Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11
کاش بھائی کاش !”
“جسطرح آپکو میری زات پہ مکمل اعتماد ہے بلکل اسی طرح کی اگر حمزہ کو بھی میری ذات پر مکمل اختیار حاصل ہوتا تو آج حالات اس نوعیت پہ نا پہنچتے لیکن
اعتبار کی قلت اور شک کی زیادتی !! رشتوں کی خوبصورتی نیست و نعبود کر دیتی “۔
” انسان ہے کہ وہ خود بہت نا قدرا ہے اور اس بات کا صبوط تم نے مجھے دے دیا حمزہ “
“ارے تم کیا مجھے چھوڑو گے میں خود تمہیں چھوڑتی ہوں!! اپنی محبت کی اتنی تزلیل ہونے کے بعد میں تم پہ اک نظر تو دور کی بات تمہارے عکس تک کو اپنے ارد گرد برداشت نہیں کر سکتی “
ہنہہ۔۔۔۔۔۔!!
“بات کرتےہو معافی کی ناممکن “
” یاد رکھنا حمزہ محبت جب زد پہ آجائے نا تو نفرت اور انتقام جیسے لفظوں کو بھی مات دے دیکر محبوب کو تڑپنے پہ مجبور کر دیتی ہے ایسے کہ نہ رات اسکی اور نا دن اسکا رہے جاتی ہے تو بس خلش “
وہ اپنی بات کہہ کر بے دردی سے آنسووں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کر اپنے کمرے میں جانے کو تھی جب حزیفہ کی کرخت آواز نے اسکے قدموں منجمد کر ڈالا۔
“زینی تم ہر طرح کا فیصلہ خود کر سکتی ہو!! میرے بھائی نے جو تمہارے ساتھ کیا ہے اس کیہئے میں تم سے معافی مانگتا ہوں ۔”
“میری طرف سے تمہیں مکمل اجازت ہے اپنے لئے فیصلا لینے کی “۔
حزیفہ نے قہرآلود نظر حمزہ پر ڈالی اور اکھڑا اکھڑا وہ جفا اور دانی کا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے زینش کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
ذینی نے مرے مرے قدموں سے حزیفہ کی پیروی کی اب وہاں رکنے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
سب ختم ہوگیا تھا !!
کچھ بھی تو باقی نا بچا تھا۔۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔!!
لیکن آخری محبت تو پھر محبت تھی ایک آخری بار اس ظلم کے بادشاہ کی طرف دیکھنا نہیں بھولی تھی۔
کاش ایسا ہو کہ اب کے کچھ دعا نہ کرو ۔۔
“زینی بچے میں تم سے بہت پشیماں ہوں میرے بھائی کی وجہ سے آج تم اتنے دکھوں کی پاداش سے گزر رہی ہوں!”
حزیفہ نے زینی کے کمرے میں آتے ہی اپنی بات کا آغاز کیا دل پہ جو بھاری سل تھی اسکا بوجھ اب اٹھا ئے سے بھی تو نہیں اٹھ سک رہا تھا۔
“بھائی میرا دکھ میری قسمت کا لکھا اور میں اللہ کا فیصلہ مانتی ہوں !! اس میں بھی میرے لئے اللہ رب اعزت نے بہتری پوشیدہ ر کھی ہوگی بلا شبہ”
“آپ بالکل بھی خود کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں “
وہ جبراً مسکرائی۔
“بھائی یہ دونوں ؟؟؟؟”
جفااور دانی کو خاموش کھڑا دیکھ زینی نے استفسار کیا ۔
ذینی کو وہ دونوں بچے بالکل اپنی ہی طرح بے بس و لاچار معلوم ہوئے تھے وہ بھی تو ایسی تھی ۔جبکہ دانی نے آگے بڑھ کے زینش کے گلے میں اپنے بازو حائل کرکہ اسکے آنسوں کو پونچھا۔
“زینی آپ روئیں نہیں !! میں ہوں نہ دیکھنا میں ڈھشم ڈھشم ان برے والے بھائی کو خوب ماروں گا بس بڑا ہونے دو مجھے”
دانی نے اپنی معصوم سی آواز میں ذینی کو تسلی دینا چاہی اور ذینی دانی کی محبت پہ اک دفع پھر زاروقطار رو دی ۔
” وہ غیر ہوکہ اسکی تکلیف پہ غمزہ تھا کتنا چھوٹا تھا وہ لیکن پھر بھی رویوں کو پڑھنا سیکھ گیا تھا۔”
جفا جو بڑی حسرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی حذیفہ کے اشارہ کرنے پہ ذینی کے کھلے بازوں کے حصار میں جاکہ وہ بھی اپنا دکھ ان کے ساتھ بانٹنے کی مکمل کوشش کرنے لگی ۔۔
“اب سے یہ ہم سب کا گھر ہے “۔
حزیفہ نے مان سے زینی کی طرف دیکھ کہ کہا ۔
“بھائی جو آپ کا حکم”۔
ذینی نے تعید کی اور چاہ کر بھی کوئی ایسا سوال نہ کیا جس کے باعث ان دونوں بچوں کو تکلیف پہنچتی۔
جفا دانی کا ہاتھ دھلا دو بچے اسنے چاکلیٹ کھائی ہے۔
حزیفہ نے دانستا ان دونوں کو منظر سے ہٹا یا تھا۔
“بھائی یہ کون ہیں ؟؟؟”
لبوں پہ مچلتا سوال آخرِکار آزاد ہوا زینی کہ وہ اب کافی حد تک۔خود کو سنطھال چکی تھی سب کیلئے۔
“یہ ہماری ہی طرح یتیم ہے ذہنی۔”
بڑے توقف کے بعد حزیفہ نے ازیت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
“بس بھائیوں کچھ مت کہیے گا “۔
“اس سے آگے سننے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ہے اور شاید آپ میں کہنے کا بھی”
” ذینی میری بہن!! بس اب ہم لوگ ہی ایک دوسرے کا کل اثاثہ ہے!!”
” کیا تم دونوں کو سنبھال سکو گی؟؟؟”
” جب تک ان کی بہن صلہ اسپتال سے صحت یاب ہو کے واپس گھر نہیں آجاتی ۔”
حذیفہ نے جان بوجھ کے اب صلہ کا قصہ چھیڑا تھا وہ جفا اور دانی میں پہلے ہی ذینی کو الحاد چکا تھا اب صلہ کو لیکر زینی کے زہن کو تیار کرنا تھا ۔وہ زینی کے دل و دماغ کو یکے بعد دیگرے زلزلوں سے دوچار کرنے کا متمنی ہر گز بھی نہ تھا۔
وہ جس وقت کمرے میں آیا اس وقت رات کے 10 بجے کا ٹائم ہوچکا تھا اور حزیفہ سے شدید لعنت ملامت سن کے وہ گھر سے باہر چلا گیا اور خوامخواہ گھنٹوں سڑک کی خاک چھان کے آخرکار لوٹ کے بدھو گھر کو ہی واپس آیا ۔
حریم پہ نظر پڑی جو پیر سکیڑے صوفے پر بیٹھی نہ جانے کن سوچوں میں غرق تھی۔
کچھ کہے بغیر اسکو وہ اپنے کپڑے نکال کے الماری میں سے ڈریسنگ روم میں چینج کرنے کے لیے جاگھسا تھا کچھ دیر بعد وہ جب واپس آیا اس وقت بھی ہریم ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھی غیرمرئی نکتے پر غور و فکر کرنے میں مصروف تھی ۔
خلاؤں میں نظریں جامآئے وہ نا جانے کیا تلاش کر رہی تھی
وہ خاموشی سے بھوکا پیاسا اپنے بیڈ پر نیم دراز ہوگیا لیکن حریم کی آواز نے اس کو یک دم ہی سیدھے ہونے پر مجبور کر ڈالا ۔
“سچ آپ بھی جان چکے ہیں اور میں بھی جان چکی ہوں”۔۔۔۔
“ھنہہ۔ ۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔؟؟؟ “
وہ نا سمجھی سے استفامیہ نظروں سے حریم کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ مجھے یتیم خانے چھوڑ آئے پلیز ۔”
حریم کا لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا۔
کیا بیوقوفانہ قسم کی بات کر رہی ہو ؟؟؟
میں ویسے ہی بہت پریشان ہوں خدارا میری پرہشانی کو کم کرو مجھے مزید مت ستائو۔ “
وہ پہلے بہت جھنجلایا ہوا تھا حریم کی بات نے تو جیسے اسکو سرتاپا تپا ہی دیا تھا۔
“آپکی اور سب کی پریشانی کو ختم کرنے کی غرض سے ہی تو یہ ےجویز پیش کی ہے ” ۔۔
وہ کسی ہاری ہوئی کھلاڑی کی طرح لگی حمزہ کو اس پل کل تک جو لڑکی اسکو ناک و چنے چبوانے کی تگ و دو میں تھی آج وقت نے اسکو سر کے بل زمین بوس کیا تھا۔ ۔
“تم ۔۔۔۔۔۔تمہیں نہیں پتا یتیم خانے میں کیا ہوتا ہے اور کیا ادھر کے حالات ہیں ؟””
“ابھی تک تو نہیں معلوم لیکن
ھمزہ کا لہجہ نرم۔ پڑا حریم کی حالت زار دیکھ کہ اور وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا اٹھ کھڑا ہوا ۔
صوفے پر بیٹھی حریم کا ہاتھ پکڑ کہ وی اس کو بیڈ پہ لے آیا جہاں کچھ دیر پہلے وہ نیم درازہوا تھا۔
حریم بالکل اس کے عین سامنے بیٹھی تھی ہاتھ بھر کے فاصلے سے ۔
“میں بالکل آپنے مکمل ہوش و آواز میں ہوں پلیز زینی کے ساتھ مزید غلط مت کریں”
” وہ ایسے رویے کی مستحق نہیں ہے غلطی میری ہے جو میں آپ کی زندگی میں آئی!!”
“آپکے متعلق کچھ تحقیقات کر لیتی تو آج یہ دن آپ کو اور مجھے دونوں کو ہی نہ دیکھنا پڑتااور نہ ہی زینی اس قدر اذیت سے دوچار ہوتی ۔”
حریم کے دل میں یہ بات جڑ پکڑ گئی تھی کہ وہ زینی کی مجرم ہے بس اس سوچ کہ ہاتھوں وہ اپنا سکون چین برباد کر بیٹھی۔
“میں تمہاری بات سمجھ گیا ٹھیک ہے اب زینی کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہوگا کوئی نا انصافی نہیں ہوگی لیکن اب دوبارہ میں اپنی غلطی نہیں دہرا سکتا !! میں تمہارے ساتھ بھی اب کوئی زیادتی نہیں کروں گااور نہ ہی کوئی حق تلفی ہوگی تمہاری ۔”
“تم بھی میری بیوی ہو بالکل اسی طرح جیسے ذہنی ہے ۔!!”
“جانتے بوجھتے میں تمہیں دلدل میں نہیں دکھیل سکتا ہوں! بہت اچھی طرح جانتا ہوں یتیم خانوں کا حال ۔”
وہ اس کو سینے سے لگاتا خود میں بھینچ گیا تھا حریم اس کی پناہوں میں قید پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
اس کے اپنے ہی دکھ تھے جن کو بہن بھائی کا رتبہ دیا وہ اس کے سودے باز نکلے سگے ہی نہ تھے۔
اس کا سودا کر ڈالا!! آپنی بہن کا ہی سودا کر ڈالا اس کے اپنوں نے۔
یہ کیسے اپنے تھے بھلا؟ ؟؟
اور یہاں حذیفہ کا روپ دیکھ کے اس کو جس قدر حیرت ہوئی تھی کہ وہ حمزہ کا سگا بھائی ہونے کے باوجود بھی رشتوں میں برابری قائم کرنے کے لیے ہراساں ہوئے جا رہا تھا اپنے ہی بھائی کو شدید دھتکار کے رکھ دیا تھا ۔
اور حمزہ وہ تو جیسے اب مقدمہ لڑتے لڑتے نڈھال ہو گیا تھا اس کو بھی کسی کی ضرورت تھی جو اس کے دکھوں اور غموں کو اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا سکے اس کے بوجھ بانٹھ لے۔
انجانے میں ہی سہی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کی ذات میں مکمل کھو چکے تھے ایک دوسرے کواپنا تن ،من مکمل سونپ ڈالا ۔۔۔۔
رات دھیرے دھیرے سرکنے کو تھی لیکن وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن وقت اور حالات سے شاید وقتی طور پہ ہی سہی خود کیلئے سکون و راہ فرار ڈھونڈ چکے تھے۔
“کیا ہوا ہے بھائی اس کو؟؟؟”
زینی نے کچھ حیران و فکر مندی لہجے میں دریافت کیا۔
“صلہ کانروس بریک ڈاون ہوا ہے زینی !!”
” پے در پے دکھوں کو جھیلنے کی سکت ختم ہوچکی ہے اس کی”
ھظیفہ نے تمہید باندھی اصل بات کے لئے۔
” اللہ رحم کرے ان بہن بھائیوں پر”
” بھائی پلیز کچھ بتائیں گے کہ کیا گزری ہیں ان پہ؟ ؟؟”
آخرکار ہمت مجتمع کر کے وہ پوچھ ہی بیٹھی ۔
“صلہ کے ماں باپ کے انتقال کے بعد اس کے قریبی رشتہ داروں نے اس کی شادی دور پڑے کہ ایک رشتے دار سے طے کروا دی تھی وہ لڑکا میرا دوست ہے اور ایسے میں جب اس نے مجھ سے مدد طلب کی اور میرا خفیہ نکاح کروانے کو کہا تومیں منع نہیں کر سکا آخری دوست ہی دوست کے کام آتا ہےبرے وقت میں اور بلاشبہ بری گھڑی برا وقت کسی پہ بھی آ سکتا ہے ۔”
“بس یہی سوچ کے میں نے فیصلہ کرلیا اور تمام معملات اللہ توکل چھوڑ دئے۔ “
“صلہ کے ماں باپ کے اچانک موت کے بعد یکدم شادی صلہ کہلئے کسی دھچکے سے کم نہ تھی ۔
اس کو حالات کے زہریلے ناگ نے کچھ ایسا ڈنسا کہ وہ وہ برداشت نہ کر سکی اور پھر چھوٹی بھی کافی ہے وہ!!”
” تم ملو گی تو تمہیں خود بھی دکھ ہوگا اس کو دیکھ کے اتنی سی عمر میں کیا کیا وہ خندہ پیشانی سے جھیل چکی ہے اورنا جانے ابھی کیا کچھ جھیلنا اسکی قسمت میں ہے “
۔
حذیفہ نے جان کر بات میں جوڑ توڑ کی صلہ کا پردہ بھی رکھنا تھا اور بہن کے دل کی دل آزاری بھی گوارا نہ تھی بس یہی وجہ تھی کہ سچ اور جھوٹ ملا کے کہے گیا اپنی بات ۔
“بھائی آپ پریشان نہ ہوں!!”
” آپ نے جو کیا بہت اچھا کیا اور آپ کی نیکی ضرور ہم سب کے لئے دلی سکون اور اطمینان کا باعث بنے گی انشاءاللہ !!”
“جفا اور دانی کو میں سنبھالونگی بلکہ یہ دونوں اب سے میرے ساتھ میرے کمرے میں ہی رہیں گے میری تنہائیوں کے ساتھی بن کے میں ان کا دکھ بانٹو گی اور یہ میرے” ۔
وہ پر عزم لہجے میں کہتی پھیکی سی مسکراہٹ کبوں پہ سجا گئی۔
مگر زینی کی اس مسکراہٹ میں کتنا صبر اور ہمت تھی یہ حزیفہ بخوبی جانتا تھا۔
وہ ہسپتال واپس آچکا تھا رات ١ بجنے کو تھے ۔
صلہ کو ہلکا ہلکا ہوش آچکا تھا ۔حزیفہ کو یہ دیکھ کہ دلی راحت ملی تھی کہ وہ اب واپس ہواسوں میں لوٹ رہی ہے اور جلد ری ریکوری کر جائیگی۔
“بابا پانی “
صلہ کے لب پھڑ پھڑائے جبکہ حزیفہ اسکے پاس ہی بیڈ کے قریب کرسی کھسکا کر بیٹھا “بیٹل بے “موبائل میں کھلینے میں مصروف تھا نیند تو اسکو ہسپتال ایک منٹ کیلئے بھی نہیں آنی تھی اسلئے رات گزارنے کیلئے اپنا پسندیدہ گیم کھیلنے میں خود کو مگن کر لیا ۔اسکی محویت کو صلہ کے دوسری بار پانی کیلئے پکار اوت اسکے وجود میں ہوتی حرکت نے توڑا تھا۔
” مانا کہ تم سے عمر میں تھوڑا بڑا ہوں مگر اتنا بھی نہیں کہ تم مجھے بابا ہی کہنے لگو !!”
حزیفہ نے صلہ کے بابا کہنے پہ بر ا منہ بنایا اور زیر لب بڑا بڑادیا ۔
کہتے ہوئے ٹیبل پہ رکھی منرل واٹر کی بوتل سے ڈسپوزیبل گلاس میں پانی انڈیل کہ صلہ کہ لبوں سے لگایا۔لیکن اس طرح صلہ کو پانی پینے میں خاصی دشواری ہورہی تھی ۔
ھزیفہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا ایک بازو صلہ کے سر کے نیچے پھنسایا اور اسکو کچھ اونچا کرکہ دوسرے ہاتھ سے گلاس ایک دفع پھر اسکے پنکھڑی کی مانند درخ و گداز لبوں پہ لگادیا ۔
صلہ نے پانی پیتے ہوئے نیم واہ آنکھوں سے عالم غنودگی میں حزیفہ کو دیکھا لیکن زیادہ دیر زہن پہ قابو نہ رکھ سکی اور واپس غنودگی و کمزوری کے باعث آنکھیں موند گئی۔
ھزیفہ نے احتیاط سے صلہ کو واپس تکیہ پہ لٹایا اور دھیرے دھیرے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں سے اسکے سر میں راحت پہنچانے لگا ۔نگاہیں ہنوز صلہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
نا جانے کس احساس کے تحت وہ تھوڑا جھکا تھا اور اپنے سلگتے لبوں کو بیساختہ صلہ کی ہخ بستہ پیشانی پہ رکھ کر بوسا دے ڈالا .
کانچ اٹھانے پڑ جائیں
تم ہاتھ ہمارے لئے جانا
جب سمجھو کہ کوئی ساتھ نہیں
تم ساتھ ہمارا لے جانا
جب دیکھو کے تنہا تم ہو
اور راستے ہیں دشوار بہت
تب ہم کو اپنا کہہ دینا
بے باک سہارا لے جانا
جو بازی بھی تم جیتو گے
جو منزل بھی تم پاؤ گے
ہم پاس تمہارے ہوں نہ ہوں
احساس ہمارا لے جانا
اگر یاد ہماری آجائے
تم پاس ہمارے آجانا
بس اک مسکان ہمیں دینا
پھر جان بھی چاہے لے جانا……..
ایک جزب کے عالم میں اسنے اپنے دیکتے لب صلہ کی پیشانی سے ہٹا کہ کان کے بے پناہ قریب لیجاکہ اپنی پسندیدہ نظم کہہ سنائی تھی۔
حزیفہ کا لہجہ مہک رہا تھا ایک ایک ادا ہوئے لفظ میں سے خوشبو ماحول کو جیسے اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی۔
وقت تھا جیسے تھم چکا تھا یا پھر سرکنے سے انکاری ہو چلا تھا۔
ایک فسوں سہ برپا تھا جو حزیفہ کو اپنی لپیٹ میں لینے کے در پہ تھا گستاخی کر نے کیلئے اکسائے چلے جارہا تھا۔
اب شاید کچھ غلط یا پھر کچھ ایسا ہونے کو تھا جسکا تصور بھی ان دونوں نے ہر گز نہ کیا تھا۔
مگر کیا ہونے والا تھا؟؟؟؟
کوئی انہونی یا پھر کچھ اور؟؟؟؟؟
____________
کیا مجھے حمزہ کو ایک موقع دینا چاہیے؟؟؟
” ہمارے مذہب میں بھی تو چار شادیاں جائز قرار دی ہیں اور پھر وہ بندہ بار بار اپنے گناہ کی معافی بھی مانگ رہا ہے۔۔”
“پشیماں ہے ہوسکتا ہے حریم سے اس کی شادی محض ایک کاغذی رشتہ ہی ہو”۔
” محبت تو وہ بس مجھ سے ہی کرتا ہے میں جانتی ہوں حریم کو حمزہ وہ چاہت اور وہ توجہ نہیں دے سکتا جس کی میں حقدار ہوں ۔۔۔”
“آخر کو اس کی چاہتوں پہ صرف میرا اور میرا ہی حق جو ٹھہرا ہے!!”
“لوگ محبت کو دیوانگی کی حد تک کرتے ہیں اور میں نے حمزہ کی محبت میں دیوانگی سے شروعات کی ہے ۔”
ذینش دانی کے سر میں انگلیاں چلاتی خود کو ایک دفعہ پھر خود کو حمزہ کی طرف مائل ہونے سے روک نہیں پا رہی تھی۔۔
خود غرض ہو رہی تھی اپنی دیوانگی کے ہاتھوں ،مجبور ہو چکی تھی ۔۔
اس میں قصور اس کا بھی تو نہ تھا حمزہ سے اس نے محبت کی ہی اتنی جنوں کی حدوں کو چھوتی ہوئی بڑی شدید کی تھی کہ پیچھے ہٹناناممکن سی بات تھی۔
رات کے چار بجنے کو تھے نیند اس کی آنکھوں سے جیسے کوسوں دور ہوچکی تھی۔۔
بس انتظار تھا تو اس کو صبح کا جب اس نے حمزہ کے سامنے جا کر تمام گلے شکوے دور کراک دفع پھر سے محبت کی وا ہوئی دراز باہوں میں خود کو پرسکون کرنا مقصود تھا۔
خود کو اسکی پناہوں میں سمو کے تمام پچھلی باتوں کو بھلا دینے کا دل سے وہ عزم کر چکی تھی۔
مگر کیا یہ خوشی اس کی تھی یا پرائی کی بن چکی تھی ؟؟
جاری ہے
