No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
صیح کہتے ہیں لوگ وقت ٹھہرتا نہیں ہے گزر جاتا ہے اچھا ہو یا بُرا۔۔وقت کا پہیہ چلتا گیا اور اس دوران زویا نے دل کو مارنا سیکھ لیا۔۔مگر دل میں موجود شحص کی یادوں سے نکلنا آسان نہیں تھا۔۔
صالحہ خوش تھی کہ اس کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئ تھی۔اور فیصل۔۔اس کی میوزک البم ریلیز ہو گئ تھی۔ جس کے باعث وہ ہر جگہ پہچانا جانے لگا تھا۔۔
۔اس کی آواز میں دردر تھا سوز تھا جو سننے والوں کو متوجہ کر دیتا تھا۔۔۔مگر وہ پھر بھی بولایا بولایا پھرتا تھا کہ کسی کے لیئے خوشی کا تہوار کسی کی موت ہوتی ہے اور وہ اس اذیت سے گزر رہا تھا۔۔۔
سیم خوش تھا کہ پھپھو کی شادی کے بعد وہ بھی اپنی سوہا کو پا لے گا۔مگر یہ ڈر اسے اندر ہی اندر سخت خوف میں مبتلا کرتا تھا کہ حسینہ اور سنی کی کہانی کھلنے کے بعد سوہا یہ جان گئ کہ اس سب کا علم اسے پہلے سے تھا وہ کیسا ری ایکٹ کرے گی ۔ڈر خوشی دونوں ایک ساتھ اس پر غالب تھے۔
۔اور سوہا زویا کے آنسو دل پر گرتے محسوس کرتی تھی وہ بہن تھی اور بہنوں کی تکلیف اندر سے کھا جاتی ہے انسان کو۔
اور سنی حسینہ کے حسین خواب سجاۓ خود کو کسی ریاست کا شہزادہ سمجھ چکا تھا۔
مگر وہ بھول رہا تھا نامحرم سے محبت کے بہت بڑے خسارے ادا کرنے پڑتے ہیں کبھی جدائ کی صورت تو کبھی رسوائ کی صورت۔۔وہ جسے محبت سمجھ بیٹھا تھا درحقیقت وہ غلطی تھی اس کی زندگی کی بھیانک غلطی جو بٹ ہاؤس کی درودیوار پر یاسیت کی چادر اوڑھانے والی تھی۔۔
سہیل بٹ اپنے خوابوں کے پورا ہونے اور ان کو پورا کرنے کی دھن میں اتنے مصروف رہے کہ اپنی بیٹیوں کے فیصلے دوسروں پر چھوڑ دیئے جس کا احساس جب ہو گا تب کچھ نہیں ہو گا۔۔
اور مسزسہیل سادہ سی عورت محبت کو سمجھتی تھی محبت کرتی تھیں تو سمجھتی تھی ہر انسان محبت کا نغمہ گاۓ گا۔۔اور یہی کچھ انہوں نے بیٹی کو سکھایا وہ خواب دکھلاۓ جو اس کی آنکھوں کے لیئے تھے ہی نہیں۔اور جو آپ کا ہوتے ہوۓ بھی آپ کا نہ ہو اس کی چاہ زندگیاں تباہ کر دیتی ہے۔۔
رہے راخیل بٹ تو وہ اپنے فیصلوں میں جینے والے انسان تھے جو کبھی نہ غلط ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور ان کا یہی دعویٰ زندگیاں اجاڑ دے گا یہ وہ خود نہیں جانتے تھے۔۔مسزراحیل تو وہ ایک سوبر خاتون تھیں جو ہر حال میں خوش رہتی تھیں۔۔
باقی بچی بڑی پھپھو تو وہ خوش تھیں ان کی جان سے پیاری بہن ان کے پاس آ رہی تھی۔۔لیکن وقت سب کا استاد ہوتا ہے وہ بتانے والا تھا کچھ فیصلے وقت کرتا ہے اور جب وقت فیصلہ کرتا ہے تو انسان دیکھتا رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔
________________________________________________________
بہت دنوں بعد آج مینیٹوبہ میں دھوپ نکلی تھی ۔۔سب لوگ گھروں سے چہکتے ہوۓ نکلے تھے۔کچھ لوگ گھروں اور گاڑیوں سے برف ہٹا رہے تھے۔پچے خوشی سے اِدھراُدھر بھاگ رہے تھے۔۔ایسے میں وہ اپنا کافی کا بڑا سا مگ لیئے ونڈو کے پاس کھڑا موسم بدلتے ہی لوگوں کے انداذ بدلتے دیکھ رہا تھا۔
کیا ہو گیا ہے فیصل تم نے دو سال پہلے کہا تھا تمہیں ایک لڑکی پسند آ گئ ہے اس کے بعد سے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئ ہے تم نے.۔۔۔۔۔۔
آپا پلیز میں نے آپ سے کہا تھا مجھ سے اس ٹاپک پر پھر بات مت کیجیئے گا۔۔یہ موضوع اسے تکلیف دیتا تھا اور اسی تکلیف سے بچنے کو وہ دنیا بھر کی خاک چھاننے نکلا تھا۔وہ ونڈو سے باہر دیکھنے لگا_ ۔جہاں دھوپ میں چمکتی ہوئ برف ایک حسین ماخول بنا رہی تھی۔۔۔
کب تک رہو گے اکیلے تم ۔۔میں بھی تمہاری طرف سے پریشان رہتی ہوں ہر وقت۔۔۔آپا فکرمند تھیں ان کا بھائ گُھل رہا تھا رفتہ رفتہ کس کے غم میں وہ نہیں جانتی تھیں۔۔۔۔۔
کر لوں گا آپا جب میرا دل مان جاۓ گا۔۔۔۔وہ ہنوز ونڈو سے باہر کے منظر پر نگاہیں ٹکاۓ ہوۓ تھا۔۔۔
مینیٹوبہ میں بہت حسین اور ذمہ دار لڑکیاں ہیں۔۔تمہارے لیئے اِدھر ہی کوئ لڑکی دیکھ لوں۔۔۔
آپا آپ چاہتی ہیں میں کبھی بھی پھر آپ کے شہر نہ آؤں۔۔۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔
تو پھر مجھ سے یہ باتیں مت کریں۔۔میں اکتا جاتا ہوں جب ۔جب میرا دل جل جل کر تھک جاتا ہے تو مینیٹوبہ کی سردی میں اس دل کو سرد کرنے چلا آتا ہوں۔۔آئندہ نہیں آؤں گا چاہے جلتے جلتے دل پھٹ بھی جاۓ۔۔وہ چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔۔اور آپا سوچتی رہ گئ جانے کون لڑکی ان کے ہنس مکھ بھائ کو ایسا جوگ دے گئ تھی کہ اسے اپنے جلتے دل کو ٹھنڈا کرنے کے لیئے سرد موسم سرد علاقے کی ضرورت تھی۔۔
________________________________________________________
بھائ پلیز مجھے مت گھسیٹیں اس سب میں۔موبائل کان سے لگاۓ لیپ ٹاپ پر نظریں ٹِکاۓ سیم بیزاری سے بولا۔۔
گھسیٹ نہیں رہا تجھے بتا رہا ہوں ایک اچھا بھائ کیسا ہوتا ہے بلکل تجھ سا ہوتا ہے۔۔سنی نے فون کے دوسری طرف اسے پیار سے پچکارنا چاہا۔۔۔
اور ایک اچھا شوہر کیسا ہوتا ہے آپ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیئے۔۔
یار کون سی اتنی بڑی بات کہہ دی ہے بس جا کر گفٹ حسینہ کو دے دینا ہے تو نے۔۔۔
بھائ سوہا بہت بھروسہ کرتی ہے مجھ پر۔۔
تو۔۔۔
تو یہ کہ اس نے کہا تھا آپ میں گڑبڑ ہو تو پہلے اسے بتاؤں۔۔۔
اوۓ خبردار ابھی کسی کو کچھ بتایا تو۔۔۔سنی کا لہجہ ایک دم سے پرانا ہو گیا۔۔۔
بھائ اس کا یقین ٹوٹے گا تو وہ مجھے چھوڑ دے گی آپ سمجھتے کیوں نہیں ہو۔۔سیم کے لہجے میں بےبسی در آئ تھی۔۔۔
تو کیا چاہتا ہے تو میں کیا کروں۔۔کافی کا کپ ٹیبل پر تقریباً پٹخا تھا اس نے۔۔۔
بھائ زویا کو کس بات کی سزا دے رہے۔۔۔
میری کوئ غلطی نہیں ھے میں نے نہیں دکھاۓ اسے خواب اس دیکھے ہیں اس نے تو اب بھگتے ویسے بھی زویا میرے سٹینڈرڈ نہیں مجھے حسینہ جیسی خوبصورت لڑکی ڈیزرو کرتی ہے۔۔سنی کے لہجے میں غرور خقارت کیا کچھ نہیں تھا ۔
حسن ڈیسائیڈ کرتا ہے بھائ کیا محبت کا معیار۔؟؟سیم کو دکھ ہوا تھا۔۔
پلیز میں تجھ سے بخث نہیں کرنا چاہتا جیسا کہا ہے ویسا کرو اور مجھے پتہ ہے سگے رشتے پر مخبت کو غالب نہیں آنے دے گا تو باۓ۔۔سنی نے اپنی بات مکمل کر کے بغیر اس کی سنے کال منقطع کر کے موبائل بیڈ پر اچھالا ۔۔فروٹ سے باسکٹ سے سیب نکالا کو مسکراتے ہوۓ بیٹھ کر کاٹنے لگا۔۔
جبکہ دوسری طرف سیم نہ اِدھر کا نہ اُدھر کا رہا تھا۔۔
وہ نہ بھائ کو خفا کر سکتا تھا نہ سوہا سے جدائ افورڈ کر سکتا تھا مگر کچھ تو کرنا تھا اسے۔۔
اب وہ کیا کرتا ہے یہ وقت بتاۓ گا۔۔؟؟؟
________________________________________________________
وہ آ رہا ہے آج۔ ۔۔صالحہ نے ٹیڑھی نظر سے اسے دیکھا۔۔
اچھا پھپھو وہ آرہا ہے مجھے امید نہیں تھی۔۔۔
امید اب بھی مت رکھنا جب ٹوٹے گی تو ٹکڑے آنکھوں کو بہت چبیں گے۔۔۔۔۔
میں تو ٹوٹ کر سنبھل بھی چکی پھپھو۔۔۔۔اچھا چھوڑیں آپ کی شادی کے لیئے ساپنگ بھی تو کرنی ہے میں نے بہت خوش ہوں میں آپ کے لیئے۔۔۔
اور میں تمہارے لیئے بہت فکرمند۔۔۔۔۔۔۔
فکرمند کیوں ہوتی ہیں پھپھو دو سال کی خواری سے یہ جانا میں نے میں انمول ہوں بہت۔۔سنی کو تو کیا کسی کو بھی اپنے لفظوں سے میرا سکون چھیننے کا اختیار نہیں ہونا چاہئیے۔۔ ۔۔بس ایک گلہ ہے مجھے خود سے میں نے فقط ایک جذبے کے لیئے خود کو بےتوقیر کیا تو کیوں کیا۔۔۔۔ساتھ اپنے اندر خاموشی کی وخشت بھی پال لی۔۔پتہ ہے پھپھو جب کسی خاموش بندے کو دیکھتی تو سوچتی آخر یہ کیوں خاموش ہے۔۔اب وہ وقت آیا ہے کہ میرا شمار خود ان لوگوں میں ہونے لگا ہے۔۔۔واقعی وقت بہت اچھا ریاضی کا استاد ہے جو ہر حساب کو سمجھا جاتا ہے۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ باتیں زخم نہ کھرچو اپنے۔۔۔اٹھو کپڑے دیکھو میرے مہندی کا سوٹ بیجھا ہے فہیم نے۔۔۔
جی چلیں پھپھو اور ہمیشہ ایسے ہی خوش رہیں آپ دل سے دُعا ہے میری۔۔۔اور کچھ دُعائیں فی الوقت ٹال دی جاتی ہیں یہ دعا بھی انہیں میں سے تھی۔۔۔
________________________________________________________
اسلام علیکم۔۔۔ گاڑی پورج میں رکتے ہی وہ تیزی سے نکلا اور استقبال کے لیئے کھڑے اپنے باپ(راحیل بٹ) کے گلے لگ گیا۔۔۔
وعلیکم اسلام کیسا ہے میرا شہزادہ۔۔۔راخیل صاحب بہت خوش معلوم ہو رہے تھے۔۔۔
فرسٹ کلاس بابا۔۔
ماماجان بہت مِس کیا میں نے آپ کو۔۔تائ جان کے گلے لگتے ہوۓ وہ لاڈ سے بولا۔تو تائ جان نے اس کا مسکرا کر ماتھا چوم لیا۔۔۔
چچاجان آپ تو رائٹر لوگ ہو گۓ ہو ڈرامے لکھتے ہو۔۔وہ خوشدلی سے چچاجان(سہیل بٹ) سے ملا پھر چچی جان سے ۔. ۔۔۔۔
منہ کیوں پھولا ہوا ہے تیرا۔۔۔سیم کی طرف دیکھ کر وہ گویا ہوا۔۔۔
اکیلے آگۓ گوری میم نہیں لاۓ میرے واسطے اس لیئے۔۔۔وہ منہ بنا کر بولا تو سب بےساختہ مسکرا اٹھے۔۔۔
صالحہ پھپھو سوہا اور زویا وہ نظر نہیں آ رہیں۔۔۔
صالحہ اور زویا یونی گئ ہیں لاسٹ سمسٹر کے پیپرز چل رہے ہیں اور سوہا کی دوست کی برتھ ڈے تھی تو سیم وہاں چھوڑ آیا۔۔۔چچی جان نے مسکرا کر بتایا۔۔انہیں لگا وہ بات گھما کر زویا کا پوچھ رہا ہے مگر ہاۓ رے خوش فہمیاں۔۔۔
چلو اندر چلو سب۔۔۔تایاجان نے کہا تو سب اندر کی طرف بڑھ گۓ۔۔۔۔
________________________________________________________
اسلام علیکم! زویا اور صالحہ گھر میں داخل ہوتے ہی بلند آواز سے بولیں۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔جواب سنی نے دیا جو کچن سے کافی کا کپ لے کر نکل رہا تھا۔۔۔
تم آ بھی گۓ۔۔۔پھپھو تیزی سے بول کر اس کی طرف بڑھیں۔
جی میں تو آ گیا آپ دونوں کدھر رہ گئ تھیں۔۔وہ آگے بڑھ کر صالحہ کے گلے لگا۔ایک ترچھی نظر زویا پر ڈالی۔
پیپرز چل رہے ہیں ہمارے۔لاسٹ سمسٹر کے۔۔اس لیئے اور یہ باقی سب کدھر ہیں۔۔۔زویا بےپرواہی سے کہتی ہوئ کچن کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔۔
آپ سنائیں پھپھو پیا کو پیاری ہونے والی ہیں آپ۔۔۔
ہاں کوئ شک۔۔صالحہ اِترا کر بولی تو وہ ہنس پڑا۔۔۔
پھپھو آ کر کھا لیں کھانا ۔۔۔۔کچن سے زویا نے آواز دی۔۔۔
میں کھانا کھا لوں پہلے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔صالحہ کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گئ۔۔۔
آپ دونوں مینرز کب سیکھو گی۔۔ابھی باہر سے آئ ہو فریش تو ہو جاؤ۔۔۔
ہاتھ منہ دھو لیا ہے ہم پاکستانی تو ایسے ہی فریش ہو جاتے ہیں۔۔اور بھوک اتنی لگی ہے کہ تھوڑا اور انتظار موت کا دروازہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔وہ ہلکے پھلکے انداذ میں بولی۔
تھوڑے سے انتظار سے مر نہ جاؤ گی تم۔۔۔وہ جو اس کے چہرے پر گزرے دنوں کی تلخ گفتگو ڈھونڈ رہا تھا۔۔اس کا شائبہ تک نہ پا کر خیران رہ گیا تھا۔۔۔۔
کبھی کبھی انتظار صحت کے لیئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے چاہے ذیادہ ہو یا تھوڑا۔۔۔صالحہ کھیڑا چباتے ہوۓ بولی۔۔۔
اچھا کھاؤ آپ لوگ مجھے تو آپ کی شادی کی شاپنگ کے لیئے جانا ہے دو دن بعد شادی ہے اور کوئ تیاری نہیں۔۔۔
ہماری تیاریاں ہو چکیں ہیں اب آپ امریکہ پلٹ لوگ تیاریاں پکڑیں۔۔۔
اوکے باۓ۔۔۔
ہماری طرف الله خافظ کہتے ہیں تو الله خافظ۔۔پھپھو مسکراتے ہوۓ بولیں تو وہ بھی مسکرا کر باہر نکل گیا۔۔۔جس کا تعاقب دو آنکھوں نے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک کیا اور انگلی کی پور سے آہستہ سے بہنے کو بےتاب آنسو کو چن ڈالا۔۔۔
________________________________________________________
زویا!وہ جو کچن کی طرف بڑھ رہی تھی تائ جان کی آواز پر ان کی طرف بڑھ گئ۔۔۔
جی تائ جان۔۔
پچے ذرا یہ شرٹ سنی کو دے آنا۔۔۔
تائ جان آپ خود دے دیں۔۔۔وہ جاتے ہوۓ بولی۔۔۔
یہ پکڑو اور جا کر دو بڑوں کو انکار نہیں کرتے ۔۔اس کی ماما نے شرٹ اسے پکڑاتے ہوۓ کہا تو وہ پاؤں پٹختی ہوئ شرٹ لے کر چلی گئ۔۔
سنی آجاؤں اندر۔۔او تین بار ناک کرنے پر بھی اندر سے کوئ آوز نہ آئ تو وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئ۔ ۔تو سنی کو روم میں موجود نہ پا کر وہ شرٹ بیڈ پر رکھ کر مڑنے لگی ہی تھی کہ اس کی نظر ٹیبل پر رکھے شاپر سے نظر آتے ڈریس پر پڑی ۔۔تو وہ اس کی طرف بڑھ گئ۔ ۔۔وہ ایک عمدہ کامدار فراک تھی جس کے دامن پر سفید کڑھائ ہوئ تھی۔ آسمانی رنگ کا وہ فراک بلاشبہ خریدنے والے کے بہترین ذوق کی مثال تھا۔ ۔۔۔
سنی نے یہ کس کے لیئے لیا ہوگا۔۔۔وو سوچنے لگی میرے لیئے تو لے گا نہیں کبھی بھی۔صالحہ پھپھو کے لیئے لیا ہوتا تو اب تک دے چکا ہوتا سوہا سے اس کی بنتی نہیں جو اسے دے۔۔پھر۔۔۔وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے باتھ روم کا دروازہ کے پاس آہٹ ہوئ تو سمجھ آیا سنی اندر ہے وہ جلدی سے شاپر رکھ کر باہر نکل گئ۔۔۔۔
________________________________________________________
دو دن بعد۔۔
بٹ ہاؤس میں گہماگہمی تھی پورے گر کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا آج مہندی کا فنکشن تھا سب کی مشترکہ راۓ سے جو گھر پر ہی رکھا گیا۔۔۔ابھی رات ہونے میں بہت وقت باقی تھا سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔فہیم بڑی پھپھو خسینہ لوگ بھی پہنچ گۓ تھے۔۔۔سوہا اور زویا صالحہ کو پالر لے کر گئ ہوئ تھیں۔۔۔
لان کے بیچوں بیچ رکھے جھولے کو خوبصورت پیلے پھولوں سے سجایا گیا تھا جس پر صالحہ اور فہیم نے بیٹھنا تھا۔۔
مہندی کا وقت آن پہنجا۔۔حوبصورت پیلی شرٹ کے ساتھ آسمانی ٹراؤزر اور آسمانی دوپٹہ سر پر ٹکاۓ نزاکت سے چلتی صالحہ پرنسز لگ رہی تھی۔۔اس کے ساتھ چلتی سوہا اور زویا بھی بہت اچھی لگ رہی تھیں۔۔سنی تو خیران تھا زویا میں اتنی میچوڑتی کیسے آ گئ ہے۔وہ جو بچی بنی پھڑتی تھی اتنی سوبر ہو گئ۔۔کہ نظر ٹھہر جاتی تھی اس پر۔۔ڈریسنگ سینز کمال کا ہو گیا تھا اس کا۔وہ پہلے سے ذیادہ پراعتماد ہو گئ تھی اورخوداعتمادی شخصیت نکھار دیتی ہے۔
صالحہ کو سوہا اور زویا نے اسٹیج پر لا کر بٹھایا۔۔سوہا کی کسی بات پر ہنستے ہوۓ زویا کی نظر سامنے سے آتی ہوئ حسینہ پر پڑی ساکت سی نظر ٹھہر گئ۔۔ وہی لباس پہنے جو سنی کے روم میں تھا بالوں کا جوڑا بناۓ سہج سہج کر آتی حسینہ کسی اپسرا کا دوسرا جنم معلوم ہوتی تھی۔۔حسینہ سے ہوتی ہوئ اس کی نظر سنی پر گئ جو حسینہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اور زویا کا دل تھم گیا اتنا کہ اس کے دھڑکنے کی یقین دہانی کے لئیۓ اس نے ایک لمبی سانس لی۔۔اور آنسوؤں کو پی گئ۔۔۔۔۔۔اس کا محرمِ جاں کسی اور کے لیئے مسکرا رہا تھا محبت دکھا رہا تھا۔۔۔..
کیا ہوا زویا۔۔سوہا اس کی نظروں کے تعاقب میں سنی کو دیکھ چکی. تھی اور اس کی آنکھوں میں موجود آنسؤوں کو بھی۔۔
کچھ نہیں مہندی لے آؤ۔۔میں ہلدی لاتی ہوں فنکشن شروع ہونے والا ہے۔۔زویا بات بدل ہلدی لانے چلی گئ۔ ۔۔۔
________________________________________________________
پلان یاد ہے تمہیں۔۔۔
ہاں اچھے سے مگر۔۔۔
مگر کیا۔۔؟/۔۔۔۔۔
کچھ گَڑ بڑ ہو گئ تو۔۔۔
کوئ گڑبڑ نہیں ہونی چاہئیے اور ہو گی بھی نہیں بےفکر رہو۔۔۔
بہت ذیادہ بےفکری مرواتی ہے ۔۔۔وہ بولی۔۔
ہمارا پلان ہی ایسا ہے کہ سانپ بھی مر جاۓ گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔۔۔وہ مکروہ ہنسی ہنستے ہوۓ بولا تو وہ بھی مسکرا اٹھی۔۔
________________________________________________________
تم نے یہاں کیوں بلوایا مجھے۔۔۔وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے کھڑی حسینہ کو دیکھا۔۔
کیوں تمہیں بُرا لگا۔۔وہ اک ادا سے بولی۔۔۔
نہیں یار وہ فنکشن چل رہا ہے ناں سب نیچے ہیں اس لیئے کہا۔۔۔وہ وضاحت دینے لگا۔۔
اک بات پوچھو۔۔اس نے لاڈ سے بازو اس کے گلے میں ڈال دییئے۔۔۔
ہاں پوچھو۔۔وہ مسکرایا۔۔
کتنی محبت کرتے ہو مجھ سے۔۔۔
اتنی کہ جان دے دوں تمہارے لیئے۔۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔
جان نہیں چاہئیے کچھ اور چاہئیے۔۔۔وہ جا کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو گئ۔۔۔
کیا چاہئیے بتاؤ۔۔۔وہ آئینہ میں نظر آتے اس کے خوبصورت عکس کو دیکھنے لگا۔۔۔
تمہاری عزت تمہاری نیک نامی۔وہ ایک آنکھ کو اٹھا کر بولی۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو میں سمجھا نہیں۔۔وہ اسے دیکھنے لگا۔۔۔
تو میں سمجھا دیتی ہوں۔۔اس نے مسکراتے ہوۓ کندھے پر ڈالے دوپٹے کو آہستہ سے سِرکا دیا۔۔اور ہاتھ سے اپنے ہونٹ زور زور سے ڑگڑنے لگی جس سے ساری لپ اسٹک پھیل گئ۔۔
یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔وہ ناسمجھی سے اسے دیکھے گیا۔۔
اتنے ناسمجھ ہو تو نہیں۔۔اس نے زور سے کھینچ کر اپنی آستینیں بھی پھاڑ دیں۔۔اور زور زور سے چلاتی ہوئ کمرے سے بھاگ گئ تو اسے ہوش کے ساتھ ساری بات سمجھ آئ تو وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔
بھابھی بھیا۔۔فہیم بچا لیں مجھے۔۔۔وہ چلتے ہوۓ سیڑھیوں سے نیچے جا رہی تھی۔۔
رکو رکو حسینہ کیا کر رہی ہو یہ۔۔وہ اس کی طرف بڑھا تو حسینہ کا دوپٹہ اس کے ہاتھ میں رہ گیا۔۔۔
بھیا بچا لیں مجھے ۔۔وہ بھاگتے ہوۓ لان میں پہنچ گئ جہاں تمام مہمان بیٹھے تھے۔۔سب کی نظریں حسینہ سے ہوتی ہوۓ اس کے پیچھے گئ۔۔جہاں سے سنی آ رہا تھا ہاتھ میں حسینہ کا دوپٹہ تھا۔۔۔
بھابھی بھابی بچا لیں مجھے اس سے انسان نہیں ہے درندہ ہے یہ۔۔۔وہ روۓ جا رہی تھی اور اس کا حلیہ چیخ چیخ کر اس کے جھوٹ پر سچ کی مُہر لگا رہا تھا۔۔۔
باباجان۔۔! وہ اپنی صفائ دینے آگے بڑھا تھا۔۔۔
بس۔۔۔تایاجان کی کرخت آواز نے اس کے بڑھتے قدم روک لیئے تھے۔۔۔
شرم نہ آئ تمہیں سنی۔۔تم سے تو کم از کم یہ امید نہیں کی جا سکتی تھی۔۔۔بڑی پھپھو صدمے کی کیفیت میں بولیں۔۔ان کو اپنے گھر کی فکر ستانے لگی۔۔جو اس وجہ سے ٹوٹ بھی سکتا تھا۔۔۔
سب سکتے میں آچکے تھے۔سب کی ملامت کرتی نظروں کو وہ خود پر دیکھ رہا تھا۔۔اس نے نہیں سوچا تھا حسینہ اتنا گھٹیا کھیل کھیلے گی اس کے ساتھ۔۔۔
بہت افسوس ہوا کہ اس گھر میں لڑکیوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں۔۔اور آپ بھی سن لیں بھائ۔آپ کی خواہش پر میں تیار ہو گیا تھا اس گھر کی بیمار دمہ کی مریضہ سے شادی کے لیئے مگر اب نہیں۔۔فہیم اپنے بڑے بھائ کی طرف دیکھتے ہوۓ طیش سے بولا۔تو اس کی بات پر صالحہ نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔
کیا کہہ رہے ہو فہیم صبر رکھو۔۔وہ فہیم کو شانت کرنے لگے۔۔۔
کیا صبر رکھوں بھائ بس میں نے شادی نہیں کرنی یہاں۔۔فہیم نے سب کی طرف دیکھا۔۔جہاں سب خاموش تھے بلا کہہ بھی کیا سکتے تھے۔۔
بیٹا اس میں صالحہ کا تو کوئ قصور نہیں۔۔چچاجان نے بےبسی سے کہا۔۔تو فہیم نے منہ موڑ لیا جیسے وہ کچھ نہیں سننا چاہتا تھا۔۔اور صالحہ وہ تو سکتے میں بیٹھی ٹُکرٹُکر سب کو دیکھ رہی تھی۔۔
روتے روتے حسینہ نے ایک ٹیڑھی نظر فہیم پر ڈالی اور مسکرا دی۔۔جس کو زویا نے بہت غور سے دیکھا اور اک منٹ لگا اسے سب سمجھ آنے میں۔۔۔
باباجان میری بات سن لیں ایک بار۔۔وہ آگے بڑھا۔۔
اس کی خالت دیکھو اور پھر بولو۔۔۔تایاجان نے کہہ کر رخ دوسرے طرف موڑ دیا کہ زوردار آواز گونجی۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔تھپڑ کی آواز نے سب کو اس طرف متوجہ کیا جہاں زویا کی انگلیاں حسینہ کہ منہ پر نشان چھوڑ گئ تھیں۔۔۔۔
یہ کیا ہے پیچھے ہٹو۔۔فہیم اک دم آگے بڑھا۔۔۔۔
یہ تھا زویاسہیل بٹ کا طریقہ سچ اگلوانے کا۔۔یقین جانیئے خلق میں ہاتھ ڈال کر سچ نکلوانا بھی آتا ہے مجھے۔۔۔وہ مظبوط لہجے میں فہیم کی طرف دیکھ کر بولی۔۔تو اک لمحے کو وہ ڈر گیا تھا۔۔۔اس کا انداذ اعتماد لرزا کر رکھ دینے والا تھا۔
اور آپ تایاجان لڑکی کی حالت دیکھ رہیں ہیں خقائق نہیں۔۔اس کا رخ اب تایاجان کی طرف تھا۔۔۔
تو میں دکھاتی ہوں آپ کو خقیقت۔۔۔۔وہ حسینہ کی طرف بڑھی جو ڈر کر فہیم کے پیچھے ہوگئ۔۔سب اب زویا کی طرف دیکھنے لگے۔۔سنی خود خیران تھا کہ زویا کیا کرنے والی ہے۔۔۔۔
یہ لپ اسٹک اتنی پھیلی ہوئ ہے تمہاری۔۔وہ حسینہ کے ہونٹوں پر انگلی پھیڑتے ہوۓ بولی۔۔لیکن مجھے سنی کی شرٹ سنی کے ہاتھ منہ کہیں بھی لپ اسٹک لگی نظر نہیں آ رہی۔یہ پھر پھیلائ کس نے۔۔آپ سب بھی دیکھ لیں اگر آ رہی ہے آپ کو تو۔۔وہ سب کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
اس کا رونا سن سکتے ہیں تو سنی کی بات بھی سن سکتے ہیں آپ مگر نہیں۔۔۔
اور تایاجان۔۔آپ کی بلکہ بٹ فیملی کی نسل کو آگے تو انہوں نے ہی بڑھانا ہے کل کو میں کہاں اور سوہا کہاں۔۔۔وہ تایاجان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔۔سب اس کی سن رہے تھے لیکن آج پہلی دفعہ تھا کہ اس کی آخری بات کا مطلب صرف سنی سمجھا تھا۔۔۔
اور آپ کو جان لینا چاہئیے تایاجان نسلیں بھروسہ کرنے سے پروان چڑھتی ہیں۔۔اور یہ آپ کا بیٹا ہے اس پر بھروسہ کرنا ہی ضروری ہے آپ کے لیئے۔۔۔وہ تایاجان کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
اور اب میڈم تم بتانا پسند کرو گی کہ یہ سب کیا ڈرامہ لگایا ہے تم نے۔۔۔وہ اب حسینہ کے سامنے کھڑی تھی۔۔
میں نے نہیں لگایا کوئ ڈرامہ یہی میرے پیچھے پاگل ہوا پھرتا تھا پوچھو اس سے۔۔اور یہ سیم بھی تو جانتا تھا اس سے پوچھو کیسے اس کا بھائ میرا دیوانہ تھا سیم کے ذریعے گفٹ بجھواتا تھا مجھے۔۔سنی مجنوں تھا میرا۔۔۔اس نے سیم کی طرف اشارہ کیا۔۔تو سوہا نے صدمے اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے سیم کو دیکھا۔۔اور سیم کی تو دھڑکن رک گئ جس کا ڈر اسے ستا رہا تھا وہی ہوا۔۔
کیا کہہ رہی ہے یہ۔۔۔تایاجان نے سنی کی طرف دیکھا۔۔۔
ہو گئ تھی مجھے اس سے محبت باباجان۔۔وہ جھکے سر کے ساتھ بولا۔۔۔۔تو سب نے اک بار پھر غصے سے اسے دیکھا۔۔۔
فلحال آپ بتائیں اس کے اس کارنامے میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے۔۔۔وہ فہیم کے سامنے کھڑی ہو کر حسینہ کی طرف اشارہ کر کے بولی۔۔۔
مم ممم میرا ککک کوئ ہاتھ نہیں ہے۔۔۔فہیم اٹک اٹک کر بولا۔۔۔
تم بتاؤ کیا ڈرامہ تھا یہ سارا۔۔۔وہ غصے سے حسینہ کی طرف مُڑی۔۔
مم مم میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔
سوہا پولیس کو انفارم کر ایسی کو وہ سیدھا کر لیں گے۔۔وہ سوہا کی طرف مُڑی۔۔۔
مم میرا کوئ ہاتھ نہیں اس میں مجھے فہیم نے کہا تھا یہ سب کرنے کو۔۔۔حسینہ تو پولیس کے نام پر ہی ڈر گئ تھی۔۔
حسینہ۔۔فہیم نے اس زور سے کھینچا۔۔۔
بتانے دو اب اسے سچ۔۔بڑی دیر سے حاموش بیٹھی صالحہ بھی اٹھ کر کھڑی ہو گئ۔۔۔
میں اور فہیم کالج کے وقت سے ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔۔پھر بھیا نے اس کی شادی صالحہ سے طے کر دی ۔۔بھیا کو انکار نہیں کر سکتا تھا یہ اس لیئے کر لی منگنی۔۔پھر سنی گھر آیا تو اس کی نظریں میرا طواف کرنے لگی جو میں نے اور فہیم نے محسوس کر لی تھیں۔۔پھر ہم دونوں نے پلان بنایا رشتہ بھی حتم ہو جاتا اور بھیا بھی فہیم کو کچھ نہ کہتے۔۔حسینہ جھکے سر کے ساتھ سب کہہ گئ۔۔۔
کیا ہے یہ فہیم تمہیں نہیں کرنی تھی شادی تو انکار بھی کر سکتے تہے تم یہ سب ڈرامہ کیوں۔۔۔بھیا فہیم سے محاطب ہوۓ۔۔
تو کیا کرتا میں آپ نے مجھ سے پوچھا نہیں تھا رشتہ کرتے وقت بتایا تھا مجھے۔۔۔وہ بھی غصے میں تھا۔۔۔
صیح تو کہا ہے فہیم نے۔۔زویا نے کہا تو سب نے خیرانی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
زبردستی کے رشتے خاندانوں کو تباہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔۔آب اس سے پوچھ لیتے تو یہ سب نہ ہوتا۔۔اور آپ مجھ سے اور سنی سے بھی پوچھ لیتے تو یہ سب نہ ہوتا۔۔۔وہ ذرا ٹھہری۔۔۔تو سب سانس بند کئیے اسے سن رہے تھے۔۔۔۔
آپ بڑوں کو سمجھ جانا چاہئیے زبردستی کی شادیاں پائیدار نہیں ہوتیں۔۔آپ بڑوں کو فیصلے کرنے سے پہلے سمجھنا چاہئیے اس کے اثرات کیا ہوں گے۔۔آپ کی بےجا ضدوں نے آج کتنے لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دیں۔۔۔۔ ان بےجا زبردستی کے رشتوں میں اپنی قدر کھو دیتے ہیں ہم ۔۔۔اور میں بہت روئ ہوں اپنی ناقدری پر رد کیئے جانے کی تکلیف کیا ہوتی ہے میں نے تب جانا جب سنی نے کہا “پاگل پن ہے تمہارا میں نہیں کر سکتا تم سے محبت”۔۔۔۔زویا ذرا کو ٹھہری چہرہ سپاٹ تھا اس کا ۔
اور ماما یہ تکلیف مجھے نہ ہوتی اگر آپ میرے دل میں محبت کا دیا نہ جلاتیں۔۔اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی میری۔۔اس کے غصے کو محبت کا نام دے کر برباد کیا ہے آپ لوگوں نے مجھے۔۔۔۔
پہلے مجھ سے زبردستی محبت کروائ گئ۔پھر جب میں نے اس محبت کو مان لیا تو مجھے روندا گیا۔۔سوچوں جب کہ میں کیسی تھی تو یقین کریں میں ہنس پڑتی ہوں۔اور ہنستے ہنستے رونے لگ جاتی ہوں۔اپنی ناقدری نے مجھے بہت رلایا ہے مگر میں اتنی عام تو نہیں تھی کہ مجھے ٹھکرایا جاتا۔۔اس نے اپنے آنسو صاف کئیے۔۔۔
جاؤ فہیم اور تم بھی جاؤ حسینہ میں مانتی ہوں ہر انسان کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے۔۔اور جو جتنا ڈیزرو کرتا ہے خدا اسے وہی دیتا ہے۔۔۔۔صالحہ مظبوط لہجے میں فہیم اور حسینہ کو دیکھ کر بولی۔۔۔
تمہیں کوئ مسئلہ نہیں۔۔فہیم اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
مجھے محبت سے کبھی بھی کوئ مسئلہ نہیں رہا۔۔۔
میں ایک سمندر سی لڑکی ہوں! میں اپنی دھن میں چلتی ہوں رشتے ناطے سب دل کے قریب رکھتی ہوں۔۔لوگوں کی باتیں دل سے نہیں لگاتی۔محبت کے تقاضوں کو دل سے پورا کرتی ہوں۔جو کوئ دل سے اتر جاۓ تو اسے دور رکھتی ہوں۔اگر دل ٹوٹ جاۓ تو میں خود ہی جوڑ لیتی ہوں۔میں دردر لیئے نہیں پھڑتی کیونکہ میں ایک خوددار لڑکی ہوں۔۔تم دل سے اتر گۓ تمہارا درد بھی پاس نہیں رکھوں گی تم جا سکتے ہو۔۔۔۔صالحہ نے کہہ کر زویا کی طرف دیکھا اور دونوں مسکرا دیں۔۔اور سنی اس نے آج جانا محبت صرف اپنے محرم سے جائز ہے نامحرم کی محبت ذلیل کرواتی ہے۔۔۔فہیم اور حسینہ وہاں سے چلے گۓ زویا اور صالحہ بھی کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔سب چلے گۓ صرف سوہا کھڑی تھی اس کے ذہن میں ایک ہی بات چل رہی تھی۔۔”یہ سیم سے پوچھو اسے سب پتہ تھا”۔۔۔۔
________________________________________________________
جاری ہے۔۔۔
