Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02
بیٹا تمہیں کل کچھ لوگ دیکھنے کے لیے آئیں گے”
وہ سب زمین کے اوپر دسترخوان بچھائے رات کا کھانا کھا رہے تھے جب عائشہ نے بیٹی صلہ کو مخاطب کیا یہ ان کا ہمیشہ سے اصول رہا تھا کہ کھانا سنت کے مطابق ہی کھانا چاہیے ۔
اچھے وقتوں میں بھی وہ زمین پہ ہی دستر خوان بچھا کر کھانا کھایا کرتے تھے اکھٹے بیٹھ کر بعد نماز مغرب اور آج بھی یہی معمول تھا ۔
“امی ابھی پلیز مجھے کسی کے سامنے نہیں جانا !! ابھی تو مجھے بہت سارا پڑھنا ہے ۔پڑھ لکھ کہ قابل بنو نگی تو ہی تو مجھے کوئی اچھی جاب ملے گی اور میں ابو کا سہارا بن سکوں گی “
“مجھے اپنے بہن بھائی اور ماں باپ کی ذمہ داری اٹھانی ہے امی ابھی ایسی کوئی بات نہ کریں کہ۔۔۔۔۔”
” اس طرح سے نہیں ہوتا صلہ بیٹیاں اپنے گھروں میں ہی اچھی لگتی ہیں اور پھر ابھی تو بس وہ لوگ آئیں گے باقی کے سب معاملات تو بعد میں ہی تہ ہونگے بات بن جانے کی صورت میں ۔”
وہ۔ اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ گئیں۔
“مگر امی ابھی تو میرے پیپر ز ختم ہوئے ہیں اور آپ ابھی سے”
وہ رو دینے کو تھی
” بیٹا پیاری بیٹیاں کبھی بھی اپنے ماں باپ کے آگے نہ نہیں کرتی کیوں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں؟ ؟؟”
وپ اپنے مزاجی خدا کو بھی بیچ میں گھسیٹ چکی تھی۔
“اور ویسے بھی ہم ابھی سے تھوڑی تمہارے ہاتھ پیلے کردیں گے ۔تمہارے انٹر کرنے کے بعد ہی تمہاری شادی کریں گے دو سال ہے ابھی چندہ تمہارے پاس ۔”
“اور پھر جب لڑکیاں بڑی ہو جاتی ہے تو ہر ایک لڑکی کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں بشیر صاحب ۔؟؟؟؟”
عائشہ نے ٹیبل پر کھانا کھاتے اپنے مزاجی خدا کو اک دفع پھر بیچ میں گھسیٹ لیا ۔وہ ابھی اسلئے کچھ نہیں کہہ رہے تھےکہ پہلی پوری بات تو سن لیں۔
بشیر صاحب معذوری کے باعث زمین پر نہ بیٹھ سکتے تھے اس لیے ان کی چھوٹی سی ٹیبل دسترخوان سے کچھ ہی فاصلے پر لگا دی جاتی تھی ۔
“بھئی میری بیٹی جو کہے وہ ہونا چاہیے”۔۔
” آپ لوگ دیکھ لو پھر دیکھتے ہیں کیا فیصلہ کرنا ہے”
وہ صلہ کے سر پر دست شفقت رکھ کے بولے۔ وہ ان کے پاس ان کی ٹیبل کے قریب ہی بیٹھا کرتی تھی زمین پہ ۔
جبکہ دوسری طرف دانی اور جفا کھانا کھاتے ہوئے اپنے کسی کارنامے پہ کھی کھی کر رہے تھے بڑوں کی باتوں سے بے نیاز اپنے ہی آپ میں مگن دونوں باتیں بھی کر رہے تھے اور کھانا بھی کھا رہے تھے مگر جفا اتنی بھی مگن نہ تھی۔ کان اس کے مکمل ادھر ہی لگے ہوئے تھے کہ بڑوں میں بات کیا ہو رہی ہے آخر!! بظاہر وہ دانی کے ساتھ مصروف تھی جانتی تھی اگر ذرا سا بھی کان لگایا مزید یا کچھ بولی تو ان دونوں کو یہاں سے ہٹنا پڑ جائے اور پھر امی کےحکم کے آگے تو پھر کسی کی نہ چلنی تھی ۔۔
“چلو بچوں آپ جلدی جلدی کھانا سمیٹ لو اور پھر آکر اپنے اپنے سارے دن بھر کے کام بتاؤ مجھے کیا کیا آج کے دن ۔؟”
بشیر صاحب نرمی سے اپنے تینوں بچوں کو دیکھتے ہوئے مخاطب ہوئے کھانے کے بعد نماز عشاء سے پہلے اپنے تینوں بچوں کو اسی طرح اردگرد بیٹھا کہ پورے دن کی قصے کہانیاں سنتے اور اپنی سناتے کچھ پرانے وقتوں کی اچھی اچھی باتیں کیا کرتے ۔
۔
“ویسے لڑکا کیا کرتا ہے ؟؟”
“کہاں کے رہنے والے ہیں ؟؟؟”
“ذات کیا ہیں ان لوگوں کی ؟؟؟؟”
تینوں بچوں کے جانے کے بعد ایک دفعہ پھر کچھ سوچ کے وہ بیگم سے سنجیدگی سے مخاطب ہوئے ۔۔
“لڑکا اکلوتا ہے ایک بہن ہے جو کہ اسلام آباد میں رہائش پزیر ہے اور لڑکا سول انجینیرنگ کا ڈپلومہ کرکے دوبئی میں اچھی نوکری کر رہا ہے ۔”
انہوں تمام معلومات فراہم کیں۔
“وہ تو سب ٹھیک ہے مگر باہر کا رشتہ ہے دیکھ بھال کر لوں میں پہلے اچھی طرح سے چھان بین کروا لوں پھر لوگوں کو بلاؤ تم گھر “
باپ تھے نا وہ اسلئے ڈرتے تھے کئی خدشات شاہد لہجے میں آیاں انکے۔
” تمام تر چیزیں مجھے بتاؤ کہاں کا رہنے والا ہے عائشہ پھر ہی کوئی فیصلہ کرونگا میں”
” ارے نہیں وہ پڑوسی ہیں نہ خالدہ باجی ان کی سگی بہن کا بیٹا ہے ماں باپ نہیں ہے بہن آئی ہے بھائی کے پاکستان آنے پر کراچی!! اس کی شادی کروانے کے لیے ابھی صرف وہ لوگ نکاح کرنا چاہتے ہیں “
“غذات بنیں گے پھر رخصتی کے بارے میں کچھ بات ہوگی ۔۔”
“خالدہ ۔۔۔۔۔۔۔خالدہ کون۔؟؟؟؟”
وہ ذہن پر زور ڈالنے لگے۔
” ارے وہی خالدہ جو ابھی چھ ماہ پہلے ہمارے سے دو گھر فاصلے پہ شفٹ ہوئی ہیں اور ان کے بیٹے نے تمام معلومات حاصل کرلی ہے کامران کے بارے میں ۔
“دیکھ لو عائشہ جلد بازی مت کرو ایسا نہ ہو کہ کچھ غلط ہو جائے گے “۔۔
وہ اب بھی مطنعین نہ ہوئے معزوری نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا انکو۔
“آپ بدفعلی تو نہ نکالیں کیا وہ میری بیٹی نہیں ہے؟؟؟؟ میں اس کا برا چاہؤنگی “۔
“کل دیکھ کے فیصلہ کرلیں گے ویسے ان کو ہماری صلح بہت پسند آ گئی ہے اور پھر پہلارشتہ ٹھکرانا بھی نہیں چاہیے۔۔۔
“اللہ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے میری مرحومہ ماں کہا کرتی تھی کہ پہلا رشتہ اللہ کی رحمت ہوتا ہے اس کو بغیر کسی وجہ کے ٹھہرا نا نا شکری ہے”۔۔
” اس کہاوت کو آپنی حقیقی زندگی میں اپلائی مت کرو”۔۔۔
وہ یہ سب نہیں مانتے تھے وہ جو آج ہے بس اسی کے مطابق جیا کرتے تھے ۔۔
“چلے بس میں اٹھ رہی ہو اب آپ بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے میں دیکھو کچھ کپڑے ہیں سلنے والے کل دو نگی تو پھر ہی کل کا کچھ انتظام ہوگا مہمانوں کی خاطرمدارت کیلئے۔ “
عائشہ اٹھ کھڑی ہوئیں ان کے لیے یہی خوشی کافی تھی کہ اللہ نے ان کے گھر ایک اچھا رشتہ بھیجا تھا ان کی بیٹی کی زندگی سنوارنے کیلئے ورنہ جس طرح کے ان کے حالات تھے ایسے حالات میں بیٹیوں کا رشتہ ہونا اور جہیز وغیرہ کی پریشانی بھی ایک الگ ہی مسئلہ تھا ۔
خالدہ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لڑکے والوں نے کسی بھی قسم کا جہیز وغیرہ لینے سے انکار کر دیا ۔لڑکے کو یہ سب چیزیں پسند نہیں وہ بس سیدھے سادے سادگی سے نکاح کرے گا اور رخصت کروا کے چند لوگوں کی موجودگی میں لے جائے گا ۔۔
وہ اپنی ہر طرح اسے دلی تسلی کر چکی تھیں
زینش جلدی سے حمزہ کےکمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر غڑاپ سے اس کے بیڈروم میں داخل ہوئی تھی ۔
اس کے انداز میں چوری پکڑے جانے کا خوف واضح تھا ۔۔
“اوئے ہوئے یہ تو گڈ ہوگیا !! آج تو میں موصوف کی تمام فرینڈز کے بارے میں جان کر ایسی حزیفہ بھائی سے کہ موصوف کی سات پشتیں یاد رکھیں گی”۔۔۔
” ثبوت کے طور پر پکچرز بھی لوں گی آج سارے اگلے پچھلے حساب برابر ہو جائیں گے حمزہ صاحب آپ کے اور میرے ۔۔”
زینش اسکا لیپ ٹاپ کھلادیکھ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی آج کافی دن بعد اس کو یہ موقع ہاتھ لگا تھا ۔۔
وہ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر جلدی جلدی اس میں ادھر ادھر فائلز میں گھس چکی تھی۔
دروازے کی طرف اس کی پشت اور یہی اس کی سب سے سنگین بھول تھی ۔
“میری جاسوسی اگر کرلی ہے تو میرا لیپ ٹاپ بند کردو ذینی اور نکل ہو جاؤ میرے کمرے سے ۔۔”
وہ اس کے سر پے کھڑا خشمگین لہجے میں کہتا جھٹکے سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا چکا تھا ۔ غصے سے آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹی پڑھ رہی تھیں۔
“میں کیوں کروں گی آپ کی جاسوسی بھلا ؟؟؟؟”
وہ کون سا ڈرنے والوں میں سے تھی حمزہ سے خود ہی پنگے لیتی تھی اکثر جان بوجھ کے تاکہ وہ غصے میں ہی سہی مگر دو گھڑی اسے مخاطب تو ہوا کرتا تھا ورنہ تو وہ ہمیشہ ہی اسکو دیکھ بری بری شکلیں بناتا حد تو یہ تھی کہ چہرے نقوش میں بھی تیکھا پن سمالیتا وہ اسکے اس طرح بےدردی سے اگنور کرنے پہ کلس کہ رہ جاتی تھی ۔۔۔
“تو پھر میرے لیپ ٹاپ میں کیا کھانے بنانے کی ریسیپی دیکھنے کا شوق چڑھ آیا ہے تم کو ہاں؟؟؟؟؟؟”
“ہاں ہاں بالکل ٹھیک کہا آپ نے میں کھانا بنانے کی ریسیپی تو دیکھ رہی تھی تاکہ بعد میں آپ کے لیئے مزے مزے کے کھانے بنا سکوں ۔۔”
وہ اپنی ٹون میں واپس آ چکی تھی اٹھلا کے شوخی سے کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا ایک شانا سے حمزہ کے شانے سے ٹکرایا ۔انداز میں لاپروائی واضح پی ۔۔
“واٹ دی ہیل از دس!!”
” اپنی حدود میں رہوں یہ کیا بیہودگی ہے؟؟؟؟
وہ سیخ پا ہوا۔ اسکو نفرت تھی زینش کی حد سے زیادہ بولڈنیس سے۔
” یہ بےہودگی نہیں اپنائیت ہے اور ہاں یاد آیا اس کو شاعر محبت بھی کہتے ہیں ۔۔۔”
ڈھائی سے جواب حاضر ہوا ۔۔
“شرم نہ لحاظ کچھ بھی نہیں ہیں تم ہے تمہارے اندر”
حمزہ نے بری طرح لتاڑہ تھا اسکو۔
“جان جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم اس لئے شرم کو آنے سے پہلے ہی میرے پاس میں نے اسکو ٹا ٹا بائے بائے کہہ دیا “
“دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے زینی کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کچھ ایسا ویسا کر گزرو میرے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے تمہاری ان خرافات کی وجہ سے ۔۔”
“اففف ایک تو آپکا یہ زینی کہنا مجھے رات بھر سونے نہیں دیتا اب میرا کیا قصور اس میں حمزہ بتائیں نا”
“بسسس بہت ہوا جسٹ گیٹ لاسٹ زینی رائٹ نائو!! اسٹو پڈ ڈٹی کی بھی کوئی حد ہو تی ہے”
“ہائے تو آج ہوئی جائے آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہم بھی تو دیکھتے ہیں کتنے ڈیشنگ لگتے ہیں آپ “۔۔۔
وہ ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی ۔۔
لیکن حمزہ بھرک اٹھا تھا اس کی کلائی کو ایک دم سے اپنی گرفت میں لیکر اسکی کمر پہ لے جا کے روتے ہوئے انتہائی خر خت لہجے میں گویا ہوا ۔۔
“تم جیسی لڑکی میرے معیار پر پورا نہیں اترتی تم اگر آخری لڑکی بھی ہوگی تب بھی میں تم سے شادی نہیں کروں گا ۔۔۔”
وہ اس افتاد پر اس کے تقریب ہوئی تھی کلائی پر دبائو پڑھنے سے اب تکلیف میں شدت آچکی تھی مگر پھر بھی لبوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی اسکے۔
“ہائے آج میری کلائی سے مجھے جلن ہورہی ہے کیا قسمت ہے میری کلائی کی جو آپ کے خوبصورت ہاتھ میں قید ہے مجھے بھی قید کرلیں نہ اپنا بنا کے پنجرے میں بند کردیں میں کچھ نہیں کہوں گی ۔۔”
تمہیں اپنا بنانے کی مجھے نہ خواہشیں اور نہ ہی ضرورت ہے۔ ہاں پنجرے کی بات ہے تو چڑیا گھر خالی کروا کے اس میں ایک بڑا سا پنجرا تمہارے لئے بنو ا سکتا ہوں۔ “
“واہ واہ شاہجہاں نے تو اپنی محبوبہ کے عشق میں مقبرہ بنوایا تھا اور آپ میرے لیے پنجرہ بنوا رہے ہیں وہ چڑیاگھرمیں امیزنگ !! یہ ہوئی نہ بات ہیرو والی”۔
” پیسے حمزہ آج بتا ہی دیں کہ محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے ہیں نا؟ ؟؟” ۔۔
آج وہ دل کی بات دلیری سے زبان پہ لے ہی آئی۔
“اظہار محبت صرف مرد کے لبوں سے اچھا لگتا ہے زینی اور
ابھی پتہ چل جائے گا تمہیں کہ میرے لیے تمہاری کیا حیثیت ہے اور تمہاری ان بے ہودہ باتوں کی بھی ۔۔”
وہ اس کی کلائی بےدردی سے تھام کہ گھسیٹنے کے انداز میں اس کو کمرے سے باہر لاکہ ایک دم سامنے کھڑا کر کے دروازے کے پیچ میں خود ہوگیا ۔۔
“یہ ہے تمہاری حیثیت میرے لیے اور آئندہ میرے سامنے مت آنا”۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے اس کے منہ پر دروازہ بند کر ڈالا۔۔۔
” ھائےےےےےےےء ظالم ۔۔”
“میں ہاری پیا تیرے لیے ظالم انسان ۔۔۔”
وہ شاید ھمزہ کی محبت میں حد سے زیادہ آگے نکل چکی تھی ۔۔
ابھی بھی آنکھوں میں آنسوں کے بجائے لبوں پہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی اسکے۔ ۔۔
____________
صلہ کا سمیر سے ہوئے نکاح گھنٹہ گزر چکا تھا سب لوگ ہی خوش گپیوں میں مصروف تھے جب جفا نے کھانا لگنے کی اطلاع دی۔
سمیر کے ساتھ بس اس کی بہن اور بہنوئی اور پڑوس والی خالدہ شرہک تھیں نکاح کی تقریب میں جبکہ بشیر احمد صاحب کی طرف سے صرف ایک ان کے بڑے بھائی کی فیملی تھی چند لوگوں کی موجودگی میں بہت سادگی سے نکاح ہوا تھا اور صلہ بشیراحمد صلح سمیر بن چکی تھی ۔
وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی اندر سے اپنی بدلتی
ہوئی کیفیعت کو یا شاید یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے ہر اس لڑکی ،کے لئے جب لمحوں میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔
کھانا لگتے ہی عائشہ کے کہنے پر جفا اس کو تینوں کے مشترکہ کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔
صلہ کافی دیر تک جفا کے جانے کے بعد خود کو ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں میک اپ کے نام پے کاجل اور لبوں پے ہلکی سی گلا بھی رنگ کی لپ گلوس لگائے دیکھ رہی تھی کمسنی کا حسن اور نکاح کا روپ دونوں شیشے میں اپنی آب و تاب سے جھلملا رہے تھے ۔
شادی جیسے رشتے کا بس وہ شاید اتنا ہی مطلب جانتی تھی کہ یہ اس کے خدا اور رسول کا حکم تھا اس لحاظ سے وہ بس ماں کے سمجھانے پر خود کو ہمیشہ غیر محرم کے سامنے ڈھانپ کر رکھتی اور خوامخاں میں آنے سے گریز کرتی کسی بھی پرائے کے سامنے ۔عائشہ نے شروع سے اپنی دونوں بیٹیوں کے دماغ میں یہ ڈال دیا تھا کہ وہ کسی کی امانت ہیں اور ان کو خود کی حفاظت کرنی ہے ۔
وہ خود کو ہافی دیر تک یقین دلاتی رہی تھی کہ شیشے میں جلاتا عکس اسی کا ہے
ہلکی سی دستک دینے کے بعد جفا اور دانی کے ساتھ اس کا چند منٹوں پہلے بنا مزاجی خدا کمرے میں داخل ہوا تھا لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے چہرے پہ شوخی سجائے سمیر اس کی طرف بڑھتے ہوئے مکمل جائزہ بھی لے رہا تھا اب اپنی منکوحہ کا ۔
صلہ نے دوپٹہ مزید پیشانی پر گرایا وہ تو شکر تھا دونوں بہن بھائی بھی ساتھ ہی کمرے میں آگئے تھے سمیر کے عائشہ کے حکم پر ورنہ وہ تو جیسے بے ہوش ہیں ہوجاتی تنہا سمیر کو اپنے کمرے میں موجود پاکر
“ویسے مجھے آپ سے ملنے کا بہت شوق تو نہیں کہہ سکتے ہاں اپنی بیوی سے ملنے کے لیے بے قراری بہت تھی یقین جانیئے بہت مشکل سے اجازت ملی ہے لیکن میرا مقصد آپ کو پریشان کرنے کا نہیں “۔۔
وہ خاموش ہی رہی محض گردن ہلا کر ہوں ہاں ہی کی نہ جانے کیوں وہ سمیر کی موجودگی میں کچھ عجیب سا محسوس کر رہی تھی عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی اس کو اپنے ہی کمرے میں ٹھنڈک کے باوجود یا شاید یہ نئے رشتے کا اعجاز تھا کے وہ فطری جھجک کی وجہ سے سراسیمہ ہو رہی تھی ۔
یہی وجہ تھی کہ اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کے سمیر نے اپنے تعیں اس کو ریلیکس کرنا چاہا تھا وہ بوکھلائی ضرورت تھی مگر خود اعتمادی اب بھی اس میں اتنی موجود تھی کہ سمیر اگر مزید بات چیت کرتا تو وہ اپنی بوکھلاہٹ بآسانی چھپا سکتی تھی ۔۔
مس میں بس آپ کے ساتھ کچھ تصاویر لینا چاہتا ہوں ۔ وہ کیاہے کہ جب بھی آپ کی صورت دیارِ غیر میں دیکھنے کا دل چاہے تو فوراً دیکھ سکوں۔
موبائل فون وغیرہ تو آپ کی امی نے بتایا آپ کے پاس ہے ہی نہیں سرے سے لیکن لینڈلائن پر میں آپ سے بات چیت ضرور کیا کرو کروں گا۔
جی اچھا بہتر آپ امی ابو سے پوچھ لیں جیسا ان کو مناسب لگے۔
وہ لب کچلتی اب بھی بہت سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی تھی اس سے باتوں میں ۔
چلیں ٹھیک ہے مگر تصویر تو آپ اور میری میں اسی وقت لوں گا کیونکہ اتنا تو میرا حق بنتا ہے۔
سمیر کے لہجے میں جذبات کی مٹھاس بول رہی بہت پیاری لگ رہی تھی وہ کچھ پر سکون ہوئی سمیر کاپولائٹ اور انڈرسٹینڈنگ انداز اس کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کر گیا تھا ۔
کافی ساری تصاویر اس نے اپنے موبائل سے جفا سے کلک کروائی تھی۔
صلہ بھی مطمعین تھی کیونکہ دونوں بہن بھائی بھی ساتھ موجود تھے اور کمرے کا دروازہ مکمل چاک ہوا تھا جس کے باعث لاؤنج میں بیٹھے اس کی اماں ابا بھی تمام تر مناظر سے آگاہ تھے کمرے میں ہوتے ۔
حزیفہ بھائی مجھے یا تو کوئی ٹیچر ارینج کردیں یا پھر اپنے اس” ظلمی” سے کہیں کہ مجھے پڑھائی میں مدد کرے “
وہ اسکے حمزہ کو ظلمی کہنے پہ بے ساختہ مسکرادیا تھا جب ان دونوں کا کوئی عظیم معرکہ ہوتا تو وہ حمزہ کو ایسے ہی القابات سے نوازہ کرتی تھی۔
“خیریت تو ہے نا زینی بچے یا آج پھر پانی پت کی جنگ لڑکہ آئی ہو ؟؟؟”
وہ ابھی گھر آکر بس فریش ہوکہ واپس لیونگ روم میں آیا تھا جب زینش اسکیلئے چائے بنا کر لائی تھی ۔چہرے کے تاثرات خاصے بگڑ ے ہوئے ہونے کے ساتھ ساتھ رودینے والے بھی بنائے گئے تھے جیسے آج بہت بڑا ستم ٹوٹ پڑا تھا اس پہ ۔سمجھ تو وہ چکا تھا کہ یہ مطلع تب تک ابر آلود رہے گا جب تک وہ اپنے عزیز از جان “ہلاکو خان “بھائی کی اچھی خاصی تواضع نہیں کردیگا۔ وہ اب چائے کی چسکیاں لیتا بغور اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“بھائی میرا لیپ ٹاپ نہیں چل رہا تھا اور مجھے بہت ضروری ریسرچ کرنا تھی! تو میں ظلمی کے پاس گئی سمجھنے کیلئے مگروہ کافی دیر انتظار کے باوجود بھی نہ۔ آئے تو میں انکا لیپ ٹاپ یوز کرنے لگ گئی کیونکہ میڈیکل کی سیم فیلڈ ہی ہے ہماری بس وہ دوسال مجھ سے سینئر ہیں مگر لگتا ہے خود کو ابھی سے دنیا کا جانا مانا ڈاکٹر سمجھنے لگے ہیں “
وہ نان اسٹاپ کہتی اپنا کام کرگئی تھی بڑی معصومیت سے کیونکہ اب تو اسکو پورا یقین تھا کہ اس ظالم عرف ظلمی (یہ تازہ تازہ نام آج ہی اسنے ٹی میں ” کریکٹ میچ “دیکھتے ہوئے رکھا تھا اسکا)کی ٹھیک ٹھاک عزت افزائی ہوگی۔
“پھر کیا ہوا زینی ؟؟؟”
“کہیں اسنے تم سے بدتمیزی تو نہیں کی کسی بھی قسم کی؟ ؟؟؟”
حزیفہ کی تیوریاں چڑھی تھیں پل بھر میں حمزہ کے خطرناک حد تک خودسری و سرد مہری سے وہ اچھی طرح واقف تھا نہیں چاہتا تھا کہ اسکے بھائی کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف ان دونوں بچوں کو پہنچے جن کے سروں پہ ماں باپ کا سایا نہیں رہا تھا ۔وہ ماموں ممانی کی مخلص و بےلوس محبتوں کا قرض دار تھا ۔محسن تھے اسکے ماموں ممانی ان دونوں بھائیوں کے بھلا پھر کیسے وہ انکی محبتوں کو جان سے زیادہ نہ چاہتا؟ ؟؟؟ ان دونوں کے والدین کے انتقال کے دن سے وہ خود کو کبیر اور زینش سمیت جمزہ کو بھی ایک باپ کی طرح دیکھنے لگا تھا ۔جتنا سنجیدہ وہ باہری دنیا میں نظر آتا تھا اتنا ہی نرم و خوشگوار موڈ میں وہ اپنے گھر کے تمام فریقین کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ وہ شاید ان میں سے ہو چکا تھا جو اپنی فیملی کیلئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
“اور پھر بھائی ظلمی نے مجھے خوب ڈانٹا اور میری کلائی کو اتنی زور سے دبوچا کہ میرے ہاتھ سے درد ہی نہیں جارہا ہے ۔۔۔
جاری ہے
