60.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode


فیصل کیا خال بنایا ہوا ہے اپنا ۔۔۔آپا کمرے میں داخل ہوئ تو ملگجے خلیے میں سگریٹ پھونکتے فیصل کو دیکھ کر بےبسی سے بولیں۔
کیا خلیہ ہے ٹھیک تو ہوں آپا۔۔وہ اداسی سے مسکرایا۔۔
کسی کے جانے سے زندگی رکتی تو نہیں بیٹا۔۔ خود کو سنبھالو ۔۔۔آپا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔وہ اپنے اس پیارے سے بھائ کو اس دکھ سے نکالنا چاہتیں تھیں۔جو کھا رہا تھا اسے. صالحہ کی موت نے اسے بھی آدھا مار ہی دیا تھا۔۔۔
ایسا نہیں ہے آپا۔ کہ کسی کے جانے سے زندگی رک جاۓ یا ہم مر جائیں۔۔وہ ذرا ٹھہرا ۔مدھم سانسوں کے تال پر اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔ایسا ہوتا ہے کہ جب اس کا نام سنا جاۓ تو دل بےاختیار دھڑکنوں کو روک کر بس اسی نام کا وِرد کرتا جاتا ہے۔بےتخاشہ ہنستے ہوۓ جب اس کی یاد آتی ہے تو ہنسی تھم جاتی ہے۔اور پرملال مسکراہٹ اس ہنسی کی جگہ بڑے دھڑلے سے ہونٹوں پر براجمان ہو جاتی ہے۔دنیا بھر کی مصروفیت سے فرصت ملے تو یاد ذہن کے دریچوں کو وا کرتی ہوئ آ بیٹھتی ہے۔۔اور آنکھوں کو نم کر جاتی ہے۔جب کسی کو دیکھو تو وہ عکس ہی ہر جگہ دکھائ دیتا ہے۔اور کچھ نہیں آپا بس اتنا ہوتا ہے اور اتنا ہی آپا اذیت کا سمندر ہے۔وہ وجہ تھی آپا بےوجہ نہیں جیا جاتا مجھ سے۔۔اس کے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا درد اذیت تکلیف سب۔۔وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔
میرے بھائ سنبھالو خود کو۔تمہارے پاس وجہ ہے جینے کی بےوجہ نہیں ہو تم۔عریشہ ہے تمہارے پاس ۔تمہاری صالحہ کی امانت ۔تمہاری صالحہ کی نشانی۔۔۔وہ بھی اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئیں۔۔
آپا عریشہ کہاں ہے آپا۔۔وہ اتنے دنوں بعد خواسوں میں آیا تھا عریشہ کو تو بھول چکا تھا وہ ۔۔بھول چکا تھا کہ اس کی زندگی زندہ ہے اس کی بیٹی میں اس کی عریشہ میں۔۔۔
وہ زویا کے پاس ہے زویا اس کا بہت خیال رکھتی ہے بلکل صالحہ کی طرخ۔۔۔آپا کہتے ہوۓ خود ہی چونک پڑیں۔ہاں وہ اس کا خیال ایک ماں کی طرخ رکھتی ہے۔۔۔آپا نے کچھ سوچا فیصل کی طرف دیکھا اور ایک فیصلے پر پہنچیں۔۔
ہاں وہ پہلے سے ہی اس کا بہت خیال رکھتی ہے۔۔وہ افسردہ سا مسکرایا ۔۔ تو آپا کچھ سوچتی ہوئ باہر نکل گئیں۔۔۔


آپ نے بلایا انکل اتنی ایمرجنسی میں خیریت۔۔۔
جی بیٹا بس کچھ بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔
مجھے بھی کچھ بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔
جی بولو بیٹا۔۔۔
پہلے آپ بتائیں انکل کیا بات کرنی تھی۔۔۔
بیٹا وہ ذیادہ لمبی چوڑی نہیں کھینچوں گا بات کو۔۔وہ ذرا دیر کو رکے ۔اپنے سے چھوٹے بھائ کو دیکھا ۔پھر آپا کی طرف مڑے۔۔عریشہ بہت چھوٹی ہے اسے نہیں پتہ اس کی ماں نہیں رہی۔مگر وہ کمی محسوس کرتی ہے۔اور اس کمی کو زویا سے ذیادہ اچھے سے کوئ پوری نہیں کر سکتا۔۔
آپ نے بھی یہی سوچا۔میری بھی یہی خواہش ہے اگر زویا اور فیصل کو اعتراض نہ ہو۔۔ورنہ زبردستی تو نہیں کر سکتے ہم۔۔۔
زبردستی ہو گی بھی نہیں بیٹا۔۔زبردستی کے رشتوں کے بہت بڑے خسارے پائیں ہیں ہم سب نے۔۔۔
جی شکریہ میں فیصل سے بات کروں گی۔آپ بھی زویا سے بات کیجیئے گا۔۔۔کہہ کر آپا اٹھ گئیں۔۔


تم نے یہ کیا کر دیا سنی۔۔صالحہ آنسؤ بھری آنکھوں کے ساتھ بولی۔۔۔۔
کک کیا پھپھو ۔۔اور آپ واپس آ گئیں۔بہت یاد کیا آپ کو بہت رویا میں۔۔وہ کہتے ہوۓ آگے بڑھا۔۔
وہیں رک جاؤ سنی۔۔صالحہ نے اس قدر سختی سے کہا کہ اس کے بڑھتے قدم رک گۓ۔۔۔
پھپھو میری بات سن لیں۔۔ وہ منت بھرے لہجے میں بولا۔۔
کیا کہو گے اب تم اور کیا سنوں میں۔۔بچا کیا ہے۔۔تم نے کچھ چھوڑا ہے۔۔صالحہ گال پر بہتے آنسؤ کو رگڑتی ہوئ بولی۔۔
کک کیا مم مطلپ پھپھو۔۔ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔۔
تمہاری ایک غلطی کی قیمت چکائ ہے سب نے۔۔قاتل ہو تم قاتل ۔۔مار دیا تم نے مجھے تم قاتل ہو۔۔۔وہ خلق پھاڑ کر چلائ. ۔۔۔
نن نہیں پپ پھپھو ایسا مت بولو۔۔پہلے ہی احساس جرم جھکڑے ہوۓ ہے مجھے۔۔۔وہ ڈر رہا تھا۔۔
تم کو نہیں کرنا چاہئیے تھا یہ سب۔۔۔بلکل نہیں۔۔
پھپھو معاف کر دیں مجھے پلیز ۔۔اس نے ملتجائیہ انداذ میں ہاتھ جوڑے۔۔
معافی غلطیوں کی ہوتی ہے ثناءاللہ بٹ گناہوں کی نہیں۔۔کہہ کر پھپھو آنکھوں سے اوجھل ہو گئیں۔۔
پھپھو کہاں ہیں آپ پھپھو پلیز لوٹ آئیں۔۔وہ صالحہ کو ڈھونڈنے لگا۔وہ بھاگ بھاگ کر ہانپنے لگا۔مگر اسے صالحہ کہیں نہیں ملی۔۔تو رک گیا جبھی اسے اپنے پیچھے آواز سنائ دی۔۔۔
اور تم قاتل ہو۔۔تم قاتل ہو۔۔حسینہ کے بھی۔۔۔اک مردانہ آواز نے اس کا پیچھا کیا۔۔
مم میں نے کچھ نہیں کیا اپنی کی گئ غلطیوں کی سزا ملی ہے اسے۔۔۔۔۔۔وہ ڈر کر ادِھراُدھر دیکھنے لگا مگر آواز والا اسے نظر نہ آیا۔۔
سب نے تو پالی اپنی اپنی غلطی کی سزا اور کچھ نے تو ناخق سزا پائ۔۔تم کو سزا ملنی چاہیئے۔۔وہ آواز پھر سے گونجی۔۔
نن نہیں۔۔وہ ہکلایا۔۔
تم قاتل ہو اپنوں کے ان کی خوشیوں کے۔۔۔تم قاتل ہو۔۔۔محتلف آوازیں گونجنیں لگیں۔۔
نن نہیں میں نے کچھ
نہیں کیا۔۔۔وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا۔۔اور چلاتا چلا گیا۔۔۔
کیا ہوا میرا بیٹا۔۔تائ جان جو ابھی اس کے کمرے میں آئیں تھیں اس کی خالت دیکھ کر گھبرا گئیں۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا کچھ نہیں۔۔۔وہ نیند میں چلا رہا تھا۔۔۔پسینے سے شرابور تھا۔۔
سنی سنی ۔۔تائ جان نے اسے ہلایا تو اک دم گھبرا گئیں وہ آگ کی طرخ گرم ہو رہا تھا۔۔۔
مجھے بچائیں ماما میں نے کچھ نہیں کیا۔۔وہ ہربڑا کر اٹھ بیٹھا اور تائ جان کی آغوش میں چھپنے لگا۔۔۔
میرا بچہ کیا ہوا ہے۔۔کچھ بولو۔۔۔
کک ککک کچھ نن نہیں ماما بس میرے پاس رہیں۔۔وہ اٹک اٹک کر بولا۔۔
سنی میری جان تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے چلو تمہیں ہسپتال لے چلوں ۔۔انہوں نے کہہ کر سنی کی طرف دیکھا مگر وہ چپ تھا۔۔تائ جان جلدی سے باہر کو بھاگیں۔۔
سیم راحیل صاخب زویا کہاں ہو سب۔۔وہ چلاتی ہوئ سیڑھیاں اترنے لگیں۔۔۔
کیا ہوا ہے تائ جان۔۔زویا ان کی آواز سن کر بھاگ کر ان کے پاس آئ۔۔
کیا ہوا ماما۔سیم بھی جلدی سے آیا۔۔۔۔
وہ سنی کی طبیعت بہت خراب ہے تپ رہا ہے وہ بخار میں اور بےھوش ہوگیا ہے جلدی چلو۔۔۔ان کے کہتے ہی سب بھاگ کر سنی کے کمرے میں پہنچے جہاں وہ بےسدھ لیٹا تھا۔۔
ایمبولینس کو کال کرو جلدی۔۔تایاجان بھی جوان بیٹے کی یہ خالت دیکھ کر ڈر گۓ تھے۔۔۔
فوراً ایمبولنس کو کال کر کے بلایا گیا۔۔اور سنی کو ہسپتال پہنچایا گیا۔۔
ڈاکٹرز کے مطابق اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔اور وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا۔۔۔صالحہ کی موت کو اس نے سر پر سوار کر لیا جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کے خراب ہونے کا قصوروار خود کو سمجھنے لگا۔۔اور احساسِ جرم میں مبتلا ہو گیا۔۔جس کی وجہ سے اسے کبھی صالحہ دکھتی تھی تو کبھی حسینہ اور فہیم۔۔۔سب پریشان تھے اس کے لیئے وہ ٹھیک ہوتا اور پھر دو تین دن بعد اسے دورا پڑتا۔۔اب یہ روز کا معمول تھا۔۔اسے ڈسچارج کر کے گھر لایا گیا۔مگر وہ اب اک کمرے میں ہی بند رہنے لگا۔۔


آپا آپ یہ بات کیسے کر سکتی ہیں یار۔آپ جانتی ہیں میں صالحہ سے عشق کرتا ہوں۔۔
ہاں جانتی ہوں مگر کیا جن کی بیویاں مر جاتی ہیں وہ دوسری شادی نہیں کرتے وہ بھی تو محبت کرتے ہوتے ہیں۔۔۔
آپا اسے مرا ہوا مت کہیں۔وہ زندہ ہے آپا وہ یہاں زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔۔۔اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر وہ بےبسی سے بولا۔۔۔
محبوب اور باپ کے بیچ کا فرق جانتے ہو۔۔وہ اس غیر متوقع سوال پر خیران ہوا تھا۔۔
محبوب محبت میں خودغرض ہوتا ہے اور باپ محبت میں بادشاہ۔۔
کیا مطلب آپا میں سمجھا نہیں۔۔
اک باپ بن کر سوچو۔عریشہ بہت چھوٹی ہے اسے ماں چاہئیے۔ میں تو چلی جاؤں گی پیچھے سے وہ اکیلی رہ جاۓ گی۔۔۔
اکیلی کیوں آپا میں ہوں ناں اس کے لیئے۔۔۔
آپ ہو بیٹا جی مگر کہاں۔۔ان کی بات پر وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھا گیا تو وہ مسکرائیں۔۔
آپ تو عاشق لوگ ہو یار۔عاشق ہو تو عاشق رہو گے باپ نہیں بن پاؤ گے۔۔صالحہ کی یادوں میں راتیں کمرہ بند کر گے گزریں گی تو دن سڑکوں کی خاک چھانتے ہوۓ۔۔پیچھے تم کہاں ہو عریشہ کے لیئے۔۔۔ان کی بات پر وہ خاموش رہا۔۔
مان جاؤ فیصل اسے ماں چاہئیے تمہیں بےشک بیوی نہ چاہیئے ہو۔۔۔
مگر۔۔۔اس کی بات بیچ میں رہ گئ۔۔۔۔
مگر کچھ نہیں فیصل تمہیں پتہ ہے وہ تمہارے ساتھ بیٹھ کر صالحہ کے لیئے روۓ گی۔۔تم تڑپو گے تو اپنے ہاتھوں سے آنسو صاف کر گی۔۔تمہارا سر اپنے کندھے پر رکھ کر ساری رات تمہارا محبت نامہ سنے گی۔۔عریشہ ہنسے کی تو وہ مسکراۓ گی اس کے رونے پر تڑپ جاۓ گی۔۔وہ زویا ہے جس کا نام ہی زندگی ہے جو اپنے نام میں ہی زندگی کا مطلب لیئے پھرتی ہے ہر کسی کو نہیں مل جاتی جسے ملتی ہے خدا کا تخفہ ہوتا ہے۔۔۔۔
پھر بھی تم سوچ لو کوئ زبردستی نہیں ہے۔۔۔وہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھیں۔۔
آپ بھی ناں کمال ہیں آپا۔۔اس کی آواز پر ان کے بڑھتے قدم رکے۔۔اتنا لمبا لیکچر دے کر کہتی ہیں کوئ زبردستی نہیں واہ۔۔وہ زبردستی مسکرایا۔۔۔ذرا ٹھہرا دل پر ہاتھ رکھا دھڑکن کو سنا ۔۔مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے آپا۔۔کہہ کر وہ دوسری طرف مڑ گیا۔اور آنکھ کے کنارے اٹکے آنسؤ کو انگلی سے جھٹک دیا۔۔۔۔
آپا اس کا درد سمجھتی تھیں مگر وہ عریشہ کے لیئے آسانیاں چاہتی تھیں۔۔ایک نظر رخ موڑ کر کھڑے فیصل پر ڈال کر وہ باہر نکل گئیں۔۔۔۔۔


تایاجان ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں آپ لوگ۔۔وہ تو خیران تھی اتنی غیر متوقع بات پر۔۔۔
بیٹا اتنی خیرانگی کی تو کوئ بات نہیں فیصل سے بات ہو چکی ہے وہ رضامندی دے چکا ہے۔۔۔
کچھ بھی ہو جاۓ یہ غلط ہے تایاجان اور میں یہ نہیں کروں گی امید ہے آپ سب مجھے فورس نہیں کریں گے۔۔۔وہ ایک نظر سب پر ڈال کر جانے کے لیئے اٹھ کھڑی ہوئ۔۔
بلکل بھی فورس نہیں کریں گے بیٹا۔۔۔لیکن آپ عریشہ کا سوچو اسے آپ جیسی ماں چاہئیے ۔۔تایاجان دھیمے انداذ میں بولے۔۔
اور بیٹا آپ اور عریشہ ایک دوسرے سے کتنا اٹیچڈ بھی ہو۔۔اس کے بابا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولے۔۔۔
اور بیٹا اگر فیصل کی شادی کسی اور سے ہو جاتی ہے تو عریشہ کی زندگی تباہ ہو جاۓ گی۔کوئ اور اسے تم سا پیار توجہ نہیں دے پاۓ گا۔۔۔تائ جان نے بھی اپنا خصہ ڈالا۔۔۔۔
اور تم ہی تو کہتی ہو پھپھو نہ ماں ہوتی ہے نہ بہن دونوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔۔تو سوچو دونوں کے فرائض ہیں تمہیں نبھانے ہیں۔۔۔اس کی ماما بھی نرمی سے بولی۔۔اب وہاں صرف سیم بچا تھا زویا نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ان سب کی باتوں کو ٹھنڈے دماغ سے سوچو اور پھر فیصلہ کرو۔۔جو فیصلہ کرو گی ہم سب ساتھ ہیں تمہارے۔۔۔سیم مسکرا کر بولا تو وہیں صوفے پر بیٹھ گئ۔۔اک نظر سب پر ڈالی اور سر جھکا دیا۔۔مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے۔۔۔
سب اس کے جواب پر مسکرا دیئیے۔۔۔


ایک سال بعد۔۔
سب کچھ معمول پر آ گیا تھا۔۔۔عادل سوہا اور ذہان برطانیہ شفٹ ہو گۓ تھے عادل کی جاب کے سلسلے میں۔
۔سیم نے اپنے باپ کے ساتھ کاروبار سنبھال لیا تھا۔تائ جان نے اس کی شادی بھی کروا دی تھی۔اس کی بیوی مڈل کلاس سے بیلانگ کرتی تھی بےحد سلجھی ہوئ اور تابعدار زندگی سنور گئ تھی اس کی بھی۔
اور سنی وہ اپنے خواس کھو چکا تھا بس ایک کمرے میں بند رہتا۔اسے اس کا غرور لے ڈوبا تھا
۔۔فیصل،زویا اور عریشہ خوش تھے اک دوسرے کی سنگت میں۔فیصل ایک کامیاب سنگر اور میوزیشن تھا اس نے زویا کو بھی اس سب سے منع نہیں کیا اب وہ پاکستان میں تو کیا پوری دنیا میں پہچانے جاتے تھے۔۔آج کل وہ تینوں آپا کے پاس ٹورنٹو آۓ ہوۓ تھے۔۔۔
کیا دیکھ رہی ہو زویا۔۔آپا اسے کھڑکی سے باہر تکتا پا کر پوچھنے لگیں۔۔۔
لڑکیاں بڑی حسین حسین ہیں یہاں۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولی۔۔۔
تو ماما یہ کیا بات ہوئ آپ لڑکی نہیں لڑکا دیکھو وہ بھی اپنے لیئے۔۔۔۔چار سالہ عریشہ کی بات پر پہلے تو وہ خیران ہوۓ پھر بےساختہ مسکرا اٹھے۔۔۔
اپنے باپا کی چھٹی کروانی ہے آپ نے ۔۔چاۓ کی ٹرے لے کر آتا فیصل بولا تو سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔۔۔


خواتین و خضرات ۔۔آج آپ سب کی پرزور فرمائش پر ہمارے ساتھ ایک سریلا ,خوبصورت اور مشہور کپل موجود ہے تو آئیے ملتے ہیں۔مسٹر فیصل سلطان اور مسز فیصل سلطان سے۔میزبان پرجوش انداذ میں بولا۔۔۔
اسلام علیکم! کیسے ہیں آپ دونوں۔۔۔
الحمداللہ اللہ کا شکر ہے۔۔فیصل مسکرا کر بولا۔۔
تو کیا مصروفیات ہیں آج کل آپ کی۔۔
سنگنگ سنگنگ اور بس سنگنگ۔۔۔۔۔۔۔فیصل مسکرایا۔۔
ماشاءاللہ سے آپ دونوں کے گلے میں بہت سر ہے۔مگر آپ آج کل نظر نہیں آ رہیں۔۔کیوں سب جاننا چاہتے ہیں۔۔۔۔
ہمم۔۔جو نیو البم فیصل نے ریلیز کی میں اس میں نہیں کام کر سکی۔۔جیسا کے آپ سب جانتے ہیں ہماری ایک پانچ سالہ بیٹی ہے تو یہ عمر گرو کرنے کی سیکھنے کی ہوتی ہے تو میں ذیادہ وقت اسے دیتی ہوں تاکہ اس کی تربیت میں کوئ کوتاہی نہ ہو۔۔۔زویا نے مسکرا کر اپنی بات مکمل کی ۔۔
سر آپ پہلے سے شادی شدہ تھے زویا سلطان کی پھپھو سے۔تو کچھ بتائیں گے پہلی شادی کے متعلق۔۔سنا ہے لو میرج تھی وہ آپ کی اور ان کے جانے کے بعد آپ اک عرصہ ہاسپٹلائز رہے ہیں۔۔۔میزبان شو کی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں کسی کے زخم ادھیڑ رہا تھا۔۔۔
میزبان کی بات سن کر وہ رکا سر جھکا کر اپنے جوتوں پر نظریں ٹکا دیں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا۔۔جی صالحہ نام تھا اس کا لو میرج تھی ہماری۔۔ذرا کو وہ ٹھہرا رکا اور پھر بولا۔میری زندگی تھی وہ جب جان چلی جاۓ تو ےیہی خال ہوتا ہے جو میرا تھا۔۔کہہ کر اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیا اور کھولا اس نے۔۔۔
آئم سوری سر۔۔۔میزبان کو شاید انداذہ ہوا کہ وہ زخم ادھیڑ رہا ہے کسی کے۔۔۔
اور زویا سلطان کے بارے میں کیا کہیں گے آپ۔۔۔
زویاسلطان۔اس نے نام دہرایا زویا کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔۔میری آپا کہتی تھی زندگی کسی کسی پر دوسری بار مہربان ہوتی ہے۔۔۔میزبان ناسمجھی سے اپنے سوال کا الٹا جواب سننے لگا۔۔۔
اور میں ان لوگوں میں سے ہوں ۔۔فیصل نے بات جاری رکھی۔۔کیونکہ زویا کا مطلب ہی زندگی ہے اور زویا نے زندگی دی ہے مجھے۔۔میں بہت اخترام کرتا ہوں اس کا بہت ذیادہ عزت اور عنقریب شاید محبت بھی۔۔۔زویا نے تھمتے دل کے ساتھ اسے دیکھا دونوں کی نظریں ملیں اور دونوں مسکرا دیئے۔۔
اور آپ کیا کہنا چاہیں گی۔۔۔
مرد کی دی گئ عزت ہی محبت ہوتی ہے ۔۔عورت کے لیئے محبت سے بڑھ کر عزت ہوتی ہے اور جو مرد اسے عزت دے اس کی خفاظت کرے اس کا محرم بن جاۓ۔۔اسی سے محبت کرتی ہیں اور میں زویا سلطان فیصل سلطان سے بہت ذیادہ محبت کرتی ہوں کہ یہ میری عزت کرتے ہیں۔۔زویا نے فیصل کی طرف دیکھ کر بات مکمل کی اور پھر سامنے دیکھتے ہوۓ مسکرا اٹھی۔۔۔۔۔۔۔
کوئ پیغام لوگوں کے نام۔۔میزبان بولا۔۔۔
ہاں میں سب پیرنٹس سے گزارش کرنا چاہوں گی کہ خدارا خدارا اپنے بچوں پر زبردستی مت کیا کریں آپ بچوں سے ذیادہ دنیا کو جانتے ہیں ۔لیکن وقت گزرتا ہے تو اس کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔۔جب بچوں کے رشتے کریں تو پہلے اپنے بچوں کی راۓ لے لو۔اس بات کو انا کا مسئلہ مت بناؤ کہ کیوں پوچھیں اپنے بچوں سے وہ ہمارے نہیں ہم ان کے والدین ہیں۔۔۔خدارا سمجھئیے بچپن میں پہنائ گئ انگھوٹھیاں جوان ہو کر انگلیوں میں نہیں آتیں۔۔۔۔
پاکستان میں یہ ہر گھر کا مسئلہ ہے بچوں سے پوچھا نہیں جاتا بتایا جاتا ہے۔۔جبکہ ہمارے نبیﷺ کا خکم ہے بچوں سے ان کی مرضیاں پوچھو۔۔۔وہ نبیﷺ تھے پھر بھی علی کے رشتے کو فاطمہ کی رضامندی کے بغیر ہاں نہیں کی۔۔۔وہ ذرا رکی سانس بخال کیا پھر بولی۔۔۔۔
اور یہ چیز بہت سی برائیوں کو پیدا کرتی ہے وہ غلط راستہ چنتے ہیں جن کاخمیازہ اک پوری نسل کو بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔
شکریہ۔۔۔
زویا نے اپنی بات مکمل کر کے خود یک ٹک تکتے فیصل کی طرف دیکھا اور مسکرا اٹھی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ۔۔۔
شو ختم ہوا تو وہ دونوں وہاں سے باہر آ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گۓ گاڑی میں مکمل خاموشی چھائ تھی۔۔گاڑی سنسان سڑک پر بھاگے جا رہی تھی کہ یکدم گاڑی کو بریک لگے اور گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔۔۔
سامنے قبرستان کا بورڈ آویزاں تھا۔۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور گاڑی سے اتر کر قبرستان میں داخل ہو گۓ۔۔چلتے چلتے وہ اک قبر کے پاس پہنچ کر رک گۓ۔۔قبر پر بڑے بڑے خروف میں صالحہ سلطان زوجہ فیصل سلطان اور تاریح لکھی گئ تھی۔۔۔
فیصل گرنے کے سے انداذ میں وہاں بیٹھ گیا زویا کے گالوں پر بھی آنسو بہہ نکلے۔۔بہت دیر وہ دونوں وہاں چپ چاپ بیٹھے رہے اور پھر دعا کر کے باہر کی طرف قدم بڑھا دیئیے۔۔
دونوں گاڑی میں آ بیٹھے تو گاڑی پھر سے سنسان سڑکوں پر بھاگنے لگی۔۔۔زویا نے گاڑی چلاتے فیصل کو بغور دیکھا اور سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔۔فیصل نے اس کی یہ خرکت دیکھی اور مسکرا اٹھا۔اور اس کے سر پر بوسہ دے کر نظریں سڑک پر مرکوز کر دیں۔۔زویا نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔اور مسکراتے ہوۓ آنکھیں موند لیں۔۔۔گاڑی سلطان ہاؤس کی طرف بھاگ رہی تھی جہاں ڈھیڑ ساری خوشیاں ان کی منتظر تھیں۔۔۔