Hararat e Jaan by Aymen Nouman

گیٹ کھلا ہوا تھا وہ خود میں بڑی مشکل سے ہمت پیدا کرتی اندر داخل ہو گئی۔ وہ یہ سب مجبوری کے تحت کر رہی تھی مگر پھر بھی اس کا دل بے چین و نادم تھا ۔
قدم من بھر کے ہو رہے تھے یہ تجربہ اس کیلئے نیا تھا ۔وہ کیا اس کے علاوہ کوئی بھی لڑکی اس کی جگہ ہوتی تو اتنی ہی بے حوصلہ اور خوفزدہ ہی ہوتی ۔
وہ وہاں موجود سنگل سیٹر صوفے پر ٹک گئی اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔ یہ ایک ا پارٹمنٹ تھا لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کبھی کبھی ہی کوئی شازونادر ہی ادھر آتا ہوگا پورا اپارٹمنٹ گرد و دھول مٹی سے اٹا ہوا اس کی نفیس طبیعت پہ گراں گزر رہاتھا۔
فرنیچر کے نام پہ لاؤنچ میں بس دو ہی صوفی موجود تھے باقی پورا ڈائننگ ایریا خالی تھا ۔لاؤن سے ملحقہ دو دروازے تھے شاید بیڈروم کے تھے لیکن وہ دونوں ہی دروازہ بندتھے جبکہ کچن لاؤنچ میں ہی بنایا گیا تھا۔
ایک سنک اور دو اوپر کی طرف لگے کیبنیٹ پہ مشتمل یہ کچن کسی بھی قسم کے برتن اور چولہے سے بےنیاز اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کا شک سو فیصد درست ہے ۔
یہ اپارٹمنٹ کسی کے مکمل رہائش میں نہ تھا ۔
وہ وہشت زدہ سی اٹھ کھڑی ہوئی لمحے بھر میں اس کی چھٹی کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی ۔
عبایا جھاڑتی وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھنے لگی ۔اسے فلحال یہاں سے جانے میں ہی اپنی عافیت نظر آرہی تھی۔
لیکن جانے کے بعد اسکے ساتھ کیا ہونا تھا یہ سوچ کہ ہی ج وہ پل بھر میں لرز گئی لیکن ادھر رہ کر جو ہوتا اس کے ساتھ یہ سوچ بھی اس کے لئے جسم کی روح فنا کردینے کے مترادف تھی ۔
وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ عبور کرباہر نکلنے کو تھی لیکن ادھر وہ قدم دروازے سے باہر نکالتی ہی جب نہ جانے کہاں سے وہ دروازے کے بیچوں بیچ دیوار بنا حائل ہو چکا تھا ۔سامنے موجود شخص کو دیکھ وہ بے طرح سہمی تھی دو قدم خودبخود پیچھے کھسکے تھے۔
"ارے ارے بیبی ابھی تو آئی ہو اور بغیر مجھے اپنا دیدار کا شرف بخشے کہاں چلیں مائی ڈیر وائف؟؟؟"
" میں تو تمہارے نوخیز حسن سے لطف اندوز ہونے کا پورا پوراحق رکھتا ہے ۔۔"
"پلیز مجھ سے ایسی گفتگو نہ کریں "
"تو پھر کس سے کروں ایسی باتیں ویسے تم میری ہو نا جانیمن تو بیوی سے ہی کرونگا نہ یار باتیں اور؟ ؟؟"
معنی خیزی سے اسکا عبایا میں ڈھانپا ہوا وجود دیکھ کر گمینگی و ڈھٹائی کی تمام حدود کر چکا تھا وہ شخص۔
"میں آپ کی وائف نہیں منکوحہ ہوں"۔
" فلحال!!!!"
" بہتر ہے کہ آپ مجھے وہ تصاویر جلد سے جلد دکھایا دیں جن کا اپنے فون پر ذکر کیا تھا ۔۔"
وہ ہتھیلی پھیلا کر برہمی سے بوی مرد کا یہ کونسا روپ تھا وہ چھوٹی سی لڑکی سہم ہی تو گئی تھی ۔
"میری کمسن کھلتی کلی بھولی بیوی میں قربان جاؤں تمہاری معصومیت پر "۔۔
"آپ کو سمجھ نہیں آرہی مجھ سے دور رہیں اور مجھے وہ تصویریں۔ ۔۔۔۔۔۔"
وہ اسکے ہاتھ اپنے شانوں سے جھٹکتی کچھ اور بھی فاصلے پہ ہوئی تھی۔
"اوہ ہاں وہ تصاویر تم خود ہی دیکھ لو اور یہ بھی دیکھ لینا کہ جو لباس تم نے زیب تن کیا ہے اس میں کوئی کمی بیشی تو نہیں ہے ورنہ بعد میں تمہیں شکوہ ہوگا جب سب کی نظروں سے گزرے گیں وہ پکس"
وہ برے طریقےسےالجھ گئی تھی اس کے سامنے کبھی کسی نے اس طرح کہ غلیظ لہجے میں بات نہ کی تھی باپ نے اس کو سختی سے رکھا تھا۔ ہمیشہ زمانے کی گرم و سرد سے بچانے کی مکمل کوشش کی تھی مگر یہ کیا ہورہا تھا اب اس ساتھ ۔۔!!
"میں نے کہا نہ میں ابھی آپکی وائف نہیں ہوں ۔۔"
نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ بھرا گیا ۔
"چلو مان لیا جانیمن کہ تم میری منکوحہ ہو "
وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہی کہہ رہی تھی ۔جتنی اسکی عمر تھی اس حساب سے تو وہ پھر بھی کافی حدتک سمجھداری سے کام لے رہی تھی۔
"تو کیا منکوحہ کو بیوی بننے میں بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟؟؟؟"
وہ اسکی کم عقلی پہ تمسخرانہ لہجے میں دریافت کر رہا تھا۔
سامنے موجود شخص (جو کہ اس کے شوہر کے رتبے پر فائز تھا )کہ چہرے پہ جھلکتی خباثت کو دیکھ وہ لرز اٹھی تھی۔
وہ چھوٹی ضرورت تھی کم عمر تھی زندگی کی بہت ساری حقیقتوں سے واقف نہ تھی مگر ایک لڑکی ضرور تھی خود پہ پڑھنے والی غلیظ نگاہوں کا مطلب کافی حد تک سمجھ چکی تھی ۔
اس کو دو دن سے ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود یہ یاد نہیں پڑ رھا تھا کہ ان دونوں کے نکاح کے دن لی گئی تصاویر میں سے ایسی کونسی تصاویر ہیں جو اس کے ماں باپ کی عزت پامال کرنے کا باعث بن سکتی تھی ؟؟
زندگی بھی نہ جانے کیسے کیسے امتحان لینے پر بضد تھی اس سے ابھی تین ماہ پہلے ہی تو اس کا نکاح ہوا تھا اور یہ اس کے شوہر سے اس کی پہلی ملاقات تھی ان تین ماہ میں نکاح کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔!!
"مجھے جانا ہے واپس ابھی اور اسی وقت "۔۔
"تم جانا چاہتی ہو تو بے شک جاوں مگر تمہارے گھر پہنچنے سے پہلے تمہارے گھر کے دروازے پہ طلاق نامہ پہنچ چکا ہوگا "۔۔۔
"اور پھر ایک دفعہ یہ تو سوچو کہ تم سمیت تمہارے گھر والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے طلاق یافتہ بیٹی کہلانے کے بعد۔ ۔۔۔۔"
اسکے شخص کے الفاظ تھے یا بم کا گولا وہ سہم چکی تھی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *