Haqeeqat By Pareesha Mahnoor Readelle50232 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
کک کون ہو تم لوگ۔۔۔صالحہ اچانک دو نقاب پوشوں کے گھر گھس آنے سے ڈر گئ تھی۔موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔۔۔
بتا دیں گے اتنی جلدی بھی کیا ہے جانِ من۔۔ایک نقاب پوش خباثت سے بولا۔۔
دور رہو مجھ سے۔۔صالحہ پیچھے کو کھسکی۔۔
کیسے دور رہوں اپنے پاس آنے کے سارے جواز تو تم نے خود دیئے ہیں مجھے۔۔۔وہ کرسی دھکیل کر اس پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔
تت تم۔۔ صالحہ اس آواز کو لاکھوں کو میں پہچان سکتی تھی۔۔
تو تم بھولی نہیں ہو مجھے۔۔اس نے کھینچ کر نقاب اپنے چہرے سے اتار دیا۔۔۔
تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔کچھ لوگ وہ زخم دے جاتے ہیں کہ وہ رستے ہیں تو یاد آتے ہیں۔۔صالحہ کی ساری گھبراہٹ کافور ہوئ۔۔
چلو کسی بہانے سہی تمہیں یاد تو رہا۔۔بس اب تمہارے کچھ اپنوں کو وہ درد دے جاؤں گا کہ تمام عمر زخم رستے رہیں گے تو درد ہو گا تو یاد رہے گا کہ کوئ فہیم عنایت آیا تھا ان کی زندگیوں میں۔۔۔وہ کہہ کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔
کیا چاہتے ہو اب تم۔۔۔۔
یہی تو نہیں پتہ کہ کیا چاہتا ہوں میں اب جس کو چاہتا تھا وہ نہیں رہی۔۔۔اس کے لہجے میں درد تھا وہ درد جو کسی اپنے کے بچھر جانے پر ہوتا ہے۔۔
کک کیا مطلب حسینہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلی گئ یار تمہاری سمجھداری کی باتیں اس ناسمجھ کو لے ڈوبیں۔۔۔
مطلب کیا ہے تمہاری اس ساری بات کا۔۔۔۔۔
کچھ لوگوں کو ضمیر کا بوجھ جینے نہیں دیتا احساسِ جرم دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔۔وہ بھی ان میں ٹھہری ۔۔ضمیر کے بوجھ نے جان لے لی اس کی ۔۔مار دیا اس نے اپنے آپ کو۔۔وہ بولتے بولتے ایک دم دھاڑا۔تو وہ ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت افسوس ہوا مجھے مگر میں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔وہ ہکلائ۔
کچھ نہیں بس جان دے دو تم بھی اپنی۔۔۔پستول کو صاف کرتے ہوۓ ٹیڑھی نظر سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
پپپ پاگل ہو تت تم ففف فالتو باتیں ممم مت کرو۔۔وہ بہت گھبرا گئ تھی۔۔
تمہیں تو جانا ہو گا کیسے بھی سہی۔۔۔یہ درد پوری بٹ فیملی کو سہنا ہو گا جو میں نے سہا۔۔۔وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔۔۔
دیکھو فف فہیم اس میں صرف تمہاری غلطی تھی اور کسی کی نہیں۔۔تم نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جس پر ضمیر عدالت لگاتا ہے۔۔وہ اس کے ہاتھ میں پکڑی پسٹل دیکھ رہی تھی۔۔۔
تو مجھے بھی سزا ملے گی بےفکر رہو ابھی تو میری عدالت میں تمہاری سنوائ ہے۔۔۔کہہ کر وہ اپنے ساتھ آۓ نقاب پوش کی طرف مڑا۔۔۔۔تم جا سکتے ہو باقی میں سنبھال لوں گا۔۔یہ سنتے ہی وہ نقاب پوش تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔۔۔
فف فہیم میری بات سن لو مجھے مارنے سے تمہیں کیا خاصل ہو گا۔۔۔۔۔۔
اندرونی اور ذہنی سکون۔۔کہہ کر اس نے پستول کا رُح صالحہ کی طرف کر دیا۔۔۔۔اور پھر پورے گھر میں صالحہ کی دلخراش چیخ اٹھی اور ساتھ ہی صالحہ خون میں لت پت فرش پر گر گئ۔۔۔۔۔
محبت اور جنگ میں کہتے ہیں سب جائز ہے صالحہ اور تمہارا مرنا بھی۔۔۔۔وہ اس کے پاس بھیٹتے ہوۓ بولا۔۔۔
سنو حسینہ تمہیں نہیں جانا چاہیئے تھا پر تم فکر نہ کرو میں بھی آ رہا ہوں۔۔وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا اور پستول کا رخ اپنی کنپٹی کی طرف کر دیا۔اور فائر کھول دیا اور ایک لمحے میں زمین پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔
فہیم کی کہانی ختم ہوئ مگر ساتھ ساتھ وہ بہت سے لوگوں کو اذیت اور درد دے گیا تھا۔حسینہ کی موت نے اسے نفسیاتی مریض بنا دیا تھا۔چار سال تک وہ لاہور میں زیرِ علاج رہا مگر بدلہ لینے کا کیڑا اس کے دماغ سے نہیں گیا۔اور یہ جو بدلہ ہوتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔۔۔بدلے کی آگ جلتی ہے تو سب کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔
کک کیا ہوا ہے صالحہ ۔وہ اس کی گبھرائ ہوئ آواز سن چکا تھا۔۔
بولو ناں کیا ہوا۔۔وہ پھر بولا مگر صالحہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ چکا تھا اور کال منقطع ہو گئ تھی۔۔۔۔
صالحہ یار میری جان بتاؤ ناں۔۔کوئ جواب نہ پا کر وہ بےچین ہو اٹھا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر جلدی سے باہر بھاگا۔۔۔
گاڑی کو فُل اسپیڈ پر ڈالتا ہوا وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔۔گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی لگتا تھا ابھی کسی شے سے جا ٹکراۓ گی مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔۔اس کے حواسوں پر تو صالحہ کا گھبرایا ہوا لہجہ چھایا تھا۔۔
کسی انہونی کا احساس اسے ڈرا رہا تھا۔۔گاڑی دوڑاتا وہ گھر پہنچا۔گاڑی سے اتر کر وہ اندر کی طرف بھاگا۔۔لیکن جیسے ہی وہ اندر پہنچا۔سامنے کا منظر دیکھ کر چکرا گیا۔۔۔
خون میں لت پت اس کی زندگی اس کی صالحہ زمین پر پڑی تھی۔۔اور ذرا فاصلے پر فہیم کھلی آنکھوں اور مردہ وجود کے ساتھ پڑا تھا۔۔
اس کی ٹانگیں جواب دے چکی تھیں مگر وہ خود کو گھسیٹتا ہوا صالحہ پک پہنچا۔۔۔
صالحہ میری جج جان کک کیا ہوا تمہیں اٹھو ۔۔۔وہ بھرے ہوۓ لہجے میں بولا مگر وہ ہوتی تو جواب دیتی۔۔
صالحہ اٹھو ناں۔وہ دیوانوں کی طرح اسے ہلا رہا تھا۔۔مگر وہ خاموش تھی۔اس کی صالحہ خاموش تھی۔۔وہ دھاڑیں مار مار کر رو دیا۔۔۔کوئ اس وقت اس سے پوچھتا درد کیا ہے موت سے پہلے مر جانا کیسا ہوتا ہے۔
آپ کا مر جانا صرف آپ کی موت نہیں ہوتی کسی اپنے کے لیئے جان کنی کا لمحہ ہوتا ہے اور فیصل سلطان اس لمحے کے اثر میں تھا۔۔
دوسرے دن خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ کہ فیصل سلطان کی وائف کو اس کے ایکس نے قتل کر دیا۔۔۔آج جنازہ تھا صالحہ کا۔بٹ ہاؤس میں ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔سب کی خالت خراب ہو رہی تھی مگر فیصل کی تو جان جا رہی تھی۔۔۔
سب پہنچ چکے تھے ۔۔سیم۔سوہا بڑی پھپھو۔۔ بڑے پھپھا فہیم کی لاش اپنے آبائ گاؤں لے گۓ تھے۔۔
ززز زویا تمہاری تت تو بہت اچھی دوست ہے ناں یہ ہہہہہ ہر ببب بات مانتی ہے تمہاری اسے بولو اٹھے ناں یہ۔۔فیصل کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔۔سب کے لیئے اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
زویا ایسے کیسے یار اپنی آنکھوں کے سامنے کسی اپنے کو مرا ہوا دیکھنا آسان نہیں ہے۔۔پھپھو کو بولو اٹھے ناں۔۔سوہا روۓ جا رہی تھی۔۔کوئ بھی اپنے خواسوں میں نہیں تھا۔۔۔سنی کو یہ بات کھاۓ جا رہی تھی کہ اس کی پیاری پھپھو اس کی وجہ سے اس دنیا سے چلیں گئ۔۔اور تایاجان اور چچاجان انہیں تو یقین نہیں آ رہا تھا ان کی گڑیا مر گئ تھی جسے انہوں نے اتنے لاڈوں سے پالا تھا۔۔کوئ بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ ان کی پیاری صالحہ یوں بھی جا سکتی ہے۔۔مگر موت تو اٹل حقیقت ہے جو آتا ہے اسے ایک دن جانا ہوتا ہے اور جو چلا جاۓ واپس لانا ناممکن ہوتا ہے۔۔ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔بس ہم لوگ قبول نہیں کر پاتے۔اور قبول کرنا مشکل بھی تو ہوتا ہے۔جسے آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا ہنستا کھیلتا دیکھا ہو اس کا ایک دم سے خاموش ہو جانا۔۔۔
پھر وہ وقت بھی آیا کہ صالحہ کے جنازے کو لے جایا گیا۔مگر فیصل وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا اسے انجائنا کا اٹیک ہوا۔۔اک طرف صالحہ کے جنازے کو لے جایا گیا اور دوسری طرف فیصل کو ہسپتال پہنچایا گیا۔۔زندگی کے پاس ابھی ان کے لیئے کتنی آزمائشیں باقی تھیں کوئ نہیں جانتا تھا۔۔
دو ماہ بعد۔۔
اندر آ جاؤں۔۔دستک دینے کے بعد پوچھا گیا۔۔۔
آ جاؤ۔۔وہ جو عریشہ کو فیڈر پلا کر فارغ ہوئ تھی بولی۔۔۔
سو گئ عریشہ۔۔وہ ٹوٹے سے لہجے میں بولا۔۔
ہاں سو گئ ہے۔۔۔تمہیں کوئ کام تھا ۔۔۔وہ اسے نظرانداذ کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہاں وہ ایک بات کرنی تھی۔۔۔
سنی پلیز کوئ ایسی بات مت کرنا جس سے مجھے غصہ چڑھ جاۓ۔۔وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔۔
زویا میری بات مان لینے میں خرج کیا ہے۔۔
تمہاری بات کیوں مانوں میں۔۔میری جان چھوڑو کوئ اور ڈھونڈو اپنے لیئے میری زندگی میں تمہاری کوئ جگہ نہیں۔۔
تو کیا اکیلی جیو گی۔۔
اکیلی نہیں ہوں صالحہ پھپھو جینے کا مقصد دے گئیں ہے مجھے۔۔۔وہ عریشہ کی طرف دیکھ کر مسکرائ۔۔۔
مگر زویا۔۔۔۔
بس جا سکتے ہو تم۔۔زویا نے بات کاٹ کر اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ بےبسی سے باہر نکل گیا۔۔
چلو چلو مستیاں نہیں کرو ذہان۔۔۔سوہا تین سالہ ذہان کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں اتر رہی تھی ۔۔۔
مما بابا کو بلاؤ۔۔ذہان اپنی توتلی آواز میں بولا۔۔۔
چل رہیں ہیں ناں بابا کے پاس۔۔۔وہ مسکرا کر بولی۔۔
مما وہ سیم انکل۔۔سامنے اشارہ کرتے ہوۓ ذہان بولا تو اس کی نظر وہاں گئ۔۔
کہاں جا رہا ہے چھوٹا ہیرو۔۔۔سیم خوشدلی سے ذہان کی طرف بڑھا۔۔
بابا کے پاش۔جا رہا میں انکل۔۔ذہان توتلے انداذ میں بولا تو سیم بےساختہ مسکرا دیا۔۔۔
میں چھوڑ آؤں تم دونوں کو۔۔سیم نے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
نہیں شکریہ۔عادل آ رہے ہیں ہم دونوں کو لینے۔۔سوہا مسکرائ۔۔
ہمم صیح۔۔اور آپ پھر کب آؤ گے چھوٹے ہیرو۔۔وہ ذہان سے مخاطب تھا۔سوہا نے غور سے اسے دیکھا وہ پہلے والا سیم نہیں رہا تھا اب بہت کم بولتا تھا ہلکا سا ہنستا تھا غیر ضروری نہیں بولتا تھا بلکل بدل گیا تھا۔۔
کیا ہوا۔۔وہ اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے بولا۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔شادی کر لینی چاہیئے تمہیں اب۔۔وہ ایک دم بولی۔۔۔
جب دل مانے گا تو کر لوں گا یار۔اور پتہ ہے میری شادی بھی ہو ہی جاۓ گی میرے بچے بھی ہو جائیں گے۔میں ان کے لیئے اچھا باپ بھی ثابت ہوں گا۔اپنی بیوی کے لیئے اچھا شوہر بھی اور ساری خوشیاں مل جائیں گی مگر میرے اندر کہیں تم ہمیشہ رہو گی ہمیشہ۔۔سیم نے ذہان کو نیچے اتارتے ہوۓ کہا۔۔
تمہاری مرضی ہے۔اور دعا ہے تمہارے اندر کہیں میں ایک دن مردہ پائ جاؤں۔اور زندگی تمہیں ساری خوشیاں دے ۔۔۔سوہا نے بات ختم کرنے والے انداذ میں کہا۔۔
تم خوش ہو۔۔۔
ہاں بہت۔۔
عادل خیال رکھتا ہے تمہارا۔۔سیم نے کہا تو سوہا کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ جسے سیم نے دیکھا اور اسا مسکرا دیا سوہا خوش تھی وہ اسی میں خوش تھا۔۔۔
ہاں بہت بہت ذیادہ۔۔سوہا نے اتنا ہی کہا تھا کہ باہر عادل کی گاڑی کا ہارن بجا۔۔
اچھا الله خافظ عادل آ گۓ چلتی ہوں۔۔وہ کہہ کر باہر کو بھاگی جہاں ذہان پہلے ہی جاکر باپ سے چمٹا کھڑا تھا۔۔۔
اتنی دیر کر دی کتنی دیر کا انتظار کر رہی ہوں۔۔سوہا منہ پھلا کر بولی۔۔
سوری عادل کی جان ٹریفک بہت تھا اس لیئے۔۔عادل پیار سے بولا پہلے ذہان کو اور پھر سوہا کو گاڑی میں بٹھا کر گاڑی زن سے آگے بڑھا لے گیا۔۔۔پیچھے کھڑا سیم گیٹ سے نکلنے تک انہیں جاتے دیکھتا رہا۔۔اور اذیت کے مارے مسکرانا چاہا وہ اب ایسے ہی کرتا تھا اذیت میں مسکرا دیتا مگر آج مسکرا بھی نہیں پایا تھا وہ۔۔اس شحص کی اذیت کو کوئ نہیں سمجھ سکتا جو اپنی من پسند لڑکی پر کبھی کسی کا سایہ بھی برداشت نہ کرتا ہو اور اسے کسی اور کے حصار میں دیکھنا افف قیامت ہوتا ہے۔۔۔اپنی اذیت کو اپنے اندر اتارتے ہوۓ وہ اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
جی بھائ صاحب۔۔
کچھ کہا تھا میں نے تمہیں۔۔
یہ کیسے ممکن ہے بھائ صاحب۔۔
سب ممکن ہے اگر تم چاہو تو۔۔
مگر وہ سگی تھی اس کی۔۔کیا یہ جائز ہے۔۔
ہاں بہن کے مرنے کے بعد بہنوئ سے جائز ہے تو تم یقین جانو یہ بھی جائز ہے۔۔۔
مگر وہ دونوں نہیں مانیں گے۔۔۔
ایک ایسی بیڑی ہے ان کے پاؤں میں کہ ان کو ماننا پڑے گا۔۔تم اپنی مرضی بتاؤ۔۔۔
مجھے تو کوئ اعتراض نہیں ہے بھائ صاخب۔۔
تو پھر ٹھیک ہے باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔
میں جاؤں بھائ صاحب۔۔
ہاں جاؤ۔۔اسے جانے کا اشارہ کر کے وہ اگلا پلان سوچنے لگے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
