Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07

Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07

میں جارہی ہوں نہیں چاہئے مجھے پناہ “
وہ ایک دفع پھر سے خود کو ہر قسم کی ٹیڑھی سورتحال کیلئے تیار کرچکی تھی اور سائیڈ سے ہوکہ نکلنے ہی والی تھی مگر نازک سی کلائی حزیفہ کی مظبوط گرفت میں آچکی تھی اور ساتھ ہی وہ غصے سے لال پیلی ہوکہ مڑی ہی تھی مگر حزیفہ کے فون پہ جگمگ کرتا نمبر دیکھ وہ اپنی جگہ جم سی گئی ۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
تنہا دل ہے تنہا یادوں میں
اب تو تنہائیاں بھی
دل کو اچھی لگتی ہیں
“کیا کمی تھی مجھ میں حمزہ جو تم نے مجھے پل میں بےمایا کر چھوڑا؟؟؟؟؟”
لیکن میں تمہیں بد دعا نہیں دونگی اور ناہی خفا ہونگی کیونکہ محبت میں نے کی ہے تم نے تو صرف تین دفع قبول ہے کہہ کر سر پہ سے اس وقت کوئی بوجھ اتارا تھا۔
تمہیں حق ہے چاہو تو مجھے برباد کرو یا چاہوتو مجھے آباد کر و لیکن بس میرے آس پاس رہو میرے لئے اتنا ہی سکون کافی ہے جینے کیلائے۔
افسوس ہورہا ہے مجھے آج خود پہ کہ میری محبت ہی کہی نہ کہی کھوٹ رہی ہوگی تبھی تو تم کو پاکر بھی نہ پاسکی۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بیڈروم میں آکر بری طرح سے بکھری تھی ۔دل کے بارہا چیخ چیخ کے رونے کے باوجود وہ ٹھنڈے ٹھار فرش پہ کروٹ کے بل لیٹی بے آواز رورہی تھی ۔دل تھا کہ کسی بھی طرح پرسکوں نہیں ہونے دے رہاتھا۔
“میرے اللہ اس میں بھی تیری بہتری ہی ہوگی مخفی “
مگر کیوں آخر کہاں میری محبت میں کمی رہے گئی جو حمزہ تمنے مجھے حقیقتاً جوتے کی نوک پہ مقام دے ڈالا؟؟؟؟؟
اللہ پاک تو جانتا ہے نا میں نے سچی محبت کی ہے بس میرے پیارے خدا مجھے اسکی محبت دلادے میرے لئے میرے شوہر کے دل میں محبت بھردے میرے مالک۔۔۔
میں یہ نہیں مانگتی تجھ سے کہ وہ اپنی من چاہی بیوی سے کبارا کشی کرلے میں تو بس تھوڑی سی جگہ جاہتی ہو اسکے دل میں “
“بھردے نا میرے مالک اسکے دل میں میری بھی محبت “
وہ بچوں کی طرح بلک بلک کے رورہی تھی بار بار اسکی آنکھوں میں وہ منظر گردش کر رہاتھا جب حمزہ نے حریم کے گرد بازو حائل کر کے اسکو کمرے میں لیجاکہ عین بت بنی زینی کو تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھ کہ دروازہ بند کردیا تھا۔
“ہاہ۔۔۔۔ کتنا بڑا ظرف ہے میرا بھی کہ میں نے اپنے شوہر کو اپنے ہی سامنے سیج پہ لیجاکہ دوسری عورت کو بٹھا تے دیکھا اور میں زندہ رہی ۔۔۔۔”
زینی کی تڑپ تھی کہ اگر کوئی فیکھ لیتا تو سالوں سکون سے رات میں سو نہیں سکتا!!!!
___________
کیا سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟
“میرے بابا کی طبیعت اک دفع پھر سے بگڑ گئی ہے مجھے جانا ہوگا !! جلد سے جلد وہاں پہنچنا ہو گا “
وہ خود سے مخاطب تھی مگر حذیفہ اس کی پیلی پڑتی رنگت اور غیر ہوتی حالت کے باعث صورتحال کی سنگینی کا کچھ کچھ پہلے ہی اندازاہ لگاچکا تھا مگر اب صلہ کے تاثرات نے جیسے اس کے شک کو یقین کا بدترین نام دے دیا تھا ۔
حزیفہ تیزی سے گاڑی کی چابی اور اپنا موبائل لیے گھر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا مگر صلہ کو اپنی جگہ منجمد دیکھ کے وہ ایک دفعہ پھر واپس اس کی طرف پلٹ آیا تھا ۔۔
صلہ کی سرد کلائی کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کہ اس کی اجازت لئے بنا اپنے مضبوط ہاتھ میں قید کرتا وہ بغیر رکے گھر کا بیرونی دروازہ عبور کرتا چلا گیا ۔۔
اور صلہ!!! وہ تو جیسے برف کی مانند سرد پڑ چکی تھی حزیفہ کہ خود کا ہاتھ تھام کے ساتھ لے جانے تک کا احساس محسوس نہ کر سکی تھی ۔۔
دل تھا کہ بس کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے آنےوالے انجان خوف و وہمات سے نظریں چرانے کی زد پہ تلاہواتھا ماں کے بعد اب آپ کو کھونے کا حوصلہ اس میں بلاشبہ ہرگز نہ تھا ۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہے یہ سب کچھ ؟؟؟
حمزہ کیا باہر موجود لڑکی بھی تمہاری اہلیہ کے درجے پر فائز ہے پہلے سے ؟؟؟؟
“حریم تو جیسے حمزہ کے بیڈروم میں قدم رکھنے کے بعد اپنا حوصلہ کھو بیٹھی تھی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش میں اب اس کا سر درد شدت سے دکھ رہا تھا ۔۔
“حریم مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ تم اس طرح سے بی ہیو کیوں کر رہی ہو جیسے تم اس سب معجرے سے لاعلم ہو؟ ؟”
حمزہ کو اچھنبا ہوا وہ حریم سے ایسی باتوں کی توقع ہرگز بھی نہیں کر رہا تھا ۔وہ تو یہ جانتا تھا کہ حریم سب حقیقت سے واقفیت رکھتی ہے مگر حریم کا رد عمل بالکل مختلف ہونے کے باعث وہ خود بھی حیرت کے زیر اثر تھا ۔
“مجھے اتنا علم ضرور تھا کہ آپکا نکاح ہوا تھا جو کچھ عرصے بعد ختم عرصے “
مگر یہ سب کیا ہے؟؟؟؟
“پلیز حمزہ مجھے ساری صورتحال سے آگاہی فراہم کردیں یہ سب کیا ھو رہا ھے میرے ساتھ؟ ؟؟؟”
“میں ہرگز بھی غاضب نہیں کہلانا چاہتی !!”
“میں خود بھی نہیں جانتا حریم تمہارے اور میرے ساتھ کیا ہوا ہ؟؟”
” میں بس اتنا جانتا ہوں کہ تمہارے ان سب سوالوں کا جواب تمہاری آپی کے پاس موجود ہے ۔۔”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکو شانوں سے تھام کر کچھ پر سکون کرنے کی غرض سے کرسی گھسیٹتا حریم کو بٹھانا چاہ رہا تھا مگر حریم تو جیسے کچھ سمجھنے کیلئے راضی ہی نا تھی ۔غصے سے بے قابو ہوکر اس کے دونوں ہاتھوں کو بے دردی سے جھٹک ڈالا تھا ۔۔
“دور !! اک دم دور”
“دھوکہ دیا ہے آپ نے مجھے بھی اور ساتھ ساتھ اپنی پہلی بیوی کو بھی!!”””
” حریم میری بات سمجھو تو سہی ۔۔”
وہ اب بھی الجھے الجھے لہجے میں گویا ہوا تھا ۔دھوکا حریم کے ساتھ ہوا تھا یا پھر اسکے خود کے ساتھ؟ ؟؟؟
“ادھر آو مجھے بھی تو تم سمجھنے کی کوشش کرو یار”
ھمزہ نے اک دفع پھر اسکا بازو تھامنا چاہا لیکن وہ تو ایسے پیچھے ہٹی جیسے کسی سانپ نے ڈنک مارنا چاہا ہو۔
“خبردار!! ہاتھ مت لگائیں مجھے”
” میرے قریب آنے کی کوشش کی تو خود کو ختم کر دوں گی ۔۔”
“میں کسی کی آہوں اور سسکیوں کی بازگشت سننے کے باوجود اپنی سیج سجا لوں!! یہی چاہتے ہیں نا آپ؟؟”
” یہ آپ نے سوچ بھی کیسے لیا؟؟؟
“آپ ایسی توقع مجھ سے کیسے کر سکتے ہیں نہ ممکن !!”
“اسلام میں چار کی اجازت ہے !!”
ھمزہ کے منہ سے بے اختیار پھسلا تھا لیکن پھر کھسیا کر خود ہی زبان دانتوں تلے داب گیا ۔
پہلے دو بیوہاں تو سنبھال لیں پھر خوشی سے دوسری اور تیسری کیا پانچویں اور چھٹی بھی کر لئے گا!!!”
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں اور تنفر سے ڈریسنگ روم کے اندر جاکر اسکا دروازہ دھڑام سے بند کرکے خود بھی اندر ہی جابند ہوئی اور وہ تو جیسے اپنی جگہ ساکت ہی رہ گیا ۔۔۔
کئی الجھنے تھی ذہن میں جو اس کو بری طرح اپنے اندر اجھارہی تھیں مگراک گراہ بھی کھل کر گتھی کا سلجھنا اور حقیقت فی لحال پس پردہ تھی۔۔
🌹🌹🌹
اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا صلہ کے والد صاحب بشیراحمد تیسرے ہارٹ اٹیک کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے تھے ۔
صلہ کے پاس اب بس دو ہی رشتے بچے تھے جفا اور دانی حزیفہ نے ہی کفن و دفن کے تمام انتظامات سر انجام دئےتھے۔صبح نماز فجر کے بعد بشیر احمد صاحب کو سپردخاک کردیا گیا۔۔
صلہ اور جفا کی ایسی حالت ہی نہ تھی کہ ان سے کسی بھی رشتے دار کی بابت دریافت کیا جاتا ۔
دانی سے حذیفہ نے بارہا پوچھا تھا کہ کسی رشتہ دار کا ایڈریس فون نمبر ہے تو بتا دو مگر وہ معصوم تو خود ماں کے بعد اب بآپ کے بھی دنیا سے چلے جانے کے باعث گم سم و غم سے نڈھال تھا۔صلہ کے گھر جاکر اس نے آس پڑوس میں دو اک گھروں سے بھی کسی خاص رشتے دار کی بابت جانکاری حاصل کرنا چاہی مگر ہر کوشش ناکام ہی صابت ہوئی بلکہ محلے والوں نے تو جیسے نگاہیں ہی پھیر ڈالیں تھی کہ کہیں کفن دفن میں حصہ ہی نا ڈالنا پڑے۔حزیفہ کو لوگوں کی اسی کم ضرفی سے شدید تریں خار تھی ۔
وقت نے حالات کچھ ایسے پیدا کرڈالے تھے کہ حزیفہ کے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہ تھا اور میت کی تدفین میں دیر لگانا اسکو قطعاً بھی منظور نا تھا۔
وہ ان تینوں بہن بھائیوں کو زبردستی اپنے ساتھ لیکر آگیا تھا اسی گھر میں جہاں صلہ کی کل رات اس سے انجانے میں ہی سہی مگر دوسری ملاقات ہوچکی تھی۔
ناجانے کیوں صلہ کو سامنے موجود شخص اپنا محافظ لگا تھا۔جو آپکا غم میں شریک دار ہو وہ کبھی آپکو تنہا و بے آسرا نہیں چھوڑتا۔
حزیفہ کے چند ایک قریبی دوست ہی دوست نماز جنازہ میں شریک ہوئے تھے اور صرف وہ چار اور پانچویں تنہائی!!
یہ کیسا میت کا گھر تھا جہاں ایسے کڑے وقت میں ایسا شفیق کاندھا میسر نہیں تھا جس پہ سر رکھ کر رولیا جاتا جی بھر کے آنسوں بہالئے
٠بشیر احمد صاحب کو جب وہ تھکے تھکے قدموں سے سپردخاک کرکے واپس گھر پہنچا تھا اس وقت صبح کے ٩ بجے کا وقت ہوچلا تھا مگر گھر میں اب بھی اندھیرے کا راج تھا گہرا سکوت تاری ہوا ماحول کو اور بھی غمگین بنا رہا تھا۔
حزیفہ کے چہرے پہ آج ایک دفع پھر وہی تڑپ موجود تھی جو اپنے پیاروں کو کھوتے وقت تھی ۔وہی دکھ اسکی نگاہوں میں ہلکورے لیتا بخوبی دیکھا جاسکتا تھا۔
“بھائی کیا ہمارے بابا بھی ہمیشہ کیلئے امی کی طرح ہمیں چھوڑ کر چلے گئے؟؟؟ “
“کیا اب بابا بھی کبھی واپس نہیں آئینگے؟؟؟؟؟”
دانی کو حزیفہ اپنا اپنا سا لگا اسلِئے اسکے گھر میں آتے ہی وہ دوڑا چلا آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کہ رونے لگا ۔
١٠ سالہ دانیال میں حزیفہ اپنا بجپن دیکھ کر تڑپ اٹھا اور بے ساختہ دوزانوں بیٹھ کر وہ اسکو گلے سے لگا گیا تھا۔
دوموتی حزیفہ کی آنکھوں میں سے لڑھک کر دانی کے سر میں جزب ہوگئے تھے۔
صلہ اور جفا بھی دانی کے اس سوال پہ اور شدت سے رودی تھیں۔
“آپی کیا اب ہم بلکل تنہا رہے گئے ہیں؟؟؟؟
“آپی مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے رات میں امی کے بغیر اور اب تو بابا بھی امی کے پاس چلے گئے آپی ہم تنہا رہے گئے “
“ہم یتیم ہوگئے آپی!!”
١۵ سالہ جفا بہن کے شانے سے لگی کرب سے آنکھیں سختی سے بھینچے ٹوٹے لہجے میں گویا تھی۔
“نہیں ہو تم لوگ تنہا !! میں ہوں تم تینوں کامحافظ “۔۔
حزیفہ کچھ قدموں کا فاصلہ عبور کرتا دانی کو خود سے لگائے ان دونوں تک پہنچا تھا اور اپنا دست شفقت جفا کے سر پہ رکھا جبکہ صلہ پہ بس اک نظر ڈال کر واپس ان دونوں سے مخاطب ہوگیا۔وہ چاروں اس وقت ایک تصویر کا سا منظر پیش کر رہے تھے اک ساتھ جڑے ۔
‘”میں ابھی جارہاہوں کچھ دیر تک واپس آتا ہوں خرد و نوش کی کچھ اشیاء لیکر ۔دانی آپ بھائی ہو ان دونوں کے تو آپکو ہی ان دونوں کا خوب خیال رکھنا ہے !!”
دانی کے اثبات میں سر ہلاتےہی چند لمحوں بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ لاونچ عبور کرتا وہ گھر کا بیرونی دروازہ کھول کے بس جانے ہی والا تھا جب اسکے قدم ساکت ہوئے تھے صلہ کی درد بھری آواز پہ۔
“مجھے آپکی آفر قبول ہے !!”
___________
وہ صلہ کی لمحوں بھر پہلے کہی بات سن کر ورطہُ حیرت سے وہیں جم سا گیا مگر پلٹ کر صلح کی طرف دیکھنے سے گریزاں ہی رہاتھا ۔
ایک ٹیس سی اس کے دل میں اٹھی تھی وہ جانتا تھا کہ صلہ جیسی خدار اور انا پرست لڑکی یہ فیصلہ اتنی آسانی سے نہیں کر رہی تھی وہ ہرگز بھی یہ فیصلہ اپنے لئے نہیں لےپائی تھی یہ فیصلہ اس نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے لیا تھا ۔
صلہ سے نظریں ملانے کی تاب حزیفہ میں اب باقی نہ رہی تھی ۔اسکی آنکھوں میں سے جھانکتی بےبسی اور بے چارگی وہ بغیر دیکھے بھی بخوبی محسوس کر سکتا تھا ۔
صلہ سے اسنے کانٹریکٹ میرج کی بات بغیر سوچے سمجھے ذینی کی تکلیف کے پیش نظر شدید دلبرداشتہ ہوکہ صلہ سے کہہ ڈالی تھی ورنہ اس کا ایسا کوئی ارادہ تک نہ تھا ۔
ذینی کو اس کڑے وقت میں مورل سپورٹ کے ساتھ ساتھ بھرپور توجہ کی بھی ضرورت تھی ۔ حزیفہ مرد ہو کہ یہ کام نہیں کر سکتا تھا ۔زینی اپنی بھابھی کے درجے پر فائز صلہ سے عزت و احترام کا رشتہ بنانے کے بعد شاید دوستی اور دل سے جڑا گہرا اعتماد کا رشتہ بھی بنا لیتی جو کہ کسی ملازم سے بنانا اس کے لیےنا ممکن سی بات تھی ۔
وہ چاہتا تو اس کی دل جوئی کیلئے کوئی کئیر ٹیکر بھی ہائیر کرسکتا تھا مگر کیا زینی اس کے سامنے کبھی اپنا دل کھول کے رکھ سکتی؟؟
وہ بھی ایسے وقت میں جب گھر اسکا شوہر دغا باز بھی رہتا ہو۔
بس یہی سوچ کر اس نے صلہ کو کانٹریکٹ میرج کی آفر کی تھی تاکہ جلد از جلد صلہ کے ذریعے ذینی کو سنبھال سکے۔صلہ کی خود اعتمادی اتنے سارے دکھوں کے یکے بعد دیگرے جھیلنے کے بعد بھی اس کانفیڈنٹ قائم رہنا ہر کسی کے بس کی کوئی معمولی بات نہ تھی ۔۔
لیکن اب صلح کا فیصلہ سن کر وہ بخوبی یہ جان چکا تھا کہ وہ بھی حالات کی ماری اپنوں کے لیے کڑوا گھونٹ پینے کے لئے قربانی دے رہی ہے!!
وہ کم عمر تھی کھلتی کلی کی مانند ان چھوئی و خوبصورت تھی ۔ آگے جاکے اس کو بہت اچھا ہمسفر مل سکتا تھا ۔ وہ مجبوری کے تحت ایک ایسےشخص سے شادی کر رہی تھی جو کہ اس سے عمر میں بھی کم از کم بارہ سال بڑا تھا ۔
یہ سوچ حزیفہ کی خود کے لئے تھی ۔۔
“ٹھیک ہے تمہارے ابو کے سوئم کے بعد اگلے دن ہمارا نکاح ہو جائے گا ۔۔”
“جب تک پیپرز تیار کرواتا ہوں ۔۔”
وہ اسکی نگاہوں میں نہ جانے کیا کھوجتا گھمبیر اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہتا اب بھی صلہ کے چہرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔
🌹🌹🌹
شدید دکھ محسوس کرتی وہ ساری رات سو بھی نہ سکی حریم خود کو ذینی کی جگہ تصور کرکہ بارہا روئی تھی ۔
خود کو وہ زینش کا قصوروار ٹھہراتی رہی ساری رات !!دل پر بوجھ جب کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا گیا تو وضو کر کے نماز فجر ادا کر اپنے رب کے حضور خوب گڑگڑائی سکون طلب کیا اپنے لئے اور زینی کیلئے ۔اپنے ناکردہ گناہ کی اللہ رب العزت سے رو رو کے معافی طلب کی ۔۔
دعا مانگ کے جائےنماز طے کرنے کے بعد وہ ایک کبیدہ نظر بے خبر سوئے حمزہ پر ڈالتی کمرے سے باہر آگئی ۔اس کا مقصد ذینی سے بات کرنا تھا ،اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتی تھی وہ!!
تذبذب کا شکار وہ زینی کے بیڈروم کو متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر ہال کمرے سے ملحقہ قطار میں تین کمرے تھے ۔
اک وہ کمرہ تھاجس میں ساری رات اس جاگتے و تڑپتے ہوئے گزاردی تھی دوسرا آگے تھوڑا فاصلے پر تھا جس کا دروازہ مکمل چاک اور اس کمرے کی عین سامنے کی دیوار میں آویزاں حزیفہ کی جگ مگ کرتی بڑی سی تصویر اس بات کی طرف واضح اشارہ کررہی تھی کہ یہ زینی کا کمرہ تو ہرگز بھی نہیں ہو سکتاتھا ۔
ھزیفہ کے کمرے کی پرلی طرف پر ایک اور بیڈروم تھا ۔وہ قدموں کو جمانے کی کوشش کرتی فرش پہ کچھوے کی سی چال چلتی آگے بڑھی تھی۔ دروازہ ناک کرکے وہ پیچھے ہٹ کے سائیڈ پر جاکھڑی ہوگی ۔۔
“جی باجی جی کوئی کام ہے تو بتا دیں ؟؟”
اندر سے ایک درمیانی عمر کی خاتون برآمد ہوئی جو شاید کبیر کی کل وقتی ملازمہ تھی ۔۔
“السلام علیکم آپ؟؟”
ھریم نے جھحکتے ہوئے استفسار کیا ۔درحقیقت وہ تعارف چاہ رہی تھی اس خاتون کا ۔
“میں جی کبیربابا کی دیکھ ریکھ کے لیے ہو۔”
“آپ کہیں جی کوئی کام ہے تو میں کر دیتی ہوں “
ملازمہ انکساری سے گویا تھی۔
“نہیں !!ایسا کوئی کام نہیں ہے بس آپ مجھے اتنا بتا دیں کہ زینش کا کمرہ کونسا ہے ؟؟”
حریم نے اصل مدعا بیان کیا ملازمہ سے بات کرکے وہ کچھ پر سکون ہوئی تھی ورنہ تو دل میں سو طرح کے وسوسے اسکو ستا رہے تھے کہ کہی حذیفہ بیڈروم کا دروازہ کھول کے باہر نہ آ جائے اور اگر ایسا ہوجاتا تو وہ کس طرح سے پھر اس سے نظر ملا پاتی ؟؟آخر کو غاضب تھی وہ اپنے جیٹھ کی نظروں میں ۔
زینش بی بی کا کمرہ وہ ہے سامنے والا بالکل سیڑھیوں سے اوپر جاتے ہی ۔
ملازمہ نے اپنا فرض پورا کیا تعبداری سے ۔
“آپ کا شکریہ!!”
وہ مشکور ہوئی اور ملازمہ کے بتائے گئے بیڈروم کی طرف پزمردہ و بوجھل قدموں سے چلتی سیڑھیاں چڑھ کے بیڈ روم کے دروازے کے باہر جا کھڑی ہوئی۔
خود میں ہمت مجتمع کرتی آخرکار دروازہ پہ دستک دے ہی ڈالی ۔کئی دفعہ دروازے پہ ناک کرنے کے باوجود بھی جب کافی دیر اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو کئی دل چیرتے وہمات نے حریم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
ہمت کرکے کمرےکے دروازے پہ لگے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور ہلکا سا دباؤ ڈال کے گھمایا۔ دروازہ اندر سے لاک نہ ہونے کے باعث ہلکا سا دھکیلنے سے ہی وا ہوتاچلا گیا ۔۔
دروازہ کھلتے ہی کمرے کی اندرونی صورتحال نے تو جیسے حریم کی روح فنا کرڈالی تھی۔ زینش باتھ روم سے کچھ فاصلے پہ ہوش و خرد سے بیگانہ فرش پہ گری ہوئی تھی۔
آنکھوں کے نیچے رو رو کے آنسوؤں کے نشان اپنی جگہ چھوڑ گئے تھے اور سرخ و سفید گلابی رنگت کی مالک ذینی بےہوش بالکل مرجھائی سرسوں جیسی اپنی ناقدری پہ ماتم کرتی سی لگ رہی تھی ۔
“زینش اٹھئے پلیز !!”
“میں اگر جو آپ کی گنہگار ہوں تو مجھے معاف کردیں”
” کیا ہوگیاہے آپ کو!! یہ کیا حالت کرڈالی آپ نے اپنی؟؟” “میں باخدانہیں جانتی تھی کہ حمزہ ابھی بھی کسی کے نکاح میں ہیں !! اگر جومجھے زرا سا بھی معلوم ہوجاتاتو میں کبھی بھی ان سے شادی نہ کرتی “
وہ بری طرح سے سسکیاں بھرتی زینی کا سر اپنی گود میں رکھے بدحواس سی اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ شورشرابے کی آواز سن کر حمزہ اور ملازمہ بھی حیران پریشان بوکھلائے بوکھلائے زینی کے کمرے کی طرف دوڑے چلے آئے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *