Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18
وقت کا کام ہے گزرتے چلے جانا پر زینی کو لگتا تھا کے وقت جیسے تھم سا گیا ہے اس کا نواں مہینہ اپنے اختتام کو تھا کسی بھی وقت اس کی ڈیلوری ہو سکتی تھی ، اس کے خوبصورت چہرے پر اداسی نے مستقل اپنا ڈیرہ جما لیا تھا ۔ خالہ اور احتشام بلاشبہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے کبھی کبھی وہ بہت شرمندہ بھی ہو جاتی تھی۔آج بھی احتشام اسے اسلامک سنٹر چھوڑ کر گیا تھا وہ ادھر آکر عبادت میں مشغول ہو کر کچھ دیر کے لیے اپنے سارے غم بھول جاتی تھی۔
احتشام زینی کو اسلامک سنٹر چھوڑ کر گھر واپس آیا تو سامنے ہی اس کی امی کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کرتی نظر آئیں ۔۔
“اسلام علیکم ۔۔۔۔”
“وعلیکم السلام بیٹا ، چھوڑ آئے زینی کو ؟؟”
“جی امی بس ابھی دو گھنٹے تک پک کرونگا آپ بتائیں یہ کس کی دعوت کا اہتمام ہو رہا ہے ؟؟ ” وہ کچن کاؤنٹر پر گوشت سبزیوں وغیرہ کے پیکٹ دیکھ کر حیرانگی سے پوچھ رہا تھا
” احتشام بیٹا میں نے حذیفہ کو زینی کی حالت بتائی تھی تم خود بھی تو دیکھ رہے ہو اس بچی نے تو لگتا ہے جیسے جینے کی آس ہی چھوڑ دی ہے ایسے وقت میں حذیفہ ہی اسے سمجھا سکتا ہے ۔۔۔۔۔” وہ رسان سے بولیں
” تو کیا ؟؟؟ “
” ہاں بیٹا حذیفہ آج لندن پہنچ رہا ہے ان شاءاللہ رات کے کھانے پر وہ ادھر ہی ہوگا ۔۔۔”
” ہمم ٹھیک ہے یہ آپ نے واقعی اچھا فیصلہ کیا ہے لیکن اگر انہوں نے زینی کو پاکستان لے جانے کی کوشش کی تو میں ایسا نہیں ہونے دونگا ۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولتا ہوا کچن سے باہر نکل گیا ۔
______________________________
” حذیفہ میں نے آپ کی ساری پیکنگ کردی ہے پھر بھی آپ چیک کر لیں اگر کچھ رہ گیا ہے تو بتا دیں ۔۔۔”
صلہ نے سوٹ کیس بند کرتے ہوئے اداس لہجے میں کہااسکا بھی شدید دل تھا حزیفہ کے ساتھ جانے کا کیونکہ یہ پہلی دفع تھی جب اسکو حزیفہ کے بغیر دن کاٹنےتھے جوکہ اسکیلئے سوہان روح تھا۔
” ادھر آؤ “
حذیفہ نے صلہ کے چہرے کی اداسی کو نوٹ کرتے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا وہ جانتا تھا اسکی معصوم بیوی اسکے نغیر نہیں رہے سکتی صلہ کی اتری صورت دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ بن موسم برسات گرج چمک کے ساتھ برسات ہونا ہی چاہتی ہے۔
” اگر تم مجھے اس طرح اداس ہو کر بھیجو گی مجھے سات سمندر پار ، تو میرا دل کسی کام میں نہیں لگے گا اور پھر اس کا ایک ہی حل ہے کہ تم بھی میرے ساتھ چلو یا پھر میں زینی کے پاس جاتا ہی نہیں ہوں کہہ دونگا کہ بھئی تمہاری بھابھی آنے نہیں دے رہی ۔۔۔”
وہ شرارت سے اس کی ناک دباتے ہوئے بولا۔
” اللہ حذیفہ آپ بھی !! میں نے بھلا آپ کو کب روکا ہے ۔۔۔” وہ تلملا کر دور ہٹی حزیفہ کے شانے پہ خفگی سے کئی مکعے جڑ ڈالے۔
” تو پھر یہ منھ کیوں پھولا ہوا ہے ۔۔۔مجبوری ہے تمہارے فرسٹ ائیر کے پیپرز ہورہے ہیں ورنہ تم لازمی میرے ساتھ ٹنگتی لٹل گرل “
س نے ابرو اچکا کر پوچھااور ساتھ ہی صلہ کو زچ کرنے کی پوری کوشش کی ۔صلہ کا حال حزیفہ کی محبت میں ایسا ہوچکا تھا کہ ایک لمحہ کیلئے بھی اسکیلئے حزیفہ سے دوری ناممکن تھی آفس سے آنے کے بعد وہ اسکے ارد گرد سائے کی مانند منڈلاتی رہا کرتی ۔حزیفی اسکو ایلفی کہتا اور وہ چڑھ کر خود ہی ناراض ہوجاتی مگر جیسے ہی حزیفہ جان بوجھ کر کہیں کسی کام سے باہر جانے کا کہتا تو صلہ میڈم اس سے پہلے گاڑی میں پائی جاتیں ۔وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمسفری میں بہت پیارے دن گزار رہے تھے۔
” اب آپ پہلی بار دور جارہے ہیں تو ظاہر ہے دل تو اداس ہوگا نا ؟؟”
“یا اس پر بھی کوئی پابندی ہے ؟؟ “
وہ روٹھے ہوئے لہجے میں بولتے ہوئے آنکھوں میں نمی لئے کمرے سے باہر نکلنے کو تھی مگر حزیفہ نے لمحوں میں اسکے کنر کے گرد حصار مضبوط کیا تھا۔
” اس طرح سے مت ناراض ہو جان حزیفہ !! میرے لئے سات سمندر پار جانا مشکل ہوجائیگا ۔۔”
” میں بہت مشکل سےایسا کر رہا ہوں میرے لئے بھی تمہارے بغیر ایک پل گزارنا بہت بڑا تجربہ صابت ہوگا۔۔۔”
وہ اسکے ماتھے پہ اپنی محبت کی مہر صبت کر اسکو خود می بھینچ مکمل بھینچ چکا تھا۔
فلائٹ میں چند گھنٹے باقی تھے حذیفہ نے جلدی جلدی اپنا سارا سامان ایک بار اچھی طرح سے چیک کیا اور کچھ دیر بعد صلہ اور جفا اور دانی کو خداحافظ کہتے ہوئے ائیرپورٹ کیلئے روانہ ہو گیا ۔
جانے سے پہلے اس نے سب کو سخت ہدایات دی تھی کہ حمزہ کو کچھ نہیں بتانا ہے ویسے بھی حمزہ حریم کو لیکر اس قدر پریشان تھا کہ اسے زینی یا اس کی پریگنینسی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا ۔
_____________________________________
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب وہ لندن ائیرپورٹ پر اترا کسٹم وغیرہ سے فارغ ہو کر باہر آیا تو سامنے ہی خوبرو سا احتشام اس کا انتظار کررہا تھا
” اسلام علیکم حذیفہ بھائی ۔۔۔۔” وہ بڑے پرجوش انداز میں اس سے گلے ملا
” وعلیکم السلام !! تم ادھر کیسے ؟؟ میں نے تو خالہ کو منع کیا تھا کہ سرپرائز دونگا ۔۔۔۔” حذیفہ نے شکایت کی
” بھائی مجھے بھی امی کی کچن میں پھرتیاں دیکھ کر شک ہوا تھا اور بیفکر رہیں زینی کو کچھ نہیں پتا ابھی اسے ہی گھر چھوڑ کر سیدھا ادھر آیا ہوں تاکہ راستے میں آپ سے اپنی کچھ پرسنل باتیں بھی کر لوں ۔۔۔” احتشام سنجیدگی سے بولا
” شیور کیوں نہیں ۔۔۔” حذیفہ خوشدلی سے بولتا ہوا اس کے ساتھ گاڑی تک آیا ان دونوں نے سامان ڈگی میں رکھا اور گھر کیلئے روانہ ہو گئے
” احتشام تم کیا بات کرنا چاہتے ہو ؟؟ ” حذیفہ نے سنجیدگی سے گاڑی چلاتے ہوئے احتشام کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا
” حذیفہ بھائی آپ کو شاید یہ سب برا لگے لیکن پلیز کھلے دل سے سوچئیے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احتشام نے زینی کی حالت اس کا حمزہ کے پاس نہ جانے کے فیصلے سے لیکر اپنے دلی جذبات زینی کو لیکر ایک ایک بات حذیفہ کے گوش گزار کر دی
” بھائی وہ اکیلی کمزور لڑکی اس معاشرے میں سروائیو نہیں کرسکتی اور پھر اس سب میں اس معصوم بچے کا کیا قصور ہے ؟؟میں زینی کو اور اس کے بچے کو اپنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔” گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے احتشام نے اپنی بات مکمل کی
” ہممم !! ” حذیفہ کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں رقص کررہی تھی وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر چلا گیا
زینی چپ چاپ خاموشی سے ٹی وی پر نیوز چینل لگائے ہوئے غائب دماغی سے بیٹھی ہوئی تھی جب اس کے کانوں میں مین ڈور کھلنے کی آواز سنائی دی اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو شاکڈ سی رہ گئی
” زینی گڑیا !! میرا بچہ ۔۔۔۔” حذیفہ نے اسے پکارا
وہ چونک کر تیر کی طرح حذیفہ کی سمت بڑھی اور اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی نہ جانے کب کا رکا ہوا لاوا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں نکل رہا تھا
نہ سلام نہ دعا بس وہ چھوٹے بچوں کی طرح اسے کے سینے سے لگی روئے جا رہی تھی وہ تو بس حیرت سے زینی کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر کسی قسم کی خوشی یا سکون کا تاثر نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے برسوں کی بیمار ہو ۔وہ وہی کھڑے کھڑے زینی کیلئے اس کی خوشیوں کے لئیے فیصلہ کرچکا تھا ۔بس اب اس پر عملدرآمد کرنا تھا اور اس بار اس نے زینی حمزہ دونوں سے سختی سے اپنی بات منوانے کی ٹھان لی تھی
__________________________________
اس کی فطرت میں خود غرضی شامل تھی
اور اسے اپنی خوشیاں مجھ سے زیادہ عزیز تھیں
اس نے اپنی خودغرضی اور خوشیوں کی خاطر
اپنے سارے کے سارے موسم بدل لئیے
ساری رات تکلیف میں گزار کر ایک ننھا سا گلگوتھنا سا بچہ اس کی گود میں تھا یہ بچہ ہو بہو حمزہ کی کاپی تھا زینی کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر ماضی گھوم رہا تھا جب احتشام نے اس کی گود سے بچے کو لیا
” خبردار جو میرے بیٹے کو دیکھ کر تم نے رونا دھونا مچایا ۔۔۔۔” وہ پیار سے بچے کا ماتھا چومتے ہوئے بولا
” احتشام ٹھیک کہہ رہا ہے زینی !! دیکھو تو اللہ نے تمہیں کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے خبردار جو تم نے ایک بھی آنسو بہایا ۔۔۔” حذیفہ نے ٹوکا
خالہ سارے ہسپتال کی نرسوں کا منھ میٹھا کرانے میں لگی ہوئی تھیں ۔احتشام زینی اور بچہ ایک پرفیکٹ فیملی کی جیتی جاگتی تصویر لگ رہے تھے
تین دن بعد زینی کو ہسپتال سے ریلیز کیا گیا وہ گھر آئی تو حذیفہ واپس پاکستان جانے کے لئیے تیار کھڑا تھا
” بھائی ابھی تو آپ آئے تھے اتنی جلدی واپس جا رہے ہیں ” زینی نے حذیفہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی شکوہ کیا
” بیٹا ابھی جا کر مجھے کچھ اہم کام کرنے ہیں اور تم ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو ۔۔۔۔” اس نے زینی کو ساتھ بٹھایا
” زینی میں جو کہہ رہا ہوں اسے بہت غور سے سننا ، ساری زندگی اس طرح سے اکیلے نہیں گزاری جاسکتی ہمارا تو مذہب بھی کہتا ہے ہے کہ کہ لڑکیوں کی شادی وقت پر کرو اور بیوہ ، طلاق یافتہ کی شادی میں جلدی کرو ۔۔۔”
” پر بھائی میں بیوہ یا طلاق یافتہ تو نہیں ہوں ۔۔۔” زینی نے زخمی لہجے میں کہا
“میں تمہارے سامنے دو راستے رکھتا ہوں ہو یا تو تم حمزہ سے طلاق لو اور احتشام کے ساتھ اپنا گھر بساؤ ، یقین کرو وہ تمہیں بہت چاہتا ہے، میں نے اس کی آنکھوں میں تمہارے لئیے عزت محبت دیکھی ہے وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا لیکن اگر تمہارا دل نہیں مانتا تو پھر تمہیں حمزہ کی زندگی میں واپس جانا ہوگا جو کہ میں ہرگز نہیں چاہتا لیکن تمہاری خاطر یہ کڑوا گھونٹ برداشت کر لونگا ۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے اور تمہیں ابھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا ۔۔۔” وہ نرمی سے بولتے بولتے سخت ہوا
” بھائی مجھے سوچنے کا وقت تو دیں ۔۔۔” زینی کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں
” ایک سال !! پورے ایک سال سے تمہیں سوچنے کا موقع ہی دیا ہوا تھا اب مزید اور نہیں جلدی سے اپنا فیصلہ سناؤ ۔۔۔” وہ جانتا تھا کہ زینی کے ساتھ سختی کی ضرورت ہے
” ٹھیک ہے بھائی جیسے آپ چاہیں ۔۔۔۔” وہ سر جھکا کر آنسو پیتے ہوئے بولی
” اللہ بہتر لیکر بہترین سے نوازتا ہے ، تم مینٹلی تیار رہو میں جاتے ہی اس سے سائن کروا کر طلاق کے پیپرز بھجوا دونگا اور تمہاری عدت کے بعد احتشام سے نکاح کی تقریب خود ادھر آکر انجام دونگا ۔۔۔” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
___________________________________
اسے بعض لمحے بہت دکھ محسوس ہوتا تھا زینی کی اتنی سچی اور مخلص محبت سے دور ہوجانے کا دکھ ،اپنے باپ جیسے بھائی کے ناراض ہو جانے کا دکھ ، بعض اوقات تو وہ اس قدر ڈیپریشن کا شکار ہو جاتا کہ تنہائی میں بیٹھ کر بری طرح سے رونے لگتا تھا لیکن یہ سب اس کا اپنا کیا دھرا تھا اس کی وجہ سے ہی آج حرم بھی خوش نہیں رہ پاتی تھی حرم کے دل میں بھی چور چھپا تھا کہیں نہ کہیں غلطی تو اس کی بھی تھی جو اس نے ایک شادی شدہ آدمی کی زندگی میں قدم رکھا اس کا ضمیر اسے کچوکے لگاتا رہتا تھا وہ دن بدن کمزور رہنے لگی تھی ۔
حمزہ ابھی آفس سے گھر آیا ہی تھا کہ گھر کی بیل بجی وہ دروازے تک گیا اور حذیفہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا
” بھائی آپ ۔۔۔۔”
” اندر آنے کا نہیں کہو گئے ۔۔۔”
” آپ آئیں پلیز آئیں ۔۔۔۔” وہ بوکھلا کر ایک طرف ہوا
حذیفہ ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گیا تھا حمزہ چپ چاپ بس خاموشی سے اپنے بھائی کو دیکھے جا رہا تھا جب حذیفہ نے جیب سے طلاق کے پیپرز نکال کر اس کی سمت بڑھائے
” بھائی یہ کیا ہے ۔۔۔” حمزہ نے پیپرز کو الٹ پلٹ کر دیکھا
” یہ تمہارے لئیے اپنی غلطیاں سدھارنے کا آخری موقع ہے تم ان پر سائن کر کے واپس گھر آسکتے ہو ورنہ بات کورٹ تک جائیگی ۔۔۔” حذیفہ سنجیدگی سے بولا
” کیا !! کیا آپ مجھے اس کے بعد معاف کردینگے ؟؟ کیا آپ مجھے اپنے گلے لگا لینگے ۔۔۔۔” وہ ترسے ہوئے لہجے میں بولا
” ہاں ۔۔۔”
اس ایک ہاں میں حمزہ کا سکون چھپا ہوا تھا اس نے خاموشی سے زینی کی آزادی کے پروانے پر دستخط کر دئیے ۔
جاری ہے
