Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16

احتشام تیزی سے سیڑھیاں چڑ ھ رہا تھا جب اسکی تیز رفتاری کی وجہ سے اوپر سے نیچے اترتی زینی اس سے بری طرح تصادم سے لڑھکنے کو تھی لیکن احتشام نے اسکو شانوں سے تھام کر گرنے سے روکا اور زینی کو اسکے قدموں پہ کھڑا کر جھٹ اپنے ہاتھ اسکے شانے سے اٹھالئے۔
” اینجل یار تم اب سیڑھیاں دیکھ بہال کر اترا کرو ، ابھی تو میں تھا تمہیں گرنے سے بچالیا ہے میں نے “۔۔
ذینی گرنے کے خوف سے چیخ نکل گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید خوفزدہ ہوتی احتشام نے نرمی سے کہا تھا۔
فرش و چھت اس کے ارد گرد گھومنے لگے سر چکرانے کے باعث زینی نے گھبرا کے سینے مٹھیوں سے سختی سے اس کا گریبان پکڑا۔
” اینجل اب تم آنکھیں کؑو سکتی ہو !! میں تمہیں تمہارے قدموں پہ جما چکا ہو اور اعتماف رکھوں تمہیں دوبارہ لڑکھڑانے نہیں دونگا۔۔۔”
” بس ایک دفع مجھ پہ اعتماد کرکہ تو دیکھو۔۔”
احتشام نے بہت آرام۔سے لیکن بہت بڑی بات کہہ ڈالی تھی اور یہ اسنے دل کی بات کہہ ڈالی تھی زینی سے۔
خالی چہرہ۔۔
ویران آنکھیں۔۔۔۔۔
رتجگوں سے مرجھایا سراپا ۔۔۔۔۔
وہ بس اخاموشی سے آنکھیں کھول کر احتشام کو دیکھتی رہے گئی ۔سب سے بڑا دھچکا تو اسکے لئے یہ تھا کہ احتشام جان چکا تھا کہ وہ امید سے اور دوسرا احتشام کے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہی بات سے۔
یعنی وہ اسکو یقین دلا رہا تھا کہ وہ ہمیشہ اسکے ہر دکھ سکھ میں ساتھ ہے یا پھر اسکو بہت تحزیب کے دائرے میں رہے کر پرپوز کر گیا تھا؟؟؟
وہ فلحال بس اپنے دماغ میں چکراتے سوالات کا جواب چاہتی تھی ۔
اب تو اس میں احتشام سے نظر ملانے تک کی ہمت نا رہی تھی ۔نظر ملاتی بھی تو کیسے جس کو اس حال میں اسکا ہمدرد اسکا ساتھی بننا چاہئے تھا وہ تو بے وفا ٹھہرا اور جو اسکا صرف ایک کزن لگتا تھا وہ اسکے احساس میں گھل رہا تھا۔بلکل ویسے ہی احساس جیسے وہ حمزہ کیلئے کیا کرتی تھی ۔۔
وہ اب بھی اسکو احتیاط سے سیڑھیوان سے اتار رہا تھا یہی نہیں اسنے خود اوپر جس کمرے میں زینی قیام پزیر تھی اس میں ہی شفٹ ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا اور زینی کو نیچے اپنے کمرے میں ۔۔!!
💞💞💞💞
“پلیز ڈاکٹرز میری وائف کے بارے میں کچھ تو بتائیں پلیز”
حمزہ نے آپریشن ٹھیٹر سے باہر نکلتیڈاکٹر سے پوچھا ۔
حریم تینوں بچوں کے ساتھ گھر واپس آرہی تھی جب تینوں کو آئسکریم کھلانے کیلئے گاڑی پارک کرکے سڑک پارکرکے آئسکریم لینے اتری یہ سوچ کر کہ لمبا یو ٹرن لینے سے بچ چائیگی مگر قسمت کو تو جو جیسے کچھ اور ہی منظور تھا روڈ کے دوسری طرف بنے آئسکریم پارلر تک پہچنے سے ہی پہلے ایک گاڑی اسکو ہٹ کر کے آگے نکل گئی تھی۔
“آپکی مسز خطرے سے باہر ہیں مگر ۔۔۔”
مگر کیا ڈاکٹر؟
“ہم آپکے بیبی کو نہیں بچا سکے اور اب آپکی مسز کمپلیکیشن کے باعث دوبارہ کبھی کنسیو نہیں کر سکینگی۔
ھمزہ کو لگا جیسے اسکے اوپر بہت بڑا بم آگرا تھا۔
💞💞💞💞
احتشام نے آفس سے آکر شاور لیکر تازہ دم ہونے کے بعد کاٹن کا کرتا شلوار پہنا اور سر کے نم بالوں میں انگیاں چلاتا انکو خشک کرکے نیچے کی طرف جانے والے زینے کی سیڑھیاں پھلانگنے کہ سے انداز میں اترتا سیدھا کچن میں ہی جا پہنچا۔
کیک بیک ہونے کی خوشبو نے اسکی بھوک چمکا دی تھی وہ بڑے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرسی کھسکا کر بیٹھنےہی لگا تھا کہ کچن سے ملحق ڈرٹی کچن سے کھٹر پٹر کی آواز نے اسکو تیزی سے کرسی پرے دھکیل کر ڈرٹی کچن کی طرف ڈوڑ لگانے کیلئے مجبور کر دیا تھا۔
” اینجل ( زینی) “۔۔۔۔
“تم یہ کیا کر رہی ہو تمہارا دماغ ٹھیک ہے ؟؟؟”
“کیوں تم چیئر پہ چڑھی ہو ؟؟؟”
ذینی کرسی پر کھڑی اوپری کیبنیٹ کا پٹ کھولے نا جانے کس انمول خزانے کی تلاش میں سر گرم تھی ، زینی کا تو نہیں پتا لیکن احتشام کا تو جیسے سانس بند ہونے والا تھا کیونکہ جس کرسی پہ وہ کھڑی تھی اسکا اک پٹ ٹٹا ہونے کے باعث کیل سے جڑا تھا اور اس کرسی کو خالہ نے اسی لئے ادھر رکھا تھا کہ احتشام اسکو ٹھیک کروادے وقت ملنے پر۔
” کچھ نہیں بس ایک اور بیکنگ ٹرے ڈھونڈ رہی ہو دب جگہ دیکھ لی مگر نہیں ملی تو سوچا آخری کیبنٹ بھی دیکھ ہی ڈالوں۔۔۔۔۔”
ذینی نے بغیر پلٹے جواب دیا۔
” میرے ہاتھ کے بنائے گئے کھانے کو میں اتنی آسانی سے سرو نہیں کرونگی آپکی خدمت میں جو آپ انتظار کر رہے ہیں کہ میں اتر کے فوری آپکے آگے دسترخوان بچھانے لگونگی ۔۔۔۔۔”
وہ احتشام سے ہنسی مزاق میں مصروف یہ جانے بغیر کہ اک بہت بڑا طوفان اسکا منتظر ہے اور احتشام بغیر مزید کچھ کہے بیت احتیاط سے کرسی تک پہنچا تھا کیونکہ زینی اگر زرا سا بھی پلٹتی تو کرسی کا پچھلا پایا نکل جاتا اور صورت میں زیمی سمیت اسکے وجود میں سانس لیتی زندگی کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
بیکنگ ٹرے ملتے ہی وہ خوشی سے پلٹی تھی اور۔۔۔۔۔
وہی ہوا جس کا ڈر تھا کرسی کا پایا یکدم چرررر کی آواز کے ساتھ الگ ہوا اور زینی زمین بوس ہونے ہی والی تھی مگر آحتشام نے ہاتھ پھیلا کہ کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زینی کو گرنے سے بچالیا۔
وہ یکایک ہانپ گئی صدمے اور خوف سے اسکی آنکھیں وہشت زدگی کا شکار ہوئیں، احتشام کے پاس زینی کو بازووں میں اپنے لپیٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اور اگر ایسا وہ نہیں کرتا تو ۔۔۔۔
اس معصوم ننھی سی جان کا سوچ کے ہی اسکا دل لرز گیا تھا۔جبکہ بیکنگ ٹرے چھماکے سے زمین پہ جاگری تھی۔
” زینی اپنا نہیں تو کم از کم معصوم زندگی کا ہی خیال کرلیا کرو !! آبھی اگر تم گرجاتی تو جانتی ہو کیا ہوتا؟؟؟”
وہ بھنوٹ ہوا زینی کے اوپر صحیح معنوں میں راشن پانی لیکر چڑھ دسڑاتھا۔
” اسی کیلئے تو خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کررہی ہوں تاکہ ننہی پنپ سکے ، اسی کیلئے تو خوش رہناچاہتی ہوں تاکہ میرے آنسووں کا پر چھاوا اسپر ہرگز بھی نہ پڑھ سکے۔۔۔۔”
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں احتشام کے سامنے اپنا دل ہلکا کر رہی تھی اور وہ یکدم خانوش یوگیا چند لمحوں قبل والا غصہ جھا گ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔
اس کے صبیح چہرے پر آنکھوں تلےکالے سیاہ حلقے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کے وہ کس قدر زہنی تناو کا شکار ہے، احتشام نے تاسف سے زینی کو دیکھا اور لودبخود اپنا غصہ ڈھنڈا ہوتا محسوس کیا ۔وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا زینی کے بظاہر مطمعین نظر آنے واکے چہرے کے پیچھے کتنی ازیتیں رقم تھیں ، کتنے ہی رتجگے اور اس سے کئی زیادہ اپنی کم مائیگی کا دکھ ۔۔۔۔!!
وہ زہنی کی قوت برداشت پہ حیرت زدہ تھا کہ وہ ایسا کیسے اب تک جھیل رہی ہے ؟؟
کیوں نہیں کرتی وہ حمزہ سے دوٹوک بات ؟؟؟؟
“ذینی تم اچھی نیند لو ، میرا مطلب ہے کہ تم اپنا خیال رکھو دن بدن کمزور ہورہی ہو۔”
“لیکن تمہیں خود سے کیا پرواہ ہے؟”
وہ تلخ ہوا۔
” تو تم بھی میری پرواہ کرنا چھوڑدو احتشام !!”
وہ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھسکا کر بیٹھی نم لہجے میں آنکھوں میں تویل مسافت کی تھکن لئے کہے رہی تھی۔
” میں جس کی پرواہ کرتا ہوں وہ میرے لئے مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے !! “
احتشام زینی پہ یہ آشکار کر چکا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے اور زینی خاموش ہوگئی تھی ، فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا اور ایسے وقت میں جب وہ خود پیروں تلے جنت کو اپنی جن رہی تھی۔
صلہ سے اسکو پتا چلا تھا حریم کی محرومی کے متعلق لیکن وہ یہ سب سن کے شدید دکھی ہوئی تھی قصور کس کا تھا اور سزا کس کو ملی تھی۔۔
💞💞💞💞💞
حزیفہ نے ڈرائیور سے دریافت کیا کہ صلہ کہا ہے ؟؟؟
اور ڈرائیور کے جوِاب پہ تو وہ سن ہی رہے گیا ۔
اور سیدھا بغیر ڈرائور کے اکیڈمی جا پہنچا جدھر سے صلہ کلاس لیکر باہر ہی نکل رہی تھی۔
ھزیفہ کو ڈرائیور کی جگہ دروازے کے باہر گاڑی میں موجود پاکہ وہ سہم گئی اپنی متوقع شامت کا سوچ کر، وہ چپ چاپ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھی شدید خوفزدہ تھی حزیفہ سے۔
“کس سے پوچھ کر تم نے اکیڈمی میں حاب کی؟؟؟”
ھزیفہ نے کرختگی سے دریافت کیا اور گاڑی اسٹارٹ کر مین روڈ پہ دوڑانے لگا۔
” بس ۔۔۔۔میں۔۔۔۔ دانی اور وفا کیلئے ۔۔۔۔”
وہ نظریں ملائے بغیر حقیقت بیاں کر گئی ۔
” دانی اور وفا کیلئےمیں زندہ ہوں تمہیں انکی فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی ۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کہ بولا ۔ابھی صلہ مزید کچھ کہتی کہ اسکا موبائل بج اٹھا جو کہ حزیفہ نے اسکرین پہ جگمگ نمبر کو دیکھ کر فوری صلہ کے ہاتھ سے جھپٹا اور کال اٹھائی۔
” صلہ ڈیئر کہاں ہو تم ؟؟؟”
“کیا گھر چلی گئی ہو؟؟؟”
“مجھ سے ملکر تو جاتی کم از کم یارا۔۔”
سارہ کا بھائی دوسری طرف کال پہ تھا اور کافی مایوس بھی تھا صلہ کے بغیر بتائے چلے آنے پر۔
“تھینک یو بڈی میری وائف کو اپنی بہن سمجھ کر اتنا خیال کرنے کیلئے ، میں اپنی بیوی کو پک کر چکا ہوں ، اور وہ کل سے اکیڈمی نہی آسکے گی!! خدا حافظ ۔۔۔۔۔۔”
دوسری طرف موجود شخص کی ایک بھی سنے بغیر حزیفہ نے کچھ ہی دن قبل صلہ کو تحفتاً دیا قیمتی مالیت کا موبائیل فون ڈیش بورڈ پر دے مارا۔صلہ اب کی دفع حزیفہ کے اس قدر شدید رد عمل پہ بھونچا رہے گئی۔
“تم میری بیوی ہو اور ہمیشہ رہو گی “۔۔
وہ حتمی فیصلہ کرچکا تھا جس کے متعلق اب صلہ کو سخت برہم لہجے میں آگاہ کر رہا تھا۔
“مگر یہ شادی تو ایک ایگریمنٹ تھا؟؟؟؟”
صلہ کے بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ خود کو حیرت سے نکال کر چیخی۔
“ایگریمنٹ ہا ہا ہا وہ ایگریمنٹ میں پھاڑ چکاہوں اب باقی ہےتو صرف اور صرف نکاح نامہ”
وہ آج پہلی دفع اس قدر کرخت لہجے میں صلہ سے مخاطب تھا آج سے پہلے وہ کبھی غلطی سے بھی اسپر اونچی آواز سے گویا تک نا ہوا تھا مگر سارہ کے بھائی کی رنگین فطرت کو بھی وہ بخوبی جانتا تھا۔ صلہ کی معصومیت سے بھی وہ شدید خوفزدہ تھا وہ اسکے ساتھ ایک گھر ایک کمرے میں رات دن رہتا تھا صلہ کی اچھی اور بری ہر ایک عادت سے واقف ہوچکاتھا ۔
“کیا جانتے ہے آپ میرے بارے میں ؟؟؟”
“کیا آپکو پتا ہے میرا ماضی کیا ہے ؟؟؟؟”
“کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!”
صلہ روتے ہوئے اپنی بات کہنے کو تھی مگر گاڑی ایک انجان بنگلے کے سامنے رکتی دیکھ وہ پہلے تو حیران ہوئی مگر حزیفہ کو کسی کو فون کرکہ۔باہر آنے کا کہتے دیکھ جلدی سے اپنے آنسوں صاف کئے اوردوپٹہ برابر کیا سر پہ۔
” حزیفہ آپ اگر ایک اکیڈمی جوائن کرنے پر اتنا خفا ہورہے ہیں تو تب کیا ہوگا جب آپجو علم ہوگا کہ میں پہلے بھی کسی کے نکاح میں رہے چکی ہوں؟؟؟ “
” میں آپکو چاہنےلگی ہوں لیکن خوفزدہ ہو کہ آپ مجھے کہیں چھوڑ ہی نہ دیں یہ سن کر کہ میں پہلے بھی۔۔۔۔۔۔۔”
” ابھی میرے پاس کچھ وقت باقی ہے میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کچغ کرلونگی اس مختصر عرصے میں لیکن اگر جو آپکو علم ہوگیا تو شاید آپ مجھے گھر سے ہی نکال باہر کھڑا کرینگے اور پھر ہیں تو آپ بھی ایک مرد ہی بلاشبہ ابھی آپکو میں اچھی لگنے لگی ہوں لیکن جب آپکو حقیقت کا علم ہوگا تو میرا یہی وجود آپکو نا قابل برداشت ٹھہرے گا اور میں خود کیلئے کم از کم آپکی آنکھوں میں نفرت نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔
وہ گہری سوچوں میں گم تھی لیکن ایک جانی پہچانی آواز سن کر وہ تو جیسے ہوش میں آکر ساکت ہی رہے گئی۔
“یار حزیفہ تو اندر تو آجا ۔۔۔۔”
سمیر نے آفس کے کچھ کاغزا ت لینے کیلئے جیسے ہی گاڑی کے اندر جھانکا صلہ پہ نظر پڑتے ہی اسکے لب پھڑپھڑائے تھے۔
” صل۔۔۔لہہہہہہ۔۔۔۔”
جبکہ حزیفہ دونوں جے چہرے کے اڑے اڑے تاثرات دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
______________
ھزیفہ غصے میں باہر جارہا تھا اپنے ہائیر کردا وکیل کے پاس جب کاریڈور سے گزرتے ہوئے اسکا زوردار تصادم حریم سے ہوا جسکے ہاتھ میں ایک پرانی سی تصاویر کی البم تھی جوکہ فرش پہ جاگرنے کہ باعث کھل گئی تھی اور اندر موجود ایک تصویر نے حزیفہ کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔
وہ جھکا تھا اور تصیر پر سے گرد صاف کر کہ جیسے سن ہی رہے گیا ۔سامنے موجود تصویر میں ٣ ماہ کی بچی کسی آدمی کی گود میں شریر مسکراہٹ لئے ہوئے تھی جبکہ دوسری طرف موجود ایک لڑکی تھی جوکہ شاید تصویر میں موجود آدمی کی بیوی تھی کیونکہ اس عورت کےشانے پہ دراز ہاتھ اور عورت کی شرمگیں مسکراہٹ واضح بتارہی تھی کہ وہ اس شخص کی بیوی ہے اور یہی نہیں وہ اس مکمل گھرانے کو پہچان بھی چکا تھا ۔
یہ وہی گھرانہ تھا جو آج سے کچھ سالوں پہلے حزیفہ کے ماموں کے گھر کے بلکل برابر میں رہائش پزیر تھا لیکن پھر اچانک رات و رات کسی دوسری جگہ گھر لیکر ایسے شفٹ ہوا جیسے کسی نے بندوق کے زور پر خالی کروایا ہو۔ ۔
ان دونوں کے ساتھ موجود درمیانی عمر کی خاتون کودیکھنے کے بعد وہ بغیر کسی دوسری بات کئے یہ دعوے سے کہہ سکتا تھا کہ وہ عورت کوئی اور نہیں اسکی ماں تھی۔
اگلی تصویر میں وہی سب لوگ تھے مگر ایک اور تقریباً ١١ سالا بچی اور ١۴ سال کے بچے کا اضافہ تھا۔
“کون ہے یہ سب لوگ ؟؟؟”
ھزیفہ کے لہجے میں کرب پنہا تھا وہ اپنے بد ترین شک کی تصدیق چاہتا تھا۔
“یہ میری فیملی ہے ۔۔۔”
“صبیحہ آپی ، بھائی ،ممآ ، بابا اور میں ۔،۔۔۔”
” اور تم ۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
ھزیفہ کے زہن میں چھناکا ہوا کیونکہ تصویر میں موجود دو بچے تو اسکو یاد تھے اور انکے ماں باپ بھی لیکن تیسری اسکی اپنی ماں اور وہ بچی کون تھی ؟؟؟ یہ اسکو نہیں معلوم تھا۔
” یہ میں ہوں “
ھریم نے چھ ماہ کی بچی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
“اور یہ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
ھزیفہ ضپط کی کڑی منزلیں تہہ کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
“یہ۔ ۔۔ میری سگی ماں ہیں ، انہی سے لیکر مجھے پالا گیا تھا۔۔۔”
ھریم نے الجھن بھری نظروں سے حزیفہ کو دیکھا جسکے چہرے کے تاثرات نا فہم ہورہے تھے۔
💞💞💞💞💞💞
حیرت انگیز طور پر حریم نے جس گھر کے آگے گاڑی رکوائی تھی وہ کسی اور کا نہیں بلکہ سمیر کاگھر تھا ، صلہ بھی ساتھ تھی اور وہ بھی اتنی ہی حیران تھی جتنا کے حزیفہ، کیونکہ صلہ کی بھی دو روز قبل ادھر ہی سمیر سے ملاقات ہوئی تھی ۔
حزیفہ شدید حیران تھا کہ آخر معجرا کیا ہے؟؟؟
زینی کی وجہ سے اس نے کبھی یہ جان لینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ حریم کون ہے ؟؟؟
کس خاندان سے ہے یا پھر اسکا ولی وارث کون ہے ؟؟
جتنا کچھ پتا چلا تھا وہ سب حمزہ سے ہی پتا لگا تھا کہ وہ لے پالک ہے اور اس سب میں بے قصور بھی۔
اس وقت حزیفہ کا سارا کا سارا رجحان حمزہ اور زینی کی طرف مبزول تھا ۔۔
” تم یہاں مجھے کیوں لیکر آئی ہو ؟؟”
“یہ تومیرے بزنس پارٹنرسمیر کا گھر ہے ۔۔۔”
حزیفہ نے کرختگی سے کہا۔
” جی اچھا بھائی لیکن یہ میرے بہنوئی کا گھر بھی “۔۔۔
ھریم نے تھکے تھکے لہجے میں جواب دیا بہن اور بہنوئی کو لیکر بڑی سخت یادیں وابستہ تھی اسکی اور اب بھی وہ صلہ کا ہاتھ تھامے سہارے سے کھڑی تھی ابھی اسکو ہسپتال سے آئے اسکو زیادہ دن نہیں گزرے تھے۔ اسلئے حد درجہ کمزوری کا شکار تھی۔
” تو یہ وجہ تھی حمزہ تمہاری خاموشی کی !! تم نے مجھے اس لئے حقیقت سے دور رکھا کیونکہ تم سمیر کو جانتے تھے ،تم یہ بھی جانتے تھے سمیر کے شئیرز ہمارے بزنس میں لگے ہوئے ۔۔۔۔کاش تم مجھے اسی وقت سمیر کے اصل سے واقف کریتے ۔۔۔۔۔
” لیکن ابھی بھی پانی سر سے نہیں گزرا ۔۔۔۔۔جن لوگوں نے صلہ، تمہاری ، زینی اور حریم کی زندگیوں سے کھیلا ہے میں انکو انجام تک جلد پہنچادونگا۔ ۔۔۔
ھزیفہ کے زہن نے سب کچھ اس پر بڑی تیزی واضح کر ڈالا تھا۔ لیکن اس سے پہلے وہ ھریم کی بہن سے ملنا چاہتا تھا جس کو اسکی ماں کے بارے مکمل علم تھا۔
💞💞💞💞💞
حریم کے ساتھ وہ لوگ سمیر کے گھر میں موجود تھے۔
صبیحہ کے چہرے پہ صلہ کو دیکھ کر تاریکی چھا گئی تھی جبکہ صلہ اس نے لمحے میں بڑے اعتماد سے حزیفہ کابازو پکڑا تھا ۔کیونکہ وہ پہچان چکی تھی کہ سامنے موجود لڑکی وہی ہے جو سمیر کے ساتھ اسکی بہن بن کر آئی تھی رشتہ مانگنے۔
ھزیفہ نے صلہ کو دیکھا اور بغیر کچھ پوچھے وہ بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
” مم۔ ۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ممم۔ ۔۔۔میں بے قصور ہوں ۔۔۔۔۔”
صبیحہ نے خوفزدہ لہجے میں حزیفہ کی طرف دیکھ کر کہا وجہ پچھلے دودنوں میں وہ حزیفہ کی پاورز کا اندازہ لگا چکی تھی سمیر جیسے شخص کو اسنے دو دن میں تارے دھکا دئے تھے بزنس ہی ایسے دائو پیچ کھیلے تھے اسنے سمیر کے خلاف کہ وہ آج پولیس کے ہتھے چڑھ جانے کے خوف سے چھپتا پھر رہا تھا لیکن حزیفہ نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیل رکھی تھیں ایک گھنٹے قبل اپنے زرائع کا استعمال کرتے ہوئے سمیر کو حوالات کے اندر بند کر وادیا تھا۔ اس تمام معملے میں اسنے صلہ کا کہیں بھی نام تک آنے نا دیا تھا۔ وہ اسکی عزت تھی اور اپنی عزت کی رکھوالی رکھوالی کرنا حزیفہ کو بہت اچھی طرح آتا تھا۔
” تمہارا وہ زلیل شوہر بھی بے قصور تھا نا؟؟
،” دیکھ لو وہ بھی ابھی ایک گھنٹہ قبل ہی جیل کی سیر کو بھیجا ہے اسکو اب تمہاری باری ہے ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *