No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی سنی کو امریکہ گۓ ایک سال ہونے کو آیا تھا۔۔۔سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔۔ایسے میں وہ سب کے سو جانے کا انتظار کرتی اور پھر کتابوں میں سر دے کر رو پڑتی کہ سنّی کی سردمہری میں کوئ کمی نہیں آ رہی تھی بلکہ وہ جو کبھی دوست تھے وہ اس رشتے کو بھی کوئ اہمیت نہ دیتا تھا اس کے لہجے میں واضح اکتاہٹ تھی۔جسے وہ بہت شدت سے محسوس کرتی تھی مگر کوئ اور نہیں کر پاتا تھا۔۔سب سنی کے غصے اور اکتاہٹ کو محبت کا نام دے رہے تھے۔۔۔
زویا ۔رو رہی ہو تم۔۔پھپھو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
نہیں پھپھو ۔۔زویا نے جلدی سے آنکھیں رگڑیں اپنی اور مسکرا دی۔
پھر سنی نے کچھ کہہ دیا۔۔۔۔
نہیں پھپھو وہ کہاں کال کرتا ہے مجھے۔۔۔
تمہارا ہی جب جب بےعزتی کا موڈ ہوتا ہے کر لیتی ہو۔۔۔
تو کیا کروں پھپھو۔۔وہ بےبس تھی. ۔۔۔
اگنور کرو اسے تم بہت اہمیت دے رہی ہو اسے اور یہ اہمیت اسے خود میں بہت بڑا کر رہی ہے اور تمہیں اس کی نظر میں بہت چھوٹا۔۔اپنے آپ کو خقیر مت کرو بہت قیمتی ہو تم۔۔ ۔۔۔اور ایسی محبت کو چھوڑ دینا بہتر ہے جس سے آپ کی غزتِ نفس مجروح ہو۔۔۔۔
پھپھو ماما کہتی ہیں عورت کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔
ہاں بیٹا کرو برداشت وہاں جہاں کسی کے پگھل جانے کی امید ہو۔جہاں لگے کہ اگلا شخص اکتا نہ رہا ہو جب اگلا دامن چھڑانا چاہے تو چھوڑ دینا چاہیئے۔باقی تمہاری مرضی ہے بچے۔۔پھپھو اسے سمجھاتی واپس جا کر بیڈ پر لیٹ گئ۔اور وہ بیٹھی حساب کتاب کرتی رہی۔۔اپنی زندگی کا محبت کا جس سے اسے دستبردار ہونا تھا۔۔مگر وہ سمجھوتہ تو کر چکی تھی تھوڑا اور سہی۔۔اس کا دل گھبرانا شروع ہو گیا۔۔۔
وہ اٹھ کر باہر لان میں چلی آئ۔۔وہ گزرے دنوں کو یاد کرنے لگی وہ اتنی اکتاہٹ تو نہیں دکھاتا تھا لڑتے تھے دونوں پھر مان جاتے تھے اب ایسا نہیں رہا تھا۔۔۔زویا نے موبائل اٹھایا اور سنّی کو کال ملائ۔۔
وہ جو ابھی ابھی حسینہ سے بات کر کے خوشگوار موڈ میں تھا۔۔اس کا نمبر دیکھتے ہی منہ بن گیا اس کا۔۔۔
ہیلو۔۔وہ کھا جانے والے لہجے میں بولا۔۔۔
کیسے ہو. ۔۔۔۔
یہ پوچھنے کے لیئے تم نے اتنی رات کو کال کی ۔۔۔
نہیں ایسے ہی تم سے بات کرنے کو دل کر رہا تھا۔۔۔۔۔
جلدی بولو یار نیند آئ ہے مجھے اتنا فارغ نہیں ہوں جو تمہاری باتیں سنتا رہوں۔۔۔
مجھ سے اتنی روڈلی بات کیوں کرتے ہو تم۔۔۔
او پلیز یار اب یہ نہ کہنا تمہارا لہجہ مجھے تکلیف دیتا ہے کیونکہ مجھے تم سے محبت ہو گئ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔لہجہ تمسخرانہ تھا۔
تکلیف دیتا ہے مجھے تمہارا لہجہ سنی کیونکہ واقعی محبت ہو گئ ہے مجھے تم سے۔۔۔
کیا۔۔۔؟پاگل ہو گئ ہو تم یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔وہ تو گویا سکتے میں آ گیا تھا۔۔
اتنے خیران کیوں ہو رہے ہو جو رشتہ تمہارے اور میرے درمیان ہے اس میں محبت تو لازمی حصہ ہے۔۔۔
پر مجھے تم سے محبت نہیں ہے یہ بات نکاح سے پہلے تم کو بتا چکا تھا میں۔۔اور تم اچھے سے جانتی ہو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔
میرے اختیار میں نہیں ہے یار تم سے محبت نہ کرنا۔۔۔وہ بےبسی سے گویا ہوئ۔۔۔
تو دل کو اختیار میں کر لو میڈم بےقابو دل بہت ذلیل کرواتا ہے۔۔۔۔
تم کیوں کرتے ہو اگنور مجھے۔۔۔
وہ اس لیئے میڈم میں نہیں چاہتا کہ فالتو کے خواب سجاؤ تم۔۔ ۔۔
اب تو سجا لیئے خواب اب کیا کروں۔۔۔؟؟ ۔۔
بھول جانے کی دعا کرو۔۔۔۔
آسان کہاں ہے یہ۔۔۔
مشکل تو بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔
کاش تم پر بھی کبھی یہ وقت آۓ تو پھر تمہیں معلوم ہو کہ “یارب اسے میرے دل سے نکال دے” جب کوئ یہ دعا مانگتا ہے تو اس کے دل پر کیا بیتتی ہے۔۔۔
بددعا دے رہی ہو۔۔۔
نہیں اطلاع دے رہی ہوں۔۔۔۔
دیکھو زویا تمہارے میرے راستے کبھی بھی اس منزل کی طرف نہیں جاتے جہاں تمہارا اور میرا آشیانہ ایک ہو۔۔۔۔
سنی میں ہر لمحہ ،ہر بار، ہر بات میں تمہارے بارے میں سوچنے لگی ہون۔چہرے پر مسکراہٹ سجا کر چاہے کہیں بھی ہوں میں کسی بھی کام میں مصروف کیوں نہ ہوں ۔ایک لمحے کے لیئے بھی تمہارا تصور ذہن سے نہیں نکلتا۔مجھے کسی بھی چیز نے اتنی اذیت نہیں دی جتنی کہ تمہارا نظرانداز کرنے نے دی ہے۔۔۔۔۔۔۔
تم بہک رہی ہو زویا۔۔۔
اپنے محرم کی محبت میں بہک جانا گناہ تو نہیں ہے۔۔
زویا پلیز۔۔
سنی پلیز۔۔۔۔۔
تمہارے اس مرض کا کوئ علاج نہیں میرے پاس۔۔۔سنی نے کہتے ہی کال منقطع کر دی۔۔اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
کیا بنا۔۔۔
وہ مکمل طور پر میرے کنٹرول میں ہے۔۔۔
تو نچانے کا پلان بنا ہی لینا چاہیئے۔۔۔۔
جب تم کہو۔۔۔
بہت جلد۔۔بہت جلد۔۔۔
پھر۔۔۔
پھر تم اور میں چلے گے اس جہاں۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔ ۔۔۔ ۔۔
آسماں کے پرے ایک جہاں ہے کہیں
جھوٹ سچ کا وہاں قائدہ ہی نہیں
روشنی میں وہاں کی
اک الگ نور ہے
چل وہاں جاتے ہیں
چل وہاں جاتے ہیں۔۔
شاطرانہ ہنسی ہنستے ہوۓ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل پڑے۔۔۔۔
کیا کر رہی ہے ایک پاگل سی لڑکی۔۔۔۔۔سیم نے اس کی کرسی کو ہلکے سے کھینچا۔
نظر نہیں آ رہا پڑھ رہی ہوں۔۔۔وہ معصومیت سے بولی۔۔۔
وہ تو آ رہا ہے نظر ۔۔وہ میں کیا کہہ رہا تھا کبھی اس چہرے کو بھی پڑھو کھلی کتاب ہے یہ۔۔۔وہ اپنی شکل آگے کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
تھپڑ نہ ماروں تمہیں۔۔۔وہ کہنے لگی کہ اس کا موبائل بجا۔۔۔
کس کی کال ہے۔۔۔
چپ کرو۔۔۔اسے پرے دھکیلا۔
ہاں عادل بولو۔۔وہ موبائل کان سے لگا کر بولی۔۔۔
ہاں میرے نوٹس تیار ہیں۔۔۔۔آ جاؤ دے دیتی ہوں ۔۔۔۔
دوستی میں نو تھینکس۔۔اوکے باۓ۔۔۔۔
کون تھا یہ۔۔کال منقطع ہوتے ہی سیم بولا۔۔۔
فرینڈ ہے میرا نوٹس چاہیئے اسے۔۔۔۔۔۔
اچھا سنو ناں۔۔۔
بولو۔۔۔۔
آئس کریم کھانے چلیں۔۔۔
نہیں میں بزی ہوں۔۔۔۔
میرے لییۓ تمہارے پاس کبھی ٹائم نہیں ہوتا۔۔۔اور مجھ بےچارے کو تو تمہارے ساتھ کی لت لگ گئ ہے۔۔۔۔
تو نہ لگاؤ لت۔۔۔عادل کہہ رہا تھا محبت سے ذیادہ عادت خطرناک ہوتی ہے اور ہمیشہ تو کوئ ساتھ نہیں رہتا۔۔اسلیئے نو عادت اوکے۔۔۔
کسی کا مجھے پتہ نہیں تم اور میں تو ہمیشہ ساتھ ہوں گے۔۔۔
کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔وہ کہتے ہیں کہ مستقبل بلا کس نے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
فالتو باتیں کروا لو تم سے بس۔۔۔۔وہ اس کے بال کھینچتے ہوۓ بولا۔۔۔
اور واقعی میں مستقبل کس نے دیکھا ہے کون کہاں ہو۔۔کس کے ساتھ ہو۔۔۔۔
ہاں آ رہی ہوں۔بھابھی۔وہ ایکسٹرا کلاسسز ہو رہیں تھیں تو لیٹ ہو گئ۔۔۔پہنچ رہی ہوں۔۔۔وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ بولی ۔۔۔
اوکے اوکے۔۔اس نے کال منقطع کر کے گاڑی کو موڑا تو گاڑی کے ٹائر چرچڑاۓ اور گاڑی رک گئ۔۔
او شٹ اب اس ماہرانی کو کیا ہو گیا۔۔۔وہ گاڑی سے اتری۔گاڑی چیک کرنے پر بھی اسے کوئ خرابی سمجھ نہ آئ تو اس نے موبائل نکالا کہ گھر سے گاڑی بلوا لے۔۔۔
ہیلو مس صالحہ۔۔۔پاس آ کر ایک گاڑی رکی۔اس میں سے ایک خوبرو آدمی باہر نکلا۔۔۔
جی آپ کون اور یہ ہیلو کس خوشی میں کہا۔۔۔۔
او آپ تو پنجے جھاڑ کر میدان میں اتر آئیں۔۔۔۔
اپنے اس منہ شریف کو زحمت دیتے ہوۓ بتائیں کہ کون ہیں آپ۔۔
میں فیصل سلطان اس دن آیا تھا آپ کے گھر زویا سے ملنے ۔سنی کا کالج فیلو تھا میں۔۔آپ سے ملاقات ہوئ تھی اس دن آپ کے گھر۔۔۔
ہاں یاد آ گئ۔۔اتنا لمبا تعارف مت کرواؤ۔۔
شکر ہے میں یاد آ رہا ہوں۔۔ہمیشہ یاد رہوں اللہ کرے۔۔۔
کیا کہا آپ نے ۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔آپ یہاں اور کیا ہوا۔۔۔
گاڑی خراب ہو گئ ہے۔۔یونی سے گھر جا رہی تھی۔۔۔
چلیں میں گھر چھوڑ دیتا ہوں آپ کو۔۔۔
ہممم یہ ٹھیک ہے چلو چلو ۔۔گھر سے گاڑی بلوانے میں بہت دیر ہو جاۓ گی۔ ۔۔وہ گاڑی میں سے اپنا بیگ نکال کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھی تو وہ اس کی جلدبازی پر مسکرا اٹھا۔۔۔اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔
کیا پڑھتی ہیں آپ۔۔۔
ایم۔اے۔سائیکولوجی۔۔۔
واؤ مطلب انسان کو پڑھ لیتی ہیں۔۔۔
ابھی تو ان کتابوں کو پڑھ رہی ہوں۔۔موقع ملا تو انسانوں کو بھی پڑھوں گی۔۔۔۔
اکیلی آتی جاتی ہیں آپ۔۔۔۔
نہیں زویا اور میں ایک ہی یونی میں ہیں ڈیپارٹمنٹ الگ ہیں۔۔اور آپ کیوں اتنا بائیو ڈیٹا نکال رہے ہو۔۔۔بولتے بولتے صالحہ کا سانس پھولنے لگا۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے آپ کو آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔
ہاں پپپ پا پانی دو مجھے۔میرے بیگ میں بوتل پڑی ہے۔۔۔
یہ لیں۔۔۔اس نے جلدی سے پانی کی بوتل اسے پکڑائ۔۔۔
ٹھیک ہیں آپ ۔۔وہ پریشان ہو گیا تھا۔۔
ہاں میرا بیگ پکڑاؤ مجھے۔۔۔وہ پھولے سانس کے ساتھ بولی۔۔
یہ لو۔۔اس نے پچھلی سیٹ سے بیگ اٹھا کر اسے تھمایا۔۔۔
صالحہ نے جلدی سے اس میں سے انہیلر نکال کر منہ سے لگایا۔۔۔
تمہیں استھما ہے۔۔۔
ہاں استھما ہے مجھے کبھی کبھی ذیادہ ری ایکٹ کر جاتا ہے ورنہ تو کچھ نہیں کہتا۔۔۔۔وہ مسکرائ ۔وہ صالحہ تھی تکلیف میں بھی مسکرا دیتی تھی
آپ ٹھیک ہیں نہ اب۔۔ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔۔
جی میں ٹھیک ہوں اور اب چلو بھی بھابھی پریشان ہو رہیں ہو گی ۔اور شکریہ ۔۔۔
کوئ بات نہیں۔۔چلتے ہیں۔۔۔
گاڑی میں خاموشی چھا گئ تھی کہ اتنے میں صالحہ کا موبائل بجا۔۔تو صالحہ نمبر دیکھ کر مسکرا اٹھی ۔۔جسے فیصل نے بڑے غور سے دیکھا۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔وہ فون کان سے لگا کر مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
نہیں ابھی گھر نہیں پہنچی میں۔۔۔۔
گھر پہنچ کر کرتی ہوں کال۔۔۔
ہاں ہاں یاد سے کر دوں گی آپ کو بلا کیسے بھلا سکتی ہوں۔اوکے باۓ۔۔۔۔صالحہ نے کہتے ہوۓ کال بند کی اور مسکرانے لگی۔۔جس سے فیصل بےچینی کا شکار ہو گیا۔۔۔
ویسے تو یہ غیر اخلاقی ہے مگر میں پوچھ سکتا ہوں ایسا کون تھا کال پر جو آپ ایک دم سے ہشاش بشاش ہو گئیں۔۔۔
ہاں وہ میرا منگیتر تھا فہیم۔۔۔وہ مسکرا کر بولی جبکہ فیصل سے گاڑی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔۔
کیا ہو گیا دھیان سے چلاؤ۔۔۔
ہاں ہاں۔۔وہ بس یہی کہہ سکا ۔۔پل بھر میں اس کے خوابوں کا محل مسمار ہو گیا تھا۔۔کیا کیا سوچ بیٹھا تھا وہ۔۔
کیا ہوا تمہیں۔۔صالحہ نے اسے سوچ میں ڈوبے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
نن نہیں کک کچھ نہیں۔۔۔اب وہ اسے کیا بتاتا اپنے من چاہے شحص کو یوں کسی اور کے لیئے مسکراتے دیکھنا اذیت کی آخری حد تھی اور وہ اس حد پر کھڑا تھا۔۔.۔۔۔۔
یہی یہی روکو میرا گھر آ گیا میرا ۔۔تم کہاں گم ہو گھر تمہیں نظر نہیں آ رہا۔۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔۔
اوکے تھینکس اینڈ الله خافظ۔۔وہ کہہ کر گیٹ کی طرف بڑھ گئ۔۔جبکہ پیچھے کھڑے مسافر کا دل کیا دھاڑیں مار مار کر روۓ اس دشمنِ جاں کے گھر کے سامنے۔۔مگر وہ ضبط کرتے ہوۓ گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
