نا تھی۔
“یہ لو موبائل اور انفارم کردو اپنے بابا کہ تم خیریت سے ہو “۔۔
ایسا کیا تھا سامنے موجود لڑکی میں کہ وہ خود کو نرمی برتنے سے روک نہیں پارہاتھا ۔گھر سے انتہائی خراب موڈ میں نکلنے کے باوجود صلہ کی موجودگی میں اسکو اپنے منتشر اعصاب ٹھنڈے و پرسکون ہوتے محسوس ہونے لگے۔
صلہ نے چند سیکنڈ بعد جھجکتے ہوِئے حزیفہ سے فون لیا تھا نگاہیں ہنوز جھکی ہوئی تھی بڑی مشکل سے اسنے باپ کو سمجھایا تھا کہ وہ حالات خراب ہونے کے باعث اپنی دوست کے گھر ہی ہے کچھ دیر تک پہنچنے کی عین کوشش کریگی لیکن شاید وہ ناسمجھ تھی یہ نہیں جان سکی تھی کہ اسکا باپ اپنی جان سے پیاری بیٹی کے لہجے کی نمی اور لڑھکھڑاہٹ سے ان کہی بھی سمجھنے کا ہنر رکھتا۔
صلہ نے اپنے تئیں احمد بشیر صاحب کو مطمعین کرنے کی پوری کوشش کرکے خدا حافظ کہہ کر فون واپس حزیفہ کی طرف بڑھادیا تھا جو یک ٹک سینے پہ بازو لپیٹے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
صلہ باپ کی بگڑی حالت کے پیش نظر ایسی کوئی بات انکے سامنے نہیں کرسکتی تھی جن سے انکی صحت گڑ بڑ کرجاتی بہت تکلیف سے دوچار ہوئی تھی وہ باپ سے غلط بیانی کرتے ہوئے ۔واقعی ایک جھوٹ پہ پردہ ڈالنے کیلئے انسان کو کئ “جھٹوٹ ” کا سہارا لینا پڑتا!!!خدا کبھی بریگھڑی میں بھی جھوٹ نہ بولوائے ۔۔۔۔۔
سمیر سے نکاح اور پھر طلاق کی بات بھی اسنے دانستا حزیفہ سے مخفی رکھی تھی کہ کہیں وہ اسکو غلط سمجھ کہ سمیر کے حوالے نہ کرڈالے ۔۔۔
” بلاشبہہ عورت کی حیاء اسکی نگاہوں میں ہوتی “
حزیفہ کو یہ فلسفاء صلہ کے اوپر ایکدم فٹ ہوتا لگا۔
اسکی دیدوں میں بے باکی نام کو نا تھی!! حیاء کے سرمے سے لبریز آنکھیں ایمان و پاکیزگی کی دولت سے مالامال تھیں۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی تو دوسری طرف حزیفہ اپنی سوچوں میں مگن اڑان بھرہاتھا۔صلہ کا تو پتہ نہیں مگر حزیفہ سوچوں کے وسیع گرداب میں الجھنے کےبجائے بہت تیزی سے ایک نتیجے پہ جا پہنچا تھا۔بس اب بڑے تحمل سے آگے کیلئے معملات طے کرنے تھے اس ضدی لڑکی سے ۔
“تم مجھ سے شادی کرلو”
حزیفہ کو اپنی آواز کا بوجھل پن بڑی شدت سے محسوس ہوا جبکہ صلہ کا جھکا سر اور گھنیری پلکیں یکدم اٹھی تھی۔حیرتوں کے تودے اسکو خود پہ گرتے محسوس ہورہے تھے ۔لمحوں میں نگاہوں نے اپنا تاثر بدلا تھا جن نظروں میں چند پل پہلے حیرت تھی اب انہی نگاہوں میں افسوس کے ساتھ حد درجہ ناگواری رقم ہوچکی تھی۔
“او ہیلو سر جی !! کہیں آپ نشے وشے کے تو عادی نہیں ہے ؟؟؟جانتے بھی ہیں کیا اناپ شناپ کہہ چلے جارہے ہیں ؟؟؟”
“میں تو مکمل ہوش و حواس میں بات کر رہا ہوں مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے تم بہری ہو شاید!! جو میری سیدھے اور آسان لفظوں میں کہی بات کو سن نا سکی”
وہ اسکو ہتے سے اکھڑتا دیکھ خود بھی تیکھے چتونوں سے اسکو گھوری سے نوازنا نہیں بھولا تھا۔
” آپ نے مجھے سجھ کیا رکھا ہے؟؟؟؟”
“لڑکی” ۔۔
حزیفہ کی طرف سے اسٹریٹ فائر ہواتھا جو ٹھا کر کہ صلہ کے دماغ کی کھڑکی توڑچکا تھا۔
” میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں جو آپ میری اتنی سی مدد کرنے کے عوز اتنی بڑی قیمت طے کر رہے ہیں”۔۔
“تم نے غلط اندازہ لگایا میں قیمت نہیں پرپوزل پءش کر رہاہوں ۔۔۔۔ ۔۔”
“یا چلو آسان لفظوں میں سمجھلو ایک طریقے سےکانٹکٹ میرج “۔۔
“اور میں نے کب کہا تم ایسی ویسی لڑکی ہو؟؟؟”
” کسی ایسی ویسی لڑکی سے میں ایسی نادر پیش کش کرنے سے پہلے اپنے معیار کے مطابق ضرور سوچتا “
“غرور مت کریں جس اسٹیٹس کی آپ میرے سامنے پینگیں مار رہے ہیں وہ ہوا کا مسافر ہے اور اب میں چلی خدا حافظ ۔”
“راستہ چھوڑیں میراسر!!”
“اب تو تمہارے کچھ عرصے کیلئے تمام راستے مجھ سے مجھ تک ہی آکہ رکنے ہے اور تم میرے گھر آئی تو اپنی مرضی سے تھی مگر اب جانا یا پھر یہاں رہنا میرے اوپر ڈیپینڈ کرتا ہے۔۔
عادت کے خلاف وہ آج کافی زیادہ بول رہاتھا ورنا تو تول تول کے بات کرنے کا روادار تھا۔لیکن لہجے کی تپش میں کچھ ایسا ضرور تھا جو صلہ کو اندر خوفزدہ کرگیا۔۔
“مجھے اپنی حدود کے مطابق رہنا پسند ہے جس کو تم غرور کہہ رہی ہو وہ میرے اصول ہیں “
” خیر ابھی تم اتنی گہری باتیں سمجھنے سے نابلد ہو!! ننھے سے دماغ پہ زور مت ڈالو.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *