Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10

شزا اسکو حزیفہ کے روم تک چھوڑ کر جاچکی تھی ۔ حزیفہ اپنی چیئر پہ بیٹھا مکمل توجہ سے ایگریمنٹ کے پیپرز کو پڑھ رہا تھا کچھ دیر بعد اسنے مکمل مطالعہ کرنے بعد وہ پیپرز صلہ کی طرف بڑھائے جو کہ بلکل اسکے مقابل بیٹھی اضطرابی انداز میں اپنی مخروطی انگلیوں کو بے دردی سے چٹخا نے میں مصروف تھی ۔
حزیفہ کا دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے مٹی ڈال دے اور صلہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید کر کہ کہےکہ ۔۔
” اب سے میری دسترس میں آنے والے ہیں تمہاری زات سمیت اس لئے تمہیں کوئی حق نہیں میری امانت کو تکلیف پہنچانے کی !!”
مگر وہ یہ فلحال کہنے سے بڑی مشکل سے خود پہ ضبط کے پہرے بٹھاتا جھنجلا کر لب بھینچ گیا تھا۔اس وقت اس قسم کی کوئی بھی بات سامنے موجود لڑکی کو سہی معنوں ” دہلا” دینے کا باعث بنتی ۔
حزیفہ کی صلہ کی اداس آنکھوں کو دیکھ کہ رگ ظرافت پھڑک اور وہ معنی خیز نظریں اس پہ جمائے لہجے کو کچھ کرخت بنا کہ گویا ہوا۔
“نکاح کے معنی پتا ہے یا ان نکاح کے پیپرز کوافرسٹ ایئر کا فارم سمجھ کے فل کر رہی۔؟؟؟”
حزیفہ نے جانچتی ہوئی نظروں سےصلہ کا سر تا پیر جائزہ لیا جو پیپرز کو اپنی طرف موڑ کہ ایسے الٹ پلٹ کر بار بار پڑھ رہی تھی جیسے کوئی ناسور ہاتھ لگ گیا ہو ۔حزیفہ کی تیوری یکایک چڑھ گئی ۔
” بندہ اب اتنا تو اعتبار کر ہی سکتا ہے اتنے عرصے میں “
صلہ کہ بے اعتبارانہ رویے وہ بڑ بڑ ایا تھا مانو جیسے حزیفہ کو اپنے دل پہ تیز دھار چھریاں چلتی ٹکڑے ٹکڑے کرتی محسوس ہوئی۔
“اس سوال کا جواب دینا آپکے ایگریمنٹ میں نہیں”
“وہ نازک سی لڑکی خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی ہر
ممکن کوشش کر رہی تھی تو پھر ایسے کیسے کسی تصدیق کے بغیر صلہ کے نزدیق یہ ایگریمنٹ کسی موت کے پروانے کی سی حیصیت رکھتا تھا تو پھر کیسے آنکھ بند کرکہ دستخت کر دیتی ؟؟”
“اب سے 180 دن کیلئے تم صرف میری پابند ہوصلہ”
حزیفہ صلہ کے پیپرز پہ سائن کردینے کے بعد خود بھی سائن کرکہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑاہوا اور اسکی کرسی کے قریب جاکہ رک کر اسکو بازو سے جکڑ تا صلہ کو کرسی سے ایک جھٹکے سے بیٹھے سے اٹھا کر اسکی سراسیمہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے زہریلی ہنسی ہنس دیا۔
جبکہ صلہ وہ تو حیران پریشان حراساں سی سامنے موجوف اپنے محسن کے یکسر بدلے رویے کو دیکھ ششدر ہی تو رہے گئی ۔بھلا حزیفہ کا یہ انداز اس نے آج سے پہلے کہاں دیکھا تھا۔
یکے بعد دیگرے طوفانوں کی نوید اور اتنے سارے دنوں کے زہنی تنائو کا نتیجہ تھا یا کچھ اور !!
صلہ کے اعصاب نے جواب دے ڈالا تھا اور وہ حزیفہ کی بانہوں ہوش و خرد سے بیگانا ہوکہ جھول چکی تھی۔۔
_________
“تو سنو جناب میری تم سے تو کوئی زاتی دشمنی نہیں نکلتی مگر تمہاری پیاری منکوحہ سے میرے بہت سارے حساب نکلتے ہیں ۔۔۔”
صبیحہ شاطرانہ مسکراہٹ لبوں پہ سجائے زہر خند لہجے میں اپنی بات کا آغاز کر چکی تھی۔
“تمہیں میرا بھائی تو یاد ہی ہوگا زید ؟”
“زید؟؟؟؟ “
ھمزہ نے اچھنبے سے صبیحہ کو دیکھا۔
“چلو میں بتا دیتی وہی جس نے سلیپنگ پلز کھا کر خود کو موت کے گھا ٹ اتار ڈالا تھا “
” اور ہھر ہم لوگ پاپا کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے تم لوگوں کے پڑوس والا گھر خالی کرکے چلے گئے تھے کیونکہ وہ پاپا کو کمپنی کی طرف سے دیا گیا تھا۔”
“پہلیاں مت بجھاوں سیدھے لفظوں میں میری بات کا جواب دو فوری “
وہ صبیحہ کی عجیب و غریب تمہید پہ بتی طرح بھپرا۔
” یہ سب ہسٹری سے وابستہ ہے ماُئی ڈیئر فرینڈ خیر تم نے جو اس روز ریسٹورنٹ میں دیکھا وہ آدھا سچ ضرور تھا “
“وہ سب جھوٹ تھا تم اب بھی بکواس پہ کمر کس رہی ہو “
“کہا نا حمزو کہ وہ سب آدھا سچ تھا پورا سچ یہ ہےکہ میرابھائی زید زینش سے جنونی محبت کرتا تھا اس روز بھی جب زینش کو اسنے زبردستی اپنی جان لینے کی دھمکی دے کر بلایا تھا تو اس روز یہ محظ اتفاق نہیں تھا کہ میں یونیورسٹی سے جلدی آف کرواکر تمہیں بہانے سے اسی ریسٹورنٹ لیکر پہنچ گئی تھی کیونکہ میں اپنی بھائی کی دیوانگی سے واقف ہوگئی تھی میں جان چکی کہ وہ زینی کے حصول کے لئے کسی حد تک جاسکتا ہے “
“میں نے اسکے ایک رات پہلے ہی تمام باتیں جوکہ اس نے زینی سے کی تھی سب سن لیں تھی اور پھر تم میرے کلاس فیلو ہونے کے ساتھ دوست بھی تھے پھر اور نہلے پہ دہلا بچپن بھی ہمارا اک ساتھ ایک ہی محلے میں گزرا”
” بس پھر کیا تھا میں نے تمہیں جان کہ راضی کیا ریسٹورنٹ تک پہنچی وہا زینی زید کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ کسی کی منکوحہ ہے اور زید نے اسکی منت کی تھی اسکا ہاتھ تھام کر اور کتنا تڑپ کر کہا تاھ کہ میری ہوجاو میں تمہیں زندگی بھر کیلئے اپنا بنا کہ رکھنا چاہتا ہوں اور زینی نے اسکے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھ کہ سمجھایا تھا کہ وہ صرف اپنے شوہر کی امانت ہے اسے بھول جاو۔”
“آور تم یہ سمجھے کہ زینی زید کی محبت میں شدید گرفتار ہے آہیں بھرتی پھر رہی ہے کیونکہ ایسا میں نے تمہیں دکھا یا تھا “
“لیکن زینی کے اس روز قطعاً لہجے میں انکار کرنے کی وجہ سے حقیقت تو یہ تھی کہ میرا پیارا بھائی زید دل گرفتہ ہوکہ موت کو اسی رات گلے لگا بیٹھا “
” بس اس دن سے شروع ہوا تھا میرا انتقام زینی سے !!”
میں نے سوچ لیا تھا کہ جب میرے بھائی کو محبت نے مات دی ہے تو زینی کو بھی اسکی محبت کبھی نہیں مل سکیگی زندگی بھر وہ تڑپے گی تمہیں حاصل کر کہ بھی نہیں کر سکیگی جس کیلئے میں نے اپنی بہن حریم کو مہرا بنایا “
“میں چاہتی تو تمہیں اپنے زریعے بھی شیشے میں اتار لیتی مگر وہ کیا ہے نا کہ سمیر مجھے پرپوز کر چکا تھا اور میں کیسے اسکو انکار کردیتی جبکہ وہ میری خالا کا بیٹا ہونے کے ساتھ مجھ پہ بری طرح فدا بھی تھا۔۔”
” حریم وہ تو تھی ہی شروع سے مجھ سے ڈرکہ رہنے والی اور تھی بھی میری سوتیلی بہن !! اسکو تو میں نے یہی کہا تھا کہ تمہارا نکاح ہوا تھا لیکن زہنی ہم آہنگی نہ ہونے کےباعث ختم ہوگیا۔”
میں نے اسکو تمہاری زندگی میں شامل جردیا زینی کی سوتن بناکہ اب زینی ساری زندگی کیلئے تڑپے گی۔”
” اور سمیر اور میرے درمیان میں سے بھی کباب میں سے ہڈی نکلی شکر”۔۔۔
“سمیر کے شاطرانہ دماغ نے بھی میرا بہت ساتھ دیا اور تمہارے بھائی کی سمیر کے ساتھ بزنس میں شئیرز انویسٹمینٹ کروادی ہاہاہا۔۔۔۔”
“اب بس تم سمیر سے بنا کہ رکھنا ورنہ تمہارے بھائی کہ لاکھوں کہ شیر ڈوب سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
حمزہ نے صبیحہ پہ اک قہر آلود نظر ڈالی اور مزید کچھ بھی سنے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے نکلتا گیا سمیر کے اب اسکا رخ اپنے گھر کی طرف تھا زینی سے ملنا تھا بات کرنا تھا اور۔۔۔۔۔اور معافی طلب کرنا تھی۔
___________
زینی ۔۔۔۔”
مدھم لہجہ میں کہتا وو آہستہ آہستہ کچھوے کی سی چال چلتا زینی کے بیڈروم تک آیا تھا مگر زینی کو کمرے میں ندارد پاکہ وہ ان دیوانہ وار اسکو کبھی کمرے سے ملحق ٹیرس میں تو کبھی ڈریسنگ روم میں تلاش رہا تھا حد تو یہ تھی کئی دفع باتھ روم کے دروازے پہ دھڑادھڑ زور زور سے دستک دے ڈالی مگر جب باتھ روم کا دروازہ ناچار کھول کہ دیکھا تو وہاں بھی زینی کو نہ پاکر وہ مزید شش و پنج میں پڑھ گیا تھا بیک وقت کئی خوفناک وہمات نے اسکے دل و دماغ کو جھنجوڑ کہ رکھ دیا تھا۔
شام کے چھ بجے کا وقت ہوچکا تھا مغرب میں بس کچھ ہی دیر باقی تھی آج کا پورا دن اسکا صبیحہ کی وجہ سے شدیدازیت ناک گزرا تھا۔
ملازمہ سے پوچھا اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا کبیر کی کئیر ٹیکر سے دریافت کرچکا تھا مگر ہر طرف سے لا علمی کا ہی سگنل ملا ۔
حمزہ پورے گھر میں اسکو تلاش کرنے کے بعد آخر کار باہر گھر کے بھلی طرف بنے چھوٹے سے لان کی طرف نکل آیا اور بس وہاں پہنچ کہ اسکی تلاش پوری ہوئی۔
ذینی سامنے ہی لان میں گھاس پی بیٹھی اداس شام کا منظر پیش کر رہی تھی۔ حمزہ نے خود میں ہمت پیدا کرکہ زینی سے سامنے کیلئے خود کو تیار کیا تھا۔
” کیوں آئے ہو تم اب کیا میری بربادی پہ کہکہ لگانے باقی رہے گئے ہیں یا پھر میری بے بس پہ جشن منانا باقی ہے”
وہ اسکے کچھ بھی کہنے سے پہلے ہی اسکے قدموں کی چاپ پہچان کہ پتھریلے لہجے میں استفسار کر رہی تھی۔
حمزہ دنگ ہی تو رہے گیا تھا کہ کیسے وہ اسکو محسوس کررہی تھی۔
“پلیز بات سنو زینی “
مجھے ایک موقع دو ازالہ کرنا چاہتا ہوں تمام زیادتیوں کو “
“زیادتیاں ؟؟؟؟
” زیادتی نہیں کی آپ نے میرے ساتھ حمزہ آپ نے میری روح سمیت میری پاکیزہ محبت کو چھلنی کردیا ہے “
“وہ شدت کرب سے پھٹتے دل و برستی یوئی آنکھوں سے حمزہ کو تمسخر زدہ لہجےمیں دریافت کر رہی تھی'”۔
“مجھے معاف کردوں میں نے تم پہ شک کیا زینی تم جو چاہے سزا دے دو بس مجھے معاف کردو “
حمزہ۔سے زینی کا دل شکن انداز برداشت سے باہر ہورہا تھا وہ تو اس زینش کو جانتا تھا جو اسکے آگے پیچھے بس اسکیلئے ہی تھی۔
“میں نے تمہیں معاف کیا میرےرب نے تمہیں معاف کیا حمزہ جاو اپنی بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی کا آغاز کرو “
“زینی میں تمہارے تمہارے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں تم سہی تھیں صبیحہ نے یہ سب کچھ کیا ہے مگر اب میں حقیقت جان گیا ہوں “
“ہا حقیقت کیا خوب کہی تم نے بھی یعنی اب ایک اور لڑکی کی زندگی تم اجاڑدوگے!! مجھے ایسا آباد نہیں ہونا “
تو پھر تم بتاو زینی میں کیا کروں ؟؟؟
وہ اسکےدونوں شانوں کو مظبوطی سے تھام کہ پشیماں تھا زینی کو پہلی دفع حمزہ کی آواز و نگاہوں میں محبت کی چاشنی محسوس ہوئی تھی مگر اب سب کچھ ختم ہو چکا تھا کچھ بھی تو باقی نہی رہا تھا۔
“تم اب کچھ نہیں کوگے جو کرونگی میں کرونگی تم بس دستخت کروگے !!”
وہ ایک لفظ کو چبا چبا کے کہتی اپنے بازوں کو اسکی گرفت سے ایک دم آزاد کراکہ فاصلہ پہ جا کھڑی ہوئی تھی اور یہ فاصلہ اتنا زیادہ نہ ہونے کے باوجود حمزہ کو سحیح معنوں میں میلوں کا محسوس ہوا۔
“کیآ کہنا چاہتی ہو تم زینی ؟؟؟؟”
اسکو اپنی ہی آواز یکسر اجنبی لگی۔دل تھا کہ بس اب پھٹا کہ تب۔
“تم نے معافی مانگی میں نے تمہیں معاف کیا اب میں تم سےخلا لونگی اور تم بھی بغیر کسی حیل و حجت کو میرے فیصلے کو تسلیم کرو گے۔”
یہ وہ ہی جانتی تھی کہ کس طرح موت کو گلے لگاکہ یہ سنگین کاٹ دار جملا ادا کر پائی تھی۔
“ذینی تم ایسا نہیں کرسکتی ہو پلیز زینی یہ ظلم مت کرو مجھ پہ “
“تم تو میری ہو نا ؟”
وہ کہتے ہئے دکھ سے نڈھال لیکن محبت کی شدت سے گھبرا کے اسکو بانہیں پھیلا کر گلے سے لگانے کو تھا جب زینی نے اسکے ہاتھوں کو جٹک کے دونوں ہاتھ سینے پہ جماکہ زور دار دھکا دیا ۔
“میں تمہاری تھی اور تا عمر تمہاری ہی ہوکہ رہنا چاہتی تھی مگراب تمہاری محبت میں شراکت دار حریم بھی ہے تمہاری بیوی اور میں ایک بٹے ہوئے کانوں کے کچھے مرد کے ساتھ ساری عمر نہیں گزار سکتی یہ نا ممکن ہے “
” کیا پتا آگے کبھی تم کسی کی باتوں میں آجائو اور میرا بسا بسایا فھر ہی اجاڑ دو اسلئے مجھے تو معاف ہی رکھو یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھوں اب بس کرو رحم کرو میری زات پہ چکے جاو میری نظروں سے فلحال”
وہ اسکے آگے ہارھ جوڑے پھوٹ کے رودی تھی ۔
🌹🌹🌹🌹🌹
“صلہ کیا ہوگیا تمہیں میں تو مزاق کر رہا تھا پلیز ہوش کرو یار “
حزیفہ اسکو ہوش میں لانے کیلئے ہر ممکن جتن کر رہا تھا مگر ہر کوشش رائیگاں ہی ٹھہر رہی تھی۔
آخر کار صلہ کی بیحوشی سے گھبرا کہ وہ اسکو اپنی مضبوط پناہوں میں لیکر ہسپتال پہنچ چکا تھا ۔
ڈاکٹر کے مطابق زہنی الجھنوں و پریشانیوں کی وجہ سے صلہ کو نروس بریک ڈاون ہوا تھا ۔
“ڈاکٹر صاحب کسی طرح کی فکرمندی کی تو بات نہیں؟؟؟”
ڈاکٹر کے مکمل معنے کے بعد وہ پریشان سہ ڈاکٹر سے گویا ہوا۔
“یہ آپکی ؟؟؟”
ڈاکٹر نے تصدیق چاہی ۔
“میری وائف ہے “
حزیفہ کے لبوں سے بے ساختہ ادا ہوا۔
“آپکی وائف کو ہمیں ایڈمت کرنا ہوگا ڈیپریشن یی وجہ سے انکی صحت بھی خاصی ابتر ہو چکی ہے جس کح اسرات انکے پورے نروس سسٹم پہ پڑ رہے ہیں “
“٢سے ٣ دن ہمیں انکا مکمل ٹریٹمنٹ کرنا ہوگا پھر ہی کچھ کہا جا سکتا ہے “
“ڈاکٹر نے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا “
“یہ ٹھیک ہوجائیگی نا ؟؟؟؟”
وہ اب بھی اک ہی نقطے پہ اٹکا ہوا تھا۔
“آپکی شادی کو لگتا ہے زیادہ وقت نہیں گزرا خیر ایسا ہوتا ہے اکثر آپکی وائف ویک بھی بہت ہیں آپ خیال کیا کریں “
ڈاکٹر کے ڈھکے چھپے لفظوں میں کہی بات کا مطلب سمجھ کہ وہ خفت سے سرخ پڑگیا ۔
“استغفراللہ “
دل نےدھڑکنوں کے ساتھ مل کے کہا۔۔
“جی بہتر ڈاکٹر صاحب درست فرمایا آپنے “
وہ کھسیاہٹ پہ قابو پاتا اک اک لفظ کو چبا چبا کہ بولا۔
“ظالم حسینہ کچھ نہ ہونے پہ یہ حال ہے گر جو کچھ ہوگیا تو یہ ڈاکٹر تو کرفیو عائد کردیگا “
وہ دل ہی دل میں بڑاتا ہوا باہر آیا اور اک نرس کو کچھ دیر صلہ کی حفاظت پہ معمور کرنا نہیں بھولا اب اسکا رخ
گھر کی طرف تھا جہاں جفا اور دانی تنہا تھے ہسپتال میں کافی ٹائم لط چکا تھا اور پھر یہ حمزہ کا بھی ہسپتال نہ تھا جہاں وہ تعینات تھا ۔یہ ہسپتال اسکے آفس سے قریب تر تھا اسی لئے حزیفہ نے رسک لینے کے بجائے ادھر ہی گاڑی روک دی اور صلہ کو لئے اندر ہسپتال میں داخل ہوگیا۔
مغرب کے بعد کا وقت ہوچلا تھا وہ تیز ڈرائیو کرتا ڈیفنس سے گلشن اقبال پہچا تھا ۔ جفا اور دانی کو کسی نہ کسی طرح مطمعین کر کے وہ ان دونوں کو لیکر اس گھر جارہا تھا جہاں اسکی سانسیں زینی حمزہ اور کبیر بستے تھے اب اس گھر میں جفا اور دانی کا بھی اظافہ ہونے جارہا تھا۔
صلہ کے ہسپتال میں ہونے کے باعث اسکو بھی اسی کے ساتھ رات دن ہسپتال میں گزارنے تھے ایسے میں جفا اور دانی کو تنہا چھوڑنا حزیفہ کو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا بچے ہی تو تھے دونوں اسکے لئے بلکل حمزہ زینی اور کبیر کی مانند۔
لیکن گھر پہنچ کر جو منظر اسکو دیکھنے کو ملا وہ اسکو بری طرح توڑ پھوڑ گیا تھا
_________
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ذینی کے ساتھ اتنا سب کرنے کے باوجود اس کا راستہ روکنے کی یا پھر اس کا ہاتھ پکڑنے کی؟؟؟”
” تمہیں شرم نہیں آئی ذرا سی بھی؟؟”
ھزیفہ گھر میں جیسے ہی جفا اور دانی کے ساتھ داخل ہوا سامنے کا منظر ملاحظہ کرکے جیسے اسکو پتنگے لگ گئے تلخی آنکھوں میں یکایک بھری تھی ۔
حمزہ ، زینی کا زبردستی ہاتھ پکڑے اس کو جانے سے روک رہا تھا اور ذینی زارو قطار روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ”
” اب کچھ نہیں بچا سب کچھ ختم ہوگیا ہے !!اس پاک رشتے کا اختتام ہونا تھا سو ہو گیا ہے”
” ناو گیم اذ آور حمزہ “
زینی چنگھاڑتی ہوئی اپنا آپا کھو بیٹھی تھی اور یہی وہ وقت تھا جب وظیفہ کا دل اس کی بے بسی پر خون کے آنسو رویا تھا ۔
کیسا کرب تھا اس کی بہن کے لہجے میں!! مان ٹوٹنے کا دکھ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ وظیفہ کو زینی کی صورت میں معلوم ہوا تھا۔
“بھائی پلیز آپ تو میرے بھائی ہو نا؟؟”
“ذینی سے کہیں کہ مجھے وہ معاف کردے میں غلط تھا مجھے زینی کے خلاف بہت غلط برین واشنگ کی گئی تھی جس کا نتیجہ اس طرح سے نکلا “
وہ۔آپکی بات کبھی نہیں ٹالتی ہے بھائ”
“اچھا یہ بھی خوب کہی تم نے کہ زینی میری بات مانتی ہے کل کلاں کو تم میرے اور زینی کے مقدس رشتے پہ بھی بہتان لگادو !! “
حزیفہ سفاک ہوا۔
“خناس بھرا ہوا تھا اب تک میرے دماغ ۔”
“لیکن اب میں سب کچھ جان چکا ہوں !! کون سہی تھا کون غلط “۔
حمزہ نے بےبس سی نگاہوں سے بھائی کی طرف دییھا جیسے اب وہی خدا کے بعد اس کی ڈولتی کشتی کو سنبھالا دے سکتا ہےلیکن حزیفہ نے تلخی۔ سے اپنا رخ پھیر لیا۔
۔
” جو بھی فیصلہ سچ یا جھوٹ!! جو بھی کیا تم نے خود ہی ہر چیز کو اپنے دماغ کے ترازو میں صحیح اور غلط تصور کر کے فیصلہ کرلیا تھا اور اب بھی تم اسی روش پہ اپنی بر قرار ہو۔ “
“نہیں بھائی آپ صرف ایک دفع تو مجھے بھی سمجھئے۔ “
وہ مچلا حزیفہ کے مکمل بائیکاٹ نے تو جیسے اسکی ہمت ہی توڑ ڈالی تھی ۔
“بچے تو نہ تھے کہ کسی نے کچھ کہا اور تم نے لبیک کہہ دیا “۔۔۔
“اور رہی بات کس نے کیا کہا اور کیا نہیں !! یہ مجھے جاننا بھی نہیں ہے “
“کیا پٹی پڑھائی تمہیں کس نے ؟؟مجھے کوئی سروکار نہیں اس بات سے مجھے میری بہن پر مکمل بھروسہ ہے اور یہ بھروسہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا “۔
ھزیفہ نے بڑھ کے سسکتی ہوئی زینی کہ سر پہ دست شفقت رکھا۔ دوموتی اس قدر محبت پہ زینی کی آنکھوں سے لڑھکے تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *