Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05
ہسپتال پہنچنے پر جو روح افزاء خبر اس کی منتظر تھی اس کو سن نے بعد تو جیسے بچا کچھا اطمینان بھی رخصت ہو گیا۔
صلہ کی والدہ کی روح خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔
عائشہ بیگم موت سے جنگ ہار بیٹھی تھیں ۔
ایکسیڈنٹ ہی اتنا شدید تھا کہ ہسپتال پہنچنے تک جو چند سانسیں چل رہی تھیں وہ بھی دم توڑگئی تھیں ۔
عائشہ بیگم جب اپنے پڑوسی گے گھر سے باہر نکلیں کچھ رقم پڑوسن کے خاوند سے دھار لیکر ۔۔اس وقت فجر کی آزانیں ہورہی تھیں ۔پریشانی میں وہ پیچھے آتی گاڑی نہ دیکھ سکیں تھیں اور دھند بھی آج روز کے معمول سے کافی زیادہ تھی ۔ بس ناگہانی آفت کا شکار ہوگئیں ۔
کچھ دیر بعد جب پڑوس کے لوگوں نے انکو دیکھا حون میں لت تو انکو لیکر ہسپتال جا پہنچے مگر خدا کے فیصلوں کے آگے بھلا کب کسی کی چلی ہے ۔!!!
اب کوئی فائدہ نہ رہا تھا رقم جمع کروانے کا ۔حزیفہ کا دل دکھ سے بھر گیا۔
لمحوں میں سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ سامنے صلہ اپنے دونوں بہن بھائیوں کو سینے سے لگائے چپ کی چادر اوڑھے کھڑی تھی۔ جیسے ضبط کی کڑی منزلیں طے کر رہی ہو پھر بھی خود کو مضبوط ظاہر کرنا نہیں بھولی تھی ۔
حزیفہ اسکے دنگ سا اس کو ہی تکے چلا جارہا تھا ۔کیسے کوئی لڑکی خود پہ اتنے سخت ضپط کے پہرے بٹھانے میں کامیاب ہوسکتی تھی؟؟
مگر شاید صلہ کی پرورش ان اصولوں کی بنیاد پہ کی گئی تھی جن میں خود اعتمادی اور خداری کوٹ کوٹ کے بھری جاتی ہے کمسن زہنوں میں بچپن سے ہی۔ ۔۔۔
خود کو بہت بڑا سمجھ بیٹھے ہو تم !؟؟؟
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی ؟؟!!
بولو حمزہ جواب دو ؟؟؟!
حزیفہ ، کبیر اور زینش تینوں خاموشی سے کھانا کھارہے تھے ۔حزیفہ خود کھانے کے ساتھ ہی ساتھ کبیر کو بھی چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھلا رہا تھا۔
دوسری طرف زینی تھی جو خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکی تھی لیکن دل ہی دل میں آنے والے طوفان کے باعث شدید خوفزدہ تھی ۔
ھمزہ خاموشی سے اپنے بیڈروم سے بآمد ہوا اور با آواز بلند سلام کرکہ اپنی کرسی کھسکا کر بیٹھنے ہی والا جب حزیفہ اتنا سب کچھ سرانجام دینے کے بعد بھی اسکی دیدا دلیری دیکھ کر اپنا غصہ قابو نا کر سکا اور حمزہ کی کرسی کو شدید غصے کے عالم میں کک ماری ۔کرسی دور جاکر گر چکی تھی جبکہ حمزہ نے خونخوار نگاہوں سے زینش کو گھورا تھا ۔وہ اسکی قہر پرساتی نظروں پہ اک نظر ڈالتی چہرا جھکائے پلیٹ میں رکھے چاولوں کو بے دردی سے کچلنے لگی ۔آنکھوں سے کئی موتی پلیٹ میں گرے تھے محبوب کی نظر میں نفرت دیکھ کہ۔
“مجھے نہیں پسند آپکی چہیتی کی چھچوری ہرکتیں اور بے حیاء و دعوت دیتی ادائیں!!! میں نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا ہے “
حمزہ اپنے معقوق پہ فائز تھا کسی بھی قسم کی شر مندگی اس کے چہرے پہ نہ تھی ۔حد تو یہ تھی کہ وہ زینش کو لاک کردینے والی گھوریوں سے بھی نواز رہا تھا۔
“خبر دار اک لفظ اور مت کہنا میری بہن کے بارے میں سمجھے !!!”
” بھائی میں تو تلخ حقیقت ہی بیاں کر رہا ہوں بس!!! جو جیسا ہوتا ہے اسکے بارے میں رائے اسکے کردار کے مطابق ہی دی جاتی ۔۔۔۔۔”
کتنا سنگدل تھا وہ کیسے اک محبت سے گندھی لڑکی کی انا کو تار تار کر رہا تھا ۔
“تو تم باز نہیں آوگے ایسے “۔۔۔۔۔۔۔
حزیفہ نے زور سے کرسی پیچھے دھکیلی جس پر وہ برجمان تھا اور سیدھا ہوکر اٹھ کھڑا ہوا ۔
دو قدم اور آگے بڑھ کے وہ حمزہ کے عین مقابل آن کھڑا ہوا سر تا پیر مکمل ترہم آمیز نظروں سے حمزہ کا جائزہ لیا اور پھر” چٹاااااااخ”۔۔۔۔۔
“بھائی مت کریں ایسا پلیز “
حزیفہ نے پوری قوت سے حمزہ کے چہرے پہ اک گھما کہ تھپڑ رسید کیا تھا۔صورتحال بد سے بد ترین ہوتی جارہی تھی ۔کبیر نے سہم کر آنکھیں بند کر لیں تھی ۔جبکہ زینی اپنی کرسی سے اٹھ کر حزیفہ کی طرف لپکی تھی اسکو اتنے شدید اقدام سے باز رکھنے کیلئے۔ ۔۔۔۔
“آپ میرے بھائی ہیں بس !!!! “
“ہر کوئی ایرا غیرا آپکا سگا بہن یا بھائی بنے کا حقدار نہیں ہےسمجھے آپ ۔ ۔۔”
“اور تم آگ لگا دی ہے اب تو جشن بھی منائونا جاکر۔ ۔۔۔”
“حمزہ آواز نیچے رکھ کے بات کرو ورنہ تمہارا حولیہ بگاڑ دونگا!!! نکاح میں ہے یہ لڑکی تمہارے سمجھے۔ ۔۔۔”
“آپ کی وجہ سے خاموش ہو جاتا ہوں مگر آج سہی معنوں میں مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں یتیم ہوگیا ہوں !!!”
حزیفہ پہ حسرت بھری نظر ڈال کر وہ لاونچ سے اٹھا اور بیرونی دروازہ عبور کرگیا گھرکا۔ ۔۔۔
بھائی آپ نے یہ کیا کردیا ؟؟؟
اب کیا ہوگا ؟؟؟
بھائی حمزہ کو روک لیں !!مت جانے دیں “
زینی نے حزیفہ کو روتے ہوئے جھنجوڑ ڈالا لیکن حزیفہ کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ خود باہر کی طرف ڈور لگادی مگر حزیفہ کی گرجدار آواز نے اسکے پیروں میں جیسے بیڑیاں کس دی تھیں۔
“جانے دو اسکو !! کہیں نہیں جاتا آجائیگا عقل ٹھکانے آتے ہی “۔۔۔
آج عائشہ بیگم کو دنیا سے گئے ہوئے تیسرا دن تھا۔ سب رشتے دار اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوگئے تھے ۔احمد بشیر صاحب بہتر تھے اب مگر ہسپتال میں ہی چند دن مزید زیر اعلاج رہنا تھا انہوں نے۔
احمد بشیر صاحب سے یہ بات چھپالی گئی تھی فلحال کہ عائشہ بیگم انتقال کر گئیں ہیں ۔۔مگر کب تک چھپ سکتی تھی اتنی بڑی بات ۔۔
سمیر اور اسکی بہن بھی سوئم میں آئے تھے اور شدید غم سے نڈھال دکھائی دے رہے تھے ۔ڈیرھ ماہ سے زائد ہو چکا تھا صلہ کے نکاح کو مگر وہ جیسے دل سے تسلیم ہی نہیں کر پارہی تھی اپنے کسی کی منکوحہ ٹھہرجانے کی حیثیت کو یا شاید حالات ہی اتنے سنگدل ہوگئے تھے کہ سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔
رات تینوں بہن بھائی پہلی دفع گھر میں تنہا رہے ۔دانی تو ماں کو یاد کر کر کے آخر کار تھک کے صلہ کی گود میں سوگیا جبکہ وہ دونوں بہنے اک دوسرے سے گلے لگ کے خوب روئیں ماں کو یاد کر کر کے آنکھیں سوجھ چکی تھی مگر ماں کہاں رہی تھی جو آنسوں پونچھنے آتی۔
اگلے دن کی صبح صلہ نے دونوں بہن بھائیوں کو دیر تک سونے دیا تاکہ انکا زہن کچھ پرسکون ہوکے اور خود فجر کے بعد سے ماں کیلئے اپنی سورہ ملک پڑھتی رہی جائے نماز بچھائے رو رو کے اپنی ماں کی مغفرت کیلئے دعائیں کی۔
٩ بجے کے وقت وہ جائے نماز تہہ کرکے اٹھی اور بابا کا فون لیکر لاونج میں مجود سوفے پہ آ بیٹھی ۔
کافی دیر تک بابا کے دوست کو فون ملاتی رہی جنہوں نے اسکو جاب آفر کی تھی مگر وہ تھے کہ فون ہی نہ اٹھا رہے تھے ۔مما کے انتقال کی خبر بھی اسنے انکو دے دی تھی اور بابا کے ہاپٹلائز ہوجانے کی بھی مگر وہ نہ آئے اور نہ کوئی رابطہ کیا۔
صلہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ ؟؟
شاید وقت نے ابھی مزید امتحان لکھ رکھے تھے۔
ھمزہ مسلسل ایک ہفتے غائب تھا گھر سے مگر حزیفہ نے اس ایک ہفتے میں اسکو شدت سے یاد کرنے کے باوجود فون نہیں کیا۔
زینی کو بھی سختی سے منع کیا ہوا تھا حمزہ سے فلحال کسی بھی طرح کانٹیکٹ کر نے سے۔
عجیب حالت تھی دونوں کی ۔حزیفہ غلطی سے اپنا موبائل کسی کام سے جاتے ہوئے گھر ہی بھول گیا تھا۔
زینی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکہ حزیفہ کے موبائل سے حزیفہ کے ہی انداز حمزہ کو گھر آنے کیلئے میسج کردیا تھا ۔۔
“میسج میں بہت محبت سے اس نے لکھا تھا معاف کردو اور گھر واپس آجائو پلیز”
“ٹائپ کرتے ہوئے وہ یہ یکسر فراموش کر بیٹھی تھی کہ وہ حزیفہ کی طرف سے میسج کر رہی ہے “
“ٹھیک ہے بھائی میں آجاتا ہوں مگر میری کچھ شرائط ہیں اور آپکو مجھ سمیت قبول کرنا پڑینگی۔ ۔۔”
لمحے کے ہزارویں حصے میں میسج موصول ہوا جو زینی کہ لبوں پہ مسکراہٹ بکھیرنے کا باعث بنا۔
” منظور بس آجائو جلدی”
“اوکے آتا ہوں ایک گھنٹے تک”
“اوکے ہومی ٹیک یور ٹائم”
موبائل میں سے جھٹ سارے میسجز ڈیلیٹ کر کہ وہ اٹھ کر بیڈروم کی طرف دوڑ گئی تاکہ اپنا حولیہ درست کرسکے۔
“تم چاہے مجھسے میری روح بھی مانگ لو دیدونگی !!چاہے مجھے سنواردو یا چاہوتو بر باد کردو لیکن! “
“تم میری دھڑکن ہو بس میرے ساتھی ہمیشہ میرے پاس رہو !!!!!!”
وہ شاور لینے کے بعد ڈریسر کت سامنے بال سلجھاتے ہوئے زیر لب مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ کتنی صاف دل تھی کہ پچھلی رمام تلخ باتوں پہ بڑی آسانی سے مٹی ڈال گئی تھی۔
وہ بس کانوں میں اک نگ کے ٹاپس پہن رہی تھی جب باہر سے شور اٹھا ۔
“ہمممم تو جناب آگئے ہیں “
جلڈی سے ڈریسر پہ رکھا بکے اٹھا یا جو اسنے خود اپنے لان کے پھولوں کو توڑ کے حمزہ کیلئے بنایا تھا کچھ ہی دیر پہلے وہ بال سلجھانے کے بعد لان میں بھاگی تھی اور جلدی جلدی پھول جما کر کہ واپس بیڈروم میں آکر ہلکی لپ گلوز کے بعد ٹاپس پہنے تھے۔
شانوں پہ دوپٹا پھیلائے باٹل گریں اور فروزی کے امتزاج کا جدید ڈیذائنر کا لان کا سوٹ پہنے اس نے آخری نظر شیشے میں خود کو دیکھے اور مسکراکہ بالوں کو ننھے سے کیچر کی قید سے بھی آزاد کردیا ۔
وہ خوش آئندہ خواب سجائے نیچے اتری تھی نگر آخری سیڑھی پہ قدم رکھتے ہی اسکی آنکھیں پھٹی رہے گئی تھیں ۔بکے زمین پہ گرا تھا ہا تھوں سے چغوٹ کے نگائیں ساکت رہے گئیں تھیں ۔
سامنے اسکا محبوب موجود تھا مگرررر حمزہ اکیلا ہرگز نہ رتھا۔ ۔
___________________
کون ہے یہ تمہارے ساتھ ؟؟؟
اور کیونکر اس قدر استحقاق سے کھڑی ہے حمزہ یہ تمہارے ساتھ ؟؟؟
جواب دو ؟؟؟؟
حزیفہ نےہی گھر کا بیرونی دروازہ کھولا تھا حمزہ کو اتنے دن بعد واپس دیکھ کے اسکے چہرے پر خوشی کےکئ رنگ بکھرے تھے۔
رشتوں کے نام پر اللہ نے اسکو چند ایک ہی رشتوں کی دولت سے ہی تو نوازا تھا اور ان محدود رشتوں کو وہ ہرگز کھونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
وہ دروازے کی چوکھٹ سے ہٹ کر سائیڈ پہ ہوکرحمزہ کے لیے اندر آنے کا راستہ بنا گیا تھا لیکن اندر آنے کے چند سیکنڈ بعد حمزہ نے اشارتاً کسی اور کو بھی اپنے پیچھے اندر آنے کا کہا ۔
اندر آنے والی ” ہستی ” کو دیکھ حمزہ کے چہرے پہ بڑی دلفریب مسکراہٹ بکھی تھی جو کہ حزیفہ کو سخت ناگوار گزری۔ ۔
حزیفہ کی تیوریوں پر نا قابل فہم بل پڑ ے تھے جو کہ حمزہ کی نگاہوں میں جلن سی بیدار کرچکے تھے۔
تقریباً ٢٢ سے ٢٣ سالہ لڑکی عبایا پہنے گھبرائی ہوئی جھکی جھکی نظروں کے ساتھ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔۔
“میری برداشت کا مزید امتحان مت لو حمزہ!!”
” بھائی آپ نے کہا تھا نا مجھ سے کہ آپ کو میری ہر شرط منظور ہوگی اگر جو میں گھر واپس آجاوں؟ ؟”
حمزہ نے مان سے بڑے بھائی کے شانے پر ہاتھ بڑھا کہ رکھا لیکن حذیفہ نے اس کو ایک دم جھٹکے سے خود سے دور کیا اور شعلہ بار لہجے میں گویا ہوا ۔۔
“اول تو میں نے ایسا کچھ تم سے کہا ہی نہیں ہے اور یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے”۔۔
حزیفہ کا بس نہیں چل رہا کہ وہ حمزہ کی حد سے سوا ہوئی دیدہ دلیری پہ دو تین تھپڑ ایک دفعہ پھر اس کے چہرے پر جڑ دے لیکن وہ اجنبی لڑکی کے سامنے بمشکل خود پر پہرے بٹھانے پہ مجبور صبر کی آخری حدود کو چھو رہا تھا اس کا ضبط ۔
“میں نے شادی کرلی ہے!!”
“بھائی یہ میری بیوی ہے حریم احمد” ۔
حمزہ نے اپنی” نئی نویلی دلہن ” کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا جیسے حذیفہ کے سامنے اسے پروڈکشن فراہم کر رہا ہو۔ جیسے وہ جانتا تھا کہ اس وقت اس کی بیوی کے احساسات کس قدر خوف میں لپٹے ہوئے ہیں اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب زینش کے ہاتھوں سے محبت سے گندھا گلدستہ زمین پر گر کہ فرش پہ بکھرا تھا بالکل اس کے نصیب کی طرح خوابوں کو بھی ریزہ ریزہ کر گیا تھا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے! !!
افف۔ ۔۔۔۔یہ محبت۔ ۔۔۔۔!!!
“نکل جاؤ ابھی اور اسی وقت حمزہ اور آئندہ مجھے اپنی شکل کبھی مت دکھانا سمجھے!!”
“اگر یہ تمہاری بیوی ہے تو پھر یہ لڑکی کون ہے جو پچھلے کئی سالوں سے تمہاری منکوحہ کے نام سے پہچانی جاتی ہے؟؟؟؟”
“اور لڑکی کیا تمہیں پتا ہے کہ جس شخص کی تم بیوی بنی ہو وہ پہلے سے شادی شدہ ہے ؟؟”
حزیفہ نے” دلہن صاحبہ ” کو بھی بری طرح سے جھاڑدیا ۔بس نہیں چل رہا تھا کہ ہاتھ بڑھا کہ اسکو گھر سے باہر کردے اور حمزہ کی زندگی سے نکال پھینکے مگر شاید وہ اپنی فطرت کت خلاف جا ہی نہیں سکتا تھا۔ ۔۔
“اور اگر لڑکی تمہیں یہ بات پتا تھی تو تم پر میں سلام پیش کرتا ہوں کیوں کہ تم نے بھری چارپائی پر اپنی سیٹ سجانے کے خواب بنے ہیں ۔۔۔”
“ایک عورتوں ہوکہ تم کیسے دوسری عورت کا گھر برباد کر سکتی ہو!؟؟”
” دیکھنے میں تو تم مجھے بہت معصوم لگتی ہومگر کام تمہارے۔ ۔۔۔۔۔۔””
“بس کریں بھائی !! آپ میری بیوی سے اسطرح پیش نہیں آسکتے” ۔۔۔۔
“میں اس سے زیادہ بھی برا پیش آونگا کیونکہ یہ زینی کا معملہ ہے اور زینی میری بہن، میری بچہ ہے “۔۔۔
“اور میں آپکا سگا بھائی ہوں !! میری خوشی آپکو عزیز ہونی چاہئےناکہ غیروں کی”
حمزہ نے اک چبھتی ہوئی نظر زینی پہ ڈالی ۔
“میری بیوی بےشک معصوم و با پردہ رہنے والی پاکیزہ لڑکی ہے !! “
“آل رائٹ !!تو تم نے لڑکی انہیں معصوم اداؤں سے میرے بھائی کو اپنے شیشے میں اتارا ہے نا ؟؟؟”
۔۔۔
حزیفہ نے نفرت سے نقاب سے جھانکتی دو نین برساتی آنکھوں میں دیکھ کر نخوت سے کہا۔
“بس بھائی بہت ہوگیا میں اپنی بیوی کے بارے میں اب مزید اک الفاظ نہیں سنوں گا !!”
“میری بھی بہت سادہ اور بے قصور ہے “
“جو بھی بات کرنی ہے مجھ سے کریں ۔۔۔”
“خاموش ہوجاؤ حمزہ میرا ہاتھ تم پر ایک دفعہ پھر سے اٹھ جائے گا تمہارے اوپر۔۔۔”
حزیفہ نے ازیت سے زینی کو دیکھا جس کی حالت شدید دکھ سے بے حد غیر ہورہی تھی، لبوں پہ جیسے تالا لگابیٹھی تھی اور آنکھیں ضبط سے سرخ ہورہی تھیں مگر آنسوں ندارد تھے۔ ۔۔۔۔
“اٹھائیےنا ہاتھ !! کیوں نہیں اٹھارہے آپ مجھ ہاتھ؟؟؟”
” ایک دفعہ پہلے بھی مجھے اس لڑکی کی وجہ سے مار ہی چکے ہیں آپ!! تو آج بھی مار کر دیکھ لیں ہو سکتا ہے زینی سمیت آپ کو بھی سکون مل جائے ۔۔۔”
“کس سکون کی بات کرتے ہو تم ؟؟؟
بولو؟؟؟”
“میں کہتا ہوں میری بہن کو آزاد کرو ابھی اور اسی وقت نہیں تو میں۔ ۔۔۔۔۔”
حذیفہ نے اپنے لاڈلےبھائی کا گریبان سختی سے مٹھیوں میں جکڑا تھا جبکہ اس کے اس قدر غصے کو دیکھ کےحمزہ کے ساتھ کھڑی ہے اس کی نئی دلہن تھر کانپنے لگی جیسے قیامت سے پہلے کا منظر دیکھ لیا ہو آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے تھے حریم کے۔۔
“اور جس لڑکی کو تم بار بار اپنی اہلیہ ثابت کررہے ہو تو اس کے بارے میں کیا سوچا ہے ؟؟؟”
“آزاد کرو اس معصوم کو اس نام نہاد بندھن سے۔ “
ھزیفہ نے آنسوں پیتی زینی کے سر پہ دست شفقت رکھا۔ جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔
“کہ میں ہو ابھی”
“صحیح کہا بھائی آپ نے ذینی میری بیوی ہے مگر حریم میری من چاہی بیوی ہے”۔
‘ امید ہے آپ کو بیوی اور محبوبہ میں فرق کا علم ضرور ہوگا ۔”
حمزہ کے لہجے کی طرح چہرے پر بھی کسی قسم کی شرمندگی کے آثار موجود نہ تھے۔
دوسری طر وہ تھی جس کی روح میں حمزہ بستا تھا آج لیکن وہ تہی دامن تھی۔
اتنا کچھ ہوجانے کے باوجودبھی زینی کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ جھلکا تھا ۔ شاید اب بھی وہ اس بے وفا کے سامنے مزید کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی جو وہ پہلے یہ ایک دفعہ کرچکی تھی ۔
“دفع ہو جاؤ نکل جاؤ تم اس گھر سے “
“اور جس لڑکی کو تم اپنی من مانی کر کے بہا کر لے کر آئے ہو اس کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔۔!!
” اب زینی سمیت میرا اور کبیر کا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا!!میں تمہارےسے اپنا جینا مرنا ختم کرتا ہوں ۔۔”
“بھائی آپ جانتے ہیں آپ جس لڑکی کے لئے مجھے ذلیل کر کے گھر سے نکال رہی ہیں اس کی اصلیت کیا ہے؟ ؟؟”۔ ۔۔
“کونسی اصلیت کی بات کر رہے ہو؟؟؟؟”
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
“میری بہن کے اوپر اگر تم نے کسی بھی قسم کا گھناؤنا الزام داغا نا تو میں تمہیں زندہ زمین میں دفن کر دوں گا !!میری بہن پاک دامن ہے ۔۔۔”
ھزیفہ کا گویا حوصلہ جواب دے گیا۔
“کتنی پاکدامن ہے آپکی چہیتی میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں”۔۔۔
” ملنے چلی تھی محترمہ اپنے محبوب سے اور وہ بھی ٹیلیفونک فرینڈشپ کی بنیاد پے ۔۔۔”
حمزہ تو جیسے پھٹ پڑا تھا اور ذینی!! اس کے لئے تو جیسے زمین میں دفن ہو جانے کا مقام تھا وہ جانتی تک نہیں تھی یہ کونسےالزام وہ اس وقت اس کی کردار پہ لگا رہا تھا ۔۔
“کیا ثبوت ہے تمہارے پاس جو تم اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو ؟؟؟”
حذیفہ نے ایک تھپڑ تو پہلے حمزہ کے چہرے پردھرا تھا اور اس کے بعد اتنی زور سے چیخا کہ پورے گھر کے در و دیوار تک کانپ اٹھے ۔۔
“ثبوت ۔۔۔!!ثبوت چاہیے آپ کو بھائی تو ثبوت یہ لڑکی ہے ۔”
“تحریم اپنا نقاب اتارو ۔۔”
“مجھے اس قسم کی صفائی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کوئی ثبوت چاہیے مجھے میری بہن کے اوپر بہت بھروسہ ہے تمہاری بات کا یقین کرنا نہ کرنا مجھے کوئی فائدہ نہیں دے گا اسلئے دفع ہو جاؤ اپنی نام نہاد بیوی کے ساتھ اور کبھی مت اپنا چہرہ دکھانا آئندہ ۔”
حذیفہ نےحمزہ کو دھکے دے کر گھر سے نکال نے کے لئے آگے بڑھایا ہی تھا مگر زینی نے بیچ میں آ کر کسی دیوار کی طرح حذیفہ کا راستہ روکا ۔
“بھائی آپ کو میری جان کی قسم معاف کردیں حمزہ کو یہ اس کا شرعی حق ہے ایک شادی کرے یا دو !! اور رہی بات میری تو ہم بعد میں آرام سے فیصلہ کریں گے کہ آگے کا کیا کرنا ہے ۔”
وہ کیوں دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی اس لیے جھٹ حذیفہ کیلئے اپنی محبت کی قربانی دے بیٹھی۔۔۔
” نہیں بیٹا اب ایسا ممکن نہیں ہے کیوں کہ میں ۔۔۔”
“بھائی اگر آپ کو میری جان عزیز ہے اور مجھ سے محبت کرتے ہیں تو پلیز ۔۔۔!!”
“دیکھ لیا تم نے ایک وہ لڑکی ہے جو گھر سے نکلوانے کے درپے ہے اور ایک یہ لڑکی ہے جو تمہیں اب بھی گھر میں رہنے کے لئے میری منتیں کرتی ہے ۔۔”
“فرق کا اندازہ اگر تمہیں ابھی نہیں ہوا نا تو بعد میں بھی نہیں ہوگا ۔۔”
حزیفہ نے اک قہر آلود نظر حمزہ اور حریم پر ڈالی اور خود جارحانہ انداز میں گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے نکل گیا ۔۔۔۔اب اس کا رخ سکون کیلِئے اپنے اصل گھر جہاں اسکا تھوڑا مگر بہت مکمل بچپن گزرا تھا جہاں اسکی ماں کی خوشبو تھی ۔۔جہاں جاکر وہ اپنے تمام غم بھلنے لگتا تھا۔ ۔
حزیفہ کا گھر ۔۔۔۔!!!
“اسکے ماں باپ کا گھر۔ ۔۔۔۔
جاری ہے
