Hararat e Jaan by Aymen Nouman NovelR50774 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17
No Download Link
960.7K
19
Rate this Novel
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode01 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode02 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode03 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode04 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode05 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode06 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode07 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode08 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode09 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode10 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode11 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode12 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode13 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode14 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode15 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode16 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17 (Watching)Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode18 Hararat e Jaan by Aymen Nouman Last Episode
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17
Hararat e Jaan by Aymen Nouman Episode17
مم۔۔۔میں سب بتادونگی ۔۔۔”
صبیحہ نے کہتے کے ساتھ ہی سب کچھ اگل ڈالا ۔۔کہ وہ سمیر کے ساتھ لڑکیوں کہ رشتے مانگتے تھے اور پھر باہرکے ملک لیجانے کا لالچ دیکر سمیر انکو کہاں غائب کرتا تھا ؟؟
یہ حقیقت وہ خود بھی نہیں جانتی تھی، صبیحہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ حریم کا بھی سودہ کردیتے جو اگر صبیحہ کے اوپر انتقام لینے کا بھوت سوار نا ہوتا اپنے بھائی کا اور اسکیلئے سیدھی سادھی حریم بہترین مہرہ صابت ہوئی۔
“یہ سب تو تم نے وہ بتایا جو تمہیں بھی سمیر کا دیدار جیل میں کر وائے گا اب زرا یہ بتاو یہ کون خوتوں ہے جلدی ورنہ تمہیں ابھی موت کے منہ دھکیل دونگا ۔”
حزیفہ نے کہتے کے ساتھ ہی صبیحہ کو کردن سے دبوچہ تھی جبکہ حریم نے صبیحہ کے ہاتھ کو پشت پر لیجا کر جکڑاتھا اور صلہ نے ایک زور دار کئی تھپڑ اسکے منہ پر جڑ ڈالے تھے ان دونوں کی وجہ سےآج وہ یتیم تھے۔
“یہ ۔۔یہ ہمارے گھر رہا کرتی تھیں ایک روز ماما کی گاڑی صدر کےبازار کے سامنے سےگزر تب انکو یہ روڈ پہ بیحوش ملیں ،انکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور انکی یاداشت چلی گئی تھی ۔۔۔۔”
“اس دن سے ماما نے احساد حمدردی اور ثواب کے طور پر انکو اپنی بہن بنالیا تھا ، میرے ماما بابا نے انکا بہت اعلاج کروایا تاکہ یہ ٹھیک ہوکر اپنے گھر چلی چائیں لیکن وقت گزرتا گیااور وہ مزید اپنی یاداشت کھوتی گئیں اور پھر ایک دن اچانک دماغ کی رگ پھٹی اور وہ رضائے الہی سے جاملیں اس وقت حریم محض ۵ سال کی تھی۔ ٹھیک چار ماہ اور دس ماہ تک وہ ہمارے ساتھ رہیں اور انکو ہم لالا بی کے نام سے بلاتے تھے ۔۔۔۔”
ھزیفہ کو لگا کہ آج اسکی تلاش مکمل ہوئی ورنہ وہ اپنی ماں کیلئے ہر ہر جگہ جا چکا تھا جہاں اسکو انکی موجودگی کا گماں ہوتا آج وہ پرسکون تھا۔ کئی سوالات کا جواب اسکو مل چکا تھا۔
“ایک آخری سچ اور بھی سن لیں !! میری تو تقدیر اب جیل ہی لیکن حریم ۔۔۔۔۔۔حریم میری سگی بہن ہے، میں تمام تر کہانی جھوٹی بنائی تھی اور اب جو کچھ میں نے آپکو بتایا اسکا ایک ایک حرف سچ پہ مبنی ہےاور حریم کو پانچ سال تک لالابی نے ہی پالا تھا کیونکہ مما کہتی تھیں لالا بی کا زہن حریم میں لگ جائیگا تو وہ شاید زندگی کی طرف واپس آسکے۔۔۔۔”
“آج سے تم میری بہن ہو حریم کیونکہ میری کے ماں کے ہاتھوں میں تم کھیلی ہو ، تمہارچہرے میں مجھے اکثر میری ماں کی چھبی آتی تھی ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں چاہ کر بھی تم سے نفرت نا کر سکا۔۔۔۔۔”
حزیفہ نے یہ سن کر حریم کے سرپر دست شفقت دراز کیا۔حریم کو لگا آج حقیقتاً وہ حقیقی رشتوں سے جاملی تھی۔
ھزیفہ اپنے لیپ ٹاپ میں کچھ فائل کنورٹ کر رہا تھا رات کے نو بجنے کو تھے اور وہ کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر آرام دہ لباس پہنے بیڈ کے ارد گرد ڈھیر ساری دفتری فائلز بکھرائے کام میں مگن تھا۔
صلہ ہچکچاتے ہوئے جب کچن کے تمام امور سے فارغ ہوکر کمرے میں داخل ہوئی اس وقت حزیفہ کچھ دیر کیلئے بیڈخکراون سے سر ٹکائے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔صلہ سے وہ ناراضگی بھی جتارہا تھا کہ اتنا کچھ وہ تنہا برداشت کر تی رہی ۔
آج ایک ہفتہ ہونے کو آیاتھا مگر حزیفہ بس منہ پھلائے روٹھے صنم کی طرح صلہ کے سامنےگھوم رہا تھا۔
صلہ دبے قدموں چلتی حزیفہ کے بلکل سامنے جا کھڑی ہوئی اور بغیر آہٹ پیدا کئے یکٹک اس کو بس اپنی نظروں میں اتارتی رہی ۔
اور پھر بیساختگی میں حزیفہ کے چہرے پہ جھک کر اسکی صبیح پیشانی پہ اپنی محبت کی پر حدت مہر صبت کر دی۔
جب بلکل ہی اچانک صلہ کی مرمری کلائی کو حزیفہ نے اپنے ہاتھ میں جکڑا تھا۔ صلہ تو جیسے سرد پڑگئی بیحوشی کے قریب جا پہنچی تھی ، وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ حزیفہ سورہا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔
__________
اور پھر بیساختگی میں حزیفہ کے چہرے پہ جھک کر اسکی صبیح پیشانی پہ اپنی محبت کی پر حدت مہر صبت کر دی۔
جب بلکل ہی اچانک صلہ کی مرمری کلائی کو حزیفہ نے اپنے ہاتھ میں جکڑا تھا۔ صلہ تو جیسے سرد پڑگئی بیحوشی کے قریب جا پہنچی تھی ، وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ حزیفہ سورہا ہے لیکن۔۔۔۔۔
“کیا؟!”
ھزیفہ نے تیوری چڑھا کر سخت لہجے میں کہتے ہوئے صلہ کو تیز نظروں سے دیکھا۔ ایسا کرتے ہوئے حزیفہ کا دل تھوڑا سا سکڑا تھا مگر پھر دوبارہ صلہ کی خود پر بے اعتباری یاد آگئی ۔
“مجھے اپنے ہوم ورک میں مدد کی ضرورت ہے۔”
وہ لرزتے لہجے میں نحیف سا عزر پیش کر رہی تھی ، فلحال کچھ بن بھی نہیں پرھ رہا تھاکہ کیا کہے۔؟؟
“میں کچھ نہیں کر سکتا!! تم ملٹی ٹیلنٹد ہو سب کچھ اکیلے ہی کرسکتی ہو ، پھر بھلا میرے جیسا ادنی شخص تمہارے کیا کام آسکے گا؟؟؟۔”
ھزیفہ خفا خفا سے لہجے میں جواب نہیں دیا اور صلہ کے ہوائیاں آرے چہرے کو دیکھا ۔
“آپ بڑے ہیں بہت !! “۔۔۔
دھت تیری کی صلہ نے نادانستگی میں ہی حزیفہ کہ دگتی رگ پہ پیر رکھا تھا۔
” میرے بڑے ہونےسے تمہارا کیا مطلب ہے ؟؟”
ھزیفہ لڑاکا عورتوں کی طرح لڑنے مرنے پہ اتر آیا۔
“وہ ۔۔۔وہ۔۔۔میرا مطلب ہے کہ آپکو مجھ سے زیادہ نالج ہے اسلئے آپ ہی میری میتھ میں کچھ مدد کرسکتے ہے۔”
وہ اب خود کو سنبھال چکی تھی ۔
“میں اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔”
حزیفہ نے دوبدو نے مقابلہ کیا۔
“میں آپ کی مدد کے لئے یہاں آئی تھی ، لیکن اب مجھے ضرورت نہی رہی آپکی۔”
وہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ، حزیفہ کا یہ اکھڑا اکھڑا سا رویہ اسکو توڑ رہا تھا۔
“پھر تم یہاں کس لئے آئے ہو؟”
صلہ کے جواب پہ حزیفہ کچھ اور بھی تلخ ہوا۔
“میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے سارہ کا نمبر دیں
تاکہ میں اس سے پڑھائی میں مدد کرنے کے لئے بلا سکوں۔”
صلہ نے تو جیسے سارہ کا نام لیکر تابوت میں آخری کیل تھوک ڈالی تھی۔
“باہر نکل جاو.”
ھزیفہ نے غصے سے دلبرداشتہ ہوکر کہا وہ اب صلہ سے ایسی بچکانہ بات کی امید نہیں کر رہا تھا۔صلہ چاموشی سے دل پہ دکھ کے بادل لئے کمرے واک آوٹ کر گئی۔
صلہ گھٹنوں میں سر چھپائے تھری سیٹر صوفے پر بیٹھی تھی ، وہ اپنی بے بسی پر افسوس کرتی ڈرائنگ روم میں جا بیٹھی تھی اور چپ کے آنسو بہانے میں مصروف تھی ۔
ھزیفہ چند لمحوں بعد ہی اسکو ڈھونڈتا ادھر ہی نکل آیا تھا۔ اس نے ڈرائینگ روم کا دروازہ بند کیا اندر سے اور اندر داخل ہوا.
صلہ کے کے سامنے لبوں پہ مسکراہٹ سجائے جا کھڑا ہوا اور اسکے پاس انچ بھر کے فاصلے سے صوفے پہ بیٹھ کر معنی خیز نگاہوں سے اسکو دیکھا۔
” آپ کب آہے ؟؟؟؟۔۔۔۔”
اپنی پشت پہ مانوس لمس محسوس کرتی وہ یکدم چونکی تھی ۔۔۔آنکھوں میں حءرت لئے وہ حد درجہ خفگی سے استفسار کر رہی تھی کڑے تیوروں کے ساتھ !!
“دنیا میں آئے تو انتتیس سال ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔تم سے شادی ہوئے چار ماہ اور پچیس دن ۔۔۔۔۔۔اور قسمت تو دیکھو زرا ایک عدد بیوی کا شوہر ہوکر بھی اب تک چنو منو کی خوشخبری سنے سے محروم ہوں۔۔۔۔ مجھ سے اچھا تو میرا چھوٹا بھائی فاسٹ فارورڈ نکلا ۔۔”
ھزیفہ اپنی ٹون میں واپس آچکا تھا۔ صلہ کی کمر کے گرد گہرا تند کر تا اسکی پشت پہ ڈھلکا دوپٹہ سائیڈ میں کرکہ حزیفہ نے صلہ کےریشمی لانبے صوفے کو چھوتے شہد رنگ بالوں کو ہیئر بینڈ سے آزاد کروایا۔
“کیا میں نے کہا کہ آپ بیٹھ سکتے ہیں؟؟؟؟”
صلہ کے چہرے پہ گلابیاں بکھری تھیں ھزیفہ کی کہی بات سن کے ، وہ خفت مٹانے کی بھرپور کوشش کرتی ناراضگی ظاہر کر رہی تھی۔
“میں نے نہیں پوچھا۔”
” میں تو حق سے اپنا حق وصول کرنا جانتا ہوں لٹل گرل ۔۔”
اس نے آنچ دیتے لہجے میں صلہ کو آگاہ کیا..
“اب کیوں آئے ہیں ؟؟؟”
“پہلے تو میری شکل بھی دیکھنے کے روادار نہیں تھے۔۔۔۔”
صلہ نے اسکی طرف سے اپنی توجہ پھیرتے ہوئے نروٹھے لہجے میں طنز کیا۔۔۔۔
” تمہارے گلے شکوے ہی تو میں دور کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔اصولاً تو یہ ڈیپارٹمنٹ تمہارا تھا مگر یارا تم بھی کیا یاد رکھو گی کیسا سخی شوہر تمہارے متھے لگا ہے۔۔۔۔۔”
ٹھیک تین سیکنڈ بعد حزیفہ نے بغیر کچھ کہے صلہ کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر اپنے ایک ہاتھ سے صوفے پہ دھکیل کر اسکو صوفہ پر دراز کیا تھااور خود اسکے اوپر جھکا ۔
وہ جو دُور رہ کر حرارتِ جاں بنا ہُوا ہے،
وہ شخص میرے قریب ہوگا تو کیا بنے گا _
ھزیفہ کی جزبات سے بوجھل آواز میں کہے گئے اشعار اور کان کی لوح کو چھوتی نرم گرم سانسیں صلہ کے دل میں ہلچل بر پا کر چکی تھیں ، وہ بس دم سادھے بغیر کسی مزاہمت کے سامنے موجود دھوپ چھاہوں کے سہ مرد کو دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں خدا کی شکر گزار تھی جس نے اعتبار کرنے والا اور اعتماد جیتنے والا شوہر اسکی قسمت میں لکھا تھا۔ یقیناً نہیں لازماً یہ اسکے ماں باپ کی ہی کوئی نیکی تھی جس کا پھل قدرت نے اسکو حزیفہ کی صورت میں ادا کیا تھا ۔ بلاشبہ ہمارا ہر برا اور اچھا عمل ہماری اولاد کیلئے تحفہ ہوتا ہے جو ہمیں مکافات عمل کی صورت میں ملتا ہے جبکہ ہماری اولاد کو خوشی یا بدنصیبی کی صورت میں ۔
“کہاں کھو گئی ہو ؟؟؟ “
“میں اتنا رومینٹک موڈ میں ہوں لٹل گرل اور تم ہوکہ چپ۔۔”۔
“اس نے مصلہ کے سرد پیروں پہ اپنے پیر سے شرارت کی۔
“میری مدد کریں.”
صلہ نےدبی دبی سرگوشی کی جبکہ حزیفہ نے اسکے اس انداز پہ خشمگیں گھوری سے نوازہ، وہ اب بھی اسکے اوپر جھکا ہوا تھا اور صلہ کی دھڑکنوں کی آواز نے جیسے حزہفہ کے احساسات میں مزید تلاطم برپا کر ڈالا تھا۔۔
“کیا؟؟؟؟”
“میں ہوں مدد کیلئے حاضر کہو کیا لدمت کرسکتا ہوں “
وہ اسکی ناک میں پروئی بالی سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔صلہ کی ناک میں موجود بالی اسکے نوخیز حسن میں بھرپورسوگواریت پیدا کر رہی تھی اور ساتھ ہی حزیفہ کو اسکا استحاق بھرا جزبہ ابھارنے میں پیش پیش بھی تھی۔
“پلیز ..”
اس نے لرزتے ہوئے کہا۔۔
” میرا بازو، میرا وجود تھوڑا سا دب گیا اور مجھے سانس بھی سہی سے نہی آرہی ۔۔۔۔”
” میرے بازو دکھ رہے ہیں آپکے وزن سے ۔۔۔”
اسے تھوڑا سا شانوں پہ ہاتھ رکھ کر ہمت کرکہ صلہ نے کہتے ہوئے پرے کرنے کی نہیف سی کوشش کی۔
“جاری رکھو اپنی یہ کوشش لیکن لٹل گرل !! لیکن تم میری حرارت جاں بن چکی ہو تم سے دوری اب ممکن نہیں تمہیں محسوس کرنا میرا حق بھی اور فرض بھی۔۔۔۔۔”
“میں کہتی ہو آپ پلیز چلے جائیں یہاں سے مجھے میرا ہوم ورک کرنا ہے ۔۔۔”
وہ ہڑبڑائی۔۔
‘ہمممم۔۔۔ہوم ورک ۔۔۔’
“چلو آو میں تمہاری ہوم ورک میں مدد کرتا ہوں ۔۔”
ھزیفہ شریر ہورہا تھا تمام خودساختہ حدود کی دیواروں کو گرادینے کو تھا۔
“میں نے کہا تھا اس وقت میری مدد کریں ہوم ورک میں مجھے اب آپکی مدد نہیں چائیے۔”
صلہ نے بگڑے تنفس کے ساتھ کہا۔
” مگر مجھے تو اب تمہیں ہوم ورک کے ساتھ نیو ورک کیلئے بھی ریڈی کرنا ہے، تم پر بہت محنت کرنی پڑے گی لٹل گرل!! بلکل کوری ہو تم نئے پروجیکٹ کو ڈیل کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ معنی خیزی سے کہتا صوفے سے اٹھ کر صلہ کو سنبھلنے کا موقع دئے بغیر اسکو اپنی پنہائوں میں بھرکر ڈرائینگ روم سے اپنے بیڈروم میں لیکر آچکا تھااور کمرے میں آکر بڑی احتیاط سے صلہ کو اسکے قدموں پہ کھڑا کیا تھا اور خود پلٹ کے کمرے کا دروازہ بندکرتا وہ پیار بھری نگاہوں سے صلہ کو دیکھ رہا تھا۔
” آپ کس پراجیکٹ کی بات کر رہے ہیں ؟؟؟”
“مجھے تو کوئی پراجیکٹ نہیں ملا۔۔۔۔”
حزیفہ کے لمحہ با لمحہ قریب آتے قدم صلہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑا چکے تھے ، اسکا خوبصورت و نازک سراپہ لرزش کی چادر اوڑھ چکا تھا۔
” ڈرو نہیں !! یہ میرا پروجیکٹ ہے ، اسکی تیاری میں تمہیں پریکٹیکلی کر واونگا اور پہلی دفع میں ہی ایسا سمجھاونگا اور کرکہ دھکاونگا کہ تمہیں دوبارہ سمجھنے کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔۔۔۔۔”
“مجھے نہیں چاہئے آپکی کوئی مدد ودد کر لیا میں نے اپناہوم ورک۔۔۔۔۔”
“مگر مجھے تو تمہارا ہوم ورک کروانا ہے لازمی۔۔۔۔”
ھزیفہ نے مزید اسکے کچھ بھی کہنے سے پہلے اسکے لبوں کو قیدکر لیا تھا۔۔۔
رات دھیرے دھیرے خوشی سے دو دلوں کے ملن پہ جھومتی جھامتی سرکتی جارہی تھی۔۔
“تم نے مجھے کیا بلایا تھا گزری شب زرا بتاوگی؟”
ھزیفہ شاور لیکر نکلا تھا حسب حال بس ٹراوزر میں ملبوس، شرٹ سے بے نیاز اور ٹاول کو لاپروائی سے استری اسٹینڈ پہ پھینکتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے موجود اپنی لٹل گرل کے چہرے کے شرمیلے تاثرات کو انجائے کرتا عین اسکی پشت پہ جا کھڑا ہوا اور اپنی تھوڑی اسکے شانے پہ ٹکاتے ہوئے اسکو اپنے حصار میں لیا ۔۔
ھزیفہ کی گہری آواز نے صلہ کے وجود گداز سی لرزش پیدا کی ، رات کے تمام مناظر ایک دفع پھر نگاہوں کے سامنے رقص کر اٹھے، ہمت ہی نا کر پارہی تھی وہ ان لمحات میں حزیفہ سے سامنا کرنے کی۔
وہ ایک پل میں اسکا رخ اپنی طرف پھیر کر اسکو گود میں اٹھا کہ ڈریسنگ ٹیبل پہ بٹھا تا صلہ کے ارد گرد شیشے پہ ہاتھ رکھ کر اسکے فرار کی تمام راہیں مسدود کر گیا تھا ،خود سے خود تک اسکو محدود کر چکا تھا۔۔
لمحوں نے فضاء میں ایک فسوں سا بھر ڈالا تھا جیسے کوئی سحر پھونکا ہو۔۔۔
” کہو کیا تھا مجھے یا پھر اقرار کرو کہ میں بھی تمہاری حرارت جاں بن گیا ہوں؟؟؟؟”
“جائنٹ(giant)!”….
صلہ نے خلوت کے لمحات میں کہا ہوا جملہ کانپتے ہوئے دہرایا بحرحال اقرار محبت کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی ، وہ رات میں ہی بڑے مشکل سے حزیفہ کی جسارتیں سہہ سکی تھی کجاکہ اب۔۔۔۔۔۔۔
“ھنہہ ۔۔۔۔۔۔ تو تم اقرار نہیں کروگی ؟”
ھزیفہ نے اس کے مخملی سراپے پر پھر پور نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
“آپ میری روح تک کو تسخیرکرچکے ہیں ، میں اقرار کرتی ہوں اپنے رب کو حاضر ناظر جان کر کہ آپ میری بن چکے ہیں۔۔۔۔”
حذیفہ نے صلح کی آنکھوں سے جھانکتی سچائی کو دیکھ کے مسرورہو کر اس کی کشادہ پیشانی پر اپنے لبوں کو رکھ کے محبت کی ایک اور مہر ثبت کی .۔۔۔۔
__________
“کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟؟؟”
ھزیفہ نے حیرت سے صلہ کو دیکھا جس کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اور پھر ایک نظر سمیر کوجو اب نارمل ایکسپریشن چہرے پہ سجائے کھڑا تھا۔
“ھزیفہ پلیز یہاں سے چلیں “
صلہ کی آواز میں نفرت گھلی ہوئی تھی جو حزیفہ کو واضح محسوس ہوئی۔
” ارے حزیفہ تم نہیں جانتے کیا کہ صلہ میری منکوحہ رہے چکی ہے “
صلہ کے چہرے پہ شاطرانہ نظر ڈال کر سمیر نے ہلکے پھلکے لہجے میں سچ آشکار کردیا تھا حزیفہ پر ۔جبکہ صلہ وہ تو بس خاموش ہی رہے گئی تھی جس سچ کا سامنا کرنے سے وہ خود خوفزدہ تھی وہی سچ آج سر آم اسکے شوہر کے سامنے آچکا تھا۔
“کیا واہیات قسم کی بات کی ہے تم نے سمیر ! میں تمہاری جان لے لونگا ایک لفظ بھی اگر مزد صلہ کی زات کیلئے تممہارے منہ سے ادا ہوا تو ۔۔”
حزیفہ نے اتر کہ گاڑی کا دروازہ زور سے مارا اور سمیر کا گریبان پکڑے اس پر پل پلا۔
“واہیات بات نہیں کر رہا میں تم سے ، میں نہیں جانتا تمہارے ساتھ موجود لڑکی تمہاری کیا لگتی ہے مگر میرے پاس صبوت ہے اپنی بات کی سچائی کا ۔۔۔۔”
سمیر نے زہر خند لہجے میں اپنے گریبان کو چھڑواتے ہوئے آخری حربہ بھی استعمال کیا یہ سوچے بغیر کہ اسکے پاس موجود نکاح نامہ جعلی ہے اور حزیفہ لمحوں میں وکیل کے زریعے اسکو جیل کی حوا کھلوا سکتا ہے لیکن سمیر تو جیسے ہاتھ سے نکلی قیمتی شہہ کو دیکھ کر سوچ بوجھ ہی کھو بیٹھا تھا۔
” نہیں جانتا تو جان لے یہ لڑکی میری بیوی ہے سمجھا تو ! اور مجھے کسی صبوت کی ضرورت نہیں ہے، یہ تو سمجھ لے اچھی طرح۔۔۔”
“بھاڑ میں گیا صبوت تیرا اور میں تجھ سے سارے بزنس کے بھی تعلق ختم کرتا ہوں بہت جلد تجھ سے تو اب میرے وکیل کی ملاقات ہوگی ۔۔۔۔”
ُصلہ کے معملے میں وہ ایساہی تھا حد درجہ محتاط اور۔۔
“حزیفہ میں آپکو سب کچھ سچ سچ بتا دونگی بس آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوں ۔۔”
صلہ نے گھر پہنچ کے حزیفہ کے کمرے میں جاتے ہی خود بھی کمرے کارخ کیا اور دروازہ بند کرکہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔آنکھیں راستے بھر رونے سے سرخ ہوچکی تھیں۔
“کیا میں نے تم سے کسی قسم کی سفائی مانگی ہے ؟؟؟”
ھزیفہ اضطرابی انداز میں ادھر سے ادھر ٹھہلتے ہوئے قدرے نرمی سے گویا ہوا۔
“پلیز حزیفہ مجھے معاف کردیں ۔۔”
“مجھے آپکو سچ بتا دینا چائیے تھا پہلے ہی تو آج شاید آپکا اعتماد مجھ پر سے نا ٹوٹتا !! مجھے معاف کردیں میں نے آپکا بھروسہ ٹوڑًالا۔۔۔۔”
‘صلہ میں تمہارے آج پہ اعتماد کرتا ہوں ، تم میرا آج ہو اور آنے والا کل بھی ۔۔۔۔۔انشاء اللہ۔۔۔”
“مجھے افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ تم۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ تم کاش مجھے اس قابل سمجھ لیتی کہ اپنے اوپر گزری بری یادوں کا سلسلہ مجھ سے جوڑ دیتی ۔۔۔۔۔”
“اسکے بعد صلہ نے اپنا دل حزیفہ کے سامنے کھول کر رکھ دیا سمیر کے متعلق ایک ایک بات اسکے گوش گزار کردی ۔۔۔۔”
“میں اس زلیل شخص کو عبرت کا نشان ضرور بناونگا اور تم آئندہ مجھ سے کچھ چھپانے کی غلطی مت کرنا.
جاری ہے
